ماضی کی طرف ایک اور سفر


ایک دفعہ پھر لیہ گائوں کی طرف طویل سفر درپیش تھا۔
خالہ کے بیٹے نادر کا ٹیکسٹ میسج تھا۔ مسات(خالہ زادبھائی) بابر بھائی فوت ہو گئے ہیں۔ کافی دیر بیٹھا موبائل فون دیکھتا رہا۔ ایک نیا درد، ایک نیا تکلیف دہ سفر۔ اب تو گائوں سے فون یا ٹیکسٹ میسج آئے تو ڈر لگتا ہے۔ کبھی لگتا ہے دکھوں اور تکلیفوں نے بستی کا رخ کر لیا ہے۔ ہر دفعہ جاتا ہوں تو خیرات کراتا ہوں، صدقے دلواتا ہوں تاکہ خدا ہماری بستی پر رحم کرے۔
یاد کرنے کی کوشش کی‘ گائوں میں نوجوان کب فوت ہونا شروع ہوئے۔ مصطفیٰ کا نام ابھرا۔ کیا خوبصورت جوان تھا۔ چھ بھائی۔ گھر کو کسی کی نظر لگ گئی۔ پہلے مصطفیٰ، اسرار اور پھر فاضل کی باری آئی۔ ان کی اماں کا رونا آج بھی نہیں دیکھا جاتا‘ جو اپنے تین جوان بچوں کو ڈھونڈتی رہتی ہے۔ پھر مہر یاسین کا جوان بیٹا، پھر مراد علی کا بیٹا، خدا بخش کا بڑا بیٹا باغ علی حادثے کا شکار ہوئے۔ پھر نعیم اور یوسف بھائی اور اب بابر… ایک لمحے کے لیے بابر کی چھ چھوٹی‘ بڑی بہنوں کے چہرے آنکھوں کے سامنے ابھرے۔ کیا حشر ہوا ہو گا جوان بھائی کی موت پر۔ سب سے بڑھ کر نصرت کا خیال آیا‘ جو اب بابر کی بیوہ بن گئی تھی۔ میرے چچا کی بیٹی۔ ایک ہی گھر میں ہم پلے بڑھے۔ اس حویلی میں تین بھائی (دو میرے چچا) رہتے تھے‘ لہٰذا ہم پندرہ بیس کزنز ایک ساتھ بڑے ہوئے۔ نصرت کی‘ میری خالہ کے بیٹے بابر سے شادی ہوئی تھی۔ نصرت جس روز چنے کی دال پکاتی‘ حویلی میں خوشبو پھیل جاتی۔ میں جا کر چچی سے کہتا: مجھے بھی کھلائیں۔ وہ وہیں بٹھا کر اپنے بچوں کے ساتھ چنے کی دال دیتیں‘ انہیں علم تھا کہ مجھے چنے کی دال بہت پسند ہے‘ اور وہ بھی اگر نصرت نے پکائی ہو۔
گاڑی تیز رفتاری سے گائوں کی طرف رواں تھی۔
کافی دیر سوچتا رہا کیسے نصرت اور اپنی چھ کزنز کا سامنا کروں گا۔ بابر بستی کے ان چند کرداروں میں سے ایک تھا‘ جن کی کسی سے لڑائی نہ ہوئی تھی۔ اکثر میں بابر سے گلہ کرتا کہ تم نے اماں کے ذریعے میری ایک دفعہ جھاڑ پٹی کرائی تھی۔
اشتہارات



ہوا کچھ یوں تھا کہ لیّہ میں گلستان سینما تھا۔ میں کروڑ ہائی سکول میں دسویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ مجھے مصطفیٰ قریشی کی فلمیں دیکھنا پسند تھا۔ ایک دن اپنے ہم عمر کزن امان اللہ‘ جو لیہ میں کام کرتا تھا‘ سے کہا کہ مجھے فلم دکھائو۔ طے ہوا کہ جمعہ کے روز خصوصی شو ہوتا ہے‘ وہ دیکھیں گے۔ میں نے سکول سے چھٹی ماری اور ہم فلم دیکھنے پہنچ گئے۔ میں ڈر رہا تھا کہ کہیں بستی کا کوئی بندہ نہ دیکھ لیے اور جا کر سلیم بھائی یا اماں کو شکایت نہ کر دے۔ ہم چھپتے چھپاتے جب ٹکٹ لے کر اندر پہنچے تو میں سن ہو کے رہ گیا۔ سامنے بابر کھڑا مسکرا رہا تھا۔ بولا: مسات! آپ بھی؟ مطلب تم بھی فلمیں دیکھتے ہو۔ میرا خاندان میں امیج تھا کہ میں پڑھاکو ہوں‘ فلم دیکھنے کا تو سوچ بھی نہیں سکتا اور وہ بھی سینما ہائوس جا کر‘ سکول سے بھاگ کر۔ فلم سے خاک لطف اندوز ہوتا۔ اس خوف میں رہا کہ اب بابر کیا کرے گا؟ وہ خود فلم دیکھنے آیا ہے‘ لہٰذا نظرانداز کرے گا؟ وہ اپنی ماں (خالہ) کو جا کر بتائے گا کہ آج روفی بھی فلم دیکھنے آیا ہوا تھا؟ خالہ کہے گی‘ تم بھی تو دیکھنے گئے‘ اگر وہاں روفی دیکھنے آیا ہوا تھا تو کون سی قیامت آ گئی؟ یا پھر خالہ اپنی بڑی بہن اور میری اماں کو بتائے گی: سنا ہے‘ تمہارے بیٹے نے کیا چَن چڑھایا ہے‘ تم بڑا کہتی ہو‘ روفی ایسی حرکتیں نہیں کرتا۔
وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔
اگلے دن شام کے وقت جب اماں چولہے پر بیٹھی سالن پکا رہی تھیں‘ تو مجھے کہا: تمہاری خالہ آئی تھی‘ بتا رہی تھی کہ تم کل سکول نہیں گئے‘ اور فلم دیکھنے گئے تھے۔ میں کانپ گیا۔ چوری پکڑی گئی تھی۔ اماں ان معاملات میں بہت سخت تھیں۔ بابا کی وفات کے بعد وہ ہم بچوں پر سختی کرتی تھیں تاکہ یہ خراب نہ ہو جائیں۔ میں نے فوراً جواب دیا: میں اور فلم دیکھنے جائوں؟ بابر کو غلط فہمی ہوئی ہو گی۔ اماں بھی شاید یہی سننا چاہتی تھیں کہ میرا بیٹا غلط کام نہیں کر سکتا۔ وہ بولیں: ہاں میں نے بھی یقین نہیں کیا۔ میں نے گہرا سانس لیا کہ چلیں بچت ہو گئی۔
اشتہارات



اگلے دن بابر ملا‘ تو میں نے گلہ کیا کہ یار خود بھی تم فلم دیکھنے گئے تھے‘ وہیں برا بھلا کہہ لیتے‘ خالہ اور اماں تک بات ضرور پہنچانی تھی۔ وہ سنجیدہ ہو کر بولا: میں اپنی پڑھائی مکمل کرکے اب سکول میں نوکری کرتا ہوں‘ تم ابھی پڑھ رہے ہو‘ خالہ بے چاری اتنی محنت کرتی ہیں‘ اور تم سب کو پڑھاتی ہیں۔ میں یہ راز چھپا کر تمہیں خراب نہیں کر سکتا تھا۔ مجھے بڑے عرصے بعد اندازہ ہوا کہ اماں کو سب پتہ تھا‘ لیکن ظاہر ایسے کیا جیسے انہیں میری بات پر یقین ہو کہ میں فلم دیکھنے نہیں گیا تھا۔
ہوا کچھ یوں کہ ایک دفعہ ماموں گھر آئے‘ اور اماں سے کہا: پتہ ہے تمہارا بیٹا نعیم جو بہاولپور ڈاکٹر بن رہا ہے‘ اب سگریٹ پیتا ہے؟ اماں بڑے اطمینان سے بولیں: تمہیں کب پتہ چلا؟ ماموں بولے: ابھی دیکھا ہے‘ مجھے دیکھ کر سگریٹ چھپانے کی کوشش کی۔ اماں بولیں: تمہیں اب پتہ چلا‘ مجھے تو تین چار سال سے پتہ ہے کہ نعیم سگریٹ پیتا ہے۔ جب وہ چھٹیوں پر گھر آتا ہے‘ اور اس کے کپڑے دھوتی ہوں تو جیب سے تمباکو نکلتا ہے۔ ماموں غصے میں آ گئے۔ بولے: اچھی ماں ہو‘ بیٹا سگریٹ پیتا ہے‘ تین چار سال سے پتہ بھی ہے‘ پھر بھی نعیم کو نہیں ڈانٹا۔
اماں بولیں: ابھی وہ مجھ سے ڈرتا ہے کہ اماں کو سگریٹوں کا پتہ نہیں۔ میں ہر وقت اس کے ساتھ تو بہاولپور نہیں ہوتی۔ جتنے دن گھر رہتا ہے‘ سگریٹ نہیں پیتا۔ بہت طلب ہو بھی تو گھر سے باہر جا کر ایک آدھ سگریٹ پی کر کپڑے جھاڑ کر واپس آتا ہے۔ میں کیوں اپنا خوف اس پر سے دور کروں؟ جس دن میں نے اسے ڈانٹ دیا کہ تم سگریٹ پیتے ہو‘ وہ شرمندہ ہو گا‘ دو تین دن مجھ سے نظریں چھپانے کے بعد ڈھیٹ ہو جائے گا کہ چلیں اماں کو پتہ چلنا تھا‘ سو چل گیا‘ اب کون گھر سے باہر جائے‘ اور سگریٹ پیے۔ پھر اس کے چھوٹے بھائی ہمت پکڑیں گے کہ اماں نعیم کو کچھ نہیں کہتی تو ہمارا کیا بگاڑ لے گی۔ میرا سارا رعب‘ دبدبہ اور خوف ان بچوں پر سے ختم ہو جائے گا۔ وہ بولیں: کوئی اگر احترام کرتا ہو، محبت کرتا ہو اور اپنے راز افشا ہونے سے ڈرتا ہو تو اسے ڈرنے دیں۔ آپ جس لمحے اس کا وہ ڈر ختم کریں گے‘ سب رعب جاتا رہے گا۔
اشتہارات



اماں نے بات جاری رکھی: اب تم نے کیا کیا؟ نعیم تمہاری اسی طرح عزت کرتا ہے جیسے میری۔ اس نے دیکھا کہ ماموں نے سگریٹ پیتا دیکھ لیا ہے تو احترام میں چھپانے کی کوشش کی۔ بجائے اس کے نظر انداز کرتے تاکہ نعیم پر تمہارا رعب قائم رہے، تم الٹا وہاں گئے‘ جہاں وہ دوستوں ساتھ بیٹھا تھا اور سگریٹ برآمد بھی کر لی۔ تم نے خود اپنا سارا رعب ختم کیا۔ میں اپنا ماں والا رعب ختم نہیں کروں گی۔ وہ اب ڈاکٹر بن رہا ہے‘ یقینا سگریٹ پیتا ہو گا۔
مجھے برسوں بعد احساس ہوا کہ یہی فارمولہ اماں نے مجھ پر بھی لگایا تھا۔ اماں کو علم تھا کہ میں فلم دیکھنے گیا تھا‘ کیونکہ بابر کی گواہی پکی تھی۔ لیکن اماں نے میرا جواب سن کر یقین کر لیا تاکہ اماں کا ڈر مجھ پر قائم رہے اور وہ کوئی بھی کام کرتے وقت یہی سوچے اماں کو پتہ چلا تو وہ کیا سوچیں گی۔لیہ کا طویل سفر جاری تھی۔ تھل کے اندر سے گزرتی سڑک پر گاڑی دوڑاتے ہوئے‘ میں ماضی کی طرف سفر کر رہا تھا۔ اب نہ اماں رہیں‘ نہ خالہ‘ اور نہ ہی بابر… تینوں کردار ایک ایک کرکے ٹُر گئے تھے۔
مجھے پتہ تھا کہ گائوں پہنچ کر ایک نئے دکھ کے سمندر کا سامنا ہو گا۔ اپنی چھوٹی بیوہ کزن نصرت اور بابر کی چھ بہنوں کا سامنا کرنا تھا۔ چند برسوں میں سب کچھ بدل گیا تھا۔ پیارے ایک ایک کرکے بچھڑ گئے تھے۔ پہلے نعیم بھائی گئے، پھر یوسف بھائی، تین ماہ پہلے بڑی بہن اور اب ایک جوان کزن۔
سردیوں کی شام سڑک پر دوڑتی گاڑی سے تاحد نظر تھل میں بکھری ریت کے ٹھنڈے اونچے نیچے ٹیلے اور سر جھکائے کہیں دور کھڑے اداس درختوں‘ جو پتہ نہیں کتنے گزرے زمانوں کے گواہ تھے، کے زرد پتوں کو اپنی اپنی باری پر بے رحم مٹی میں دفن ہوتے دیکھ کر منیر نیازی یاد آئے:
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

اپنا تبصرہ بھیجیں