سانحہ ماڈل ٹاؤن پرانصاف کے لیے طاہرالقادری کا ساتھ دیں گے

Download PDF

pti-support-pat-model-town-case
اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان جمعرات کے روز انسدادِ دہشت گردی عدالت کے سامنے پیش ہوئے، ان کی یہ پیشی 2014ء میں پی‌ ٹی آئی اورپاکستان عوامی تحریک کے دھرنا کیس سے متعلق تھی.

سماعت کے دوران پولیس نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند کواطلاع دی کہ عمران خان اب تفتیش کا حصہ ہیں اورروپوش نہیں ہیں. عمران خان کے وکیل بابراعوان نے عدالت میں کہا کہ عدالت پہلے اس بات کا فیصلہ کرے کہ آیا یہ کیس انسدادِ دہشت گردی عدالت کے دائرہ کارمیں آتا بھی ہے کہ نہیں.

البتہ پبلک پراسیکیوٹرکا موقف تھا کہ اس بات کے واضح‌ ثبوت موجود ہیں‌ کہ پی‌ ٹی آئی کے چیف نے اپنے حامیوں کوتشدد پراکسایا تھا، ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے سیکش 10 کی بھی خلاف ورزی کررہے ہیں.

سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 2014ء کا جلسہ پرامن تھا اوران کی بجائے وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف اوروزیرِ قانون رانا ثناءاللہ کے خلاف دہشت گردی کا پرچہ ہونا چاہیے. عمران خان نے رانا ثناءاللہ اورشہبازشریف کے استعفیٰ‌ کا بھی پھرسے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 2014ء کے ماڈل ٹاؤن والے واقع کی وجہ سے ان دونوں‌ کو جیل میں ہونا چاہیے.

عمران خان نے کہا “اگرطاہرالقادری نے ماڈل ٹاؤن کیس پرانصاف حاصل کرنے کے لیے احتجاج کا اعلان کیا توپاکستان تحریکِ انصاف ان کا ساتھ دے گی”.

اپنا تبصرہ بھیجیں