Diabetic patient doing glucose level blood test

’ہر چوتھا پاکستانی ذیابیطس کا شکار ہے‘

Diabetic patient doing glucose level blood test
پاکستان میں ذیابیطس کے حوالے سے کیے جانے والے قومی سروے 16-2017 کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 26 فیصد حصہ ذیابیطس کا شکار ہے۔
اِس سروے کے مطابق ملک کی آبادی میں 20 سال کی عمر سے زیادہ کے ساڑھے تین کروڑ سے پونے چار کروڑ افراد اِس مرض کا شکار ہیں۔
قومی ذیابیطس سروے کے یہ نتائج آج صحت سے متعلق ایک کانفرنس میں منظرِ عام پر لائے گئے۔ یہ نتائج اُن اندازوں اور توقعات سے کہیں زیادہ ہیں جو پالیسی سازوں اور صحت سے متعلق افراد نے اِس بیماری کے تناظر میں لگائے تھے۔
قومی ذیابیطس سروے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان یا کسی بھی ترقی پزیر ملک میں کرایا جانے والا اپنی نوعیت کا پہلا سروے ہے جو بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبٹالوجی اینڈ اینڈو کرائینولوجی یا بائڈ نے پاکستان کی وزارتِ صحت، پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل اور عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے چلنے والی ڈائبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ساتھ مل کر کرایا ہے۔
بائڈ کے پروفیسر عبدالباسط نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پہلے لگائے جانے والے اندازوں کے مطابق پاکستان کی آبادی کا سات سے آٹھ فیصد یعنی 70 سے 80 لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہو سکتے تھے۔ ماہرین کا خیال تھا کہ سنہ 2040 تک یہ تعداد 15 سے 20 فیصد تک پہنچ سکتی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد پاکستان میں آبادی کے 26 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے جو کہ پوری قوم کے لیے خطرناک ہے۔‘
diabetes2
قومی ذیابیطس سروے ملک کے چاروں صوبوں کے شہری اور دیہی علاقوں اور وفاقی دارالحکومت میں کرایا گیا ہے۔ اِس سروے میں ماہر تحقیقکاروں کی سترہ ٹیموں نے حصہ لیا۔ اِس سروے میں گذشتہ سال اگست کے مہینے سے رواں سال کے دوران عالمی ادارہ صحت کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق تقریباً گیارہ ہزار افراد کے ذیابیطس کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے7.14 فیصد ذیابیطس کے نئے مریض سامنے آئے یعنی جنھیں خود نہیں معلوم تھا کہ وہ اِس مرض کا شکار ہیں۔
پروفیسر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ ’19 فیصد سے زیادہ لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ اِس مرض کا شکار ہیں جبکہ سات فیصد سے زیادہ ایسے تھے جن میں سروے کے دوران کرائے جانے والے ٹیسٹ کے ذریعے اِس مرض کی تشخیص ہوئی۔’
قومی ذیابیطس سروے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مزید 14 فیصد پاکستانیوں کو آگے چل کر اپنی زندگیوں میں ذیابیطس کا شکار ہوجانے کا خطرہ ہے۔
سروے کے دوران حاصل کیے جانے والے نمونوں کے مزید تجزیات کیے جائیں گے تاکہ معلوم ہوسکے اِس مرض کے تیزی سے بڑھنے کی وجوہات کیا ہیں اور اِس کام میں مزید چھ ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
پروفیسر عبدالباسط کے مطابق ’اِس طرح کا آخری سروے پاکستان میں بیس سال قبل ہوا تھا جو چار سال تک چلتا رہا۔ حالیہ سروے سے یہ معلوم کرنے میں آسانی ہوگی کہ پاکستان میں ذیابیطس کی وجوہات میں پیدائش کے وقت بچے کا وزن، ماں کی غذا، ڈبے کا دودھ، فکرِ معاش یا معاشرتی مسائل ہیں یا اِس کے علاوہ کون سے عوامل کار فرما ہیں۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ سروے کے نتائج سامنے آنے کے بعد ملک کی صحت سے متعلق پالیسی میں تبدیلیاں کرکے سکول کی سطح پر اِس کی روک تھام کے پروگرامز چلانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو اِس بیماری سے محفوظ بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں