درد کے پیوند اور روٹھے خواب


ایک مقدر وہ ہے جسے ہم لے کر پیدا ہوتے ہیں اور دوسرا مقدر وہ ہے جسے ہم اپنے اعمال سے بناتے اور بگاڑتے ہیں۔ مقدر کا وہ حصہ جو قرآن مجید کے الفاظ میں ہر انسان کی گردن میں لٹکا دیا جاتا ہے اور لوح پر درج ہے وہ بدل نہیں سکتا اور نہ ہی انسان کا اس پر بس چلتا ہے۔ پیدائش، موت رزق وغیرہ اسی کا حصہ ہیں۔ دوسرا مقدر جسے ہم اپنے اعمال، جدوجہد، محنت اور رویے سے بناتے ہیں وہ ہماری کارکردگی کا مرہون منت ہوتا ہے، ہماری ذاتی کوشش، محنت، خلوص اور مجموعی اعمال سے بنتا یا بگڑتا ہے۔ اس میدان میں انسان کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے اسے صحیح اور غلط راہ بتا دی گئی ہے اور اسی کا حساب روز حساب دینا ہو گا۔
جس طرح انسانوں کا مقدر ہوتا ہے، اسی طرح قوموں کا بھی مقدر ہوتا ہے۔ عروج و زوال کی تاریخ قوموں کی اعلیٰ قیادت اور قومی جدوجہد و کردار سے تشکیل پاتی ہے۔ قیادت راستہ متعین کرتی اور قوم کو عظمت یا عروج سے ہمکنار کرتی ہے اور قیادت ہی ہٹلر کی مانند قوم کو برباد کرتی اور کبھی کبھی قعر مذلت یا پستی کی گہرائیوں میں ڈبو دیتی ہے۔ اگر قوم کردار کی مالک ہو اور جدوجہد کا جذبہ رکھتی ہو تو جرمنی کی مانند زوال پذیر ہو کر بھی عروج کی راہ پر چل پڑتی ہے لیکن اگر قوم جذبوں اور خوابوں سے محروم ہو تو اسے ابھرنے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔ ٹائن بی میرا پسندیدہ مورخ ہے اور اس کا کہنا ہے کہ تاریخ کوئی جامد شے نہیں ہوتی، یہ قوموں کی جدوجہد اور رویوں کے سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہم تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتے تو اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ہم صدیوں پرانی بادشاہتوں کی موجودہ عوامی طرز حکومت سے مماثلت تلاش کریں۔ سبق سیکھنے کے لئے ہماری ستر سالہ تاریخ ہی کافی ہے کیونکہ بادشاہتوں کا جمہوریتوں سے موازنہ ایک علمی ایکسر سائز تو ہو سکتی ہے لیکن اس سے راہنمائی نہیں لی جا سکتی۔
سوال یہ ہے کہ قوموں کا مقدر کیا ہوتا ہے؟ عمرانی علوم کے ماہرین کے مطابق قوموں کا مقدر وہ تصور یا خواب ہوتا ہے جو قوموں کے بانیان (Founders) نے دیکھا یا پیش کیا ہوتا ہے، وہ بنیاد ہوتی ہے جس پر قوم کی تشکیل کی جاتی اور اسے متحد و منظم کیا جاتا ہے۔ اسی علمی مباحث کی روشنی میں دیکھوں تو میرے مطالعے کے مطابق بانیان پاکستان کا تصور یا قومی مقدر یا خواب یہ تھا کہ پاکستان ایک اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست ہو گی جس میں انسانی برابری، قانون کی حکمرانی، معاشرتی، معاشی عدالتی عدل اور آزادی کا سورج طلوع ہو گا اور جس کا معاشرہ کرپشن، ذات پات اور مذہبی تعصبات سے پاک ہو گا۔ ان باتوں کے علاوہ اگر آپ علامہ اقبال کے خطبہ آلٰہ آباد سے لے کر بعد کی تحریروں، چوہدری رحمت علی کی کتاب (Now Or Never)نائو آر نیور اور قائداعظم کی تقاریر پڑھیں اور بین السطور پڑھیں تو تصور پاکستان کا ایک پہلو ذہن میں کھلتا اور واضح ہو جاتا ہے۔ وہ یہ کہ بانیان پاکستان کا خواب یہ بھی تھا کہ پاکستان جہاں کمیونزم کی یلغار کا راستہ روکے گا وہاں اسلامی دنیا کا ’’گیٹ وے‘‘ بن کر عالم اسلام کو بھی لیڈ (Lead) کرے گا۔ مطلب یہ کہ بانیان پاکستان چشم تصور سے پاکستان کو اسلامی دنیا کا قائد دیکھتے تھے۔ علامہ اقبال کی تحریروں اور چوہدری رحمت علی کے پاکستان کے تصور کے مطابق یہ ایک طرح سے قیام پاکستان کا جواز تھا، مطالبے کی بنیاد تھی اور مستقبل کی آرزو تھی کہ مسلمان اکثریتی ملک نے کمیونزم کے پھیلائو کے سامنے بند باندھنا تھا اور مسلم امہ کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دینا تھا۔ موجودہ نوجوان نسلوں کو مگر علم نہیں ہو گا کہ 1980تک کمیونزم اور روس اسلام اور جمہوریت کے لئے کتنا بڑا خطرہ تھا اور روس سنٹرل ایشیائی مسلمان حکومتوں کو ہڑپ کرنے کے بعد افغانستان میں پائوں پھیلا کر اسلامی ممالک پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ یہ خطرہ 1940,1930کی دہائی میں خوفناک نظر آتا تھا لیکن اب روسی کمیونزم اور امپریلزم تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو چکے اور ایک طرح سے روس کو افغانستان میں شکست دینے اور افغانستان سے نکالنے میں پاکستان اپنا کردار بھی سرانجام دے چکا۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ تاریخ کوئی جامد شے نہیں ہوتی، یہ قوموں اور نظریات کے عروج و زوال کے ساتھ بدلتی رہتی ہے اور نئے امکانات روشن کرتی رہتی ہے۔
اشتہارات



گویا یہ پاکستان کا مقدر تھا کہ اسے اسلامی بلاک کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دینا تھا جس کے لئے مجوزہ پاکستان کی جغرافیائی اور تزویراتی حیثیت نہایت موزوں تھی۔ دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی قوت کا اعزاز حاصل کر کے پاکستان نے ایک منفرد مقام تو حاصل کیا لیکن اپنے داخلی مسائل، کمزور معیشت اور سب سے بڑھ کر کم اہل قیادت کے سبب وہ مقام حاصل نہ کر سکا جو اس کے مقدر کا حصہ تھا کیونکہ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے جس بصیرت افروز اور اعلیٰ درجے کی قیادت کی ضرورت تھی وہ ہم پیدا نہ کر سکے۔ قائداعظم اور لیاقت علی خان کو وقت نہ ہی ملا لیکن اس کے باوجود مستحکم ایوبی دور اور بھٹو کی قائدانہ صلاحیتوں نے پاکستان کو اسلامی ممالک کی صف میں بلند مقام پر فائز رکھا۔ ضیاء الحق کا دور افغان جہاد اور پرویز مشرف کا دور نائن الیون کی نذر ہو گئے۔ اس دوران آنے والی جمہوری حکومتیں کمزور اور متزلزل رہیں۔ چنانچہ وہ خوشحال اسلامی ریاستوں کی کاسہ لیس بن کر اپنا مقام کھو بیٹھیں۔
بھلا آج میں اس ’’دُکھڑے‘‘ کو موضوع بحث کیوں بنا بیٹھا؟ قومی مقدر اپنی جگہ لیکن قوموں کا مقام بنانے میں لیڈروں یا قائدین کا رول اہم ہوتا ہے۔ روہنگیا سے ہجرت کر کے بنگلہ دیش کے کیمپوں میں پڑے ستم رسیدہ مسلمانوں کی دلجوئی کی تفصیل پڑھ کر میری آنکھیں بھیگ گئیں اور میں سوچ میں ڈوب گیا۔ ان مظلوم مسلمانوں کی دلجوئی کے لئے ترکی سے بیگم اردوان اپنے ساتھ ایک ہزار ٹن سامان لے کر آئیں، ترکی کے وزیر خارجہ وہاں پہلے ہی موجود تھے، ان کیمپوں میں ترکی کی ہلال احمر کئی کائونٹر اور دفاتر قائم کر چکی تھی جن میں ڈاکٹروں، دوائوں سے لے کر ماہرین نفسیات اور استاد تک موجود تھے۔ بیگم اردوان ان ستم زدہ مسلمانوں میں گھل مل گئیں، ان کے دکھڑے اور ظلم کی داستانیں سن کر آنسو پیتی رہیں اور پسینے سے شرابور بدبودار کپڑوں میں ملبوس خواتین کو سینے سے لگاتی رہیں۔ اس سے قبل خود صدر اردوان نے آنگ سان سوچی سے بات بھی کی، احتجاج بھی کیا اور برما میں مسلمانوں کے علاقے میں امدادی سامان بھی بھیجا۔ بیگم اردوان نے بیگم حسینہ واجد سے بھی ملاقات کی اور اسے یقین دلایا کہ ترکی روہنگیا کے مسلمانوں کا بوجھ بنگلہ دیش پر نہیں پڑنے دے گا۔ اس وقت لاکھوں شامی مہاجرین استنبول اور ترکی میں موجود ہیں جنہیں ترک مہاجرین نہیں بلکہ اپنا مہمان اور بھائی کہتے ہیں۔ فلسطین ہو، شام ہو، قطر ہو یا روہنگیا کے مظلوم مسلمان، ترکی ہر جگہ پہنچتا ہے اور دنیائے اسلام کی قیادت کا فریضہ ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں سیلاب تباہی مچائے تو بیگم اردوان اپنی شادی کا ہار اتار کر امدادی چندے میں دے دیتی ہیں۔ یقین رکھیں اگر ترکی پر اردوان کی حکومت نہ ہوتی تو ہرگز ایسا نہ ہوتا۔ میں سوچتا رہا کہ دنیائے اسلام کی یہ قیادت پاکستان کا مقدر تھا لیکن اسے ترکی عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ پاکستان کا قائم ہونا ہندوستان کے مسلمانوں کا مقدر تھا لیکن اس کا قائدانہ کردار ہماری قیادت کا مرہون منت تھا۔ پاکستان اپنی کوتاہ نظر اور اوسط درجے کی قیادت سے مار کھا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں