قائداعظم کے آخری ایام، سازشی تھیوریاں اور نفس مطمٔنہ!


گیارہ ستمبر 1948قائداعظمؒ کا یوم وفات ہے اور آج لکھنے بیٹھا ہوں تو اس حوالے سے کئی باتیں ذہن پہ دستک دے رہی ہیں۔ کچھ تو غلط فہمیاں ہیں، شوشے ہیں جو سازش پسند ذہنوں نے اتنے منظم انداز سے پھیلائے ہیں کہ سینکڑوں بار کی تردید کے باوجود ان کی جڑیں آج بھی موجود ہیں۔ کچھ یادیں ہیں جو مختلف کتابوں میں پڑھیں اور حافظے میں محفوظ ہوگئیں۔ یکم جولائی 1948 کو قائداعظم کوئٹہ سے خاص طور پر اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب کے لئے کراچی آئے اور 7جولائی کو ڈاکٹروں کے اصرار پر آرام کے لئے پھر کوئٹہ چلے گئے۔ اسٹیٹ بنک کی بنیاد رکھتے ہوئے قائداعظمؒ نے واضح طور پر کہا کہ ’’مغرب کےمعاشی نظام نے انسانیت کے لئے بے شمارمسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ آپ ایسا معاشی نظام وضع کریں جو اسلامی اصولوں کے مطابق ہو جسے ہم دنیا کو دکھا سکیں۔ مجھے اس کا شدت سے انتظار رہے گا۔ ‘‘سیکولر ازم کے حامیوںکے لئے یہ تقریر لمحہ فکریہ ہے۔ (تقریر یکم جولائی 1948)
اسی تقریب میں قائداعظمؒ نے ذاتی مثال قائم کرکے وقت کی پابندی کا سخت پیغام دیا۔ اسٹیج پر گورنر جنرل کے ساتھ وزیراعظم کےلئے کرسی رکھی گئی تھی۔ وزیراعظم تقریب میں قدرے تاخیر سے پہنچے۔ قائداعظمؒ نے اسٹیج سے ان کی کرسی اٹھوا دی۔ لیاقت علی پہنچے توتقریب شروع ہوچکی تھی چنانچہ وہ عام لوگوں میں موجود رہے۔ 7جولائی کو قائداعظمؒ آرام کے لئے دوبارہ کوئٹہ چلے گئے۔ جب علالت شدت اختیارکرگئی تو قائداعظمؒ کو زیارت منتقل کر دیا گیا۔ کرنل الٰہی بخش کےعلاوہ ٹی بی کےماہر ڈاکٹر ریاض علی شاہ بھی اس وقت قائداعظمؒ کے معالج تھے۔ انہو ںنے اپنے مضمون میں ایک چشم کشا اور ایمان افروز گفتگو لکھی ہے جس کا ہر لفظ ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اورقائداعظم کے باطن کی جھلک دکھاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’کوئٹہ میں قائداعظم کی صحت بہتر ہوتی گئی تھی۔ ایک دن ہنستے ہنستے باتوں میں کرنل الٰہی بخش نے کہا کہ ہم دونوں کی انتہائی کوشش ہے کہ آپ کی صحت اتنی اچھی ہو جائے جتنی آج سے سات آٹھ سال پہلے تھی۔ قائداعظمؒ مسکرائے اور فرمایا ’’چند سال قبل یہ یقیناً میری بھی آزو تھی کہ میں زندہ رہوں، میں اس لئے زندگی کا طالب نہیں تھا کہ مجھے دنیا کی تمنا تھی اور میں موت سے خوفزدہ تھا بلکہ اس لئے زندہ رہنا چاہتا تھا کہ قوم نے جو کام میرے سپرد کیا ہے اور قدرت نے جس کے لئے مجھے مقرر کیا ہے میں اسے پایہ ٔ تکمیل تک پہنچا سکوں۔ وہ کام پورا ہو گیا ہے۔ میں اپنا فرض ادا کرچکا ہوں۔ پاکستان بن گیا ہے۔ اب یہ قوم کا کام ہے کہ وہ اس کی تعمیر کرے، اسے ناقابل تسخیر اور ترقی یافتہ ملک بنائے، حکومت کا نظم و نسق دیانتداری اور محنت سے چلائے۔ آٹھ برس تک مجھے قوم کے اعتماد و تعاون پر تنہا عیار اور مضبوط دشمنوں سے لڑنا پڑا ہے۔ میں نے خداکے بھروسے پر ان تھک محنت کی ہے اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک حصول پاکستان کے لئے صرف کر دیا ہے۔ میںتھک گیا ہوں۔ اب مجھے زندگی سے زیادہ دلچسپی نہیں۔‘‘ بے شک اللہ کے دوست موت سے نہیں ڈرتے۔ (ڈاکٹر ریاض علی شاہ کا مضمون مطبوعہ ماہ ِ نو کراچی 1948 بحوالہ قائداعظمؒ کے 72 سال از خواجہ رضی حیدر ص 320) ۔
اشتہارات



زیارت میں مادر ِ ملت محترمہ فاطمہ جناح ہر لمحہ اپنے بھائی کی خدمت کرتی تھیں۔ نرسنگ کے لئے مسز اکرام نرس، ڈیوٹی پہ مامور تھیں۔ مسز اکرام کمپوڈر نرس کا کہنا ہے کہ میں دل و جان سے بابائے قوم کی خدمت میں مصروف رہتی تھی۔ ایک روز قائداعظمؒ نے مجھ سے پوچھا کیا آپ اپنی ’’جاب‘‘ (Job)سے مطمئن ہیں؟ میں نے احترام سے سرجھکا کر کہا ’’جی ہاں‘‘ ساتھ ہی ہمت کرکے عرض کیا کہ ’’میں اپنا تبادلہ کوئٹہ کروانا چاہتی ہوں لیکن محکمہ نہیں مان رہا ‘‘ قائداعظمؒ نے میری گفتگو ہمدردی اور توجہ سے سنی اور جواب دیا ’’مجھے تم سے ہمدردی ہے لیکن میں تمہارے محکمے کو حکم نہیں دے سکتا۔ ہم سب کو قانون اور ضابطے کی پابندی کرنی چاہئے۔‘‘ مقصد سفارش کلچر کی حوصلہ شکنی اور قانون کی حکمرانی تھا (بحوالہ ہمارے قائد (انگریزی) تالیف اسلم بزمی ص 53)
زیارت کے قیام کے دوران کیپٹن نور حسین مرحوم (بعد ازاں بریگیڈئر) قائداعظم کے اے ڈی سی تھے اور وہ ہر لمحے کے عینی شاہد ہیں، میری ان سے قائداعظمؒ کے آخری ایام کے حوالے سے طویل ’’گفتگوئیں‘‘ ہوتی رہیں کیونکہ اے ڈی سی محرم رازہوتا ہےاور نہایت قابل اعتماد گواہ۔ قائداعظمؒ کس طرح قومی خزانے کے تقدس کی حفاظت کرتے تھے اور کس طرح انہوں نے مسٹر اصفہانی جیسے مخلص دوست اور پاکستان کے سفیر برائے امریکہ کی بیرون ملک علاج کی تجویز مستر د کرتے ہوئے کہا کہ میں ملک کے خزانے پر بوجھ نہیں بننا چاہتا۔ایسی بہت سی باتیں میں بریگیڈیئر نورحسین مرحوم سے سن چکا ہوں جو آج کے دور میں عجیب و غریب لگتی ہیں۔ قائداعظمؒ اور وزیراعظم لیاقت علی خان کے درمیان مبینہ اختلافات کا ذکر ہوا تو انہوں نے بتایا کہ اختلافات کی کہانی محض افسانہ ہے۔ قائداعظمؒ لیاقت علی خان کو بہت پسند کرتے تھے۔ ان پر اعتماد اور ان کا احترام کرتے تھے۔ ایک دن مجھے ٹیلی گرام ملا کہ وزیراعظم اورسیکرٹری جنرل چودھری محمد علی گورنر جنرل کی بیمارپرسی اور عیادت کے لئے آنا چاہتے ہیں۔ میں نے قائداعظمؒ کو بتایا تو انہوں نے نہ صرف خوشی سے ان کی آمد کو خوش آمدید کہا بلکہ ان کی آمد کی جزئیات پر بھی گفتگو کی حتیٰ کہ دوپہر کے کھانے کا مینو بھی خود منظور کیا۔ وزیراعظم اور سیکرٹری جنرل آئے تومیں انہیں قائداعظمؒ کے بیڈ روم میں لے کر گیا۔ نہایت نقاہت اور علالت کے باوجود انہوں نے لیاقت علی خان کو مسکرا کر اورہاتھ اٹھا کر ویلکم کیا۔ کچھ دیر بعد چودھری محمد علی نیچے میرے دفترمیں آگئے اور وزیراعظم کی گورنر جنرل سے ون ٹو ون ملاقات جاری رہی۔ اس وقت محترمہ فاطمہ جناح بھی اے ڈی سی کے کمرے میں تشریف فرما تھیں۔ لیاقت علی خان میٹنگ سے فارغ ہو کر نیچے آئے تو نہایت متفکر لگ رہے تھے۔ وہ جتنی دیر موجود رہے کرنل الٰہی بخش سے قائداعظمؒ کے علاج، بیرون ملک سے ماہرین بلانے اوردوائیاں منگوانے کی باتیں کرتے رہے۔ اے ڈی سی کے دفتر سے ہی وزیراعظم نے کراچی میں موجود گورنر جنرل کے انگریز ملٹری سیکرٹری سے بات کی اور اسے ہدایت دی کہ خواجہ ناظم الدین اور مولانا شبیر احمد عثمانی کو پیغامات دیں کہ وہ کراچی میں ہی موجود رہیں۔ لگتا ہے کہ موت کے لرزتے سائے دیکھ کر قائداعظمؒ نے وزیراعظم سے اپنے جانشین اور اپنی نماز ِ جنازہ پڑھانے والے دونوں افراد کا عندیہ دے دیا تھا۔
10ستمبر کو کرنل الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کر مطلع کیا کہ قائداعظمؒ کا وقت ِ آخر قریب آن پہنچا ہے چنانچہ اے ڈی سی نے محترمہ کی ہدایت پر ملٹری سیکرٹری کو طیارہ بھجوانے، آمد کے انتظامات کرنے اور گورنر جنرل کی آمد کو پرائیویٹ رکھنے کی ہدایات دیں۔ پرائیویٹ آمد کا مطلب ہوتا ہے کہ ذاتی اسٹاف کے علاوہ کوئی استقبال کے لئے نہ آئے۔ گیارہ ستمبر کو سوا چار بجے طیارہ گورنر جنرل کو لے کر ماڑی پور کے ہوائی اڈے پر اترا۔ ملٹری سیکرٹری کرنل نوئلز نے کراچی میں دستیاب چھ سات ایمبولنسیں منگوائیں اور ان کامعائنہ کرنے کے بعد جو سب سے بہتر پائی اسے قائداعظمؒ کے لئے منتخب کیا لیکن غلطی یہ کی کہ دوسری ایمبولنس کا انتظام نہ کیا۔ گورنر جنرل کی آمد پرائیویٹ تھی اس لئے کابینہ کو مطلع نہ کیا گیا۔ بریگیڈیئر نور حسین نے بتایا کہ جب ہم قائداعظمؒ کو ایمبولنس میں لٹا چکے اور خود گورنر جنرل کی کیڈلک میں بیٹھ کر ہوائی اڈے سے نکلنے والے تھے تو میں نے دیکھا کہ وزیراعظم لیاقت علی خان آ رہے تھے۔ انہوں نے کار ہمارے کارواں کے پیچھے لگا لی۔ راستے میں اتفاق سے ایمبولنس خراب ہوگئی تو وہ دوسری ایمبولنس کے آنے تک ہمارے پاس موجود رہے اور بتایا کہ مجھے گورنر جنرل کی آمد کی اطلاع ہی تاخیر سے ملی ہے۔ بریگیڈیئر صاحب کا کہنا تھا کہ دوسری ایمبولنس لگ بھگ نصف گھنٹے میں پہنچ گئی تھی۔ وہ بڑے دکھ سے کہا کرتے تھے کہ ایمبولنس کی خرابی اور لیاقت علی خان کی ایئرپورٹ پر غیرحاضری جھوٹ کے پلندے اور سازشی ذہنوں کے افسانے ہیں۔ ایمبولنس کا انتخاب ملٹری سیکرٹری نے کیا تھا اور لیاقت علی خان ہوائی اڈے پر موجود تھے۔ لیاقت علی خان کی غیرحاضری کا افسانہ گھڑنے والے اسے سازش کا لبادہ پہنانا چاہتے ہیں اور ملٹری سیکرٹری کی غفلت کہ اس نے دوسری ایمبولنس کیوں ساتھ نہ رکھی کو اس بڑی سازش کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ یہ سب جھوٹ ہے۔ ان حقائق کو واشگاف کرنے کےلئے بریگیڈیئر نور حسین نے ’’دی نیوز‘‘ اخبار میں ایک مضمون بھی لکھا تھا جو میری کتاب ’’اقبال، جناح اور پاکستان‘‘ میں بطور ضمیمہ شامل ہے۔ گیارہ ستمبر کو تقریباً رات ساڑھے نو بجے قائداعظمؒ کی حالت بگڑ گئی۔ چند منٹوں میں کرنل الٰہی بخش، ڈاکٹر ریاض علی اورڈاکٹرمستری پہنچ گئے۔ دس بج کر پچیس منٹ پر عزم و استقلال، فہم و فراست اور بصیرت کاوہ پیکر ہم سے رخصت ہو گیا جسے تائید ِایزدی، اللہ پر بھروسہ اور اپنے مشن کی تکمیل کا پورا یقین تھا….. ’’اے نفس مطمئنہ آ جا اپنے رب کے پاس اور داخل ہو میری جنت میں‘‘ (سورۃ الفجر)

اپنا تبصرہ بھیجیں