قدر ایاز


بھائی لیاقت جعفری اور عزیزی عمر فرحت کی معرفت سری نگر کے ایک سینئر شاعر ایاز رسول نازکی کے تیسرے اور زیرطبع شعری مجموعے ’’قدر ایاز‘‘ کا مسودہ نظر سے گزرا تو بقول فراق گورکھ پوری ’’دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں‘‘ بات کچھ یوں ہے کہ سرحدوں کے اس طرف واقع وادی کشمیر کے حوالے سے سیاسی بیانات‘ فوجی کارروائیوں اور عوامی جدوجہد کی خبریں توکسی نہ کسی حوالے سے ملتی رہتی ہیں مگر وہاں کے نمایندہ اہل قلم کون کون ہیں اور وہ کیا سوچ اور لکھ رہے ہیں۔
اس کا کچھ ٹھیک سے پتہ نہیں چل پاتا، کبھی کبھار لیاقت جعفری کے نظر نواز اور خیال افروز رسالے ’’بیلاگ‘‘ کی طرح اکا دکا ملنے والے رسائل میں وہاں کے احباب کی لکھی ہوئی کچھ تحریروں سے رابطے کی صورت نکل تو آتی ہے مگر یہ عمل اس قدر بے ترتیب اور محدود ہے کہ اس سے وہاں کی ادبی صورت حال کے بارے میں کوئی نظریہ یا تصور قائم کرنا عملی طور پر نا ممکن ہے۔ مختلف اوقات میں کچھ ایسے بھارتی ادیب دوستوں سے ملاقات تو رہی کہ جو کسی نہ کسی حوالے سے جالندھر‘ سری نگر یا مقبوضہ کشمیر کے کسی علاقے میں ملازمت یا کسی اور حوالے سے مقیم رہے ہیں، اسی طرح کچھ ایسے کشمیری احباب سے بھی امریکا، یورپ، کینیڈا یا مشرق وسطیٰ کے کسی ملک میں رابطہ ہوا جو یا تو خود ادیب تھے یا ادب سے دلچسپی رکھتے تھے لیکن بات پھر بھی اجمالی خاکے تک ہی محدود رہی کہ بوجوہ ’’پورا سچ‘‘ بولنا کسی کے اختیار میں نہ تھا۔ چند برس قبل جموں یونیورسٹی کی ایک طالبہ افشاں لطیف نے میری شاعری پر پی ایچ ڈی کا تھیسیس لکھا تو فون‘ خطوط اور کتابوں کے تبادلے کے باعث صورت حال کچھ بہتر ہوئی مگر اس کے بعد پھر معاملات پہلے والی روش پر آ گئے۔
اب جو ایک ایسی کتاب پڑھنے کو ملی ہے جس میں وہاں کی شعری فضا کے ساتھ ساتھ کشمیر کی موجودہ صورت حال میں لکھنے والوں کی سوچ کا ایک روپ بھی سامنے آیا ہے تو جی چاہا کہ اس گفتگو میں آپ کو بھی شریک کیا جائے، سو جو تحریر میں نے اس کتاب کے فلیپ نما دیباچے کے لیے لکھی ہے اس کو یہاں بھی نقل کر رہا ہوں کہنے کو تو یہ ایک تبصرہ نما تاثراتی مضمون ہے مگر اس میں کئی ایسے سوالوں کے جواب بھی پوشیدہ ہیں جو اکثر ذہنوں پر دستک دیتے رہتے ہیں۔
’’قدر ایاز‘‘ کے شاعر ایاز رسول نازکی صاحب نے کتاب کے عنوان میں جس رعایت لفظی کا اہتمام کیا ہے اس کے مظاہر ہمیں اس کتاب کے آغاز میں درج مصحفی کے اس شعر سے ہی نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں کہ
لے گئے سب بدن زمین میں ہم
مصحفی اک زبان چھوڑ گئے
اردو غزل کی روایت کا ایک بہت انوکھا اور کمال یہ بھی ہے کہ اس کی جدید ترین شکل میں بھی آپ کو کلاسیکیت کی ایک گونج سی ہمیشہ سنائی دیتی ہے۔ برصغیر کے مختلف علاقوں اور ادوار میں اس کے رنگ بدلتے ہوئے دکھائی تو دیتے ہیں مگر آگے چل کر یہ ایک ایسے پر زم Prism کی شکل بھی اختیار کرتے چلے جاتے ہیں جہاں کسی رنگ کو دوسرے سے جدا کر کے دیکھنا نا ممکن حد تک مشکل ہوتا چلا جاتا ہے۔
زبان کی حد تک کشمیر کی وادی اور ملحقہ علاقوں کا تعلق اردو سے بہت پرانا ہے (آج بھی یہ بھارت کی واحد (اگرچہ متنازع) ریاست ہے جس کی سرکاری اور پہلی زبان اردو ہے) اردو فکشن اور شاعری میں بھی کشمیر پر بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن اس کا بہت کم حصہ خود وہاں کے رہائشی کشمیری اہل قلم کا ہے بالخصوص تقسیم ہند کے بعد اور تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے لکھی گئی بہت ہی کم تحریریں باہر کی دنیا تک پہنچ پائیں، ایسے میں ایاز رسول نازکی کا یہ تیسرا شعری مجموعہ ’’قدر ایاز‘‘ بہت حد تک اس کمی کو پورا کرتا نظر آتا ہے۔ ان کے اس سے قبل شایع ہونے والے دونوں مجموعے ’’خود رو‘‘ اور ’’شام سے پہلے‘‘ کتابی شکل میں تو مجھے حاصل نہیں ہوسکے لیکن لیاقت جعفری اور عمر فرحت کی مدد سے ان کا ایک انتخاب دیکھنے کا موقع مل گیا ہے جس کے لیے میں ان دونوں ادب کے دوستوں کا شکر گزار ہوں۔ آئیے اب پہلے ’’قدر ایاز‘‘ میں سے خالص تغزل اور مضمون آفرینی کے حاصل کچھ اشعار دیکھتے ہیں
یہ وحشت جو ہو جائے کم دیکھتے ہیں
چلو شعر کہہ کے بھی ہم دیکھتے ہیں
آکے لپٹا جو تری دید کا دریا مجھ سے
رات‘ سمٹا نہ تری یاد کا صحرا مجھ سے
کام آؤ نہ کسی کے تو کوئی بات نہیں
کوئی مشکل تو نہیں ہے کہ دعا کر نہ سکو
اجنبی نے سنا ہے بستی میں
ایک ہی گھر کا راستہ پوچھا
سیکھنے سے ہنر تو آتا ہے
شاعری میں اثر نہیں آتا
زمانہ مرے ساتھ تب بھی نہ تھا
مگر تم مرے خیرخواہوں میں تھے
میں لوگوں کی اس بھیڑ میں سوچتا ہوں
مرا نام کیا ہے! مرا نام کیا تھا!
شاعروں کی آنکھ کو ’’دیدہ بینا‘‘ اس لیے بھی کہا گیا ہے کہ یہ منظر کے ساتھ ساتھ اس کے پس منظر اور پیش منظر کو بھی دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے سو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک حساس‘ انسان دوست اور حقیقت پسند شاعر اپنے ارد گرد ہونے والے ان واقعات کو موضوع نہ بنائے جن سے وہ انفرادی اور اجتماعی دونوں حوالوں سے جڑا ہوا ہے سو ایاز رسول نازکی کے اس مجموعے میں بھی آپ کو قدم قدم پر ایسے شاعر ملیں گے جن کا سلسلہ شاعر کے بارے میں اقبال کی اس سوچ سے ملتا ہے کہ
مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
’’قدر ایاز‘‘ سے جستہ جستہ چنے ہوئے یہ چند شاعر وادی کشمیر کی وہ شکل ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں جس کے ناظر اور صورت گر دونوں کا تعلق اس دھرتی اور اس پر رونما ہونے والے ان واقعات سے ہے جو نہ صرف کشمیریوں بلکہ پورے ضمیر آدم کے لیے اس عہد کا سب سے بڑا سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں