فیض‌آباد مظاہرین اورریاست کے درمیان معاہدہ غیرآئینی ہے، اسلام‌آباد ہائی کورٹ

Download PDF

agreement-unconstitutional-state-protestors
اسلام آباد: پاکستانی دارلحکومت کی ہائی کورٹ نے پیرکے روز اعلان کی ہے کہ فیض آباد مظاہرین توہین کے مرتکب ہوئے ہیں اورریاست نے ان کے سامنے ہتھیارڈال دیے ہیں.

فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ فیض آباد مظاہرین اورریاست کے مابین ہونے والے معاہدے کا ہرحصہ غیرآئینی ہے.

6 نومبرکے دن تحریکِ لبیک یا رسول اللہ کے سیکنکڑوں کارکنان نے سلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پراکٹھے ہوگئے اورانہوں ںے حکومت سے وزیرِ‌قانون زاہد حامد کے استعفیٰ کی مانگ کی جن پرالزام لگایا گیا تھا کہ نومنتخب امیدواروں کے حلف نامے میں تبدیلی انہوں نے ہی کی ہے. اس کے بعد 27 نومبرکوحکومت کی طرف سے زاہد حامد کے استعفیٰ کی شرط منظورکرنے کے بعد
ملک بھر میں دی گئی احتجاج کی کال واپس لے لی گئی.

پیرکے روزسپریم کورٹ کے بنچ کا کہنا تھا عدالت امید کرتی ہے فوج اس بات کی مکمل تحقیق کرے گی کہ اس معاہدہ میں پاک فوج کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ کا نام کیوں استعمال کیا جارہا ہے. ہائی کورٹ نے اس تمام معاملہ میں فوج کے کردار پربھی سوال اٹھایا ہے.

جسٹس صدیقی نے اس بات پربھی حیرت کا اظہارکیا کہ جن مظاہرین پردارلحکومت کوجام کرنے اورپولیس اہلکاروں پرتشدد کرنے کا الزام تھا ان کے خلاف ریاست نے دہشت گردی کے پرچے کیسے خارج کردیے. جسٹس صدیقی نے صاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ عدالت ریاست اورمظاہرین کے درمیان معاہدے کی توثیق نہیں کرے گی کیونکہ حکومت نے صرف ایک فریق کی شرائط قبول کرلی ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں