Orya-Maqbool-Jan

شام بدل رہا ہے

orya-maqbool-jan-column
یوں تواس محفل میں شام سے آئے ہوئے کئی مفتیانِ کرام موجود تھے. لیکن ان میں سے دو”دیرالزور” سے تعلق رکھتے تھے. یہ وہ شہرہے جس کی فتح کیلئے امریکہ، روس، ایران، بشارالاسد اورحزب اللہ سب کے سب متحد ہیں. رقہ کے صحرائی علاقے کایہ شہردریائے فرات کے نزدیک آباد ہے. یہی دریائے فرات جب ترکی سے شام میں داخل ہوتا ہے تووہاں صدیوں پرانا شہرعرفہ بھی آباد ہے. وہ شہرجوسیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ولادت گاہ ہے. اسی شہرمیں وہ مقام ہے جہاں انہیں نمرود نے آگ میں پھینکا تھا. منجنیق کے دوستون آج بھی بلندی پرایستادہ ہیں اورجس جگہ آگ جلائی گئی تھی وہ ایک بہت بڑی جھیل میں تبدیل ہوچکی ہے جس میں ہزاروں مچھلیاں تیرتی نظرآتی ہیں. اسی شہر میں وہ غاربھی ہے جس میں سیدنا ایوب علیہ السلام نے بیماری کے دن صبرواستقامت سے کاٹے.غارکے ساتھ وہ چشمہ ہے جس کے پانی سے آپ نے غسل کیا توآپ کی بیماری جاتی رہی. یوں تویہ شہراوراس کے گردونواح کے علاقے قدیم وسیع ترشام کا حصہ ہیں، لیکن جدید قومی ریاست کی تقسیم کی وجہ سے خلافتِ عثمانیہ ٹوٹنے کے بعد ترکی کے حصے میں آئے. انطاکیہ سے لے کرنصیبین تک سرحدی علاقے ترکی کے پاس ہیں لیکن وہاں شام کے عربوں‌ اورکردوں کی تہذیب آج بھی نمایاں نظرآتی ہے. اتاترک کی تمام تراسلامی خلافت دشمنی کی بنیاد پرطویل ظلم وتشدد اورسیکولرترک قومیت کی عصبیت کے زبردستی نفاذکے باوجود لوگ ایک دوسرے سے یوں جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں کہ سیدالانبیاء صلی للہ علیہ وسلم کی مسلمان کی وہ پہچان واضح ہوجاتی ہے جس میں آپ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا “مومن کی مثال ایک جسدِواحد کی ہے، اگرایک عضوتکلیف میں ہوتوپوراجسم تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے(مسلم). یوں تواتاترک نے آج سے اسی سال قبل ان شہروں کے نام تبدیل کرکے انہیں ترکی زبان کا غلاف چڑھایا لیکن عام لوگ آج بھی عربی ناموں سے اپنے شہرکا تعارف کرواتے ہیں. انطاکیہ کو متائی توکہ دیا گیا لیکن کوئی یہ نام وہاں نہیں‌ بولتا. بلادشام کے یہ شہرایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں. انطاکیہ اورریحان علی کے سامنے ادلب کا علاقہ ہے اور کلس، غازی التب کے سامنے حلب جبکہ عرفہ اوراس کے آس پاس کے ترک شہروں کے سامنے رقہ اوردیرالزورہیں جبکہ کردوں کا مرکز کوبانی بھی اسی قرب وجوار میں ہے.
ان تمام شہروں‌ میں شام کے مہاجرین کویوں خوش آمدید کہا گیا ہے کہ انصارمدینہ کی یاد تازہ ہوگئی ہے. پورے علاقے میں کسی کے چہرے پرنہ کوئی ملال ہے اورنہ ہی مستقبل کا خوف. وہاں کوئی ولی خان اورمحموداچکزئی نہیں ملتا جو اپنی ہی زبان بولنے والے اوراپنی نسل کے پشتونوں اورپختونوں کوپاکستان کی سرزمین پرخوش‌آمدید کہنے کی بجائے دہشت گرد، تخریب کاراورپاکستانی معاشرے کے لئے خطرہ قراردے. افغانوں پرروسی فوج نے مظالم ڈھائے، ان کے گھربرباد کیے، ان کے باغ اجاڑے تویہ “قوم پرست” روس کی کمیونسٹ‌افواج کے ساتھ اوراس کی کٹھ پتلی حکومتوں ترہ کئی، حفیظ اللہ امین، ببرک کامل اورنجیب اللہ کے ہمنوا اوراگرانہی پشتونوں اورپختونوں پرامریکہ، نیٹو اوردنیا کی اڑتالیس خونخوارقومیں اپنی قوت وطاقت سے وحشت کا بازارگرم کریں تویہ ان کے کاسہ لیس، حامدکرزئی اوراشرف غنی کے ہم خیال اورپشت پناہ. انطاکیہ، ریحان علی، کلس اورعرفہ میں جس کسی سے بھی میں نے شام کے لٹے پٹے مہاجرین کے بارے میں سوال کیا کہ “کیا یہ لوگ تمہاری معیشیت پربوجھ نہیں” توان سب کا ایک ہی جواب ہوتا “کبھی مہاجربھی کسی سرزمین پربوجھ ہوتا ہے؟” جنگِ عظیم دوم کے بعد اگرترک ہجرت کرکے جرمنی نہ جاتے توتباہ حال جرمنی کبھی بھی دوبارہ ایک مضبوط معاشی طاقت نہ بن سکتا. یہ عرب شامی جب سے ہمارے شہروں میں آئے ہیں ہماری رونقیں بڑھ گئی ہیں. ان کے ہنرمند ہمارے لیے سستی اشیا فراہم کرتے ہیں. ان کی وجہ سے ہماری زمینیں آباد ہوئی ہیں، ہمارے شہربڑے ہوئے ہیں. چالیس لاکھ شامی مہاجرین جن میں کوئی افغان مہاجرین کی طرح‌ کیمپوں میں نہیں‌ رہتا، شہروں میں آباد ہوتے ہیں اوراس معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں. یوں‌توہمارے بھی بہت سے افغان مہاجرشہروں کا حصہ بن گئے البتہ ان میں اکثریت یعنی اسی فیصد کے قریب کیمپوں میں ہی رہتی رہی. ان کیمپوں‌میں مجھے افغان قوم کی اخلاقی برتری دیکھنے کا اتفاق ہوا. چاغی کے محمد خیل کیمپ میں اپنی پوسٹنگ کے دوران میں بارباردورے پرگیا. پاکستان کے تمام شہروں سے کم ازکم پچیس فیصد سستے داموں اشیا فروخت ہوتی تھیں. ان کا گوشت، روٹی، پھل سب کوئٹہ اورلاہورسے سستے تھے. وہ فیصل آباد اورسرگودھا سے کنومنگواتے اورلاہورکوئٹہ سے سستے داموں‌ بیچتے. دالبدین اورچاغی کے لوگ وہاں جاکرشاپنگ کرتے. ہمارے قوم پرست اس وقت ایک بدترین نسل پرست رویے کی بہت تعریف کرتے تھے. کہتے دیکھوان افغان مہاجرین کوایران نے کیسے کیمپوں میں قید کررکھا ہے، وہ شہرمیں نہیں آسکتے، پاکستان کو بھی ایسا کرنا چاہیے.



کس قدرتلخ حقیقت ہے کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کے نام پردنیا جہاں‌سے امداد وصول کی، انہیں ہرگلی محلے میں اجنبیوں کی طرح رکھا اورپولیس سے لے کرتاجرتک ہرکسی نے انہیں‌ لوٹا، ان سے ہرسیکولرادیب، شاعر کالم نگارنے نفرت کی اورآج پاکستان معاشی بدحالی اوربدترین خلفشارکی مثال ہے. دوسری جانب گزشتہ پانچ سال سے ترکی پانے شامی مسلمان بھائیوں کا میزبان ہے اورانہی پانچ سالوں میں ترکی کی معیشیت میں وہ انقلاب آیا ہے کہ اس نے اپنے تمام قرضے اداکرنے کے بعد ورلڈ‌بنک سے یہ تک کہ دیا ہے کہ اگرکسی ملک کوقرض دینا ہوتوہم دینے کوتیارہیں. شام کی جنگ افغان جنگ سے دس گنا زیادہ خوفناک ہے، شام میں دنیا کی ہرطاقت لڑرہی ہے اورہرطرف سے اسلحہ پہنچ رہا ہے. ترکی میں شامی مہاجرین کے آنے پرکسی نے ایک لمحے کے لئے بھی یہ اعتراض‌ نہیں اٹھایا ہے کہ “یہاں جہادی آجائیں گے، کلاشنکوف کلچرپیدا ہوگا”. ایک خندہ پیشانی ہے جوہرطرف نظرآتی ہے. اللہ نے ترکی کے لوگوں کوانصارِ مدینہ کی سنت پرخوش دلی سے عمل کرنے پرنوازا ہے اورہمیں ہجرت زدہ لوگوں کا تمسخراڑانے، انہیں دشمن اوربوجھ گرداننے پرجوسزا دی ہے وہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے.
ترکی کے سرحدی شہروں میں کئی جگہ مجھے پاکستانی پرچم نظرآئے. ان پرچموں کی تلاش میں ہی تومیں وہاں گیا تھا. یہ طبیب فاؤنڈیشن کے قائم کردہ ادارے ہیں جن کے لیے میں اکثر لوگوں سے امداد کی درخواست کرتا رہا. کلس میں‌ روٹی پلانٹ ہے جس میں روزانہ ایک لاکھ اسی ہزارروٹیاں بنتی ہیں اورمہاجرین کودی جاتی ہیں، جوشام میں کیمپوں میں رہتے ہیں. انطاکیہ میں یتیم بچوں کا وہ ادارہ اورسکول ہے جوپاکستان کے کسی شاندار گرامرسکول سے بھی زیادہ خوبصورت تھا. کئی ووکیشنل سینٹرجن کی مصنوعات ان شہروں میں بکتی ہیں. ترکی اورپاکستان کے جھنڈے ان عمارتوں پرلہراتے ہیں. ایک شخص ہمارے پاس کھڑا ہوا تواس نے کہا ہمارے بزرگوں نے ہمیں بتایاہے کہ ترک اورپاکستانی بھائی بھائی ہیں کیوں‌ کہ انہوں نے تحریکِ خلافت سے ہمارا ساتھ دیا تھا. پھروہ آنکھ میں‌آنسو لیے بولا، اس دنیا کا توپتہ نہیں لیکن آخرت میں ہم دونوں‌ ترک اورپاکستانی انشاءاللہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہوں گے. سو سال پہلے جو محبت کا بیج ہمارے بڑوں نے بویا اورتحریکِ خلافت چلائی اس کا ثمرآج پوری پاکستانی قوم کومل رہا ہے. کتنے بدقسمت تھے وہ لوگ جوانگریز کے اشارے یا مسلکی اختلاف کی وجہ سے تحریکِ خلافت کے مخالفت کرتے تھے.
عرفہ کے شہرمیں شام کے مفتیان سے میں نے جب شام کے بارے میں سوال کیا تو بہت سے بات کومصلحت سے بیان کرنے لگے. پھردیرالزورکے دونوجوان مفتی اچانک مصلحت کوشی چھوڑکربول اٹھے، اسرائیل، بشار، ایران اوردیگرشام کے عوام کے خلاف متحد ہوچکے ہیں اورجس طرح ان کے پالتوہرجہادی تنظیم میں داخل ہوچکے ہیں اورجس طرح‌ سعودی عرب کی سربراہی میں دیگرعرب ممالک اس ملک کوفتنہ کا شکاررکھنا چاہتے ہیں، ایسے میں اگرکوئی شام چلا جائے توپھرواپس نہیں‌ آسکتا. میں نے سوال کیا کیوں. اس نے کہا داعش، تحریرالشام، القاعدہ، حرالشام ، النصرہ، حزب اللہ، فاطمیوں جیسی دہشت گرد اورفسادی تنظیموں کے زوال کا آغاز ہوچکا ہے اوراسکی کوکھ سے وہ خلوص کے بندے علیحدہ ہورہے ہیں جو وہاں‌ جہاد کی نیت سے گئے تھے. یہ ہیں وہ جوسید الانبیاء کی بشارتوں کے امین ہیں. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “جب اہلِ شام فساد کا شکارہوجائیں توپھرتم میں‌ کوئی خیرنہیں میری امت میں ایک طبقہ فتح‌مند رہے گا، جولوگ ان کوبے یارومددگارچھوڑدیں گے انکا کچھ نہیں بگاڑ پائیں گے” (مسند احمد) یہ طبقہ وہ ہے جوخلوص نیت کے ساتھ شام میں مختلف جہادی تنظیموں کے ساتھ لڑنے گیا تھا. پانچ سالہ جنگ کے دوران ان پرسب کی حقیقتیں واضح‌ ہوچکی ہیں اوراب یہ لوگ ان بیرونی طاقتوں کی بنائی گئی تنظیموں سے علیحدہ ہوکراکٹھے ہورہے ہیں….دیکھیں اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں