ایاز صادق کے مایوس ہونے کی کہانی


سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بڑی عجیب بات کہی ہے کہ آج کل جو کچھ ہو رہا ہے اس سے انہیں سیاست سے مایوسی ہوئی ہے۔ انہیں لگ رہا ہے جو کچھ اب ہو رہا ہے، وہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ سوال پیدا ہوتا ہے ایسا کیا نیا ہوا ہے کہ وہ سیاست سے مایوس ہوگئے ہیں؟ کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے؟ فرماتے ہیں: جو کچھ کراچی میں ایم کیو ایم کے دھڑوں کے ساتھ ہو رہا ہے اور لاہور اور اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں کے دھرنے میں کچھ طاقتوں کا کردار سامنے آنے کے بعد انہیں سیاست سے مایوسی ہو گئی ہے اور کچھ ہونے والا ہے۔
ایاز صادق بھی اس شہری تاجر کلاس سے تعلق رکھتے ہیں جو بھٹو کی پارٹی کے خلاف انقلاب لانے نکلی تھی۔ جنرل ضیاء کو علم تھا کہ وہ زیادہ دیر تک سیاست کو ہائی جیک کر کے نہیں رکھ سکیں گے، لہٰذا کوئی لولا لنگڑا نظام انہیں چاہیے تھا۔ بھٹو دیہاتوں میں پاپولر تھے، اس کا توڑ یہ نکلا کہ شہر کے اندر نئی تاجر سیاسی کلاس پیدا کی جائے۔ صنعت کار بھٹو کے ڈسے ہوئے تھے لہٰذا جنرل ضیاء نے انہی کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ شریف خاندان سے بہتر انہیں کون مل سکتا تھا، جن کی مِل بھٹو نے قومیا لی تھی۔ یوں ہم نے دیکھا کہ جنرل ضیاء نواز شریف کے لیے اتنے جذباتی ہوئے کہ یہاں تک کہہ دیا: میری عمر بھی نواز شریف کو لگ جائے۔ وہ قبولیت کی گھڑی تھی۔
یوں نواز شریف کو شہروں اور صنعت کاروں کا نمائندہ بنا کر ابھارا گیا، حالانکہ جو انہیں قریب سے جانتے ہیں، وہ مانتے ہیں کہ نواز شریف میں اتنی صلاحیت نہیں تھی کہ وہ قومی سطح کے لیڈر بن سکتے۔ آج بھی پرچی کے بغیر وہ ایک فقرہ ادا نہیں کر سکتے۔ خیر اللہ بھلا کرے بینظیر بھٹو کا، جنہوں نے وزیراعظم بنتے ہی نواز شریف کے ساتھ مَتّھا لگا لیا اور یوں وہ انہیں وزیراعلیٰ کے لیول سے اٹھا کر وزیراعظم کے لیول تک لے آئیں۔ ’جاگ پنجابی جاگ‘ کا نعرہ تخلیق کر کے نواز شریف کو اربن کلاس کا نمائندہ بنا دیاگیا۔ میڈیا میں بھی دوست بھرتی کرا کے نواز شریف پر کالم لکھوائے گئے اور ان کی کرشمہ ساز شخصیت کا امیج ابھارا گیا۔ ہم کالم نگار اور صحافی جب مالش کرنے پر آتے ہیں تو پھر ہمارا کوئی جوڑ نہیں۔
اشتہارات



سب کو پتا تھا کہ نواز شریف میں اہلیت نہیں، لیکن کیا کرتے اس وقت ضرورت مندوں کو پنجاب سے ایک ایسے لیڈر کی ضرورت تھی جو بھٹو کے ووٹ سے لڑتا اور اسے کاٹتا۔ یوں ایک نیا سیاسی لیڈر کھڑا کیا گیا۔ مصطفی جتوئی کو بھی آگے لایا گیا لیکن پتا چلا کہ پنجاب کا ووٹ بینک زیادہ ہے؛ لہٰذا کوئی پنجابی ہی سوٹ کرے گا اور یوں انیس سو نوے کے انتخابات کے بعد نواز شریف کو وزیراعظم بنوا دیا گیا۔ سب کا خیال تھا کہ یہ ’بچہ جمہورا‘ ہے، اسے ہینڈل کرنا آسان رہے گا۔ وہ بچہ جمہور پنجاب میں دس برس گزار کر، پوری سیاست کو کرپٹ کرنے کے بعد سب سمجھ چکا تھا کہ سیاست میں ہر کسی کی قیمت ہوتی ہے۔ سب کو خریدا جا سکتا ہے۔ ہر ایک کو پیسہ چاہیے۔ کون سا ذاتی جیب سے جا رہا تھا۔ وکیلوں کو ہزاروں پلاٹ دیے گئے۔ لاہور میں پلاٹس بنا کر اپنے لوگوں میں بانٹ دیے گئے۔ سیاست میں نظریات کو آگ لگا کر، ہر جگہ، ہر کسی کی قیمت لگائی گئی۔ بولیاں شروع ہوئیں، کالم نگاروں، صحافیوں کے لیے علیحدہ پیکیج تیارکیے گئے کہ جو ہمارے لیے ڈھول بجائے گا اسے وزیر سے لے کر سفیر تک، سب کچھ بنایا جا سکتا ہے۔
بیورو کریٹس کو خاندانی غلام بنا دیا گیا۔ سیاست میں وفاداری کو پروموٹ کیا گیا۔ خورشید قصوری جیسے لوگوں نے اگر کہیں پارٹی میں، کسی بات پر اعتراض کیا تو فوراً کہا کہ استعفیٰ دے دو۔ اسد الرحمن نے اگر کہہ دیا کہ ہم کسی سکول کی کلاس میں نہیں بیٹھے کہ جہاں کسی کو بولنے کی اجازت نہیں تو انہیں بھی نشانِ عبرت بنا دیا گیا تاکہ کسی اور کو ایسی جرأت نہ ہو۔ دوسری طرف ٹھیکیداروں کو پارٹی میں لانے کا آغاز ہوا۔ پارٹی فنڈز کے نام پر مال بنانے کا دھندا شروع ہوا۔ پڑھے لکھے لوگوں کو دور کیا گیا۔ جس کی جیب میں پیسہ تھا، چاہے اس نے کیسے بھی کمایا ہو، اسے ویلکم کیا گیا۔
یوں ہر جگہ رول ماڈل پیدا کیے گئے۔ سیاست کا دوسرا نام کرپشن رکھ دیا گیا۔ مال بنتا گیا اور اسے باہر بھیجتے گئے۔ رشتہ داروں کو اونچے اونچے عہدے ملنے شروع ہو گئے۔ پہلے خود وزیر بنے پھر ہر ضلع میں باپ، بیٹے یا بھائی کو چیئرمین لگوا دیا۔ نارووال میں احسن اقبال نے بیٹے کو چیئرمین بنوا دیا تو سائرہ تارڑ نے اپنے باپ کو اپنے ضلع میں۔ یہ ہر جگہ ہوا کہیں بھی نئی قیادت کو سامنے نہیں آنے دیا گیا۔ جو ایک دفعہ ٹرین میں گھس گیا، اس نے اندر جا کر کنڈی لگا دی تاکہ اگلے سٹیشن پر کوئی دوسرا اس ٹرین پر نہ چڑھ پائے۔ جو ایم این ایز ایک دفعہ آگئے سیاست میں، انہوں نے پورے ضلع کو غلام بنا لیا۔ پورے خاندان کو بڑے بڑے عہدوں پر بٹھا دیا۔
اللہ بھلا کرے ڈاکٹر محبوب الحق کا، جو 1985ء میں سیاستدانوں کو کرپشن کی راہ دکھا گئے تھے، جب ہر ایک کو لاکھوں روپے چندہ دیا گیا کہ وہ جائیں اور گلیاں بنوائیں۔ مطلب وہی تھا کہ جاؤ، مال بناؤ، جنرل ضیاء کا سر نہ کھاؤ۔ ایم این ایز کو ٹھیکیدار بنا دیا گیا۔ وہ سیاستدان جو کبھی جیب سے مال خرچ کر کے سیاست کرتے تھے اور کبھی زمینیں بیچ کر، ان کو چسکا لگا دیا کہ کیوں جائیداد بیچتے ہو، مال بناؤ۔ مت پوچھو وزیراعظم کیا کر رہا ہے، وزیر کہاں سے مال بنا رہے ہیں، کون بیوروکریٹ کتنا کھا رہا ہے۔ تم اس سے غرض رکھو کہ تمہارے علاقے کا تھانیدار تمہاری مرضی کا ہے کہ نہیں، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اور ہیلتھ افسر تمہاری مرضی کا ہے یا نہیں۔ درجہ چہارم کی نوکریاں بیچ کر مال بناؤ۔ ٹھیکے لو، کروڑوں روپوں کے ترقیاتی فنڈز، بیس لاکھ روپے سے ایک کروڑ روپے پر تک، لے کر ٹھیکیداروں کو بیچ دو، لوگوں کو تھانے میں چھتر مرواؤ، مخالفوں کی ماؤں بہنوں کے تبادلے کراؤ، علاقے میں غنڈے پالو لیکن خبردار! اگر لاہور یا اسلام آباد پہنچ کر اسمبلی میں آواز اٹھانے کی کوشش کی تو عبرت کا نشان بنا دیے جاؤ گے۔
