پھر کچھ کالے قول


بغیر کسی تمہید کے پھر کچھ کالے قول’’تاریخ انسانی میں ایک ’’اشرافیہ‘‘ بھی ایسی نہیں گزری جس نے اپنوں کوذلیل نہ کیا ہو اور پھر غیروں کے ہاتھوں ذلیل نہ ہوئی ہو‘‘o…..o…..o’’لوگ گاڑیوں میں بیٹھ کر تلاوت سننے میں اتنے محو ہوتے ہیں کہ ایمبولینس کو رستہ نہیں دیتے‘‘o…..o…..o’’آئین میں ترمیم آسان مگراپنی ذات میں ترمیم بہت مشکل ہے‘‘o…..o…..o’’70سال سے سرکٹ میںایک ہی فلم کی نمائش جاری ہے۔ ’’سر کٹا شیطان‘‘o…..o…..o’’بکتر بند گاڑیاں ہی نہیں بکتر بند بے غیرت بھی ہوتے ہیں‘‘o…..o…..o’’کچی آبادیوں میںرہنے والوں کے ستارےگردش میں رہتے ہیں‘‘o…..o…..o’’لوگوں کے پاس اب ہمسائے تو دور، ماں جائے کا دکھ بانٹنے کی بھی فرصت نہیں‘‘o…..o…..o’’فیصلہ کرنا ہوگا کہ عالمی گائوں کا باوقار حصہ بننا ہے یا کوڑھیوں کی الگ تھلگ بستی بن کر رہنا ہے‘‘o…..o…..o’’جانور‘‘ قلم سے نہیں چھری سے ذبح کیا جاتا ہے‘‘o…..o…..o’’سپیروں کا رزق، سانپوں کے پھن پر ہوتا ہے‘‘o…..o…..o’’متمول ہر سال گاڑی، غریب ہر روز کئی ویگنیں تبدیل کرتا ہے‘‘o…..o…..o’’جہاں افراد کا احترام نہ ہو، وہاں اداروں کا احترام بھی ممکن نہیں رہتا‘‘o…..o…..o’’تاریخ نہ مرتی ہے نہ ماری جاسکتی ہے‘‘o…..o…..o’’ہم خودکشیوں میں خودکفیل ہو چکے‘‘o…..o…..o’’اس ملک میں گند پھیلانے والوں کو ’’صفائی کے نمبر‘‘ کب تک ملتے رہیں گے؟‘‘o…..o…..o’’پیپلز پارٹی کبھی ’’سندر بن‘‘ جیسا عظیم گھنا جنگل تھی جو آج کل ’’چھانگا مانگا‘‘ کے مصنوعی جنگل جیسی ہوگئی ہے اور جیسا جنگل ہو، ویسا ہی اس کا ’’ٹارزن‘‘ ہوتا ہے‘‘o…..o….o’’معاشرے اپنی ’’نیوز‘‘ اور ’’نیوز میکرز‘‘ سے پہچانے جاتے ہیں‘‘o…..o…..o’’وہ دن دور نہیں جب روپیہ اتنا حقیر ہو جائے گا کہ ڈاکو بینک نہیں اناج، سبزی اور کریانے کی دکانیں لوٹیں گے‘‘o…..o…..o’’برصغیر کے مسلمان تین حصوں میں تقسیم ہو کر ہر جگہ ’’برہمنوں‘‘ کے رحم و کرم پر ہیں یا بدمعاشوں کی صوابدید پر‘‘o…..o…..o’’عنقریب سیلف میڈ کابینہ اور کسٹم میڈ کابینہ کا فرق سمجھ آجائے گا‘‘o…..o…..o’’پاکستان چودھویں صدی میں کب داخل ہوگا؟‘‘o…..o…..o’’ہلال‘‘ کو ’’بدر‘‘ بننے میں کتنی صدیاں درکار ہوں گی؟‘‘o…..o…..o’’حرام مال سے صدقہ غلیظ پانی سے غسل کرنا ہے‘‘o…..o…..o’’پیٹ کی سازش کوئی خفیہ ایجنسی نہیں پکڑ سکتی اور بھوک کی بغاوت پر کوئی حکومت قابو نہیں پا سکتی‘‘o…..o…..o’’موت کی تیاری، زندگی کا سب سے بڑا اور کڑا چیلنج ہے‘‘o…..o…..o’’ہر ’’رستم و سہراب‘‘ کو فردوسی اور ہر ’’ہیر رانجھے‘‘ کو وارث شاہ نصیب نہیں ہوتا‘‘o…..o…..o’’دعائوں سے گاڑیاں چلتیں توتمام آئل کمپنیاں دیوالیہ ہو جاتیں‘‘o…..o…..o’’ریزرو‘‘ لگ چکا، پٹرول ختم ہونے سے پہلے پہلے پارک لین پہنچ جائو‘‘o…..o…..o’’دکھی لکھاری کے دکھیا قاری‘‘o…..o…..o’’بے روزگار بھوکا بالا گلے میں پھندا ڈال کر بالے کے ساتھ جھول گیا اور یوں جمہوریت کا بول بالا ہوگیا‘‘o…..o…..o’’قیمے والے نان کھا کر قومی ترانہ سننے کا مزہ ہی اور ہے‘‘o…..o…..o’’عوام گھاس کھائیں گے تو جانور کہاں جائیں گے؟‘‘o…..o…..o’’کیا کاسمیٹک سرجری سے چڑیل بھی پری بن سکتی ہے؟‘‘o…..o…..o’’فاقوں کی فصل کو کوئی سنڈی کیوں نہیں پڑتی؟‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں