پاکستان میں بھوک کا مسئلہ شدت اختیارکرگیا

Download PDF

Global-Hunger-Index-2017
امریکی شہرواشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ایک انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IFPRI) نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق اس وقت نہ صرف پاکستان میں بھوک کا مسئلہ شدت اختیارکرگیا ہے بلکہ آنے والے سالوں میں اس صورتحال کے مزید بگڑنے کی توقع کی جارہی ہے.

گلوبل ہنگرانڈیکس 2017 میں کل 119 ترقی پزیرممالک شامل ہیں جن میں پاکستان کا نمبر106 ہے. پاکستان اس مد میں بھارت اورافریقہ کے زیادہ ترممالک سے بھی پیچھے ہے اوراس کا شماران ممالک میں کیا جارہا ہے جہاں حالات انتہائی تشویشناک ہیں. گلوبل ہنگرانڈیکس یا جی ایچ آئی ایک مفصل انڈیکس ہے جو چارعوامل کومدِنظررکھ کرتیارکی جاتی ہے، کل آبادی میں غذائی قلت کا شکارلوگوں کا تناسب، بچوں کی اموات میں پھیلاؤ، بچوں کی نشونما میں کمی اوران کے وزن اورقد میں کمی.

جی ایچ آئی انڈیکس میں جس ملک کا سکور10 ہوتواس کا مطلب ہے کہ وہاں بھوک کا مسئلہ قابومیں ہے جبکہ 50 سکورانتہائی تشویشناک صورتحال کی نمائندگی کرتا ہے. پاکستان 32.6 سکورکے ساتھ اس انڈیکس میں دوسرے نمبرپرہے جبکہ پہلے 33.3 کے سکورکے ساتھ افغانستان اس انڈیکس میں پہلے نمبرپرہے. ایشیا میں یہ کسی بھی ملک کا سب سے کم سکور ہے. تیسرے نمبرپر31.4 کے سکورکے ساتھ بھارت براجمان ہے.

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا پانچواں حصہ غذائی قلت کا شکار ہے. پاکستان میں‌ غذائی قلت کی وجہ سے پنتالیس فیصد بچوں کی نشونما میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے. 2006ء سے 2010ء تک کی مدت کے مقابلے میں‌ اس اوسط میں اب پانچ فیصد اضافہ ہوچکا ہے.

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں‌ سب سے زیادہ غربت اورغذائی قلت کا شکار علاقہ تھرپاکرہے. 2015ء میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق اس علاقے کی تمام آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزاررہی ہے اوران کی روزانہ آمدن 1.90 ڈالرسے بھی کم ہے. اس کے علاوہ تھرپارکے کے علاقے کے لیے مختص عوامی فنڈ بھی دوسرے بڑے اضلاع سے خاطرخواہ کم ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں