اگلا موڑ


شفیق الرحمن مرحوم نے اپنی ایک نثری پیروڈی ’’تزک نادری‘‘ میں لکھا ہے کہ نادر شاہ کو جب یہ بتایا گیا کہ ہر حملے کی کچھ وجوہات ہوتی ہیں (جو بعد میں تاریخ کے اساتذہ اپنے شاگردوں کو بتاتے ہیں) اس لیے آپ کے ہندوستان پر حملے کی کچھ وجوہات بھی ضروری ہیں سو بادشاہ کے حکم پر ایک بورڈ قائم کیا گیا جس نے وجوہات کی ایک فہرست تیار کی جن میں سے دو کچھ اس طرح سے تھیں۔
-1ہندوستان کے گویے اپنی گائیکی میں نادر دھیم تانا دھیرے نا کا الاپ کرتے ہیں جس سے بادشاہ سلامت کی توہین کا پہلو نکلتا ہے
-2بادشاہ سلامت کی ایک رشتے کی پھوپھی گوجرانوالہ میں رہتی ہے اس سے بہت دنوں سے ملاقات نہیں ہو پائی وغیرہ وغیرہ
لیکن سب سے دلچسپ فوری اور آخری وجہ تھی کہ’’یوں بھی ہندوستان پر کافی عرصے سے کوئی حملہ نہیں ہوا‘‘
سو اس کالم کا موضوع بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر اظہار خیال کیا جائے کہ اس موضوع پر قلم اٹھائے اب کئی مہینے ہو چلے ہیں لیکن اس سے پہلے اسی متذکرہ مضمون کا ایک بے مثال جملہ شیئر کرنے کو جی چاہ رہا ہے۔
’’راستے میں دریائے ہلمند پڑا برخوردار بغرا خان معروض ہوا کہ شاہان سلف کا دستور رہا ہے کہ وہ راستے میں آنے والے تمام دریا تیر کر عبور کرتے رہے ہیں یہ سن کر ہم نے بھی چھلانگ لگا دی اور شاہان سلف میں داخل ہوتے ہوتے بچے‘‘
اس کی ایک ’’رعایت لفظی و معنوی‘‘ یہ بھی ہے کہ اگر سری لنکا والے اوپر تلے سرفراز کے دو کیچ نہ چھوڑتے اور محمد عامر بیٹنگ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرتا تو اس وقت ہماری ٹیم وطن واپسی کی کسی فلائٹ پر ہوتی۔ چند دن قبل جب اسی ٹیم نے بھارت سے بے طرح مار کھائی تو پورا ملک اور میڈیا اس میں وہ عیب بھی ڈال اور دکھا رہا تھا جو اس کھیل کی کیمسٹری کا لازمی حصہ ہیں اور جن کا تعلق دنیا کی کسی بھی ٹیم اور کسی بھی کھلاڑی سے ہو سکتا ہے، مثال کے طور پر اس ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل جن ٹیموں کا شمار پہلے چار نمبروں میں ہوتا تھا ان میں سے تین یعنی ساؤتھ افریقہ‘ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ابتدائی راؤنڈ میں ہی مقابلے سے آؤٹ ہو گئی ہیں ان پر بھی تنقید ہوئی ہے مگر کسی نے ان کو غدار‘ بکاؤ‘ اناڑی‘ سفارشی‘ نالائق وغیرہ نہیں کہا اور نہ ہی کچھ کھلاڑیوں کے نام لے کرانھیں ٹیم سے نکالنے کا تقاضا کیا گیا ہے۔
ساؤتھ افریقہ کے فاف ڈوپلیسی نے تو ہار کو ماننے اور ٹیم کی خراب پرفارمنس کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ موجودہ ٹیم سے بہتر کھلاڑی ساؤتھ افریقہ میں اس وقت موجود نہیں ہیں۔ آسٹریلیا میں بھی اگرچہ ان دنوں کھلاڑیوں اور انتظامیہ کے درمیان شدید اختلافات جاری ہیں مگر کسی نے بھی ٹیم کی خراب پرفارمنس کا رشتہ اس قضیے سے جوڑنے کی کوشش نہیں کی کچھ ایسا ہی رویہ نیوزی لینڈ کے ضمن میں بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان ون ڈے کی رینکنگ میں کافی عرصے سے نچلے درجوں پر ہے بلکہ ابھی تک اس کی آیندہ ورلڈ کپ میں ڈائرکٹ رسائی کا معاملہ بھی کسی حد تک خطرے میں ہے جب کہ بھارت کی ٹیم گزشتہ چند برسوں سے نہ صرف تسلسل سے اچھے کھیل کا مظاہرہ کر رہی ہے بلکہ اس کی مضبوطی کا یہ عالم ہے کہ رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہونے کے باوجود روی چندرن ایشون کو اکثر باہر بیٹھنا پڑتا ہے۔
اب دیکھا جائے تو وہاب ریاض کی مسلسل خراب کارکردگی اور عمر اکمل کی فٹ نس کے مسائل سے قطع نظر اس وقت جتنے بھی کھلاڑی اس ٹیم میں شامل ہیں ان سے بہتر (اس فارمیٹ کی حد تک) شاید ہی پاکستان میں کوئی اور کھلاڑی ہو یعنی فوری طور پر کوئی ایسا لڑکا نظر نہیں آتا جو واضح طور پر ان سے بہتر ہو، مثال کے طور پر محمد عباس نے ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی لیکن کیا وہ ون ڈے فارمیٹ میں فہیم اشرف سے بہتر انتخاب ہوتا‘ میرے خیال میں نہیں۔اس طرح شان مسعود‘ سمیع اسلم‘ اسد شفیق‘ سہیل خان‘ راحت علی‘ محمد اصغر وغیرہ کے مقابلے میں اگر احمد شہزاد‘ محمد حفیظ‘ فخر زمان‘ حارث سہیل‘ حسن علی‘ عماد وسیم‘ فہیم اشرف‘ شاداب خان اور جنید خاں کی سلیکشن کو غلط کہنا بھی درست نہ ہو گا کہ حالیہ پرفارمنس کی اونچ نیچ سے قطع نظر یہ لڑکے اپنے متبادل کھلاڑیوں سے بلاشبہ بہتر نظر آ رہے تھے، اب یہ بات دوسری ہے کہ ان وجوہات کا سراغ لگایا جائے جن کی وجہ سے ان سے زیادہ اور بہتر کوالٹی والے کھلاڑی ہمارے پاس کیوں نہیں ہیں۔
فیس بک پر کسی نے بہت دلچسپ پوسٹ لگائی ہے کہ اب سیمی فائنلز میں مقابلہ ماضی کے ایک آقا اور اس کے تین غلاموں کے مابین ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ انگلینڈ اور پاکستان اور بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان جوڑ پڑے گا۔ اگر خواہشات اور آرزؤں کو درمیان میں سے نکال کر دیکھا جائے اور چاروں ٹیموں کی صلاحیت‘ فارم اور ریکارڈ کو سامنے رکھ کر اندازہ لگایا جائے تو فائنل انگلینڈ اور بھارت کے درمیان ہوتا نظر آتا ہے اگرچہ یہ کھیل ایسا ہے کہ اس میں بالکل الٹ نتیجہ نکلنے کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا یعنی یہ بھی ممکن ہے، پاکستان اور بنگلہ دیش فائنل میں پہنچ جائیں اور اصل میں دیکھنے والی بات کہ سرمایہ دارانہ ذہنیت کے فروغ اور اس کھیل میں بڑھتے ہوئے عمل دخل کی وجہ سے اس کے قوانین کچھ اس طرح سے بنا دیے گئے ہیں کہ کھلاڑی ایک طرح سے روبوٹ بنتے چلے جا رہے ہیں، اسپورٹس مین اسپرٹ کی جگہ گلیمر‘ دولت ، منافع اور انٹرٹینمنٹ نے لے لی ہے اس کا سب سے زیادہ منفی اثر ان معاشروں پر پڑا ہے جو سوشل سیکیورٹی‘ روز گار‘ غربت اور نفسانفسی کے مسائل سے دوچار ہیں جس کی وجہ سے ان کے ابھرتے ہوئے کھلاڑی بہت جلد اور آسانی سے لالچ اور راتوں رات امیر بننے کے جنون میں مبتلا ہو جاتے ہیں، شرجیل خان کے مستقبل کا فیصلہ جو بھی ہو لیکن اگر وہ بے گناہ بھی ثابت ہو گیا تب بھی اسے اور پاکستان کی کرکٹ کو پہنچنے والا نقصان اپنی جگہ رہے گا۔
عمران خان سے حکومت وقت کے سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن کرکٹ کے بارے میں یقیناً وہ غیرمعمولی سوجھ بوجھ رکھتا ہے، فی الوقت انضمام الحق اور مدثر نذر تو کرکٹ بورڈ سے منسلک ہیں جویقیناً ایک اچھی بات ہے لیکن اگر مشاورت کی سطح پر عمران‘ جاوید میانداد‘ ظہیر عباس‘ مشتاق محمد‘ آصف اقبال‘ ماجد خان ‘ وسیم اکرم‘ وقار یونس‘ محمد یوسف‘ محسن خان‘ مصباح الحق‘ عبدالقادر اور یونس خان جیسے لیجنڈز کو بھی ساتھ لے کر چلا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم بھی ایک ایسی ٹیم تیار نہ کر سکیں جس کی صلاحیت کا دباؤ مخالف ٹیموں کو اسی طرح پریشان کر سکے جس طرح آج کل ہم انگلینڈ اور بھارت سے ڈرے ڈرے رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں