لایا ہوں دل کے داغ نمایاں کئے ہوئے


موضوعات سینکڑوں مگر کالم محدود۔ اس تنگی داماں کا علاج یہی ہے کہ اہم موضوعات پر مختصر سا تبصرہ کرکے آگے بڑھتے چلیں۔ اگرچہ اکثر موضوعات گہرے تجزیے کا تقاضا کرتے ہیں۔ میڈیا میں بے شمار تجزیات سن کر اور اخبارات میں چیدہ چیدہ کالم پڑ ھ کر میں اول تو اس لئے محظوظ ہوتا ہوںکہ بعض کالم مخصوص نظریات کی ترویج کے لئے لکھے جاتے ہیں اور ان کی جذباتیت میں ٹھنڈے تجزیے کا خون کردیا جاتا ہے جبکہ بعض کالم اپنی ذاتی نفرت یا ذاتی محبت یا مخصوص پارٹی و شخصیت سے لگائو کی عکاسی کرتے ہیں۔ یوں لگتا ہے انصاف کے اس دور میں انصاف سے رشتہ کمزور ہو رہا ہے، محاذ آرائی اور باہم نفرت کی سیاست نے ہمارے لکھاریوں کے ذہنوں کو بھی بری طرح متاثر کیاہے۔ اس جذباتی فضا میں معاشرے کی تقسیم، طیش، برداشت کا فقدان اور تجزیات کی انصاف سے دوری بالکل قابل فہم ہے۔ اس فضا میں خود قارئین کا جذباتی و سطحی تحریروں سے لگائو بھی قابل فہم ہے۔ یہ سب کیا دھرا ہے ہمارے سیاستدانوں، سیاسی پارٹیوں اور موجودہ سیاست کے تقاضوں کا ہے جنہوں نے معاشر میں محبت، رواداری اور بھائی چارہ بانٹنے کی بجائے نفرت کا الائو بھڑکا دیا ہے۔ تاریخ کا طالب علم ہونےکے ناتے کتابیں مجھے بتاتی ہیں کہ 1940کی دہائی میں خاص طور پر 1945-46 کے تاریخ ساز اور فیصلہ کن دور میں ہندوستان اسی طرح واضح طور پر ’’ہندوستان‘‘ اور ’’پاکستان‘‘ کے دھڑوں میں تقسیم ہو گیا تھا لیکن پھر بھی رواداری، محلے داری، ٹھنڈے تجزیے اور سچی تحریروں کا سلسلہ جاری رہا ا ور مسلم لیگی و کانگریسی قیادت میں نہ صرف رابطہ قائم رہا بلکہ بات چیت بھی ہوتی رہی۔ عقلی طور پر مسئلے کا حل بھی تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی حتیٰ کہ کانگریس کو یہ بات سمجھ میں آگئی کہ قیام پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں۔ دراصل یہ نظریاتی سیاست کا دور تھا، اصولی سیاست کا دور تھا، عظیم قائدین کا دور تھا، دلیل کا دور تھا جبکہ موجودہ دور کی سیاست پر ذاتیات، انتقام، نفرت، ایک دوسرے کی ہر قیمت پر ذلت و رسوائی اور چھوٹے چھوٹے قائدین کا دور ہے۔ میں نے سبھی اہم لیڈروں کو دیکھا اور سمجھا ہے۔ عمر میں ان سب سے بڑا ہوں۔ میں نے زندگی کتابیں پڑھتے، پڑھاتے اور مقابلے کا امتحان پاس کرکے سرکاری محکموں میں گزاری ہے۔ اس حمام میں لیڈران ننگے ہوتے ہیں۔ مطالعۂ کتب جہاں آپ کو ذہنی آسودگی، علمی پختگی، وسیع نقطہ نظر عطا کرتا ہے وہاں وژن کا تحفہ بھی دیتا ہے۔ نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ساری قیادت مطالعے سے عاری، قابلیت میں درجہ دوم مگر تکبر میں کوہ ِ ہمالیہ کی بلندیوں پر متمکن، مقبولیت کا زعم، دولت کی ہوس اور ذاتی پاپولیرٹی کی حرص کا شکار نظر آتی ہے۔ آمرانہ رجحان پارلیمنٹ، اراکین اسمبلی، پارٹی عہدیداران، مشیران اور سیاسی رفقا حتیٰ کہ وزیران وغیرہ کو اپنی جاگیر اور مزارعان سمجھتی ہے۔ ان کے ہاں نہ پارٹی کےلئے قربانیوں، لیڈرشپ کے لئے ایثار اور کام کی کوئی قدر ہےاور نہ ہی ان کے مروت کے لئے چند الفاظ….. اپنی اپنی ذات کےگنبد میں قید یہ قیادت ملک کے روشن اور مستحکم مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔ خدارا ذہن میں رکھیں میں ایک قائد یا ایک پارٹی کی بات کر رہا ہوں نہ چھوٹی اور بے ضرر پارٹیوں کی بات کر رہا ہوں۔ میں ان قائدین اور ان پارٹیوں کی بات کر رہا ہوں جن کے ہاتھوں میں قوم نے اپنا مقدر دے رکھاہے اور وہ معجزوں کی منتظر ہے۔ کوئی معجزہ ہوگا نہ کوئی بڑی تبدیلی یا انقلاب آئے گا۔ پاکستان معاشی خوشحالی سے دور بے مثال قرضوں کی لاتعداد زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ بین الاقوامی سیاست کے بھیڑیے دانت تیز کر رہے ہیں اور سازشوں کا جال بُن رہے ہیں۔ موجودہ قیادت تمام کی تمام، چند بجلی گھر لگا سکتی ہے، سڑکیں، پل اور بسیں چلا سکتی ہے لیکن وہ عالمی سیاست کے خطرات، ملک میں انقلاب، معاشرے میں فکری و ذہنی تبدیلی، کرپشن کے پھیلتے سمندر، تعلیم کےروز افزوں گرتے معیار، انصاف کے فقدان، عام شہری کی غربت، بے بسی اور لاچاری اور صحت کی سہولتوں کے فقدان کا نہ وژن رکھتی ہے اور نہ ہی اس نے اپنے طویل دورِ حکمرانی میں ان امراض کا علاج ڈھونڈا ہے۔ سچ اور تلخ سچ یہ ہے کہ تعلیم کا نیچے سے لے کر اعلیٰ درجے تک بیڑہ غرق ہوچکا ہے۔ ہمارے اسکولوں کا اس معیار سے نصف معیار بھی نہیں رہا جو ہم نے برطانوی حکومت سے ورثے میں پایا تھا۔ کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور جو اسکولوں میں ہیں وہ نیم جاہل یا جاہل۔ چند پرائیویٹ اسکولز سسٹم نے اس خلا کو پُر کیا ہے اور تعلیم کا بھرم قائم رکھا ہوا ہے لیکن ان تک غریب بچوں کی رسائی نہیں۔ پرائیویٹ اسپتالوں میں مہنگے علاج دستیاب ہیں لیکن سرکاری اسپتالوں کی حالت ناگفتہ بہ۔ میں سرکاری اسکولوں میں ننگے پائوں آنے والے بچوں اور نکمے، نااہل یا غیرحاضر استادوں کو دیکھ کر خون کے آنسو بہاتا ہوں اور سرکاری اسپتالوں کے برآمدوں میں علاج کے منتظر ہزاروں غریب اور بے آسرا مریضوں اور سرکاری اسپتالوں کی ٹوٹی پھوٹی سہولتوں اور ٹوٹی پھوٹی عمارتوں کو دیکھ کر دل ہی دل میں ان حکمرانوں سے پوچھتا ہوں کہ تم نے پندرہ بیس برس کی حکمرانی میں قوم کو یہ تحفے دیئے ہیں؟ کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ ملک کی بڑھتی آبادی کے لئے مزید کتنے اسپتال، کتنے ڈاکٹر، کتنے اسکول اور کتنے ٹیچرز چاہئےہوں گے؟ میٹرو بس اورینج ٹرین کل کی بات ہے لیکن تمہاری حاکمیت تو دہائیوں پر محیط ہے۔ وہی رونا، نہ وژن، نہ دوراندیشی، نہ غریب کے مستقبل کا احساس۔ نتیجہ طویل عرصے بعد بھی پولیس ظلم کی آلہ کار، کوئی شریف آدمی تھانے کا رخ نہیں کرتا ا ور اگر مجبوراً جانا پڑے تو جیب خالی کرنے کے علاوہ ھل من مزید کا تقاضا۔ حکمران کیا جانیں میں ہر روز ظلم کی یہ داستانیں سنتا ہوں اور کبھی کبھار مشاہدہ بھی کرتا ہوں اور اپنی بے بسی پر آنسو بہا کر بے حسی کا شکا ر ہو جاتا ہوں۔ ہم سب بے حس ہوچکے ہیں۔ ہم نے اسٹیٹس کو (موجودہ صورتحال) کو قبول کرلیا ہے اور اب بے انصافی کی داستانوں نے ہمیں ناامید کرکے بے حسی کے گڑھے میں پھینک دیا ہے۔ انصاف ناپید، قانون کی حکمرانی کا قحط، زندگی کی بنیادی سہولیات جو ہر شہری کا آئینی حق ہیں، ان سے محرومی، کرپشن اور رشوت کا دن بدن پھیلتا سمندر، شخصی و خاندانی حکومت، سیاسی قائدین کی خودپسندی، خوشامد پرستی اور آمرانہ مزاجی، گڈگورننس کا قحط، حکمرانوں کی عوامی مسائل سے دوری جس کا جلسے جلوس ہرگز نعم البدل نہیں، میرٹ کا قتل، ابن الوقتوں اور گالم بریگیڈز کا عروج، مقتدر حضرات کی پرفریب جھوٹی تقریریں، جھوٹے خواب، خوشحالی کے تشنہ خواب، بنیادی مسائل کو حل کرنے کی بجائے سستی شہرت کے حصول کی ترکیبیں (Tricks) قومی خزانے کا بے پایاں ضیاع اور بادشاہانہ طرز ِ زندگی….. یہ وہ چند مسائل ا ور وجوہ ہیں جن میں پاکستان گرفتار ہو کر تنزل کی راہ پر چل نکلا ہے۔ حکمرانوں کے پرفریب وعدے محض فریب اور حقائق کی نفی….. نہ کوئی خوشحالی کا انقلاب آئے گا نہ کوئی انصاف، قانون کی حکمرانی اور غربت کی بے بسی میں بہتری کی صورت پیدا ہوگی۔ میں پاکستان سے محبت کرتا ہوں اور اس کے مستقبل پر ایمان کی حد تک یقین رکھتا ہوں۔ لیکن کیا کروں کہ مجھے اس ساری قیادت میں اہلیت نظر نہیں آتی جو ان مسائل کو حل کرسکے۔ ملک ذاتی وہموں وقتی جذبوں پر نہیں چلائے جاتے۔ گورننس وسیع مشاورت، عوام سے گہرا رابطہ، اور مسائل کا ادراک مانگتی ہے۔ مشاورت قابل، اہل، ماہر اور تجربہ کار لوگوں سے لیکن عقل کل کے زعم میں گرفتار قائدین و حکمران اسے اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔ چنانچہ وژن کا بحران دستک دیتا رہے گا اور مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ کچھ اہم موضوعات پر پھر کبھی ان شاء اللہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں