ہم کہاں تک ترے پہلو سے سرکتے جاویں


یہ میر انیس کے دادا میر حسن کے اس شعر کا دوسرا مصرعہ ہے جسے بآسانی سدا بہار کا خطاب دیا جاسکتا ہے کہ ہر آنے والے زمانے کے ساتھ ساتھ اس کے معانی کی نوعیت بدلتی اور پھیلتی جارہی ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ دنوں سعودی عرب میں ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے اور اسلامی ملکوں کے سربراہوں سے خطاب کے دوران پاکستان کو جس طرح کھڈے لائن لگایا گیا اس کے پس منظر میں یہ شعر دو آتشہ ہوگیا ہے کہ اس کے عمومی لاڈ نخرے، گلے شکوے اور چھیڑ چھاڑ کے انداز میں حقیقت اور واقفیت کا ایک ایسا عنصر شامل ہوگیا ہے جو چشم کشا بھی ہے اور لائق غور و فکر بھی۔ آئیے پورا شعر دیکھتے ہیں۔
جو بھی آوے ہے وہ نزدیک ہی بیٹھے ہے ترے
ہم کہاں تک ترے پہلو سے سرکتے جاویں
حرمین شریفین کی وہاں موجودگی کی وجہ سے بلاشبہ سعودی عرب مسلمان امت اور اسلامی ملکوں کی برادری کے لیے ایک خاص نوعیت کی عزت کا مقام رکھتا ہے کہ یہ ہمارے مشترکہ مذہبی ورثے کی سب سے محترم اور مقدس نشانیوں کا وارث اور کسٹوڈین ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ سیاسی، تہذیبی، عمرانی اور لسانی اختلافات سے قطع نظر سعودی حکومت نے ان کی حفاظت، دیکھ بھال، تعمیر و ترقی اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے قیام کے لیے بہت اعلیٰ سہولتوں کا تسلسل کے ساتھ انتظام بھی کیا ہے مگر یہ امر بھی اپنی جگہ پر ایک مصدقہ حقیقت ہے کہ اس حوالے سے سعودی حکومت اسلامی دنیا کی سربراہی تو کیا خود اپنے ملک کو ان امور پر استوار نہیں کرسکی جو انصاف، مساوات، انسانی حقوق اور خود انحصاری پر مبنی ہوں۔
ایک اطلاع کے مطابق اس وقت 22 ہزار خاندان ایسے ہیں جو حکمرانوں سے اپنے نسبی اور قبائلی تعلقات کی وجہ سے ہوش ربا وظیفوں پر پل رہے ہیں ان کی اکثریت نہ خود ملکی ترقی کے لیے کچھ کرتی ہے اور نہ کسی اور کو ایسا کرنے دیتی ہے۔ مسلمان آبادی کے اعتبار سے پاکستان کا شماران پانچ بڑے ملکوں میں ہوتا ہے جن کی آبادی پندرہ کروڑ سے زیادہ ہے (میری مراد بھارت، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہے) جب کہ دفاعی صلاحیت کے اعتبار سے ایٹمی طاقت ہونے کے علاوہ بھی اس کا نمبر سب سے پہلا ہے۔
یہ بھی امر واقعہ ہے کہ چودہویں صدی کے سقوط غرناطہ کے بعد تاریخی اور مذہبی اعتبار سے برصغیر کے لوگوں نے ہی مسلمان برادری کے مذہبی اور سیاسی تشخص کے حوالے سے سب سے زیادہ گرمجوشی کا مظاہرہ کیا ہے جس کی ایک مثال بیسویں صدی کے شروع میں عثمانی سلطنت کا زوال بھی ہے کہ ساری دنیا میں صرف برصغیر ہی میں ’’تحریک خلافت‘‘ کا آغاز ہوا اور یہاں سے ہی ’’بولیں اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو‘‘ جیسے نعرے بلند ہوئے۔
پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر ترکی میں اتاترک نے سب سے پہلے یہ نعرہ لگایا کہ ’’اپنا گھر‘‘ ’’برادری‘‘ سے پہلے آتا ہے۔ عرب دنیا کے مخصوص مسائل اور تہذیبی اور تاریخی پس منظر کی وجہ سے وہ اس ضمن میں ضرورت سے کچھ زیادہ آگے نکل گیا اور آل سعود کی حکومت کو ماننے سے انکاری ہوگیا۔ اسی پس منظر میں علامہ اقبال کا یہ شعر بھی قابل غور ہے کہ
نہ مصطفے، نہ رضا شاہ میں نمود اس کی
کہ روح مشرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی
دوسری جنگ عظیم کے بعد جہاں دنیا بے شمار نئے ملکوں میں تقسیم ہوگئی وہاں پچاس کے قریب ایسے مسلمان ممالک بھی وجود میں آئے جو اس سے پہلے یا تو تھے ہی نہیں یا کسی اور شکل میں پائے جاتے تھے۔ پچاس کی دہائی تک یعنی تیل کی دریافت سے پہلے تک مسلمان دنیا کے لیے سعودی عرب کا وجود صرف حرمین شریفین کی سرزمین کے حوالے سے جانا جاتا تھا جب کہ یہاں کے باشندوں کی حالت انتظامی، سیاسی اور معاشی ہر حوالے سے اس قدر خراب تھی کہ ان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار حج کے سیزن اور زائرین کی آمدورفت پر ہی ہوتا تھا لیکن اب یہ عالم ہے کہ دولت کی افراط اور چکا چوند نے سارا منظر ہی بدل دیا ہے۔ لازم ہے کہ اب ہمارے لوگ اور حکمران بھی سب مل کر پہلے اپنے گھر کو دیکھیں اور سنواریں اور اس کے بعد برابر کی سطح پر عزت اور احترام کا وہ رشتہ قائم کریں کہ جس کے بغیر کوئی انسانی گروہ ’’برادری‘‘ کہلانے کا حق دار نہیں ہوسکتا۔
اس وقت دنیا بھر میں مسلمان اکثریت کی آبادی والے ممالک ایک عجیب طرح کے ذہنی اور جذباتی خلفشار میں مبتلا ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حرمین کے حامل ملک کے حوالے سے سعودی عرب آگے بڑھتا اور فرقہ بندی اور مذہبی اور فقہی اختلافات کے بجائے مواخات مدینہ اور مساوات محمدیؐ کے اس پیغام کا علم بردار بنتا جس نے ایک زمانے میں دنیا کی تقدیر بدل دی تھی اور رب کریم کی پیدا کردہ ساری مخلوق کو رنگ و نسل، مذہب اور عقیدے کی تقریق سے اوپر اٹھ کر خیر اور سلامتی کا درس دیا تھا لیکن وہاں کی حکومت منصف کے بجائے خود ایک پارٹی کی شکل اختیار کرگئی ہے۔
ایران کے ساتھ فقہی حوالے سے تو اس کے اختلافات صدیوں سے چلے آرہے تھے مگر اب یہ امت فرقہ پرستی، انتہا پسندی اور مختلف النوع اختلافات کی وجہ سے مزید کئی ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے۔ سو ضروری ہوگیا ہے کہ اب ہم ساری برادری کو کسی ایک پلیٹ فارم پر لاکر اس کی اصلاح کرنے سے پہلے اپنے اپنے گھروں کو ٹھیک کریں اور اپنے اپنے معاشروں سے ان تمام برائیوں کو ختم کریں جنھوں نے ہماری آنکھوں پر مفادات اور تعصبات کی پٹیاں باندھ رکھی ہیں اور ایسا صرف انصاف کے قیام اور جہالت سے ہی ممکن ہے۔
یقین کامل ہے کہ اگر دنیا بھر کے مسلمان ممالک مذہبی رواداری کے اصولوں پر چلتے ہوئے اپنے معاشروں کو معاشی، اخلاقی، تہذیبی، عملی اور تحقیقی حوالوں سے بہتر اور ثروت مند بنائیں گے تو ان کی مجموعی کارکردگی اور ’’برادر‘‘ کی طاقت اور یکجہتی کی روش بھی بہتر ہوتی چلی جائے گی۔ صنعت، علم اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ترقی یافتہ معاشروں میں ایسی فکر کے حامل لوگ ہر دور میں غالب رہے ہیں جو پسماندہ اور ترقی پذیر معاشروں کو ’’صارفین‘‘ یعنی Consumer’s کی سطح پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے وہ اپنے مختلف طرح کے ظالمانہ اور غیر انسانی اقدامات کو جائز اور صحیح قرار دیتے ہیں۔
جہاں تک مسلمان معاشروں کا تعلق ہے ان کا تازہ تر منصوبہ اسلامی دنیا کو کسی نہ کسی طرح دو واضح مذہبی فرقوں میں تقسیم کرکے آپس میں لڑانا ہے۔ عقل مند کو اشارہ کافی ہوتا ہے۔ سو اس کے لیے صرف اتنا دیکھ لیجیے کہ اسلامی ممالک کی اس بڑی کانفرنس میں ٹرمپ صاحب تو اسٹیج پر موجود تھے مگر ایران اور بعض دیگر ممالک حاضرین کی صف میں بھی موجود نہیں تھے اور اس پاکستان کو جو اپنے آپ کو اسلامی اتحاد کا علمبردار اور سعودی عرب کا سب سے اہم اور قابل اعتماد دوست سمجھتا ہے ان سامعین کی صف میں رکھا گیا جن کے چہروں پر سے کیمرہ گزرتا تو ہے مگر ایک لمحے کے لیے بھی رکنے کی زحمت نہیں کرتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں