بجٹ… ایک آئینہ


سیاسی خبروں، مسائل اور ان سے متعلقہ بیانات، کالم نگاری کا وہ خام مال ہیں جسے نہ تو ڈھونڈنے کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ اسے استعمال کرنے کے لیے پلے سے کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ مارکیٹ اکانومی کے حوالے سے بھی دیکھا جائے تو اس کی طلب یعنی Demand ہمیشہ موجود رہتی ہے مسئلہ صرف اتنا ہے کہ یہاں سے خیر کی خبر شاذو نادر ہی ملتی ہے سو میں اس پرندے کی بات پر عمل کرتے ہوئے ہر ممکن احتیاط کرتا ہوں کہ میرا نام آگ بجھانے والوں میں آئے آگ لگانے والوں میں نہیں۔ یعنی صرف اس خیر کی خبر کا ذکر کیا جائے جو موجود تو ہر وقت ہوتی ہے مگر دکھائی کم کم ہی دیتی ہے۔
اس پیمانے پر جب گزشتہ کچھ دنوں کی تین اہم اور نمایاں ترین خبروں کا جائزہ لیا گیا تو ذہن و دل کا بوجھ مزید بڑھ گیا اور عقل نے گھٹنے ٹیک دیے کہ اب ان میں سے خیر کا پہلو کیسے ڈھونڈا اور دکھایا جائے؟ آئیے پہلے ان تین خبروں کے موضوعات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
-1 بجٹ۔
-2 نہال ہاشمی کی تقریر۔
-3 میاں نواز شریف کے بیٹوں نے عدالت میں حاضر ہو کر ’’تاریخ‘‘ رقم کر دی ہے۔
اب یہ تینوں موضوعات ایسے ہیں کہ ان پر علیحدہ سے کئی کئی کالم لکھے جائیں تب بھی ان کا سمٹاؤ ممکن نہیں لیکن کوشش کر دیکھنے میں کیا حرج ہے تو ہم اپنی بات کا آغاز بجٹ سے کرتے ہیں۔ ہماری طرح کے گوناگوں مسائل سے دوچار ملکوں میں اچھا، متوازن اور معاشرے کو آگے لے جانے والا بجٹ تیار کرنا بلا شبہ بے حد مشکل ہے لیکن سی پیک میں پاکستان کی شمولیت اور قریب آتے ہوئے انتخابات کی وجہ سے توقع تھی کہ حکومت کسی نہ کسی طرح سے اسے بہتر اور قابل قبول بنانے کے لیے پوری کوشش کرے گی اور یہ اگر مکمل طور پر عوام دوست نہیں تو واضح طور پر عوام دشمن بھی نہیں ہوگا۔
بجٹ میں جن طبقات کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ اسے اپنا حق سمجھ کر ہضم کر رہے ہیں اور وہ کروڑوں عوام جو تعلیم، صحت، روزگار اور معاشرتی تحفظ کے لیے آس لگائے بیٹھے تھے۔ انگشت بدنداں اور سربہ گریباں ہیں کہ اعدادو شمار کے اس الٹ پھیر میں وہ سائبان کہاں ہے جس کے سائے تلے وہ اور ان کی آنے والی نسلیں سر اٹھا کر ایک ایسی دنیا میں جی سکیں گے جس کے دروازے ان کی بہتری اور ترقی کی طرف کھلتے ہوں۔
بدقسمتی سے یہ وہ حمام ہے جس میں موجودہ حکومت ہی نہیں اس کے کم و بیش تمام کے تمام پیش رو بھی اسی طرح ننگے ہیں۔ یقین نہ آئے تو انور مسعود کی بجٹ کے بارے میں یہ نظم دیکھ لیجیے جو کئی برس قبل کے ایک بجٹ کے حوالے سے لکھی گئی تھی مگر اگلے پچھلے ہر بجٹ پر اس کا اطلاق آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔
بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے ترے
انوکھے انوکھے خسارے ترے
اللے تللے ادھارے ترے
بھلا کون قرضے اتارے ترے
گرانی کی سوغات حاصل مرا
محاصل ترے گوشوارے ترے
مشیروں کا جھمگٹ سلامت رہے
بہت کام جس نے سنوارے ترے
مری سادہ لوحی سمجھتی نہیں
حسابی کتابی اشارے ترے
کئی اصطلاحوں میں گوندھے ہوئے
کنائے ترے، استعارے ترے
تو اربوں کی کھربوں کی باتیں کرے
عدد کو اتنے شمارے ترے
تجھے کچھ غریبوں کی پروا نہیں
وڈیرے ہیں پیارے دلارے ترے
ادھر سے لیا، کچھ ادھر سے لیا
یونہی چل رہے ہیں ادارے ترے
اب جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے یہ نظم اس موجودہ بجٹ کے متعلق نہ ہوتے ہوئے بھی سرتاپا اسی سے متعلق ہے یعنی حکومت کوئی بھی ہو کسی بھی حوالے سے اقتدار میں آئے عوام کے مسائل کے بارے میں اس کا رویہ وہی رہتا ہے جو اس سے پہلوں کا تھا۔ اس کے جواب میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ آصف زرداری کی حکومت کے برعکس موجودہ حکومت نے بے شمار ترقیاتی کام کیے ہیں سارے ملک میں سڑکوں اور پلوں کا جال بچھ گیا ہے۔
مزدور کی بنیادی تنخواہ پندرہ ہزار روپے تک بڑھا دی گئی ہے اور ان بے شمار لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جارہا ہے جو اب تک اس سے باہر تھے۔ جب کہ ان کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، یوتھ، انرجی، لینڈ مافیا، مواصلات اور سماجی بہبود سمیت زندگی کے ہر شعبے میں ترقی اور اصلاحات کے ایسے منصوبے بنائے جارہے ہیں جن کی تکمیل کے بعد عوام اور ملک کی تقدیر بدل جائے گی مگر اس کے لیے عوام کی طرف سے صبر اور حکمران جماعت کی مسلسل حمایت ضروری ہے کہ اس کے بغیر یہ کام ممکن نہیں ہوسکے گا۔ یہ دونوں باتیں اپنی جگہ پر درست ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تقاضا مراعات یافتہ طبقوں سے کیوں نہیں کیا جاتا۔
اگر بجٹ کو خسارا درپیش ہے تو اس کا سارا بوجھ گھوم پھر کر عوام کی پیٹھ پر ہی کیوں لادا جاتا ہے ممکن ہے حکومت مخالف لوگ کچھ معاملات میں بے جا تنقید بھی کرتے ہوں مگر ہمارے حکمرانوں کو خود سادگی، سچائی، ایمانداری اور قومی تشخص کی مثال بننے سے کون روکتا ہے؟
ہمارے حکمران اپنا کروفر اورجاہ و جلال دکھانے کے لیے بادشاہوں اور امریکا کی تقلید کیوں کرتے ہیں کیا انھیں ترقی یافتہ ممالک کے وہ سربراہ دکھائی نہیں دیتے جو اپنے ہاتھ سے سرکاری مہمانوں کو کافی بنا کر پیش کرتے ہیں اور ان کی تواضع ایسے کھانوں سے کرتے ہیں کہ ان پر بھوکے ننگے ہونے کا گمان گزرتا ہے، کیوں یہ لوگ اپنی زبان اور رسم و رواج کے نمائندہ نہیں بنتے؟
آپ کی درآمدات کا گراف برآمدات کے مقابلے میں زمین بوس ہوتا جارہا ہے، اسٹاک مارکیٹ پر بجٹ بجلی بن کر گرا ہے، آپ کا اور آپ کے وزیروں مشیروں کا سارا وقت نام نہاد دشمنوں کو نیچا دکھانے میں صرف ہوتا ہے اور آپ کے نادان دوستوں نے اس فہرست میں فوج اور عدلیہ کو بھی صف دشمناں میں کھڑا کردیا ہے جب کہ ان کی ترقی اور تعاون کے بغیر کوئی حکومت اور معاشرہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔
اٹھارویں انیسویں صدی میں بعض یورپی ممالک کی ترقی کی ایک بڑی وجہ ان کی نو آبادیات سے آنے والی وہ دولت تھی جو اگرچہ طاقت اور ظلم کے ذریعے حاصل کی گئی تھی مگر اس کا استعمال چند لوگوں کے بجائے پورے معاشرے کی ترقی پر ہوا اور آج وہ قومیں فی کس آمدنی اور سوشل سیکیورٹی کے حوالے سے ایک روشن مثال کی صورت اختیار کرچکی ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہمارا قومی بجٹ غیر ملکی قرضوں کے جال میں پھنسا ہوا ہے اور سی پیک کے حوالے سے جو سہارا ہماری معیشت کو ملا ہے اس کے فوائد کا رخ بھی عوام کے بجائے زیادہ تر چند مخصوص طبقوں ہی کی طرف ہے۔
گوادر میں زمینوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے میں مصروف ہیں مگر اس کا فائدہ نہ وہاں کے عوام کو ہے اور نہ ہی پاکستان کے عام شہری کی زندگی اس سے بہتر ہورہی ہے۔ مہنگائی اور بے ترتیبی کا یہ عالم ہے کہ نہ کسی کا ضمیر دہائی دیتا ہے اور نہ ہی قانون کے محافظ اور کارندے اپنا فرض صحیح طور سے ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ظاہر ہے یہ سب چیزیں اسحاق ڈار یا کوئی بھی وزیر خزانہ خود سے ٹھیک نہیں کرسکتا کہ اچھا بجٹ بنانا محض وزارت خزانہ کی ہی ذمے داری نہیں اس کے لیے حکمرانوں اور عوام دونوں کو اپنے اپنے حصے کا کام ایمانداری اور ذمے داری سے کرنا ہوگا لیکن یہ بات طے ہے کہ اس کے لیے پہل حکمرانوں کو ہی اپنی سوچ اور طرزز عمل میں مثبت تبدیلی کے ساتھ کرنا ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں