جے آئی ٹی رپورٹ اور وزیر اعظم کا فیصلہ؟


جے آئی ٹی کی رپورٹ پر ہنگامہ جاری ہے اور اس کا پوسٹ مارٹم کیا جارہا ہے۔ میں ایک ادنیٰ طالبعلم ہونے کی حیثیت سے اس منظر نامے سے اس لئے محظوظ ہورہا ہوں کہ یار لوگ بزم جے آئی ٹی سے الگ الگ خبریں لارہے ہیں۔کالم نگار ہوں، تجزیہ نگار یا رپورٹر حضرات سبھی انتخاب (Selection)کے ماہرین تصور ہوتے ہیں۔ میں اس لئے محظوظ ہوتا ہوں کہ بعض حضرات حد درجہ محنت کرکے، عرق ریزی اور باریک بینی سے صرف ا یسی خبریں ’’نکالتے‘‘ ہیں جن کا مقصد رپورٹ کے نقائص کو اچھالنا، عوامی نگاہوں میں اسے بے اعتبار اور تعصبات کا مجموعہ قرار دے کر رپورٹ کا’’کریاکرم‘‘ کرنا ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایسی تحقیقی رپوٹروں یا خبروں کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ یہ ایک صحافی کا کارنامہ نہیں ہوسکتا۔ اتنی باریک بینی اور قانونی نظر سے چند وکلاء ہی مل کر خامیاں اور قانونی نکات نکال سکتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ محنت کسی سرکاری ادارے نے کی ہوگی اس کا سہرا رپورٹر یا تجزیہ نگار نے اپنے سر باندھ لیا ہے۔بعض اٹھائے گئے لاجواب نکات تو ایسے ہیں کہ انہیں پڑھ کر سپریم کورٹ کے فاضل جج بھی دنگ رہ جائیں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہر طرف گھوڑے دوڑ رہے ہیں اور ان گھوڑوں کے سوار مختلف ہیں۔ بعض حضرات جے آئی ٹی رپورٹ سے صرف ایسامواد کشید کرتے ہیں جس کا مقصد میاں فیملی کو’’گندہ‘‘ کرنا، انہیں مجرم اور چور ثابت کرنا ہوتا ہے۔ ایسے تجزیات میاں فیملی کے تضادات کو خوب اچھالتے اور جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے والوں کے’’تجاہل عارفانہ‘‘ سے جی بھر کے لطف اٹھاتے ہیں۔مطلب یہ کہ صحافی، رپورٹر، تجزیہ نگار، کالم نگار، اینکر پرسن وغیرہ وغیرہ ذاتی حیثیت میں دو دھڑوں میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ کچھ لنگوٹ کس کے ببانگ دہل حمایت میں نکل آئے ہیں تو کچھ اپنا سب کچھ دائو پر لگا کر مخالفت کے ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ ہر گروہ چاہتا ہے کہ اس کے نظریات، خیالات اور تحقیق سے عوام متاثر ہو کر اس کے حلقہ اثر کے اسیر ہوجائیں۔ کہیں پیسہ بولتا ہے تو کہیں ذاتی نفرت خاک اڑاتی نظر آتی ہے۔ اس طرح توازن اور انصاف کا خون ہورہا ہے، سچ کے بکرے عید الاضحیٰ سے قبل ذبح کئے جارہے ہیں۔ اب اس فضا میں سپریم کورٹ کو سچ اور حق تلاش کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب مقدمے کی شنوائی شروع ہوگی تو بڑے بڑے پہلوان اور نامور وکلاء میدان میں اتریں گے اور رپورٹ کے بخیے ادھڑیں گے۔ مخالفین ان اعتراضات کا جواب دے کر رپورٹ کو مقدس صحیفہ قرار دیں گے۔ بات طول پکڑے گی اور لگتا ہے اس سال اگست کا یوم آزادی اسی دنگل کی نذر ہوجائے گا۔ وہ زمانہ گزر چکا جب سچ، سچ ہوتا تھا۔ سائنسی، علمی، تحقیقی اور انسانی ترقی کے دور میں سچ اپنا اپنا ہوتا ہے ہر کوئی اپنا سچ دوسرے پر تھوپتا ہے اور مخالف کو جھوٹا قرار دیتا ہے۔ یقیناً سائنس، علم، انسانی صلاحیتوں اور تحقیق کے میدانوں میں خوب ترقی ہوئی ہے لیکن اخلاق اور دیانت کے میدان میں تنزل دیدنی اور سبق آموز ہے۔
اشتہارات



حکمران خاندان اپنی سیاسی بقا اور اقتدار کی حفاظت کے لئے بند باندھ رہا ہے کیونکہ بظاہر جے آئی ٹی رپورٹ نے ان کے قلعے میں شگاف ڈال دئیے ہیں۔ عام شہری سبھی کو چور سمجھتا ہے، سب سیاستدانوں کو چور اور بے ایمان تصور کرتا ہے اس لئے اسے انتخابات میں قدرے کم چور کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ جب انتخاب چوروں کے درمیان ہو تو پرچی کی قیمت وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوتا، چنانچہ انتخابی مہم میں دولت کھل کھیلتی ہے اور حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیتی ہے۔ جب تک چور اور چوری کا کھیل جاری رہے گا، انتخابات دولت مندوں، روساء ، بااثر اور جاگیردار موروثی خاندانوں کی جاگیر بنے رہیں گے اور وہ سیاست کے جنگل میں شکار کھیلتے رہیں گے۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جے آئی ٹی کے حملے کے بعد حکمران حفاظتی قلعے تعمیر کرنے میں مصروف ہیں جبکہ حزب مخالف ایک ہی راگ الاپ رہی ہے۔ وہ راگ ہے وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب استعفے دیں۔ دھڑے بندی، پولرائزیشن (Polarisation) اور محاذ آرائی خطرناک صورت میں سامنے آچکی ہے۔ الحمد للہ کہ میرا تعلق نہ کسی سیاسی جماعت، نہ کسی مفاد اور نہ کسی ایجنڈے سے ہے۔ میری سیاسی جماعت، میرا منشور اور میرا ایجنڈا پاکستان ہے اور میرا محاسب میرا ضمیر اور خوف آخرت ہے۔ ویسے یہ نہایت نکما اور بے سودایجنڈا ہے لیکن زندگی میں بعض گھاٹے کے سودے آخرت کے مفاد میں کئے جاتے ہیں۔ بات چلی تھی محاذ آرائی اور واضح سیاسی تقسیم سے جس کا منظر دن بدن شدت اختیار کررہا ہے۔ اس حوالے سے مجھے کبھی کبھی حزب مخالف کے متفقہ نعرے پر ہنسی آتی ہے کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں۔ یارو ذرا سوچو تو سہی کہ کیا پاکستان میں الزام کیبنیادپر استعفے دینے کی کوئی روایت ہے؟ برطانوی وزیر اعظم کے باپ کا نام پاناما اسیکنڈل میں آیا تو اس نے استعفیٰ دے دیا حالانکہ کارنامہ باپ کا تھا کتنا بے وقوف یا معصوم تھا وہ کہاں برطانیہ کی پختہ جمہوری روایات اور کہاں طفل جمہوریت پاکستان۔ ذوالفقار علی بھٹو پر انتخابا ت میں دھاندلی کا الزام لگا تو کیا اس نے استعفیٰ دیا؟ بینظیر اور صدر زرداری پر کرپشن کے الزامات کی بارش ہوئی کیا انہوں نے استعفےدیئے؟ تو پھر میاں نواز شریف کیوں استعفیٰ دیں اور نئی روایت ڈال کر آنے والے وزرا اعظموں کے لئے مشکلات پیدا کریں۔ ابھی تو رپورٹ کی سچائی اور حقانیت سپریم کورٹ میں ثابت ہونی ہے۔ دوسری بات یہ کہ استعفیٰ دے دینے کا مطلب بالواسطہ طور پر الزامات تسلیم کرنا ہے انہیں یہ کیونکر گوارہ ہوگا۔ استعفیٰ تو صرف جنرل کاکڑ لے سکتا ہے، استعفیٰ خود نہیں دیا جاتا، اگر آپ (Options)کی بات کریں تو ان حالات میں بجلی کی پیداوار بڑھانے اور سی پیک جیسے منصوبوں کو ادھورا چھوڑ کر محض الزامات کی بنیاد پر استعفیٰ دینا اور وقت سے پہلے انتخابات کا ڈول ڈالنا میاں صاحب کے ہرگز مفاد میں نہیں۔ الزامات کی مزید تحقیق نیب سے کروائی جائے یا صادق و امین کی دفعات لگا کر مقدمہ الیکشن کمیشن کے حوالے کیا جائے، یہ طویل عمل ہے جو انتخابات تک جاری رہ سکتا ہے۔ میاں صاحب کے مفاد میں یہی ہے کہ وہ اندھیروں کے مٹانے اور سی پیک کے گلستان میں پھول کھلانے کے بعد انتخابی میدان میں اتریں۔ اس سے قبل وقت حاصل(Gain)کریں۔ سپریم کورٹ میں جو قانونی موشگافیوں کی جنگ لڑی جائے گی اس کے بعد شاید سپریم کورٹ کے لئے بھی وزیر اعظم کو ہٹانا یا نااہل قرار دینا آسان نہیں ہوگا۔ میرے تجزیے کے مطابق’’ڈٹے‘‘ رہنے کا فیصلہ ہی میاں صاحب کے مفاد میں ہے اور وہ اپنے مفادات کو خوب سمجھتے ہیں۔ مجھے پس پردہ کھیل کا علم نہیں لیکن میراوژن بتاتا ہے کہ میاں صاحب کی حکومت محفوظ رہے گی اور وہ آئندہ انتخابات میں زیادہ زور و شور سے میدان میں اتریں گے۔ باقی جو رضا میرے رب کی کہ علم غیب صرف میرے رب کی ملکیت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں