درد کے پیوند


اس دولت کا کیا فائدہ جو صرف اس زندگی کی عیش و عشرت، نمود و نمائش یا آسودگی کے لئے استعمال کی جائے مگر آخرت کا توشہ نہ بن سکے۔ ایسی دولت تو آخرت کا ایندھن اور آگ بنتی ہے البتہ اگر یہی دولت اولاد ِ آدم کی خدمت اور دین کی راہ میں استعمال کی جائے تو ابدی زندگی میں آسودگی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ انسان کی مگر فطرت یہ ہے کہ وہ حال میں جیتا اور حال سے زیادہ سے زیادہ نچوڑنا چاہتا ہے۔ آخرت کی اسے فکر لاحق ہوتی ہے نہ دنیاوی گورکھ دھندے اسے فرصت دیتے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔ ان کی ٹی وی اور اخبارات میں جھلک دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ بعض انسانیت سوز مظالم اس قدر دلدوز ہوتے ہیں کہ راتوں کی نیند حرام کردیتے ہیں۔ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بدھ مت جیسے امن پسند مذہب کے ماننے والے اپنے ہم وطنوں کواتنے شدید ظلم و ستم کا نشانہ بنا سکتے ہیں کیونکہ بدھ مت میں تو چیونٹی کو مارنا اور کسی جاندار شےکو آزار دینا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ فوجی آمریتوں کے اس ملک برما میں آنگ سان سوچی بھی وزارت پر متمکن ہے جسے امن کا نوبیل انعام دیا گیا اور جس کی مزاحمتی جدوجہد کی تعریف میںہم لکھتے اور بولتے رہے۔ انسان کیسے کیسے رنگ بدلتا اور کس طرح اپنی اصل آشکار کرتا رہتاہے۔ کچھ برس پہلے یہی آنگ سان سوچی لندن میں بی بی سی کے پروگرا م میں تشریف لے گئیں اور ایک مسلمان خاتون کے روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں پوچھے گئے سوالات پر برہم ہو کر فرمایا ’’مجھے علم ہوتا کہ پروگرام میںکوئی مسلمان بھی شامل ہے تو میں کبھی اس پروگرام میں نہ آتی‘‘ بدھ مت جس کی مقدس نشانیاں اور تاریخ ٹیکسلا سے لے کر اسلام آباد کی پہاڑیوں اور درختوں تک پھیلی ہوئی ہے، وہ بدھ مت مسلمانوں سے اس قدر نفرت کرے گا کہ انہیں آگ میں زندہ جلائے گا، ان کے گھروں کو نذر آتش کرے گا ، ان کی خواتین کی بے حرمتی اور ان کے بچوں کو فوجی بوٹوں تلے روندے گا؟ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
ہم ان مظالم کو روکنے کے لئے احتجاج اور برما کے سفارت خانے کو احتجاج نامے لکھنےکے علاوہ دنیائے اسلام کو بھی متحرک کرسکتے ہیں اور یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھا سکتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ہم خود اندرونی خلفشار اور بیرونی دبائو کا شکار ہیں۔ نئی نئی حکومت ابھی تک سنبھلی نہیں اور نہ ہی اس کے وجود کا احساس ابھرا ہے….. یوں لگتا ہے جیسے نئی سیاسی و جمہوری قیادت کو ابھی تک اپنے اندرونی چیلنجوں، خطرات اور بیرونی خطرات کا پوری طرح ادراک حاصل نہیں ہوا۔اگرچہ میں محسوس کرتا ہوں کہ ’’برکس‘‘ کے اعلامیے کو ہماری قیادت کی آنکھیں کھول دینی چاہئیں….. وہ آنکھیں جو چین کے اندھے عشق نے بند کر رکھی ہیں۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد کے حوالے سے چین چند برسوں سے یہ سگنل دے رہا تھا کہ خدارا کچھ کرو، میرے لئے زیادہ عرصے تک اس حوالے سے دبائو کو برداشت کرنا اور قرار دادوں کا راستہ روکنا مشکل ہے۔ ہم اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ چین ہر ہندوستانی کوشش کو اقوام متحدہ اور دوسرے بین الاقوامی فورموں میں ناکام بنادے گا۔ اب اس ’’برکس‘‘ نے ان دو تنظیموں کے علاوہ حقانی نیٹ ورک وغیرہ کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دے کر پاکستان کو دہشت گردی کی علامت بنا دیا ہے۔ یہ وہ تنظیمیں ہیں جن پر امریکہ پابندی لگا چکا ہے اور ٹرمپ اپنی پالیسی تقریر میں حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا ذکر کرکے ’’ایکشن‘‘ کی دھمکی دے چکا ہے۔ ہم کئی برس سے مسلسل کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود نہیں نہ ہی حقانی نیٹ ورک پاکستان میں ہے۔ ہم لشکر طیبہ اور جیش محمد کے خلاف بھی اقدامات کرچکے ہیں لیکن نہ عالمی قوتیں ہماری بات پہ یقین کرتی ہیں نہ عالمی رائے عامہ ہماری فریاد سنتی ہے۔ دنیا ہماری قربانیوںکا ذکر سن سن کر تھک چکی ہے مگر دن بدن عالمی سطح پر ہمارا امیج ایک دہشت گرد ملک کا امیج بنتا جارہا ہے۔ کیا آپ اس کے مضمرات اور نتائج سمجھتے ہیں؟ کیا مجھے اس پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے؟ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ یہ ہندوستانی موقف کی فتح اور ہماری شکست ہے؟ ہندوستانی میڈیا اور سیاستدان ’’برکس‘‘ (Bricks) کے اعلامیے پر خوشی و فتح کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ اس سے مودی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور ہندوستانی موقف کی فتح سے کشمیر کی تحریک ِ آزادی کو بھی وقتی دھچکا لگا ہے جس کے ذمہ دار ہم ہیں کہ ہم دنیا کو اپنا نقطہ نظر سمجھانے میں ناکام رہے ہیں۔ تفصیل میں گئے بغیر ’’برکس‘‘ کے اعلامیے کو بیداری کی گھنٹی بننا چاہئے اور ہماری سیاسی و فوجی قیادتوںکو سوچ سمجھ کر ایسی حکمت عملی وضع کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو ان چیلنجوں کا موثر جواب ہوں۔ حیرت نہیں بلکہ صدمہ ہوتا ہے جب مسلم لیگ (ن) کے نہایت سطحی Naive ترجمان ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر ٹرمپ کی دھمکی اور ’’برکس‘‘ کے اعلامیے کو میاں نوازشریف کی اقتدار سے رخصتی پر معنون اور موسوم کرتے ہیں۔ کیا پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کی ہی حکومت نہیں؟ کیا وہ ٹرمپ میاں صاحب کی وزارت ِ عظمیٰ کے دوران ایسا دھمکی آمیز بیان نہ دیتا جس ٹرمپ نے سعودی عرب سربراہی کانفرنس میں میاں صاحب سے بات کرنا بھی گوارہ نہ کیا۔ رہا چین تو اس کی دوستی افراد سے نہیں، ملکوں سے ہوتی ہے اور چین ان دہشت گرد تنظیموں کے حوالے سے اپنی اکتاہٹ اور صبر کے خاتمے کا پیغام میاں صاحب کے دور میں مسلسل دیتا رہا ہے۔گویا اب ایسا ہونا ہی تھا کیونکہ ہم اپنے اقدامات سے نہ چین کو مطمئن کرسکے ہیں نہ دنیا کو….. خود چین اسی مذہبی شدت پسندی کے خطرات سے نپٹ رہا ہے۔ آخرکب تک ہم اس کی غیرمشروط حمایت سے مستفید ہوتے؟ کیونکہ چین بھارت کا بہت بڑا بزنس پارٹنر ہے اور اب بھارت سے تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے۔
اشتہارات



ذکر ہو رہا تھا کہ ہم روہنگیا مسلمانوں کی احتجاج کے علاوہ مالی خدمت کرسکتے ہیں۔ ملک ریاض نے حسب ِ معمول پہل کرکے راستہ کھول دیا ہے اور آخرت کے توشے کا سامان کیا ہے۔ بے یارو مددگار روہنگیا مسلمان بھوکے ننگے بنگلہ دیش کی سرحد پر پڑے ہیں اور کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ دوسری طرف ہندوستان میں ہجرت کرنے والوں کو باہر دھکیلا جارہا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت ان کا مالی بوجھ برداشت نہیں کرسکے گی اس لئے ہماری حکومت اور فلاحی تنظیموں کوحرکت میں آنا چاہئے اور ان مہاجرین کی دل کھول کر مدد کرنی چاہئے۔ اس ضمن میں بنگلہ دیش کے سفارت خانے کے ذریعے مدد کاراستہ نکالا جاسکتا ہے۔ حکومت روہنگیا مسلمانوں کے لئے فنڈ قائم کردے تو مجھے یقین ہے کہ پاکستانی اس میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں گے۔ ملک ریاض نے ایک ارب روپے کی امداد کا اعلان کرکے شروعات کی ہیں۔ الخدمت کو بھی میدان میںاترنا چاہئے۔ اس حوالے سے عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مفلوک الحال روہنگیا مسلمانوں تک امداد پہنچائی جاسکے۔ آخراس دولت کا کیا فائدہ جو دنیاوی عیش و عشرت کا تو باعث بنے لیکن آخرت کا توشہ نہ بن سکے۔ انسانی خدمت رضائے الٰہی کے حصول کا شارٹ کٹ ہے۔ ملت ِ اسلامیہ یا امہ کی طرف دیکھنے کی بجائے قدم بڑھایئے اور ان مظلوم مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے عملی اقدامات کیجئے۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں