ذرا خیال رکھیں

Hamid-Mir
سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ انہیں تحریک انصاف سے نہیں بلکہ پیپلز پارٹی سے گلہ ہے۔ پیپلز پارٹی نے ماضی کے آمروں کی طرف سے آئین میں داخل کی گئی تجاوزات کو تحفظ دینے کی کوشش کی حالانکہ پیپلز پارٹی خود آمروں کے خلاف جدوجہد کرتی رہی ہے۔ نواز شریف کا اشارہ پیپلز پارٹی کی طرف سے 21نومبر کو قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے بل کی طرف تھا جس میں کہا گیا تھا کہ نااہل شخص کسی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ نواز شریف کے ساتھیوں اور اتحادیوں نے پیپلز پارٹی کے پیش کردہ اس بل کو اپنی اکثریت کے ذریعہ مسترد کر دیا۔ اس کامیابی پر نواز شریف خاصے مطمئن نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے اردگرد موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو 28جولائی کی صبح ساڑھے گیارہ بجے تک یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ نواز شریف کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں اور وہ چوتھی مرتبہ اور پھر پانچویں مرتبہ بھی وزیر اعظم بنیں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں تبدیلی کا عمل خاصا تیز ہو چکا ہے لیکن کچھ لوگوں کو یہ تبدیلی نظر نہیں آ رہی کیونکہ وہ اسے دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ تھوڑا سا پیچھے مڑ کر دیکھئے۔ قریباً تین ماہ قبل شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بنے تو مسلم لیگ (ن) اور اُس کے اتحادیوں نے اُنہیں 221ووٹ دیئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے نوید قمر کو 47اور تحریک انصاف کے نامزد امیدوار شیخ رشید احمد کو 33ووٹ ملے تھے۔ تین ماہ کے بعد 21نومبر کو نااہل شخص کی پارٹی صدارت کے خلاف بل قومی اسمبلی میں پیش ہوا تو مسلم لیگ (ن) کی زندگی و موت کا مسئلہ بن گیا۔ اس بل کا اصل مقصد نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانا تھا۔ اس بل پر ووٹنگ کے ذریعہ یہ طے ہونا تھا کہ حکمران اتحاد نواز شریف پر اعتماد رکھتا ہے یا نہیں؟ اس بل کو مسترد کرانے کے لئے وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں بھی سرگرم ہو گئیں۔ میڈیا کے ذریعہ یہ اعلان بھی سامنے آ گیا کہ مسلم لیگ (ن) کا جو ایم این اے 21نومبر کو قومی اسمبلی میں نہیں آئے گا اُسے شوکاز نوٹس دیا جائے گا۔ ووٹنگ ہوئی تو نواز شریف جیت گئے۔ انہیں 163ووٹ ملے اور مخالفت میں 98ووٹ آئے۔ اب ذرا اطمینان سے تین ماہ پہلے کی صورتحال کا موجودہ صورتحال کے ساتھ تقابل کر لیجئے۔ کچھ نہ کچھ تبدیلی تو صاف نظر آ رہی ہے۔
تین ماہ پہلے جب سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا تو اُن کی جگہ وزیر اعظم بننے والے شاہد خاقان عباسی کو 221ووٹ ملے۔ تین ماہ کے بعد نواز شریف کی پارٹی صدارت کے خلاف قانون کو مسترد کرنے کے لئے 163ووٹ آئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تین ماہ میں قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کے 68ووٹ کم ہوئے۔ کچھ وزراء اپنی مصروفیت کی وجہ سے اسمبلی میں نہیں تھے کچھ ارکان کا دعویٰ ہے کہ وہ بیمار ہیں اس کے باوجود 60سے زائد ارکان کی کمی قابل غور ہے۔ تین ماہ پہلے شاہد خاقان عباسی کے مقابلے پر اپوزیشن کے دو امیدوار تھے۔ دونوں کو ملا کر 80ووٹ ملے۔ تین ماہ کے بعد اپوزیشن کے ووٹوں کی تعداد 98ہو گئی یعنی 18ووٹ بڑھ گئے۔ حکومت کے ووٹ کم ہوئے اپوزیشن کے ووٹ بڑھ گئے لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ عمران خان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ تین ماہ پہلے بھی قومی اسمبلی میں نہیں آتے تھے اور تین ماہ کے بعد بھی قومی اسمبلی میں نظر نہیں آتے۔ عمران خان نے آئندہ انتخابات کی تیاری شروع کر رکھی ہے۔ ایک طرف جلسے ہو رہے ہیں دوسری طرف انتخابی اتحاد بن رہے ہیں۔ پچھلے دنوں عمران خان نے مولانا سمیع الحق کے ساتھ انتخابی اتحاد کے لئے ملاقات کی تو کچھ حلقوں نے عمران خان پر شدید تنقید کی۔ مولانا سمیع الحق جمعیت علماء اسلام میں اپنے گروپ کے سربراہ ہیں۔ اُن کے والد مولانا عبدالحق 1970ء کے عام انتخابات میں اکوڑہ خٹک سے منتخب ہوئے اور انہوں نے 1973ء کے آئین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ مولانا عبدالحق کا قائم کردہ دینی مدرسہ دارالعلوم حقانیہ کئی وجوہات کی بناء پر عالمی شہرت کا حامل بن چکا ہے۔ چار سال پہلے صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیو کے خلاف مہم شروع ہوئی تو پولیو کے قطرے پلانے والےا سٹاف پر حملے شروع ہو گئے۔ اُس وقت عمران خان نے مولانا سمیع الحق سے مدد کی درخواست کی اور پھر دارالعلوم حقانیہ سے پولیو ویکسین کے حق میں فتویٰ جاری ہوا۔ عجیب بات ہے کہ نواز شریف کے اتحادی مولانا فضل الرحمان متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے لئے مولانا سمیع الحق سے ملاقات کریں تو سوال اُٹھایا جاتا ہے کہ ایم ایم اے کی بحالی میں اصل دلچسپی کس کی ہے؟ مولانا سمیع الحق ایم ایم اے کا حصہ بننے کی بجائے عمران خان سے ملاقات کر لیں تو عمران خان انتہا پسندوں کے ساتھی قرار پاتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ انتخابی سیاست میں حصہ لینے والی جماعت انتہا پسند کیسے ہو سکتی ہے؟ مولانا سمیع الحق کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن کیا انہیں اپنی جماعت کی مرضی کے انتخابی اتحاد میں شامل ہونے اور انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی حق حاصل نہیں؟ کیا جمہوری عمل پر یقین رکھنے والوں کو انتہا پسند کہنا جمہوریت دشمنی نہیں؟
اشتہارات



جس دارالعلوم حقانیہ کے ساتھ عمران خان کے تعلق پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں یہ وہی دارالعلوم ہے جہاں باچا خان بھی جایا کرتے تھے۔ باچا خان کی دارالعلوم حقانیہ میں آمد اور طلبہ کے ساتھ گفتگو کی تفصیل مولانا سمیع الحق کی ڈائری میں موجود ہے جو 2016ء میں مولانا عرفان الحق حقانی نے مرتب کی۔ اس ڈائری کے مطابق سابق صدر جنرل یحییٰ خان کی بیوی اور بیٹی بھی دعا کیلئے مولانا عبدالحق کے پاس دارالعلوم حقانیہ آیا کرتی تھیں لیکن جب خود یحییٰ خان نے مولانا سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو مولانا نے انکار کر دیا۔
1972ء میں پیپلز پارٹی کے رہنما حیات محمد خان شیرپائو بھی گورنر بن کر یہاں آئے۔ خان عبدالولی خان بھی یہاں آیا کرتے تھے۔ بعد میں اسلامی جمہوری اتحاد بنا تو یہ دارالعلوم نواز شریف کا مورچہ بن گیا۔ مولانا سمیع الحق آئی جے آئی کے نائب صدر تھے لیکن جب نواز شریف پہلی دفعہ وزیراعظم بنے تو مولانا نے کچھ عرصے بعد آئی جے آئی کو خیرباد کہہ دیا۔ تاریخ یہ بھی بتائی ہے کہ 1993ء میں آصف زرداری، فاروق لغاری اور آفتاب شیر پائو نے مولانا سمیع الحق کے متحدہ دینی محاذ کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کیا جس پر پیپلز پارٹی کے تین رہنمائوں کے علاوہ متحدہ دینی محاذ کی طرف سے مولانا سمیع الحق، مولانا شہید احمد اور مولانا اعظم طارق نے دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت پنجاب میں جونیجو لیگ اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں سپاہ صحابہؓ کے شیخ حاکم علی کو وزیر بنایاگیا۔
یہ تفصیل اس لئے بیان کی تاکہ جمہوریت کے نئے مجاہدوں کو بتایا جا سکے کہ مولانا سمیع الحق ماضی میں نواز شریف کے بھی اتحادی تھے اور آصف زرداری کے بھی۔ مولانا فضل الرحمان بھی اُنہیں اپنا اتحادی بنانا چاہتے ہیں لیکن مولانا سمیع الحق کے کچھ تحفظات ہیں۔ وہ فاٹا کے مسئلے پر مولانا فضل الرحمان سے اتفاق نہیں کرتے۔ اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے ارکان قومی اسمبلی کا ایک گروپ مولانا فضل الرحمان سے شدید اختلاف رکھتا ہے۔ فاٹا سے مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے شہاب الدین نے اپنے ساتھیوں کو مولانا فضل الرحمان کی موجودگی میں محمود خان اچکزئی صاحب کے ساتھ ہونے والی ایک گفتگو کی جو تفصیل بتائی ہے وہ صرف فاٹا نہیں بلکہ پنجاب میں بھی نواز شریف کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ نواز شریف پیپلز پارٹی کے ساتھ گلے شکوے ضرور کریں لیکن ذرا خیال رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ کچھ دنوں میں مسلم لیگ (ن) کے اندر سے نواز شریف کے خلاف کھلم کھلا شکوے شروع ہو جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں