یروشلم کواسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے پرمسلم دنیا برہم

Download PDF


واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنازعہ شہریروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرلیا ہے جس کے نتیجہ میں نہ صرف امریکہ کا پوری دنیا کی طرف سے سفارتی دباؤ کا سامنا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں‌ خون خرابے کا امکان بھی بڑھ گیا ہے.

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ صدر بننے کے بعد وہ یروشلم کواسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرلیں گے. یروشلم شہرپرفلسطینی اوراسرائیلی دونوں ہی دعویٰ کرتے ہیں. امریکی صدر کا یہ فیصلہ امریکی حکمت عملی کی پچھلی 7 دہائیوں کی عکاسی نہیں کرتا.

لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اس فیصلے کی وجہ سے مزید تنہائی کا شکار ہوگئے ہیں کیونکہ دوست ہوں‌ یا دشمن سب نے اس فیصلہ کی مذمت کی ہے. اس فیصلہ سے فلسطینی عوام کی آزاد ریاست حاصل کرنے کی امیدوں پرشق کے بادل گھرآئے ہیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے خیال میں‌ ان کے اس فیصلہ سے اسرائیل اورفلسطین تنازعہ کے حل کی نئی حکمت عملی کا آغاز ہوگا.

وائٹ ہاؤس میں اپنی تقریر کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا “اسرائیل ایک خودمختارریاست ہے اورباقی تمام خودمختارریاستوں کی طرح اس بھی اپنی مرضی کا دارلحکومت چننے کا پورا حق ہے. وقت آ گیا ہے کہ یروشلم کواب اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرلینا چاہیے”.

اپنا تبصرہ بھیجیں