اشتہارات



آج جو ایاز صادق فرماتے ہیں کہ سیاست سے مایوسی ہوئی ہے تو انہیں خود پتا نہیں کہ وہ کس طرح کی سیاست کرتے ہیں؟ کیا سیاست یہ ہوتی ہے کہ آپ کا بڑا بیٹا، جو بیرون ملک بینک میں جاب کرتا ہے، اسے اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ اور ملتان تک کے پاور بورڈز کا ممبر بنا دیا جائے؟ اگر وہ شخص ایاز صادق کا بیٹا نہ ہوتا تو کیا اسے ان چار بورڈز میں ممبر لگایا جاتا؟ اس طرح اگر نعیم نامی زمیندار کی چار ماہ پہلے شہباز شریف کی بیگم تہمینہ درانی کی بہن سے شادی نہ ہوئی ہوتی تو کیا اسے بورڈ آف انویسٹمنٹ کا سربراہ لگایا جاتا؟ آپ سیاست میں نہ ہوتے تو رائیونڈ کی سکیورٹی پر دس ارب روپے خرچ ہوتے یا تین ہزار سکیورٹی اہلکار ایک خاندان کی حفاظت کرتے یا چند برسوں میں صرف پاکستان میں پچاس فیکٹریاں بنا لیتے؟
یہ سب عیاشیاں، مزے اسی سیاست کی وجہ سے ہیں، جسے آلودہ کر دیا گیا ہے۔ کرپشن کو جمہوریت کی شان اور حسن سمجھ کر پیش کیا جاتا ہے۔ کوئی کسی کو گھر سے بلانے نہیں جاتا کہ آپ آئیں اور سیاستدان بنیں اور ہماری خدمت کریں۔ سیاست میں جتنی کرپشن اور طاقت آگئی ہے اب ہرکسی کے منہ میں پانی بھر آتا ہے۔ اس لیے آپ لوگ خود ایک ایک دروازے پر پہنچ کر عوام کی فلاح کے دعوے کرتے ہیں اور جب ووٹ مل جاتے ہیں تو اپنے بچوں کو چار چار پاور بورڈز کا ممبر بنوا دیتے ہیں یا آپ کا سمدھی، سابق ایم ڈی پولیس فاؤنڈیشن، افتخار خان اس وجہ سے چار ارب روپے کے سکینڈل میں بچ گیا کہ آپ قومی اسمبلی میں سپیکر تھے۔ آپ سے پہلے فہمیدہ مرزا نے، اسی کرسی پر بیٹھ کر چوراسی کروڑ روپے کا بینک قرضہ معاف کرایا تھا۔ اسی سیاست کی وجہ سے سرے محل خریدے گئے، دبئی سے لندن اور پاناما تک کی جائیدادوں کا کمال بھی اسی سیاست کا مرہون منت ہے صاحب۔
آپ کو وزیراعظم نواز شریف، وزیرخارجہ خواجہ آصف اور وزیرداخلہ احسن اقبال کے دبئی اور سعودی عرب میں ملازمتیں کرنے کے ورک پرمٹ پر مایوسی نہیں ہوئی لیکن دو تین دھرنوں پر ہو گئی؟
سیاست سے اتنی جلدی مایوس نہ ہوں میرے دوست۔ ابھی تو آپ کے بچوں کا سفر شروع ہوا ہے، جن میں سے ایک کو آپ نے گوجرانوالہ، لاہور، ملتان اور اسلام آباد پاور کمپنیوں کا ایک ساتھ ممبر بنوا دیا ہے۔ ابھی تو آپ کے بچوں کے من و سلویٰ کھانے کا وقت شروع ہوا ہے اور آپ اتنی جلدی مایوس ہو گئے ہیں؟ بُری بات ہے!
بشکریہ روزنامہ دنیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں