ہٹوں پر بکنے والے پتر

Download PDF

javed-ch
ہم اسرار احمد تنولی سے شروع کرتے ہیں‘ یہ اسلام آباد پولیس میں کانسٹیبل ہیں‘ ایم فل کے طالب علم ہیں‘ مانسہرہ سے تعلق رکھتے ہیں‘ فروری میں ان کی شادی طے ہے‘ یہ 25 نومبر 2017ء کو فیض آباد کی ڈیوٹی پر تھے‘ دھرنا زوروں پر تھا‘ اسرار احمد تنولی اسٹیٹ کی رٹ اسٹیبلش کرنے کے لیے آگے بڑھے‘ یہ مظاہرین کے نرغے میں آئے‘ یہ نہتے تھے۔
مظاہرین نے انھیں ڈنڈوں اور ٹھڈوں سے مارنا شروع کر دیا‘ یہ شدید زخمی ہو گئے‘ اسٹیج سے اعلان ہوا ’’کافر پولیس والے کی آنکھیں نکال دو‘‘ بپھرے ہوئے ہجوم نے غلیل کے ساتھ ان کے چہرے پر پتھر مارنا شروع کر دیے‘ ایک پتھر ان کی دائیں آنکھ میں لگا‘ آنکھ شدید زخمی ہو گئی‘ یہ تڑپ تڑپ کر بے ہوش ہو گئے‘ پولیس اہلکاروں نے بڑی مشکل سے ان کی جان بچائی‘ اسپتال پہنچایا گیا‘ ڈاکٹروں نے دائیں آنکھ مکمل ضایع ہونے کی تصدیق کر دی‘یہ اس وقت پولیس لین میں زخمی پڑے ہیں اور یہ اپنے ساتھیوں سے ریاست کے معانی پوچھ رہے ہیں۔
کانسٹیبل سکندر علی دوسری مثال ہیں‘ یہ بھی 25 نومبر کی صبح ریاست کی رٹ اسٹیبلش کرنے فیض آباد گئے تھے‘ یہ پچاس ساٹھ مظاہرین کے نرغے میں آئے‘ مظاہرین ان پر ڈنڈے برسانے لگے‘ اسٹیج سے اعلان ہوا‘ یہ یزیدی ہیں‘ یہ کافر فورس کے اہلکار ہیں‘ مظاہرین سکندر علی کو گھسیٹتے ہوئے اسٹیج تک لے گئے‘ اسٹیج سے اعلان ہوا مارو‘ کافروں کو مارو‘ یہ اعلان حکم تھا‘ مظاہرین سکندر پر پل پڑے‘ سکندر علی کو ڈنڈوں اور آہنی راڈوں سے مارا گیا‘ سر پر چوٹیں آئیں‘ خون بہنا شروع ہوا۔
یہ گہری بے ہوشی میں چلے گئے‘ مظاہرین میں سے کسی نے اعلان کیا’’ یہ مر گیا ہے‘ اسے اب چھوڑ دو‘‘ مظاہرین نے سکندر علی کو مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا‘ اللہ تعالیٰ کو سکندر کی زندگی عزیز تھی چنانچہ یہ بچ گئے‘ یہ اس وقت آئی سی یو میں ہیں‘ سر میں 35 ٹانکے لگے ہیں‘ یہ چند لمحوں کے لیے ہوش میں آتے ہیں‘ سسکی لیتے ہیں اور دوبارہ بے ہوش ہو جاتے ہیں‘ یہ پورے خاندان کے واحد کفیل ہیں‘ والدین انتقال کر چکے ہیں‘ سکندر علی کے جسم کا کوئی ایسا حصہ نہیں جس پر ریاست کی رٹ کے نشان موجود نہ ہوں‘ کانسٹیبل عابد علی تیسری مثال ہیں۔
یہ کاؤنٹر ٹیررازم فورس کے جوان ہیں‘ یہ ٹریننگ مکمل کر کے تازہ تازہ فورس میں شامل ہوئے‘ یہ 25 نومبر کو پولیس کے ہراول دستے میں شامل تھے‘ ہجوم نے میٹرو اسٹیشن‘ بس اڈے اور سیف سٹی کے کیمروں پر حملے شروع کیے‘ عابد علی ریاست کا یہ نقصان برداشت نہ کر سکے‘ یہ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے ہجوم کے راستے میں کھڑے ہو گئے‘ ہجوم نے انھیں گھیر لیا‘ یہ ریاست کی رٹ بچاتے رہے اور ہجوم ان کی ٹانگوں پر ڈنڈے برساتا رہا‘ ہجوم نے انھیں بھی ادھ موا کر کے چھوڑ دیا۔
عابد علی دونوں ٹانگوں سے محروم ہو چکے ہیں‘ یہ بھی اس وقت پولیس لین میں اس ریاست کا انتظار کر رہے ہیں جس کی حرمت پر انھوں نے اپنی دونوں ٹانگیں قربان کر دیں اور انسپکٹر عبدالجبار چوتھی مثال ہیں‘ یہ 37 برس قبل پولیس سروس میں کانسٹیبل بھرتی ہوئے‘ آہستہ آہستہ انسپکٹر کے رینک تک پہنچے‘ یہ اس وقت تھانہ کھنہ میں ایڈیشنل ایس ایچ او ہیں‘ نارووال سے تعلق رکھتے ہیں۔
چار بچوں کے والد ہیں‘ خاندان کے واحد کفیل ہیں‘ یہ بھی 25 نومبر کو ہجوم کے قابو آ گئے‘ ہجوم انھیں گھسیٹ کر اسٹیج تک لے گیا‘ اسٹیج سے اعلان ہوا ‘یہ کافر ہے‘ یہ یزیدی فوج کا سپاہی ہے‘ یہ بھی بچ کر نہ جائے‘ ہجوم نے عبدالجبار پر کیلوں والے ڈنڈوں اور راڈز سے حملہ کر دیا‘ یہ نیم مردہ حالت میں اسپتال پہنچائے گئے‘ یہ بھی اس وقت اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہیں‘ ان کے جبڑے اور سر کا اوپروالا حصہ ٹوٹ چکا ہے‘ چھاتی اور آنکھ پر کاری زخم ہیں‘ یہ بھی آئی سی یو میں لیٹ کر ریاست کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہ صرف چار مثالیں ہیں‘ ایسی 180 مثالیں موجود ہیں‘ 25 نومبر کو ریاست کی رٹ پر پولیس کے 147 اور ایف سی کے 73 اہلکاروں نے زخم کھائے‘ تشدد کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکاروں میں 100 کانسٹیبل اور 47 افسر شامل ہیں جب کہ پنجاب کے 3 اہلکار بھی لبیک یا رسول اللہ کے کارکنوں کا نشانہ بنے‘ آپ پی آئی ایم ایس‘ پولی کلینک اور پولیس لین جا کر دیکھیں آپ سے ریاست کے ان سپاہیوں کی حالت نہیں دیکھی جائے گی‘ یہ کون لوگ ہیں؟یہ وہ لوگ ہیں جو آج بھی ریاست کو ریاست سمجھتے ہیں‘ جو اس کی رٹ کو سلامت دیکھنا چاہتے ہیں اور جو حکومت اور عدالت کے حکم کو آخری حکم سمجھ کر اس پر عملدرآمد کراتے ہیں۔
یہ لوگ اصل ریاست ہیں لیکن ریاست نے 25 نومبر2017ء کو ان کے ساتھ کیا کیا؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا‘ حکومت نے حکم پر عملدرآمد کا آرڈر کیا‘پولیس کے پانچ ہزار پانچ سو 8 اہلکار فیض آباد پہنچے‘ مظاہرین کا گھیراؤ کیا اور آپریشن شروع کر دیا‘ یہ لوگ اسٹیج تک پہنچ گئے‘ دھرنے والے فرار ہو نے لگے‘ دھرنے کے قائدین نے صلح صفائی کی کوشش شروع کر دی۔
یہ پولیس سے محفوظ راستہ مانگنے لگے اور پھر اچانک بازی پلٹ گئی‘ انھیں سینئرز کا حکم آیا آپ پیچھے ہٹ جائیں‘ یہ کنفیوز ہو گئے‘ اس دوران ہزار نئے مظاہرین کا ریلا آیا‘ مظاہرین کے نئے ریلے کے پاس ڈنڈے بھی تھے‘ راڈز بھی اور آنسو گیس کے شیل بھی‘ یہ نیا ریلا پولیس پر پل پڑا اور اڑھائی سو پولیس اہلکاروں کو روند کر رکھ دیا۔
اشتہارات
a


یہ پولیس اہلکار آج تک پریشان ہیں‘ یہ آج تک ریاست سے اپنا جرم‘ اپنا گناہ پوچھ رہے ہیں‘ یہ اپنے سینئرز سے پوچھ رہے ہیں کیا ہم ریاست کا حصہ نہیں تھے؟ کیا ہم ریاست کا حصہ نہیں ہیں؟ اگر ہم ہیں تو پھر ریاست نے ہمیں اون کیوں نہیں کیا؟ یہ ہمارے پیچھے کیوں نہیں کھڑی ہوئی؟ کانسٹیبل عابد علی اپنے ملنے والے ہر شخص سے صرف ایک گلہ کرتا ہے۔
یہ کہتا ہے مجھے اپنی دونوں ٹانگیں ٹوٹنے کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا دکھ مجھے یہ جان کر ہواکہ ہماری ریاست نے ان لوگوں کو تھانوں سے نکال کر‘ ان کو پیسے دے کر گھر واپس بھجوایا جنہوں نے میری ٹانگیں توڑی تھیں‘ یہ تمام پولیس اہلکار مسلمان بھی ہیں‘ یہ صوم وصلوٰۃ کے پابند بھی ہیں‘ یہ ختم نبوت پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور یہ پاکستان کی حرمت پر کٹ مرنا اپنے لیے اعزاز بھی سمجھتے ہیں۔
یہ حکومت اور عدلیہ دونوں کے احکامات پر من وعن عمل بھی کرتے ہیں لیکن ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا‘ ہم نے انھیں 25 نومبر کو ان لوگوں کے حوالے کر دیا جو عدالت کو مانتے ہیں‘ حکومت کو اور نہ ہی ریاست کو‘ جو آئے‘ 21 دن تک عوام کے راستے روکے‘ میٹرو اسٹیشن تباہ کیا‘ گاڑیوں کو آگ لگائی‘ لوگوں کی دکانیں اور پلازے جلائے اور ڈی جی رینجرز کے ہاتھ سے لفافے لے کر واپس چلے گئے جب کہ ریاست کی حرمت اور رٹ کے لیے مرنے والے اسپتالوں اور پولیس لین میں پڑے رہ گئے‘ کیوں؟۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کیا عابد علی‘ عبدالجبار‘ سکندر علی اور اسرار احمد تنولی کسی کے بیٹے نہیں ہیں‘ کیا یہ اس ریاست کے ملازم نہیں ہیں‘ کیا یہ 25 نومبر کو ریاست کے حکم پر ریاست کی رٹ اسٹیبلش کرنے کے لیے فیض آباد نہیں گئے تھے‘ کیا مولانا خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کے ساتھ ان کی کوئی ذاتی لڑائی تھی اور کیا ختم نبوت کی شق کے ساتھ انھوں نے چھیڑ چھاڑ کی تھی؟ آخر ان کا جرم کیا تھا؟ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے یہ لوگ اگر 25 نومبر کو بغاوت کر دیتے۔
یہ ہائی کورٹ‘ حکومت اور سینئرز کے احکامات ماننے سے انکار کر دیتے اور یہ ریاست کی رٹ منوانے سے تائب ہو جاتے تو کیا ہوتا؟ کیا یہ دھرنے والوں کے ہیرو نہ بن جاتے‘ کیادھرنے والے انھیں پھولوں میں نہ تول دیتے‘ کیا یہ بھاری تحائف وصول نہ کرتے اورکیا ان کے اعضاء بھی سلامت نہ رہتے؟مجھے یقین ہے یہ اگر ریاست سے بغاوت کر دیتے تو دھرنے والے ریاست کے ساتھ معاہدے میں ان کی بحالی کی شق بھی شامل کرا لیتے اور یوں یہ دنیا اور آخرت دونوں میں سرفراز ہو جاتے لیکن یہ لوگ مشکل اس کی گھڑی میں ریاست کے ساتھ کھڑے رہے۔
یہ یزیدی اور کافر کہلا کر بھی‘ یہ ڈنڈے اور راڈز کھا کر بھی‘ یہ زخمی ہو کر بھی میدان میں ڈٹے رہے‘ یہ ریاست کی سائیڈ پر موجود رہے لیکن ریاست نے آخر میں کیا کیا؟ ریاست نے انھیں ’’اون‘‘ تک کرنے سے انکار کر دیا‘ وزیراعظم ہوں‘ وزیر داخلہ ہوں یا پھر چیف جسٹس آف پاکستان ہوں کسی کو ان کی عیادت تک کی توفیق نہیں ہوئی‘ ریاست نے الٹا ان کا میڈیکل الاؤنس‘ ٹی اے ڈی اے اور تنخواہیں تک روک لیں‘ آپ ریاست کا المیہ ملاحظہ کیجیے‘ ریاست صرف سرحدوں کے مخافظوں کو ریاست سمجھتی ہے‘ ہم صرف ان کو غازی اور شہید سمجھتے ہیں‘ وہ بے شک قوم کے محسن ہیں‘ وہ بے شک شہید اور غازی ہیں لیکن کیا پولیس کے اہلکار قوم کے بیٹے نہیں ہیں۔
کیا یہ ریاست کا حصہ نہیں ہیں‘ کیا یہ وطن کا فخر نہیں ہیں اور کیا ان کے آنسو‘ آنسو اور ان کا لہو لہو نہیں ہے‘ یہ پوچھتے ہیں یہ غازی اور یہ شہید کیوں نہیں ہیں‘ قوم ان کو سلام پیش کیوں نہیں کرتی‘ ریاست ان کے جنازوں میں شریک کیوں نہیں ہوتی اور حکومت ان کی خدمت‘ ان کی قربانیوں پر انھیں سیلوٹ کیوں نہیں کرتی۔
یہ پوچھتے ہیں کیا ریاست نے غازیوں اور شہیدوں کو بھی تقسیم کر دیا ہے‘ کیا ریاست نے اپنے بیٹوں کے لیے بھی تیرے اور میرے کی کیٹگری بنا دی ہے اور کیا یہ لوگ ماؤں کے وہ پتر ہیں جو ہٹوں پر دستیاب ہیں‘ آپ جب چاہیں اور جتنے چاہیں خرید لیں اور آپ جب چاہیں ان کے سروں کا سودا کر لیں‘ آپ ان کے قاتلوں کے ساتھ معاہدہ کر لیں‘ یہ بس اتنا پوچھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں