Orya-Maqbool-Jan

محموداچکزئی اورغیرت مند پشتون

orya-maqbool-jan-column
محمودخان اچکزئی کی قسمت اس کا ساتھ دے رہی ہے کہ باقی تین صوبوں اوروفاق میں کوئی اس کی شخصیت اورسیاسی زندگی کے نشیب وفرازسے واقف نہیں. پشتونوں کی عزت وناموس اورآزادی کے اس علمبردار کوخیبرپختونخواہ کے پشتون لہجے کے حساب سے پختون نہ اسے کل لیڈرمانتے تھے اورنہ آج. پنجاب کے سادہ لوح عوام کوعلم تک نہیں کہ اس “عظیم” رہنما کے دل میں پنجابیوں کے لیے کتنا درد ہے اوریہ ساری زندگی بے کس اورمجبورپنجابیوں‌ کے لیے تولڑتا رہا. شاید خیبرپختونخواہ کے پختونوں کے بارے میں اس کے دل میں چھپا غصہ باہرآیا تھا یا پھروہ کسی چال میں ہوگا ورنہ ایسا لہجہ اوروہ بھی ایک پنجابی نوازشریف کے بارے میں اوروہ بھی محمودخان اچکزئی کی زبان پر. قیامت کے آثارنظرآتے ہیں. ایک ہی وقت میں اس نے اپنے نئے قبلے کا بھی اعلان کیا اورپختون جوہمیشہ اس کی سیاست کا نشانہ بنتے رہے، ان کے بارے میں کہا “جمہوری ملک کے لیے جدوجہد کرنے والے نوازشریف کا ساتھ نہ دینے والے پشتون بے غیرت ہیں”. یہ کوئٹہ کے مشہورروزنامہ انتخاب کی ہیڈلائن ہے جواس نے محمودخان اچکزئی کی کوئٹہ والی اس تقریرسے نکالی ہے جواس نے نوازشریف کی ہمرکابی میں کی تھی. اخبارکوئٹہ میں چھپتا ہے اورلوگوں کوعلم ہے کہ ایسی ہیڈلائن نکالنا اس شہرکے ماحول میں کتنا مشکل کام ہے. یہ فیصلہ پشتونوں پرچھوڑدیں کہ غیرت اوراس پنجابی شخص کے درمیان انتخاب کریں جس کی سیاست سرمائے سے شروع ہوکرسرمائے پرختم ہوجاتی ہے اورجوآج تک اپنے اس سرمائے کے جائز اورحلال ہونے کا ثبوت نہیں دے سکا. لیکن محمودخان اچکزئی جیسے کردارکس دیدہ دلیری سے پوری پشتون قوم اورپنجابیوں کوبے وقوف بنانا چاہتے ہیں. جلسے میں کہا! میں خیربخش مری کے بیٹوں کرراضی کرلوں گا، میں عطاءاللہ مینگل کے پاس”میڑھ” لے کرجاؤں گاتاکہ جمہوریت کوبچاؤں. محمودخان اچکزئی کویہ سب اس وقت یاد نہیں آیا جب 1988ء میں کوئٹہ بلوچ پشتون لڑائی میں آگ اورخون میں نہا رہا تھا. جب شہرمیں طویل ترین کرفیولگاتھا. جب پشتونوں کی زندگیاں کوئٹہ کراچی راستے پرخطرے سے گھری ہوئی تھیِں. یہ راضی نامے اس وقت کیوں بھول گئےتھے جب جناح‌ روڈ پران کی پارٹی کے دفترپرحملہ ہوا تھا اوران کے پانچ جانثارماردیے گئےتھے. وہ خیربخش مری کے پاس “میڑھ” لے کرکیوں نہ گئے جب ہرنائی کے پشتون سبی تک سڑک چاہتے تھے اوروہ مریوں کے علاقے سے گزرتی تھی. وہ پشتون اپنی سبزیوں کو مارکیٹ تک پہنچاے اورمریضوں کوہسپتال لے جانے سے محروم رہے لیکن محمود خان اچکزئی کے قدم خیربخش مری سے منت کرنے گھرسے باہرنہ نکلے. یہ قدم ان تمام سالوں میں‌ مہندی لگے گھرمیں پڑے رہے جب چمالنگ کی کوئلے کی کانوں پرمری اورلونی ایک دوسرے کوگولیوں سے بھونتے رہے. نوے کی دہائی کا زمانہ پشتون نہیں بھولے ہوں گے جب تربت سے لے کرخضداراورلس بیلہ سے لے کرمستونگ تک وہ اپنے تندور بند کرکے بلوچ علاقوں سے جان بچا کر بھاگ گئے تھے لیکن محمودخان اچکزئی امن کا پرچم لے کرخیربخش مری اورعطاءاللہ مینگل کے پاس نہ گئے.
لیکن اب وہ امن کا پرچم، یہ میڑھ اورجمہوریت کایہ مشن لے کرایک پنجابی “نوازشریف” کے لیے خیربخش کے بیٹوں اورعطاءاللہ مینگل کومنانا چاہتا ہے. وہ پنجابی جس کو بلوچستان میں خود محمودخان اچکزئی اوراس کی پارٹی نے گالی بنایا. 6 مارچ 1980ء کوجب میں بلوچستان یونیورسٹی میں پڑھانے کے لیے کوئٹہ پہنچا تو اس شہرکی ہردیوارپرسرخ رنگ سے “پنجابی استعمار” کے خلاف نعرے درج تھے. انہیں افغانوں کا قاتل، سامراج کا ایجنٹ اورپشتونوں کی نسل کشی کا ذمہ دارٹھہرایا گیا تھا. “کالا باغ ڈیم نہ منو” اس لیے کہ آپ پنجاب کے خلاف باقی دیگرقوموں کا ساتھ دینا چاہتے تھے. ایک اورنعرہ بھی تھا. “دہ بولانہ تاچترالہ-پشتونستان دی” بولان سے چترال تک پشتونستان ہے. وہ توجب اکبربگٹی، عطاءاللہ مینگل اورخیربخش مری کا انتخابی اتحاد بنا توانہوں نے للکارتے ہوئے کہا کہ چترال توٹھیک لیکن بولان کا نام مت لینا تو ساری زبانیں خاموش ہوگئیں، بس بے چارہ تاریخ دان بیوروکریٹ عزیزلونی کتابیں لکھتا رہ گیا کہ بولان دراصل پشتونوں کا ہے اورچاکرخان ایک افسانوی کردار ہے.
a


محمودخان اچکزئی نے جلسے میں کس قدردکھ سے کہ آج افغانستان میں 44 سپاہی قتل ہورہےہیں. پشتونوں کے اس عظیم خیرخواہ کویہ44 سپاہی تویاد آگئے، اس فوج کے سپاہی جوافغانوں کوقتل کرنے کے لیے امریکہ نے بنائی ہے لیکن 17 سال سے وہ پشتون یاد نہ آئے جوامریکی ظلم اوربربریت سے مارے گئے. وہ تینوں ہوائی اڈے بلوچستان کی سرزمین پرتھے جن سے 57 ہزاردفعہ امریکی جہاز اڑے اورانہوں نے میرے مسلمان بھائیوں اورمحمود خان کے پشتون بھائی کے جسموں کے پرخچے اڑائے. اس سارا عرصہ آپ پرخاموشی طاری رہی.آپ کواس وقت بھی کچھ محسوس نہ ہوا جب ایٹم بم کے بعد دوسرا سب سے بڑا بم افغانستان کی سرزمین پرامریکہ نے پھینکا. لیکن آپ کیسے بولتے یہ افغان بے چارے تو ملا محمد عمرکے پشتون تھے جوزمین پراللہ کی حاکمیت چاہتا تھا اوراس نے قائم بھی کرکے دکھائی. آپ توانسانوں پربدترین انسانوں کی حکومت چاہتے ہیں. اس لیے توپندرہ سال آپ افغانستان پرحملہ آورروسی فوجوں کے حامی اوردلدادہ تھے. آپ افغانستان پرہراس حکومت کے خیرخواہ رہے جوان غیروں نے مسلط کی، خواہ روس کرے یا امریکہ. آپ نے ہراس پشتون سے نفرت کی جوافغانستان پرقابض غیرملکی فوج سے لڑا خواہ وہ حکمت یار تھا یا ملا محمد عمر. آپ کوکے جی بی اورسی آئی اے کے ایجنٹ اچھے لگتے ہیں لیکن آئی ایس آئی کے کردارسے‌ آپ نفرت کرتے ہیں.
میرے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ میں‌ محمودخان اچکزئی صاحب کے ضلع کی تقریباً ہرانتظامی ذمہ داری پرتعینات رہا ہوں اورمجھے معلوم ہے کہ موصوف کی سیاست کی کل اساس کیا ہے. ایک قبائلی تعصب اوروہ بھی اچکزئی قبیلے کی بنیاد پرجسے یہ جمہوری جدوجہد کا نام دیتا ہے. یہ سب اسے ورثے میں ملا ہے. 1970ء کے الیکشن میں جب ایک مسجد کے مولوی عبدالحق نے قومی اسمبلی کی نشست پربابائے پشتون عبدالصمد خان اچکزئی کوشکست دے دی تویہ اچکزئی کا بہرام خان تمام “مشران” (بڑوں) کو لے کراچکزئی قبیلے کی عزت کے لیے ووٹ مانگ کرلایا توعبدالصمد خان اچکزئی صوبائی الیکشن جیتا. میں 80 اورنوے کی دہائی کے تمام الیکشن اپنی انتظامی ذمہ داری سے دیکھے اورپرکھے ہیں. مجھے وہ “فرشتے” بھی نظرآئے تھے جنہوں نے چمن کے سرحدی گاؤں “زیمل” کی آبادی سے کئی سوگنا ووٹ محمودخان اچکزئی کوجتوانے کے لیے ڈالے تھے. میں ان بسوں کی آمدورفت سے بھی آگاہ ہوں جوچمن سے سمگلنگ کا سامان لے کرکوئٹہ میں پشتونخواہ میپ کے جسلے میں جانے کے لیے جھنڈا لگاتی ہیں اورسامان کوئٹہ کی مارکیٹوں میں پہنچاتی ہیں. ایک طویل کہانی ہے، اتنے سربستہ راز ہیں کہ پردہ اٹھاؤں‌ توکئی چہروں کے پیچھے چھپے خوفناک انسان نظرآنے لگیں گے. متعصب درندے جنہیں سیاست کے لیے انسانوں کا خون چاہیے. میں نے پشتونوں سے زیادہ غیرت مند قوم روئے ارض پرنہیں‌ دیکھی جوگزشتہ 37 سال سے اپنی غیرت کے لیے لڑرہی ہے اوردوعالمی طاقتوں کوشکست دے چکی ہے. یہ فیصلہ میں ان پرچھوڑتا ہوں کہ آپ محمود خان اچکزئی کی نظرمیں “بے غیرت” کہلانا چاہتے اورتاریخ کی نظرمیں غیرت مند یا پھر…..؟

اپنا تبصرہ بھیجیں