یہ ہے کڑوا سچ؟


قارئین زیادہ تر سیاسی کالم ہی پڑھتے ہیں۔ شاید صحافت کی دکان میں یہی سودا زیادہ بکتا ہے لیکن میری طبیعت سیاسی کالم لکھنے پہ بمشکل مائل ہوتی ہے۔ سیاسی حوالے سے ایک بیزاری سی ہے جسے آپ مایوسی تو نہیں مگر دل شکنی کہہ سکتے ہیں۔ میں یہ بات دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ سرکاری ملازمت کے باوجود میں نے ہر فوجی آمریت کی مخالفت کی اور آمرانہ نظام کے خلاف خوب کالم لکھے۔ ضیاء الحق کے دور میں اس جرم کی طویل سزا بھی پائی۔ دل شکنی اپنی جگہ لیکن میں آج بھی جمہوریت کا حامی ہوں اگرچہ جمہوریت کے حسن اور جمہوریت کے انتقام کی دلفریب باتیں سن سن کر کان پک چکے ہیں۔ جمہوریت کا حسن بدصورتی میں بدل چکا ہے، جمہوریت کے چہرے سے میک اپ اتر چکا ہے اور اب اس کی اصل صورت ہمارے سامنے ہے۔ اصل صورت لوٹ مار، قانون شکنی، عیش و عشرت، خاندانی طرز حکمرانی یعنی موروثی بادشاہت کی ایک قسم، غربت، جہالت اور عوام کا استحصال ہے۔ مکر و فریب ہماری سیاست کا طرہ ٔامتیاز ہے ا ور جھوٹ اس کا محور ہے۔ ماضی میں سمجھتا تھا کہ جمہوریت کے انتقام سے مراد آمریت سے انتقام ہے لیکن ایک دہائی کی سیاست نے راز کھولا کہ دراصل یہ انتقام عوام سے لیا جارہا ہے۔غریب، بے کار اور بے وسیلہ شہری زندہ رہنے کے لئے اشیائے خورونوش خریدے یا اہل خاندان سے رابطے کے لئے موبائل کارڈ خریدے، اسے ہر شے پہ ٹیکس، براہ راست ٹیکس ادا کرنا ہے۔ جواز فقط اتنا سا ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ بڑھا نہیں سکی، ٹیکس چوروں کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے اور بڑے بڑے سیٹھوں کی سرپرستی کرتی ہے اس لئے ہر شے پہ ڈائریکٹ ٹیکس عائد کرکے کسر پوری کی جاتی ہے۔ نتیجے کے طور پر پاکستان کے غریب، کم آمدنی والے اور بے وسیلہ حضرات کو بھی25فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جو بوقت خرید وصول کرلیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ہماری جمہوریت نےاندرونی و بیرونی قرضوں کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے ہیں اور ہر پیدا ہونے والے بچے کو پونے دو لاکھ روپے کے قرض کی زنجیریں پہنا دی ہیں۔ پیداواری صنعت کا بیڑا غرق ہوچکا ہے، درآمدات برآمدات سے بڑھ گئی ہیں اور دن بدن یہ فرق بڑھ رہا ہے، سی پیک ایک امید ہے لیکن اس میں بھی افسانہ اور مبالغہ زیادہ ہے۔مستقبل کی حکومتیں یہ قرضے اور بانڈوں پر منافع کیسے واپس کریں گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس سے عوام بے خبر اور غافل ہیں اور سیاستدان و حکمران بے فکر و لاتعلق کیونکہ انہیں صرف اقتدار سے غرض ہے،ان کی جائیدادیں، محلات، بینک بیلنس ا ور سرمایہ کاریاں بیرون ملک ہیں۔ ان کے لئے پاکستان ایک ’’کالونی‘‘ کی مانند ہے جہاں وہ حکمرانی کرنے تشریف لاتے ہیں اور اپنی باری بھگتا کر بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ بیرون ملک ان کے محلات کی تصویریں دیکھتا ہوں تو تاج محل یاد آتا ہے، اکبر بادشاہ کے عشرت کدے خیالوں میں ابھرتے ہیں اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ یہ ہیں غریب ملک کے ارب پتی حکمران۔ انگریز نے ہندوستان کو غلام بنایا، کالونی بنایا تو وہ یہاں کے وسائل لوٹ کر اپنے ملک میں لے جاتا تھا۔ لندن کی عالی شان عمارتوں، صنعتوں، بندرگاہوں اور وسیع سڑکوں میں آپ کو آج بھی ہندوستان کے خون پسینے کی خوشبو آئے گی۔ ہمارے حکمرانوں نے فقط یہ کیا ہے کہ لوٹ مار کو اپنے خاندانوں، اپنی تجوریوں اور اپنے حواریوں تک محدود رکھا ہے۔ وقت بدلا ہے، انداز نہیں بدلے۔ نظام بدلا ہے لیکن طریقہ ہائے واردات نہیں بدلے،آزادی ملی ہے لیکن آزادی نہیں ملی، جمہوریت آئی ہے لیکن جمہوریت نہیں آئی۔ بادشاہت ختم ہوئی ہے لیکن اس نے موروثیت کا روپ دھار لیا ہے۔ بے چارا سیاسی کارکن کل بھی جیل جاتا، پولیس کی لاٹھیاں کھاتا، سختیاں برداشت کرتا، مگر سڑکوں پر زندہ باد کے نعرے لگاتا تھا۔ آج بھی وہی نقشہ ہے، وہی منظر ہے اور اسی طرح تاریخ کا جبر طاری ہے۔ نہ کل قربانیاں دینے والے سیاسی کارکنوں کو اقتدار میں حصہ ملتا تھا، نہ آج ملتا ہے۔ اسمبلیوں کے ٹکٹ، وزارتیں، عہدے دولت مندوں، موروثی خاندان، جاگیرداروں ا ور دولت کے زور پر انتخابات جیتنے والے کو ملتے ہیں، جبکہ غریب کارکن پھٹی پھٹی نگاہوں سے آسمان کو تکتا رہ جاتا ہے، البتہ اس دہائی کی جمہوریت میں ایک دلفریب حسن کا اضافہ ہوا ہے اور وہ ہے خوشامد، دربارداری، ضمیر، ذہن اور قلم کی فروخت۔ پہلی جمہورتیوں کے حسن میں اس زیور کا حصہ کم تھا۔ اب تو ماشاءاللہ جاگیرداروں، بااثر دولت مند امیدواروں، اراکین اسمبلیاں، موروثی سیاستدانوں، گدی نشینوں کے ساتھ ساتھ ایک اور طبقہ نہ صرف پیدا ہوگیا ہے بلکہ طاقتور بن کر ابھرا ہے، اب یہ کلاس اپنی زبان، قلم، ذہن، فن اور وفاداری کے عوض اقتدار کے کیک میں سے نہ صرف حصہ مانگتی ہے بلکہ بزور بازو حصہ لیتی بھی ہے۔ مشیر، سفیر، سینیٹر اور بڑے بڑے عہدے، لاکھوں کی تنخواہ اور ان سے زیادہ مراعات، ان کا حق تصور ہوتے ہیں۔ حکمران بھی انسان ہی ہوتا ہے اسے خوشامد، دربارداری اور وفاداری کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور مسکرانے ہنسنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ساری کشمکشِ اقتدار میں محروم رہتا ہے تو بیچارا ورکر، نعرے لگانے،کندھوں پہ بٹھانے اور پھول برسانے والا غریب مگر مخلص کارکن۔
اشتہارات



جب برملا یہ کہا جائے کہ میرے سیاسی حریف نے بہت زیادہ دولت اکٹھی کرلی ہے۔ میں اس سے زیادہ دولت بنائے بغیر اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ تو میں اسے سیاست کہوں یا اقتدار کو دولت کمانے کا ذریعہ۔ میںاسے جمہوریت کا حسن سمجھوں یا بقول مرشدی اقبال چنگیزی چہرہ۔ پاکستانیوں کی جاگتی آنکھوں نے ٹی وی ا سکرین پر دیکھا کہ زرداری صاحب کے دور حکومت میں ان کا چہیتا ہائی کمشنر واجد شمس الحسن سوئٹرز لینڈ سے زرداری صاحب کا ریکارڈ اٹھا کر لے جارہا ہے۔ سارے جہان کو علم ہے کہ ان کا چھ کروڑ ڈالر کا اکائونٹ سوئٹرز لینڈ میں تھا جس پر انہیں سوئس مجسٹریٹ نے اگست2003میں چھ ماہ کی سزا بھی دی تھی۔ محترمہ اور زرداری صاحب اپیل میں گئے۔ 2007میں NRO ہوا اور پھر اٹارنی جنرل بدنام زمانہ سابق جج ملک قیوم نے حکومت پاکستان کی جانب سے خط لکھ کر مقدمہ واپس لے لیا۔زرداری صاحب نے صدر بن کر مخصوص معیاد کے اندر سوئس حکومت کو خط نہ لکھنے پر گیلانی وزیر اعظم قربان کردیا۔ سرے محل سے لے کر نیویارک کے مہنگے ترین علاقے مین ہٹین، لندن، فرانس اور یو اے ای میں ان کی جائیدادوں، سندھ میں مختلف ناموں سے حاصل کردہ شوگر ملوں، زمینوں اور دوسری جائیدادوں کا کوئی جواز ہی نہیں۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد میں ان کی عالی شان رہائش گاہوں اور کروڑوں کے اخراجات سامنے ہیں اس کے باوجود وہ ’’بریت‘‘ کے مزے لے رہے ہیں اور ان کے حمایتی عدالتی انصاف کی تعریفوں میں رطب اللسان ہیں۔ میاں فیملی اور ڈار صاحب کے خلاف نیب انکوائری جاری ہے اس لئے انتظار لازم ہے۔ اپنا ایک دیرینہ دوست یاد آرہا ہے وہ پینتیس برس مختلف تفتیشی اداروں کی نوکری کرنے کے بعد ریٹائر ہوا۔ اس دوران اس نے سارے حکمران سیاسی خاندانوں کی انکوائریاں کیں۔ تجربات کا نچوڑ سناتے ہوئے کہنے لگا ’’پاکستان میں کسی بااثر شخصیت اور حکمران خانوادوں کی منصفانہ انکوائری نہیں ہوسکتی‘‘ جو کچھ ہورہا ہے یا ہونے والا ہے وہ محض مکافات عمل اور قدرت کا فیصلہ ہے۔ یہ ہے کڑوا سچ اب آپ ہی کہئے ان حالات میں میں سیاسی کالم کیسے لکھوں!!

اپنا تبصرہ بھیجیں