روحانی روشنی کے طلب گار


خلوص نیت سے نصیحت کرنااور علم کی روشنی پھیلانا بھی صدقے کی ایک قسم ہے۔ صدقہ بہرحال مصیبتوں کے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرتا اور بیماریوں کو ٹالتا ہے۔ حسب ِ معمول آج صبح صبح ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا میسج ملا تو بہت کچھ یاد آگیا اور غور و فکر کی کھڑکیاں کھلنے لگیں۔ ڈاکٹر صاحب کا میسج مختصر لیکن انتہائی جامع تھا انہوں نے قرآن مجید کی ایک آیت کا ترجمہ بھیجا تھا جس کا اطلاق ہماری زندگی کے ہرلمحے پر ہوتا ہے اور جسے اپنا کر ہم اور ہمارا معاشرہ ذہنی سکون اور امن کی دولت سے مالامال ہوسکتے ہیں۔ ذراملاحظہ فرمایئے ’’جوغصے کوپی جاتے ہیں اور دوسروں کا قصور معاف کردیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسندہیں۔ 3:134 اللہ پاک کی پسندیدگی کا مطلب سمندر کی مانند وسیع ہے۔ لیکن مختصر ترین الفاظ میں آپ اسے رضائے الٰہی کہہ سکتے ہیں۔ سوچا جائے تو رضائے الٰہی انسانی زندگی کا مقصود اور کامیابی کی منزل ہے۔ کتنا آسان ہے اور کتنا مشکل ہے اللہ پاک کا پسندیدہ بندہ بننا بشرطیکہ انسان رضائے الٰہی کیلئے غصہ پی جائے اور دوسروں کے قصور معاف کردے۔ غصہ پینا ایک طرح سے اپنے نفس پر قابو پانا ہے جسے آپ نفس کے خلاف جہاد بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ غصے، انتقام، انا کی تسکین، حساب برابر کرنے کی خواہش اور دوسروں کو زیر کرنے کی خواہش نفس سے پیدا ہوتی ہےاور نفسانی خواہش کہلاتی ہے۔ جس نے نفس پر قابو پالیا، اپنے باطن کو نفسانی خواہشات اور سفلی جذبات سے پاک کرلیا اسے قرب الٰہی حاصل ہو گیا اور اس کی باطن کی آنکھو ں سے پردے ہٹ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ غصے پر قابو پانا، نفسانی خواہشات سے پاک ہونا اور نفس کے خلاف جہادکرنا مجاہدہ کہلاتا ہے۔ مجاہدہ روحانیت کی منزل کی جانب پہلا قدم ہے جس کے بغیر روحانی روشنی کے دروازے نہیں کھلتے۔
بزرگ کہتے ہیں کہ نفس پر قابو پانے کی بہت سی قسمیں اور جہتیں ہیں لیکن اگر مرغوبات، دنیاوی خواہشات اور ہوس و حرص سے دل کو پاک کرلیا جائے تو نفس مطیع و فرمانبردار ہو جاتا ہے ورنہ عام انسانی زندگی میں آپ کو ہر انسان پر نفس سواری کرتا بلکہ حکمرانی کرتا نظر آئے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ عمل طویل محنت کا متقاضی ہے اور مجاہدہ مانگتا ہےکیونکہ اس میں اپنے اوپر کڑی نگاہ رکھنی پڑتی ہے اور چوکس رہنا پڑتاہے۔ عام طور پر نفس خدا کی نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے چنانچہ اگر آپ رضائے الٰہی کے حصول کے لئے دنیاوی خواہشات و مرغوبات پر قابو پالیں اور دوسروں کی ضروریات کو اپنی ضرورت پرترجیح دینا سیکھ لیں تو گویا آپ نے رضائے الٰہی کے حصول کے سفر کا آغاز کردیا۔ یاد رکھئے دوسروں کی ضروریات کو ترجیح دینا نفس پر قابو پانے کا ایک طریقہ ہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ لکھتے ہیں ’’نافعؓ کا بیان ہے کہ ایک روز حضرت عبداللہؓ بن عمر کو مچھلی کی خواہش ہوئی۔ میں نے سارے شہر میں تلاش کی مگر کہیں دستیاب نہیں ہوئی۔ چند روز کے بعد مچھلی ملی تو آپؓ نے اس کے کباب تیار کرنے کا حکم دیا۔ نافعؓ کہتے ہیں جب میں نے کباب تیار کرکے آپؓ کے سامنے رکھے توآپؓ بہت خوش ہوئے۔ اتنے میں ایک سائل نے دروازے پر آ کر صدا دی۔ آپؓ نے حکم دیاکہ یہ کباب اس سائل کو دے دو۔
اشتہارات



حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ حضرت امام حسین ؓ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک روز ایک شخص آپؓ کے پاس آیا اور عرض کیا۔ اے ابن رسولﷺ میں ایک حاجت مند آدمی ہوں۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ آج رات کی خوراک آپؓ سے چاہتا ہوں۔ حضرت حسینؓ جو غالباًخود بھی اسی حالت میں مبتلا تھے، اس لئے آپؓ نے فرمایا۔’’ بیٹھ جائو۔ میرا رزق چلاآرہا ہے۔ آ جائےتو آپ کو دیتا ہوں۔‘‘ کچھ دیر بعد ایک ایک ہزار سرخ دینار کی پانچ تھیلیاں امیر معاویہؓکی طرف سے ایک شخص لایا۔ حضرت حسینؓ نے وہ پانچوں تھیلیاںاس حاجت مند کو دے دیں اور ساتھ ہی معذرت کرتے ہوئے فرمایا ’’بھائی ہم سخت آزمائش میں مبتلا ہیں۔ ہم نے دنیا کی تمام خوشیاں ترک کردی ہیں اور اپنی مرادیں اور ضروریات کم کرلی ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ کو اتنی دیر انتظار کی زحمت دی اور اس سے زیادہ کچھ نہ دے سکا۔‘‘اپنی ضرورت اور حاجت پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دینے کی یہ شاندار مثالیں ہیں اور ان پر جس قدر عمل ہوسکے عمل کرکے نفس کو مطیع کیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم وسیع معنوں میں کمزور لوگ ہیں اور ان بزرگوں کے نقش قدم پر پوری طرح چلنا ہمارے بس کا روگ نہیں لیکن کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جس قدر بھی ہوسکے جتنا ہوسکے ان پر عمل کرکے اپنی ناجائز، باغی اور طاقتور خواہشات پر فتح حاصل کی جاسکتی ہے اور ہمارا وہ نفس جو دنیا کی جعلی و مصنوعی عزت، خوشامد، تعریف، شہرت، عہدے اورحیثیت سے پرورش پا کر موٹا ہوتا رہتا ہے اور ہم پر غالب آ جاتا ہے اسے کسی حد تک ڈسپلن کیا جاسکتا ہے اور مزید طاقتور ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔
یوں تو بحیثیت مسلمان ہم سب توحید پر ایمان رکھتے ہیں کبھی غور کیا کہ توحید سے مراد کیا ہے؟ حضرت داتا گنج بخشؒ، حضرت حسین بن منصورؒ کے فرمان کاحوالہ دیتے ہیں کہ توحید کی راہ کا سب سے پہلا قدم ہر اس کو فنا ہے جوخدا سے الگ خود کو منوانے کا داعی ہو یعنی پہلا قدم شرک کی نفی ہے۔ حضرت حضرمیؒ فرماتے ہیں توحید میں پانچ چیزیں بنیادی ہیں۔ ایک حدث (ماسوا اللہ) کی نفی، دوم اللہ کا اثبات، سوم خواہشات اور مرغوبات ِ نفس کا ترک، چہارم خدا سے غافل لوگوں سے الگ ہو کر خدا کی طرف یکسو اورمتوجہ ہونا، پنجم دنیا اور اس کے متعلقات کو بالکل بے وزن اور بے وقعت سمجھنا۔ حضرت داتا گنج بخشؒ نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ شریعت کبھی موقوف نہیں ہوتی۔ جاہل صوفیا کا گروہ یہ کہتا ہے کہ بندہ ترقی کرتے کرتے خدا کی دوستی میں ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اطاعت اس پر سے ساقط ہو جاتی ہے۔ وہ نماز، روزہ کی پابندی سے آزاد ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں اس طرح کے پیروں مریدوں کی کمی نہیں۔ ان کے لئے حضرت داتا گنج بخشؒ فرماتے ہیں کہ یہ صریح بے دینی ہے کیونکہ اس امر پر اجماع ہے کہ محمد ﷺ کی شریعت کبھی منسوخ نہیں ہوگی البتہ دیوانگی اور عذر شرعی کا حکم دوسرا ہے۔
اشتہارات



نفس پر قابو پانے سے اور خلوص نیت سے رضائے الٰہی تلاش کرنے میں ہی اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کا راز مضمر ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا (ترجمہ) ’’اگر تم اللہ تعالیٰ کو پہچانتے جیسا کہ اسے پہچاننے کا حق ہے تو تم سمندر پر چلتے اور اپنی دعا سے پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دیتے‘‘ حضرت مالک بن دینارؒ کا ارشاد ہے کہ سب اعمال میں پسندیدہ ترین عمل وہ ہے جس کی بنا اخلاص پر ہو۔ حضرت داتا گنج بخشؒ آپؒ کے بارے میں لکھتے ہیں ’’ایک دفعہ آپ کشتی میں سوار ہوئے۔ اس کشتی میں ایک سوداگر کا ایک موتی کھو گیا۔ آپ کو اس کی خبر نہ تھی مگر آپ کی فقیرانہ صورت دیکھ کر چوری کی تہمت آپ پر لگی۔ آپ نے ملتجیانہ نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھا۔ دریا سے بے شمار مچھلیاں اپنے مونہوں میں ایک ایک موتی لئے سطح آب پر نمودار ہوگئیں۔ آپ نے ایک کے منہ سے موتی لے کر تہمت لگانے والے کو دے دیا اور خود کشتی سے نکل کر دریا میں داخل ہوگئے اور چلتے ہوئے کنارے پر پہنچ گئے۔‘‘ سبحان اللہ! سبحان اللہ۔
حضرت شیخ علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کی کتاب کشف المحجوب روحانیت کا خزانہ ہے۔ ایک سمندر جو بہہ رہا ہے اور اگر آپ اس سے چند قطرے بھی ’’پی‘‘ لیں تو باطنی تبدیلی کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور اصلی تبدیلی باطنی تبدیلی ہی ہوتی ہے۔ ظاہری تبدیلی تو دکھاوے کا نام ہے۔ اس لئے اس کتاب کو صرف پڑھنا کافی نہیں بلکہ اسے سمجھنا، قلب و روح میں اتارنا اور حرزِ جاںبنانا ضروری ہے لیکن یہ نہایت مشکل کام ہے جسے اللہ سبحانہ ٗ تعالیٰ توفیق دے۔
غصہ پی جانا اور زیادتی برداشت کرکے انتقام کو دل سے نکال دینا مجاہدے ہی کا چھوٹا سا حصہ ہے۔ بشرطیکہ یہ کام کسی دنیاوی مصلحت یا فائدے کے تحت نہ کیا جائے بلکہ صرف اورصرف رضائے الٰہی کیلئے کیا جائے۔ ہر چیز، فیصلے اور عمل میں رضائے الٰہی کو پیش نظر رکھنا ہی مسلمانی کا تقاضا ہےاور جو لوگ ایسا نہیں کرتے وہ مسلمانی کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔ رضائے الٰہی کے تابع ہونے کیلئے اپنے نفس کو تابع کرنا اور اس پر فتح پانا پہلا قدم ہے اور دراصل یہ ایک مجاہدہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ مومن کی ساری زندگی ہی مجاہدہ ہے اور مجاہدے کا سفر….. اپنے سفلی جذبات اور نفسانی خواہشات پر قابو پانے سے ہی شروع ہوتا ہے۔ یہی روحانی روشنی کے طلب گاروں کا پہلا امتحان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں