سی پیک کے دشمن اوردوست

orya-maqbool-jan-column
فروری 2017ء میں سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض کے ہوائی اڈے پرایک جہاز اترا. جہاز میں سوارشخص کے بارے میں عموماً اخبارات میں اطلاعات نہیں دی جاتیں، اورنہ ہی اس کے استقبال پرمیڈیا کے کیمرے اورسرچ لائٹس موجود ہوتی ہیں، نہ سوال نہ جواب، بس خاموشی ہی خاموشی. یہ شخص‌ جس ملک میں بھی جائے اس کے ساتھ ایسا برتاؤ‌ہوتا ہے اوریہ سب اس کی مرضی اورہدایت کے عین مطابق ہوتا ہے. یہ شخص‌ یا اس عہدے پرمتمکن ہرشخص اسی طرح‌ کسی ملک میں خفیہ طورپرہی آتا جاتا ہے. بہت کم ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ اس کی آمد کی اطلاع دی جائے. اس کی آمد کے مقاصد پرمضمون لکھے جاتے ہیں، تجزیے تحریرہوتے ہیں، اورسب میں ایک فقرہ ضرورمجود ہوتا ہے “ذرائع سے معلوام ہوا ہے”. اس لیے کہ اس کے دورے کے اختتام پر کوئی اعلامیہ جاری نہیں‌ ہوتا. یہ ہے سی آئی اے کا سربراہ. اس سال کے آغاز ہی میں مائیک پومپیو “Mike Pompeo” نے سی آئی اے چیف کا عہدہ سنبھالتے ہی ریاض، سعودی عرب کا دورہ کیا. یہ دورہ بالکل بھی خفیہ نہ تھا بلکہ وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کواس کی خدمات کے صلے میں “جارج ٹینٹ میڈل” پہنانے آیا تھا. یہ وہی جارج ٹینٹ ہےجواس وقت سی آئی اے کا سربراہ تھا جب گیارہ ستمبر2001ء کونیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹرپرحملہ ہوا تھا اوردنیا بھرنہیں‌ بلکہ صرف مسلم دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تھا. محمد بن نائف کویہ میڈل پہناتے ہوئے یہ الفاظ بولے گئے.
In recognition of his excellent intelligence performance in the domain of Counter Terrorism and his unbounded contribution to world security and peacce.
(یہ تمغہ اس کی ان خدمات کے صلے میں دیا جا رہا ہے جواس نے جاسوسی کے شعبے میں ادا کیں اوروہ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں، یوں اس نے دنیا کے امن اورسیکیورٹی کی بے انتہا خدمت کی ہے”.)
پھرایک دن محمد بن نائف کوولی عہدی سے معزول کردیا گیا اوراقتدارکی باگ ڈورایک اورولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ہاتھ میں آ گئی. یہ وہ موقع تھا جس نے سی آئی اے کے کان کھڑے کردیے، امریکی جاسوسی نظام میں گھنٹیاں‌ بج رہی تھیں، پیٹروڈالرکا سارا نظام خوفزدہ سا ہوگیا. اس لیے کہ اگرسعودی عرب میں جو وہ چاہیں گے نہیں ہوگا توپورے مشرقِ وسطیٰ میں بہت مشکل ہوجائے گی، عالمی مالیاتی نظام کی بساط لرزنے لگی. شاہ فیصل کی شہادت کے بعد امریکہ اوراس کا مالیاتی نظام مسلسل اس کوشش میں ہے کہ سعودی قیادت میں سے کوئی دوسرا شاہ فیصل نہ پیدا ہوجائے، جوایک بارپھرتیل کوہتھیار کے طورپراسی طرح استعمال کرے جیسے شاہ فیصل نے 70ء کی دہائی میں کیا تھا اوریورپ کے شہروں میں پٹرول پمپوں پرقطاریں لگ گئی تھیں. محمد بن نائف اپنے آئندہ مقاصد کے لیے چنا گیا تھا. یہ وہ شخص تھا جس نے پورے سعودی عرب میں ایسے تمام افراد کوجوانقلابی خیالات اورریاستِ اسلامی کے قیام کی بات کرتے تھے، انہیں قتل اغوا اورقید کروایا تھا. اسامہ بن لادن سے اسی شخص کے اختلافات پیدا ہوئے اورنوبت یہاں تک آ پہنچی کہ اسامہ بن لادن کواپنا وطن چھوڑکرسوڈان جانا پڑا. اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد والے گھرسے جوکاغذات برآمد ہوئے، ان میں اسامہ بن لادن کی ایک ڈائری بھی تھی. یہ ڈائری اب منظرعام پرلائی جا چکی ہے. اس میں اسامہ بن لادن ایک خواب کا ذکرکرتا ہے کہ اس نے دیکھا کہ “شہزادہ نائف اس سے ملنے ایک پہاڑی علاقے میں آیا. اس نے فوجی یونیفارم پہنا ہواتھا. مجھے اندازہ ہوا کہ یہ جنگ کرنے نہیں ملاقات کرنے آیا ہے. اس نے اسامہ سے کہا مجھے کوئی ایسی جگہ بتاؤ جہاں میں اپنا لباس تبدیل کرلوں کیونکہ یہ بہت تنگ ہوچکا ہے اورمیرے جوتے بھی مجھے دردکرتے ہیں. اسامہ نے ابوالفراج کواسے ایک گھر میں لے جانے کے لیےکہا”. اسامہ نے اس خواب سے یہ تعبیرلی کہ نائف اورسعودی اقتدارختم ہوجائے گا. نائف توطبی موت مرگیا لیکن اس کا بیٹا اس کی جگہ ولی عہد بنا دیا گیا. یہ بھی امریکی سی آئی اے کا منظورِنظرتھا. محمد بن نائف جو 23جنوری 2015ء کوڈپٹی ولی عہد کے عہدے پرمتمکن ہوا، وہ امریکی تعلیمی ادارے لیوس اینڈ کلارک کالج سے پڑھا ہواہے اوراس نے ایف بی آئی اورسکاٹ لینڈ یارڈ سے بھی دہشت گردی کے سلسلے میں خصوصی مہارتیں حاصل کی ہوئی ہیں. 29 اپریل 2015ء کواسے ولی عہد بنا دیا گیا اورشہزادہ مقرن بن عبدالعزیزکوہٹا دیا گیا. محمد بن نائف سعودی عرب کا وزیرِ داخلہ اورخفیہ ایجنسی کا سربراہ تھا. لیکن سی آئی اے کا میڈل لینے اورامریکہ کا برسرِعام اس کواپنا آدمی قراردینےکے صرف تین ماہ بعد جون 2017ء میں اسے برطرف کردیا گیا اورمحمد بن سلمان سعودی اقتدارکی راہداریوں میں بہت اہم ہوگیا.



اس کے بعد کے چارمہینے سعودی عرب کی تاریخ کے بہت اہم اورحیران کن تبدیلیوں کے مہینے ہیں. کیا ایسا امریکہ کے کہنے پرہورہا ہے. مغربی اورایرانی میڈیا یہی تاثر دے رہا ہے. لیکن وہ جو2014ء کے اپریل سے اس سارے معاملے کوغورسے دیکھ رہے ہیں انہیں معلوم ہے کہ 2014ء میں امریکی سی آئی اے نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ پورا سعودی خاندان اورعرب امارات کے خاندان کودہشت گردی کی معاونت کے حوالے سے اقتدار سے علیحدہ کردیا جائےگا اورنائف بن عبدلعزیز کواس پورے خظے کا امریکی انچارج نامزدکریا گیا تھا. لیکن نائف کی اچانک موت نے معاملہ کھٹائی میں ڈال دیا. گزشتہ سال سعودی حکومت تک یہ خبریں بھی پہنچ چکی تھیں کہ قطر کے امیرتمیم الثانی کے خلاف دبئی کے امیرمحمد بن زید نے بغاوت کروانے کی کوشش کی جسے سی آئی اے نے بلیک واٹرکے ذریعے کچل دیا. جیسے ہی سی آئی اے نے قطرحکومت کوچایا سعودی حکومت نے ان کے آدمی محمد بن نائف کوولی عہدی سے معزول کردیا. اس کے بعد سعودی خاندان میں یہ خوف بری طرح مسلط ہوچکا تھا کہ سی آئی اے کسی بھی وقت ان کے خلاف فوج سکتی ہے یا پھرسعودی عرب ہی میں موجود بلیک واٹرجیسے کرائے کے گوریلوں سے حکومت گراسکتی ہے. ایسے میں شہزادوں کی ایک طویل فہرست تھی جن کے اندروں خانہ امریکی انتظامیہ اورسی آئی اے کے ساتھ گہرے تعلقات تھے. محمد بن نائف توواضح‌ ہوچکا تھا. یہ باقی لوگ توایسے تعلقات معمول کے طورپررکھے ہوئے تھے کسی کوعلم نہ تھا کون کتنا سی آئی اے کے ساتھ ہے. اس لیے ان میں سے اکثریت کوگرفتارکیا جا چکا ہے. لیکن ابھی بھی ایک خوف ہے کہ سی آئی اے اپنے مہرے محمد بن نائف کے ذریعے بغاوت کراسکتی ہے. اس سارے وقت دنیا بھر کا مغربی پریس سعودی عرب کے اس سارے کھیل کوامریکی اوراسرائیلی آشیرباد کا ایک کھیل بنا کرپیش کررہا ہے. چند دن پہلے منحرف سعودی شہزادے خالد بن فرحان کے حوالے سے ایک خبر چلائی گئی کہ اس نے ٹویٹ کیا ہے کہ محمد بن سلمان نے امریکہ اوراسرائیل سے وعدہ کرلیا ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں کوشمالی سینا میں آباد کروائے گا تاکہ اسرائیل وہاں ایک نہرسوئزبنا سکے. کیا دورکی کوڑی لائی گئی. لیکن جو معاملہ بتایا نہیں جا رہا ہے وہ روس، چین اوعرسعودی عرب نے اپنی کئی دہائیوں پرپھیلی دشمنی ختم کرکے مشترکہ انرجی فنڈ قائم کیا اورتیل کی قیمتوں کے استحکام کے لیے تیل کی فروخت پرقدغن لگانے پرمتحد ہوئےہیں. محمد بن سلمان کے اس فیصلے کے بعد کہ آرامکویعنی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی کوسٹاک ایکسچینج میں رکھنے سے طوفان پربا ہوا، کیونکہ سب کو معلوم ہے روس اورسعودی عرب کا مشترکہ فنڈ اس کے حصص خرید لے گا اوریوں صدیوں پرانی امریکی کی پیٹروڈالرکی برتری ختم ہوسکتی ہے. ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھی اس فیصلے اورمحمد بن سلمان کے 2030ء وژن کوحیرت سے دیکھ رہے ہیں. سعودی عرب کی پچاس فیصد آبادی 25 سال سے کم ہے، جن کے لیے یہ نعرہ بلند کیا گیا ہے. دوسری جانب سعوی عرب نے چین کے ساتھ 65 ارب ڈالرکے معاہدے کئے ہیں. جن میں ایک یہ بھی ہے کہ چین سعودی عرب میں ایک ڈرون فیکٹری لگائے گا. سعودی عرب نے ڈرون ٹیکنالوجی چین سے 2016ء میں حاصل کی تھی جبکہ امریکہ نے دینے سے انکارکیا تھا. ان معاہدات میں چین نے سعودی عرب کے ساتھ سی پیک کے حوالے سے تیس بڑے معاہدات کیے ہیں. گوادرکی کامیابی خطے میں موجود دبئی، قطراورایران کی تجارتی موت ہے. یہی وجہ ہے کہ اس خطے کو ایک اورلڑائی اوردہشت میں جھونکنے کا نیا منصوبہ بنایا گیا جس کا منظرنامہ پہلے سے برسرِپیکاربیروت میں حزب اللہ سے شروع ہوکریمن میں حوثیوں سے شام اورعراق جاتا ہے. یوں لگتا ہے کہ ایک سی پیک ہے اورسارا جہاں دشمن ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں