یہ ایک عالمی سازش کا آغاز ہے

orya-maqbool-jan-column
کیا قادیانیوں کے متعلق حلف نامے میں تبدیلی اتنا سادہ سا معاملہ ہے، جیسے اربابِ حکومت بتا رہے ہیں. چند تویہ کہتے ہیں کہ یہ صرف ایک ٹائپسٹ کی غلطی ہے اوراس میں کسی سیاستدان سے لے کرمحمکہ قانون کے سیکشن آفیسرتک کسی کا کوئی دخل نہیں. شورمچا تواسے اجتماعی ذمہ داری کے کھاتے میں ڈال کریہ تاثردینے کی کوشش کی گئی کہ چونکہ یہ تمام قانون سازی ایک پارلیمانی کمیٹی کے ذمہ تھی، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان شامل تھے، اس لئے سب کی آنکھوں پرایک دبیزپردہ چڑھ گیا تھا اورکسی نے اس بات پرغورتک نہیں‌ کیا. شورمچا تومولانا فضل الرحمان بولے، دراصل اس سارے ہنگامے میں جو “ایک نااہل شخص کو پارٹی سربراہ بنانے” کے لئے برپا ہوا تھا، اس میں کسی نے ختمِ نبوت کی جیب کاٹ لی. سراج الحق‌ صاحب جو ان لوگوں میں شامل تھے جن کی سینٹ میں غیرحاضری نے نااہلی والے قانون کو ممکن بنایا، انہیں اس جیب کاٹنے کا علم بعد میں ہوا. وہ تمام مذہبی جماعتیں جواس کمیٹی کا حصہ تھیں اورجوخود کوختم نبوت قانون کا وارث کہتی تھیں، اس وراثت کے لٹتے وقت بےہوش رہیں. پیپلزپارٹی جس کے بانی نے آئین کے تحت قادیانیوں کواقلیت قراردیا تھا، وہ شخص جس کا نام ذولفقارعلی بھٹوہے، جلسوں میں فخرسے کہا کرتا تھا کہ اس نے نوے سال پرانا مسئلہ حل کردیا، اس پیپلزپارٹی نے ایسی خاموشی دکھائی کے اپنے تمام مغربی آقاؤں اورہمدردوں کی نظرمیں اپنا سیکولرتشخص تباہ ہونے سے بچا لیا. عمران خان جوحکومت کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کوسالوں اچھالتے رہتے تھےم اس اقدام کی مذمت کے لیے انہوں نے شاہ محمود کی ڈیوٹی لگا دی کہ سجادہ نشین ہیں، مذہبی کہلائے جاتے ہیں، کل کوئی سیکولررکن، این جی اویا مغربی نمائندہ سوال کرے گا توالزام سے صاف نکلا جا سکتا ہے. میاں‌محمد نوازشریف اوران کی صاحبزادی مریم جن کے ہرمعاملہ پربیانات اورٹویٹ بجلی کی سرعت کے ساتھ آ رہے ہوتے ہیں، وہ بھی خاموش رہے، ایسے کہ جیسے کسی کی چوری کی واردات پکڑی جائے توپیچھے سے ڈوری ہلانے والا دم سادھ لیتا ہے کہ کہیں اس کا نام نہ آجائے. دوسرا یہ بھی تھا کہ گزشتہ چھ سالوں سے نوازشریف نے اپنے ہرعمل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کے بدن پرجومذہب کا لبادہ تھا، وہ جوپچیس سال خودکواسلام کی محبت میں سرشارایک فرد کے طورپرپیش کرکے ووٹ لیتے تھے، وہ لبادہ بھی انہوں نے اتاردیا اورکہنے لگے کہ اب ووٹ بھی ان کا اپنا “یعنی نوازشریف کا ہوچکاہے. اس لیے نواز سیکولرہوجائے یا مسلمان رہے، مذہب دشمن ہوجائے یا مذہب دوست، لوگ اسے ہی ووٹ دیتے ہیں. یہ غلط فہمی پیپلزپارٹی کے آخری دورمیں آصف زرداری کوبھی ہوگئی تھی. مرحوم عباس اطہرکہ پیپلزپارٹی والے اکثران سے مشورہ کرتے رہتے تھے. دورصدارت میں انہوں نے آصف زرداری کومشورہ دیا کہ آپ اپنے ورکروں کا خیال کریں اورخصوصاً میڈیا میں اپنا چہرہ، خدوخال یا “امیج” بہتربنانے کی کوشش کریں توجوجواب ملا وہ احاطہ تحریرمیں لانا ممکن نہیں مفہوم یہ تھا کہ پی پی پی کا رکن اندھا “گونگا” بہرا ہےکہیں جا نہیں سکتا. یہ غلط فہمی ہی تھی کہ آج پیپلزپارٹی اپنے ورکراورووٹ ڈھونڈتی پھررہی ہے. نوازشریف کوبھی تیسری باروزیراعظم بننے کے بعد یہ غلط فہمی دماغ میں کیٹرکی طرح کلبلانے لگی تھی کہ لوگ انہیں نظریاتی طورپرنہیں بلکہ ذاتی طورپرپسند کرتے ہیں اوروہ جس راستے پربھی چلنا شروع کردیں گے لوگ ان کی محبت میں ان کے پیچھے چلنا شروع کردیں گے. اس کا آغاز بھارت دوستی اوردوقومی نظریے کے مخالف گفتگو سے کیا گیا اورپھروہ ایسا کچھ کرگزرے گا جس کی ہمت اورطاقت نہ پیپلزپارٹی میں تھی اورنہ ہی کسی فوجی حکومت میں، یعنی ممتاز قادری کی پھانسی. پورے ملک سے پرامن ردعمل اس کے جنازے میں شرکت سے ہوا، کسی نے کوئی غیرمعمولی اقدام نہ اٹھایا کہ عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ تھا. وقت گزرگیا اورنوازشریف کوحوصلہ ملتا گیا. اس کے اردگرد ایسے لوگوں کا ہجوم پہلے سے اکٹھا ہوچکا تھا جواس ملک کی اسلامی اساس پرحملہ آورتھے. اسی لئے انتہا کی خاموشی، چالاکی اورعیاری کے ساتھ قادیانیوں کو “حلف نامے کے عذاب” سے چھٹکارا دے کر”مین سٹریم” میں لانے کی یہ چال چلی گئی. جب شیخ‌ رشید کی گونج نے معاملہ طشت ازبام کیا تومعافی تلافی کی ذمہ داری وزیرقانون اورچند ایک حواریوں کی دی گئی لیکن خود نوازشریف اوران کی صاحبزادی کی جانب سے کوئی بیان اورٹویٹ سامنے نہ آسکا. دونوں مہربلب رہے.



کیا یہ اتنا سادہ سا معاملہ تھا. یوں تولکھنے والے لکھتے چلے آئے ہیں کہ اس پرکافی عرصے سے کام ہورہا تھا. ارشاد عارف صاحب نے ایک سال پہلے اپنے کالم میں نون لیگ کی اس بدنیتی کوواضح‌ کردیا تھا. لیکن کی صرف چند قادیانیوں کوخوش کرنے کے لئے یہ سب کیا گیا. کوئی اتنا سیاسی گنواراوربے وقوف نہیں ہوتا کہ چند ہزارکوخوش کرکے لاکھوں ووٹروں کوناراض کرلے. یہ سب ان عالمی طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا تھا جن کے دلاسے، بھروسے اوربرتے پرنوازشریف صاحب اب بھی یہ امید لگا کے بیٹھے ہیں کہ وہ دوبارہ اقتدارمیں آ جائیں گے. یہ طاقتیں یورپ اورتمام مغرب میں قادیانیوں کو”مغرب پسند مسلمانوں” کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں. ہراس فورم پرجہاں کسی مسلمان کی نمائندگی ہووہاں قادیانی کومدعوکیا جاتا ہے، کینیڈا کا وزیراعظم ان کے خلیفہ کوحکمران جیسا سرکاری اعزازدیتا ہے. تمام مغربی تجزیہ نگارانہیں ایک مظلوم کمیونٹی کے طورپرپیش کرتے ہیں. ان کے گزشتہ تینوں خلیفے آئینِ پاکستان کے خلاف مسلسل گفتگوکرتے آرہے ہیں اوراس آئین کوپاکستان کی تباہی کا ذمہ دارقراردیتے ہیں. نریندرمودی اسرائیل جاتا ہے توقادیانی کمیونٹی کانمائندہ استقبالیہ قطارمیں موجود ہوتا ہے، مودی اسے یہ کہ کرداد دیتا ہے کہ آپ لوگ تو بہت پرامن ہو. عالمی سطح پرپاکستان کی جڑیں کاٹنے کا کام کرتا ہوا یہ طبقہ مسلسل عالمی طاقتوں کے ذریعے حکمرانوں پردباؤ بڑھا رہا تھا، جس کا نتیجہ یہ ترمیم تھی جسے خاموشی اورچالبازی سے منظورکیا گیا. اس پرردعمل آیا تو”عالمی بلی” تھیلے سے باہرآگئی. اقوام متحدہ کے جنیوا میں موجود دفاترمیں ایک دفتر”انسانی حقوق” کا بھی ہے. اس ذیلی ادارے کے تحت دنیا کے ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کاجائزہ لیا جاتا ہے جسے “Periodic Review” کہا جاتا ہے. 13 نومبر 2017ء کواس جائزے کے اجلاس میں امریکی نمانئدے جیسی برنسٹین نے اس “جائزہ گروپ” کوپاکستان کے بارے میں تین سفارشات پیش کیں جس میں پہلی یہ تھی.
“پاکستان فوری طورپرتوہین رسالت کے قانون کو ختم کرے. اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام پابندیاں اٹھائی جائیں جن کے ذریعے “قادیانی مسلمانوں” (قادیانیوں) کوہراساں کیا جاتا ہے، اوراقوام متحدہ اپنا خصوصی نمائندہ پاکستان بھیجے جووہاں آزادی رائے اوراظہار کے تحفظ کویقینی بنائے”. باقی دوسفارشات انسانی سمگلنگ اورسیکیورٹی اداروں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں ہیں. لیکن آخرمیں پھرقادیانیوں کا ذکردوبارہ کیا گیا ہے “ہم توہین رسالت کے قانون کے نفاذ کوتشویش کی نظرسے دیکھتے ہیں اوریہی تشویش قادیانیوں پرعائد پابندیوں کے بارے میں ہے. ہمیں اس بات پربھی تشویش ہے کہ توہینِ‌ رسالت کے قانون اوردیگرایسے قوانین کوسیاسی مخالفین کودبانے اورذاتی دشمنیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے.”
امریکہ نے پہلی دفعہ اس قدرکھل کرقادیانیوں کی حمایت میں زبان کھولی ہے. اس سارے معاملے کوٹرمپ کے بیانات، یورپ میں مسلمانوں کے قتل عام “Holocaust” کے حق میں نکالی گئی ریلیوں، بھارت کوافغانستان کے راستے پاکستان میں دراندازی کے مواقع کی فراہمی اورپاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں تشویش کے تناظرمیں دیکھا جائے تویہ ترامیم ایک معصعوم غلطی نہیں تھی بلکہ سوچی سمجھی سازش ہے جو مقامی نہیں عالمی ہے. ابھی اقوام متحدہ کے “جائزہ گروپ” کا اجلاس جاری ہے، دیکھئے وہاں سے کیا اعلامیہ آتا ہے اورپھرقادیانیوں کوبچانے کی آڑ میں عالمی طاقتیں اپنے پاکستانی چیلوں سے مل کرکیا گل کھلاتی ہیں. پاکستان کوبرباد کرنے کے کئی راستے ہیں علاقائی، نسلی اورفرقہ وارانہ تعصب، لیکن سب سے کامیاب راستہ براستہ “قادیان” ہے کہ دنیا کی ساری پاکستان دشمن طاقتیں انہیں اپنا محبوب سمجھتی ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں