earthquake-increase-next-year-2018

2018ء بدترین زلزلوں کا سال ہوگا، سائنسدان

earthquake-increase-next-year-2018
قدرتی آفات میں زلزلہ وہ واحد آفت ہے جس کے آنے سے پہلے کوئی واضح نشانی یا علامات نظر نہیں آتیں بلکہ یہ یک دم اورانتہائی خاموشی سے آتے ہیں. اس کے برعکس سمندری طوفانوں کی نہ صرف پیش انگوئی کی جا سکتی ہے بلکہ کئی ہفتہ قبل سے ان کا پیچھا بھی کیا جاسکتا ہے. اسی طرح ٹورنیڈوز، مون سون اورآندھیوں کا کوئی نہ کوئی موسم ہوتا ہے. لیکن زلزلہ بغیرخبردارکیے آتا ہے. اب ایک نئی تحقیق سے اس بات کا اشارہ مل رہا ہے کہ ہمیں آئندہ سال زلزلوں کے ایک لمبے سلسلے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اوراس کی وجہ انتہائی حیرت انگیز ہے اوروہ ہے زمینی گردش کی رفتارمیں کمی.

کسی زلزلہ کی درست پیش انگوئی کرنا توناممکن ہے لیکن زلزلوں کے ریکارڈ کا جائزہ لینے سے جیولوجسٹ کچھ درست اندازے لگا سکتے ہیں.یہ نئ تحقیق سیئیٹل میں جیولاجیکل سوسائٹی آف امریکہ کی سالانہ میٹنگ میں پیش کی گئی ہے اورجیوفزیکل ریسرچ لیٹرزنامی جریدہ میں شائع کی گئی ہے. یونیورسٹی آف کولوراڈو کے جیولوجسٹ راجربلہیم اوریونیورسٹی آف مونٹانا کی جیولوجسٹ ربیکا بینڈک نے 1900ء سے اب تک تمام دنیا میں 7 یا اس سے زائد شدت کے زلزلوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا ہے. زیادہ ترسالوں میں تو اس طرح کے بڑے زلزلوں کی اوسط 15 ہے جو کہ پہلے ہی بہت ہے. لیکن اس جائزہ سے پتہ لگا ہے کہ ہر 117 گزرنے کے بعد یہ تعداد بڑھ کر25 سے 30 ہوجاتی ہے.

سانئسدان زلزلوں کی تعداد میں اضافہ کی وجہ زمین کی گردش کی رفتارمیں معمولی سی کمی بتاتی ہیں تاہم دوسری جانب ماہرین نے اس تحقیق پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں زمین کے اندر پگھلے ہوئے مادے اتنے طاقتور ہوجائیں کہ وہ زمین پر زلزلے لاسکیں۔ علاوہ ازیں اب تک مائع فولاد اور اندرونی قلب کو اچھی طرح سمجھا بھی نہیں گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں