javed-chaudhry-columns

وہ کون تھا


یہ ایک چھوٹا سا سوال تھا، اس چھوٹے سے سوال کا جواب اس سے بھی چھوٹا تھا لیکن میں اس چھوٹے سے سوال اور اس چھوٹے سے جواب کا بوجھ بارہ سال سے اٹھا کر پھر رہا تھا، یہ کہانی نسیم انور بیگ مرحوم کی ڈائننگ ٹیبل سے شروع ہوئی اور جمعہ 4 مارچ 2016ء کو ایکسپریس کے اسٹوڈیو میں حسین نواز شریف کے انٹرویو پر ختم ہوئی، میں نے وزیراعظم میاں نواز شریف کے بڑے صاحبزادے حسین نواز سے انٹرویو کے آخر میں پوچھا ’’کیا یہ درست ہے۔
مجید نظامی مرحوم جنرل پرویز مشرف کا یہ پیغام لے کر جدہ گئے تھے کہ اگر میاں نواز شریف میری مرضی کے شخص کو پاکستان مسلم لیگ ن کا صدر بنا دیں تو یہ خاندان سمیت جہاں چاہیں جا سکتے ہیں‘‘ حسین نواز نے فوراً جواب دیا ’’جی ہاں یہ درست ہے اور یہ بات میری موجودگی میں ہوئی تھی‘‘ میں نے اگلا سوال کیا ’’جنرل مشرف کس شخص کو پارٹی کا سربراہ بنانا چاہتے تھے‘‘ حسین نواز شریف نے جواب دیا ’’میں نہیں جانتا‘‘ میں نے قہقہہ لگایا اور عرض کیا ’’لیکن میں ان کا نام جانتا ہوں‘‘ حسین نواز کا جواب تھا ’’ آپ جانتے ہوں گے لیکن میں نہیں جانتا‘‘ میں نے پروگرام کے بعد ان سے دو بارہ پوچھا ’’کیا آپ واقعی اس شخص کا نام نہیں جانتے؟‘‘ حسین نواز نے جواب دیا ’’میں واقعی نہیں جانتا، مجھے اگر علم ہوتا تو میں ان کا نام آپ کے پروگرام میں لے لیتا‘‘ وہ اس کے بعد رکے اور پوچھا ’’آپ بتائیے وہ کون تھے‘‘ میں نے عرض کیا ’’مجھے سوچنے کے لیے دو دن دے دیں، میں آپ کو ضرور بتاؤں گا‘۔
وہ اس کے بعد اسٹوڈیو سے رخصت ہو گئے مگر میںماضی میں چلا گیا، نسیم انور بیگ میرے بزرگ تھے، میں انھیں انکل نسیم بیگ کہتا تھا اور وہ مجھے بیٹا جی پکارتے تھے، مجید نظامی صاحب ان کے طالب علمی کے دوست تھے، نسیم انور بیگ، سرتاج عزیز اور مجید نظامی یہ تینوں قیام پاکستان سے پہلے ایک دوسرے کے دوست بنے اور آخری سانس تک آپس میں جڑے رہے، سرتاج عزیز حیات ہیں جب کہ مجید نظامی اور نسیم انور بیگ انتقال کر گئے ہیں، مجید نظامی میاں نواز شریف کے والد میاں محمد شریف مرحوم کے بھی قریبی دوست تھے، میاں برادران نظامی صاحب کا بے انتہا احترام کرتے تھے۔
یہ ان کی کوئی بات نہیں ٹالتے تھے، میں نے میاں شہبازشریف کو مجید نظامی کے گھٹنوں تک کو ہاتھ لگاتے دیکھا، مجید نظامی نے میاں نواز شریف کو سیاستدان بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا، یہ 1980ء کی دہائی سے 2010ء تک میاں نواز شریف کے سیاسی استاد بھی رہے اور مدد گار بھی۔ نظامی صاحب میاں صاحب کو ہر قسم کا مشورہ دیتے تھے اور میاں برادران یہ مشورے بھی برداشت کرتے تھے اور ان پر عمل بھی کرتے تھے، مجید نظامی جب بھی اسلام آباد آتے تھے، یہ نسیم انور بیگ کے گھر ضرور جاتے تھے، یہ بیگ صاحب کے گھر کو پیر خانہ کہتے تھے، یہ 2004ء کی ایک شام تھی، نظامی صاحب انکل نسیم انور بیگ کے گھر تشریف لائے، وہ خلاف معمول ذرا سے جذباتی تھے، انکل نسیم بیگ نے پوچھا ’’خیریت ہے۔
آپ آج بدلے بدلے نظر آ رہے ہیں‘‘ نظامی صاحب نے کرسی پر بے چینی سے کروٹ بدلی اور بولے ’’مجھے جنرل مشرف نے شریفوں کے لیے ایک پیغام دیا ہے، میں یہ پیغام لے کر کل جدہ جا رہا ہوں‘‘ میز پر اس وقت چار لوگ بیٹھے تھے، ہم چاروں حیران رہ گئے، نظامی صاحب نے فرمایا ’’مجھے جنرل پرویز مشرف نے خصوصی طور پر بلایا، کھانا کھلایا اور پھر کہا، میں جانتا ہوں، آپ شریفوں سے زیادہ شریف فیملی کا حصہ ہیں، میں یہ پیغام اس لیے آپ کے ذریعے شریف فیملی تک پہنچانا چاہتا ہوں، میں نے جنرل پرویز مشرف کو ٹوک کر کہا، جناب صدر یہ لوگ میرے دوست ہیں،یہ میرا احترام بھی کرتے ہیں لیکن وہ شریف ہیں اور میں نظامی، نہ وہ میری فیملی ہیں اور نہ میں ان کی فیملی ہوں، آپ پیغام دیں۔
میں اگر قائل ہو گیا تو میں آپ کا یہ پیغام ان تک ضرور پہنچاؤں گا اور اگر قائل نہ ہوسکا تو میں معذرت کر لوں گا، جنرل پرویز مشرف نے یہ سن کر قہقہہ لگایا اور بولے، ویل نظامی صاحب میں جانتا ہوں، شریف شہزادے ہیں، یہ خود کو جدہ میں قیدی محسوس کررہے ہوں گے، میں انھیں ایک آفر کرنا چاہتا ہوں، یہ پاکستان کے علاوہ دنیا کے کسی بھی ملک میں جانا چاہیں، یہ چلے جائیں،یہ امریکا جائیں، یہ لندن جا کر برگر کھائیں یا پھر یہ دوبئی، جرمنی اور پیرس جائیں، میری طرف سے کھلی اجازت ہو گی، بس ایک شرط ہے! جنرل مشرف نے ایک لمبا سانس لیا اور پھر بولے، بس یہ میری مرضی کے شخص کو مسلم لیگ ن کا صدر بنا دیں اور جدہ کی قید سے رہائی لے لیں، میں نے صدر سے پوچھا، آپ کس کو پارٹی کا صدر بنوانا چاہتے ہیں۔
جنرل مشرف نے جواب دیا، آپ پہلے اتنا پیغام دیں اگر شریف مان گئے تو میں اگلے مرحلے میں اس امیدوار کا نام بھی ’’ڈس کلوز کردوں گا‘‘ نظامی صاحب رکے، لمبا سانس لیا اورپھر بولے ’’میں نے صدر سے کہا، میں آپ کا ادھورا پیغام لے کر نہیں جا سکتا، میں جب میاں برادران کے سامنے آپ کا پیغام رکھوں گا تو وہ بھی یقینا مجھ سے آپ کے امیدوار کا نام پوچھیں گے اور میں جب ان سے کہوں گا، جنرل مشرف وہ نام اگلے مرحلے میں بتائیں گے تو ان کا جواب ہو گا، ہم بھی اپنی رائے اگلے مرحلے میں دیں گے اور یوں میری پیغام رسانی ناکام ہو جائے گی، آپ یہ پیش کش نہ کریں اور اگر کرنی ہے تو پھر پوری کریں، جنرل مشرف نے چند لمحے سوچا، دائیں بائیں دیکھا، کاغذ پر ایک نام لکھا اور وہ نام میرے سامنے رکھ دیا، میں نے جب وہ نام پڑھ لیا تو جنرل مشرف نے کاغذ واپس لے لیا، میں نام پڑھ کر حیران رہ گیا۔
مجھے اس نام کی توقع نہیں تھی، جنرل مشرف نے اس کے بعد مجھ سے پوچھا، کیا شریف قائل ہو جائیں گے، میں نے ہنس کر جواب دیا، آپ تو مجھے قائل نہیں کر سکے، شریف کیسے قائل ہوں گے، جنرل مشرف کا چہرہ اتر گیا، وہ چند لمحے خاموش رہے اور پھر بولے، اوکے، آپ بہرحال انھیں یہ پیغام پہنچا دیں، میرا خیال ہے، شریف مان جائیں گے، میں نے پوچھا، آپ یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں؟ صدر نے جواب دیا، یہ مغل شہزادوں کی رہائی کی بڑی قیمت نہیں، یوں یہ میٹنگ ختم ہوگئی‘‘۔
نظامی صاحب خاموش ہو گئے، نظامی صاحب کی خاموشی کے بعد ہمارا سوال فطری تھا، ہم نے ان سے پوچھا ’’جنرل مشرف کس کو مسلم لیگ ن کا سربراہ بنانا چاہتے ہیں‘‘ نظامی صاحب نے مسکرا کر جواب دیا ’’آپ لوگوں کا خیال ہے جس شخص کا نام جنرل مشرف کے منہ پر بھی نہیں آیا، میں وہ نام آپ لوگوں کو بتا دوں گا، یہ کیسے ممکن ہے‘‘ہم خاموش ہو گئے، نظامی صاحب اگلے دن جدہ چلے گئے، جدہ میں کیا ہوا، شریف خاندان نے یہ پیغام سن کر کیا جواب دیا، ہم نہیں جانتے تاہم یہ طے تھا شریف فیملی کی طرف سے مثبت جواب نہیں ملا، کیوں؟کیونکہ میاں نواز شریف بدستور پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ رہے۔
یہ جدہ سے لندن بھی جنوری 2006ء میں منتقل ہوئے اور یہ اجازت بھی جنرل پرویز مشرف اور سعودی حکومت سے کسی اور نے لے کر دی تھی، اس کا اس ڈیل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا مگر اس کے باوجود میرے ذہن میں اس شخص کا نام جاننے کی خواہش موجود رہی جس کو جنرل پرویز مشرف ن لیگ کا سربراہ بنانا چاہتے تھے اور وہ اس کے لیے مجید نظامی صاحب کے ذریعے باقاعدہ ڈیل پر مجبور ہو گئے تھے، ہم لوگ نظامی صاحب سے اس شخص کا نام معلوم کرنا چاہتے تھے، میری مجید نظامی صاحب سے بے شمار ملاقاتیں ہوئیں، وہ اکثر اوقات بیگ صاحب کے گھر بھی آتے رہتے تھے، میں ہر بار ان سے ایک ہی سوال پوچھتا تھا ’’وہ کون تھا‘ اور وہ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیتے تھے، یہ راز میرے سینے میں دفن رہے گا، میں اسے ساتھ لے کر دنیا سے جاؤں گا، میں نے ان سے ایک بار عرض کیا ’’سر اب تو پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر گیا ہے۔
میاں نواز شریف کی جلاوطنی بھی ختم ہو چکی ہے، جنرل پرویز مشرف بھی فارغ ہو چکے ہیں اور جمہوریت بھی بحال ہو چکی ہے، مجھے اب اس شخص کا نام خفیہ رکھنے کی مصلحت سمجھ نہیں آرہی‘‘ مجید نظامی صاحب کا جواب تھا ’’چوہدری صاحب! وعدہ وعدہ ہوتا ہے، میں وعدہ توڑ کر اپنا اعتبار خراب نہیں کرنا چاہتا‘‘ نظامی صاحب آخر تک اپنے وعدے پر قائم رہے مگر میں نے ایک دن ان سے وہ نام اگلوا لیا، کیسے؟ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے، نسیم انور بیگ صاحب کی اہلیہ آنٹی اختر کی برسی تھی، بیگ صاحب کے گھر مہمانوں کا رش تھا، نظامی صاحب بھی موجود تھے۔
دعا کے بعد لوگ رخصت ہو رہے تھے، ان لوگوں میں ن لیگ کے ایک بزرگ سیاستدان بھی شامل تھے، وہ سیاستدان آئے، نظامی صاحب سے ہاتھ ملایا اور گیٹ سے باہر نکل گئے، نظامی صاحب کی آنکھوں میں چمک آگئی، انھوں نے میری طرف دیکھا اورمسکرا کر بولے ’’آپ کے چھ سال پرانے سوال کا جواب ابھی ابھی مجھ سے ہاتھ ملا کر باہر نکلا ہے‘‘ میرا قہقہہ نکل گیا، میں دیر تک ہنستا رہا، وہ دن گزر گیا مگر میں آج تک حیران ہوں، کیوں؟ کیونکہ وہ صاحب آج بھی پاکستان مسلم لیگ ن میں ہیں، میں انھیں جب بھی دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں میاں نواز شریف اگر ان کے نام سے واقف نہیں ہیں تو حیرت کی بات ہے اور اگر یہ انھیں جانتے ہیں تو یہ اس سے بھی بڑی حیرت کی بات ہے، کیوں؟ کیونکہ جاننے کے باوجود اس شخص سے ملنا، اس کی عزت کرنا اور اسے پارٹی میں رکھنا واقعی ہمت اور جرات کی بات ہے اور میں یہ سوچ کر میاں نواز شریف کی برداشت کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
میں نے اس پس منظر میں 4 مارچ کی شام حسین نواز شریف سے پوچھا ’’کیا مجید نظامی واقعی جنرل پرویز مشرف کا پیغام لے کر جدہ گئے تھے‘‘ حسین نواز نے میٹنگ کی تصدیق کر دی، میں ان کی اس تصدیق کے بعد یہ واقعہ اور اس شخصیت کا نام لکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا، اس شام مجید نظامی صاحب سے ہاتھ ملا کرباہر نکلنے والے راجہ ظفر الحق تھے، جنرل پرویز مشرف انھیں مسلم لیگ ن کا سربراہ کیوں بنوانا چاہتے تھے، اس کا جواب راجہ صاحب دے سکتے ہیں، پرویز مشرف یا پھر چوہدری شجاعت حسین، یہ تینوں کردار آج بھی حیات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں