Orya-Maqbool-Jan

توہینِ رسالت وانکارختم نبوت کی نرسریاں

orya-maqbool-jan-column
علامہ خادم حسین رضوی سے کوئی لاکھ اختلاف کرے، ان کی زبان وبیان کے بارے میں گفتگوکرے، ان کے دوسرے مسالک کے بارے میں خیالات کوضرورت سے زیادہ اچھالے، لیکن ایک بات اس ملک میں روزروشن کی طرح واضح ہے کہ وہ لبرل اورسیکولرطبقات کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں. ساٹھ اورسترکی دہائی میں جس طرح میرے ملک کا ملحد اورکیمونسٹ طبقہ تمام علماء کوچھوڑکرصرف اورصرف مولانا ابوالاعلیٰ‌ مودودی کوگالی دیتا تھا، ویسی ہی کیفیت آج علامہ خادم حسین رضوی کے ساتھ ہے. یوں توعلامہ صاحب کا بیانیہ جوش ومحبت سے لبریزہے، ان کے ہاں ویسا لٹریچرنہیں جیسا تحریکوں میں ہوتا ہے، لیکن قرآن وسنت اورعشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشن شمع کے ساتھ وہ جس عاشقِ رسول اورفرزانہ ختم نبوت کے اشعار کا علم رکھتے ہیں اوراپنی تقریرکوان سے حسن دیتے ہیں وہ علامہ اقبال ہے. اقبال وہ تیرہے جولبرل اورسیکولرطبقات کے دلوں میں‌ پیوست ہونے والا سب سے زہرناک تیرہے. انہیں معلوم ہے کہ اقبال کی شاعری کسی بھی معاشرے کواسلام کی نشاۃثانیہ کے خواب دکھاتی ہے اورتحریک پرمجبورکرتی ہے. ان سیکولراورلبرل حضرات کوخوب علم ہے کہ انہوں نے پچاس سال ایران میں کیمونزم کے لبادے میں الحاد کی تحریک چلائی اورذہن سازی کی تھی لیکن اقبال کی فارسی شاعری نے ان کی ساری محنت پرپانی پھیردیا. “ازخواب گراں‌ خواب گراں، خواب گراں خیز”(گہری نیند سے جاگو) کا نعرہ ایسا بلند ہوا کہ ایران ایک اسلامی انقلاب کی منزل طے کرگیا. اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بے شک ایران اب ایک مسلکی ریاست کی جانب بڑھ چکا ہے لیکن اس کا نظام تعلیم ایسی بنیادوں پراستوارہوچکا ہے کہ اب وہاں الحاد، سیکولرازم اورلبرل ازم کے پودوں کی آبیاری نہیں ہوسکتی. اس لیے کہ جب بھی کسی اسلامی معاشرے پرحملہ ہوا اس کے تعلیمی نظام کے راستے سے ہوا. علامہ خادم حسین رضوی کے دھرنے نے جہاں‌ قادیانی عزائم کوخاک میں ملایا وہاں سیکولرلبرل طبقے کوبھی خوفزدہ کرکے رکھ دیا. کیونکہ اس دھرنے کے نتیجے میں یوں توبہت سے معاملات طے ہوئے لیکن معاہدے کی ایک شق ایسی ہے جوسیکولرلبرل طبقات میں اورخصوصاً میڈیا کے لیے سوہان روح بنی ہوئی ہے. معاہدے میں اس شق کا نام شامل ہونا تائیدایزدی اورمومن کی فرااست کا اشارہ ہے. معاہدے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے نصاب تعلیم کوپاک وصاف کرنے کے لئے علماء کونصابی کمیٹی میں شامل کیا جائے گا. اگرصرف اس ایک مطالبے پرہی عمل ہوجائے توپاکستان سے سیکولرازرم اورلبرل ازم کا جنازہ نکل جائے گا. علامہ صاحب کونصاب تعلیم کے سلسلے میں صرف حکومتی تعلیمی اداروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ حکومت کے زیرِانتظام (میں نے زیرِانتظام اس لیے لکھا ہے کہ تمام پرائیویٹ یونیورسٹیاں، کالج اورسکول حکومت کے محکموں کے بنائے گئے قوانین کے تحت رجسڑرڈ اوران قوانین کے پابند ہیں) نجی تعلیمی اداروں کے نصاب کوبھی شامل کرنا چاہیے. یہ پرائیویٹ ادارے گزشتہ تیس سال سے سیکولرازم، الحاد اورلبرل ازم کا گہوارہ بن چکے ہیں اوران سکولوں، کالجوں اوریونیورسٹیوں میں سے اکثرایسے ہیں جہاں اسلامی اقدارپرکاربندہوکرتعلیم حاصل کرنا بذات خود ایک مسئلہ ہے. مغرب سے برآمدشدہ نصاب تعلیم کی وجہ سے یہ ایسی نسلیں تیارکررہے ہیں جن کے ذہنوں میں یہ ناسوربھردیا گیا ہے کہ توہین رسالت انسانی حقوق اورآزادی اظہار کا مسئلہ ہے اوراسے مسلمانوں نے خوامخواہ ایک جذباتی مسئلہ بنا رکھا ہے. ان اداروں میں اسی طرح کی انسانی حقوق اورآزادی اظہارکی تعلیمات دینے والے بے شماراستاد ہیں جوقادیانیوں کوایک مظلوم اقلیت کے روپ میں اس طرح‌ پیش کرتے ہیں جیسے ہٹلرکے دورمیں یہودی نسل کشی کا شکارتھے.
یہ الحاد کی نرسریاں توہینِ رسالت وختم نبوت کا بیج کیسے بوتی ہیں. یہ سوال سب اہم ہے. یہ میٹھا زہرانتہائی خوبصورت طریقے سے طلبہ کے ذہنوں میں اتاراجاتا ہے. سب سے پہلے نرسری سے لے کرپانچویں کلاس تک جوکہانیاں، کارٹون، نظمیں وغیرہ پڑھائی جاتی ہیں ان میں اسلام یا مسلمان نام کی چڑیا تک کہیں نظرنہیں آتی. حتیٰ کہ کارٹونوں اورکہانیوں کے کرداربھی مغربی ہوتے ہیں. اسلام توایک طرف ان میں پاکستان کا ذکربھی مجبوری سے ملتا ہے. ان کہانیوں میں The Church Bell Tolls (گرجے کی گھنٹی بجتی ہے) جیسے لفظ توآتے ہیں لیکن اذان کی آواز سنائی نہیں دیتی. ٹارزن اوراس قبیل کے افراد جنگل میں‌ رہتے ہیں، لیکن جنگل میں نائی بھی موجود ہوتا ہے جوشیوکرتا ہے اورعورتوں کوجنگل میں تیراکی والا نیم برہنہ لباس بھی میسرآتا ہے تاکہ ان کے ذہنوں میں کرداروں کے خاکے بھی مغربی ہوں.
تیسری چوتھی جماعت سے جوتاریخ کی کتابیں ان بچوں کوپڑھائی جاتی ہیں ان کوایک خاص انداز سے اسلام دشمنی میں تحریرکیا گیا ہے. مثلاً چوتھی، پانچویں اورچھٹی جماعت میں جوسوشل سٹڈی کی کتاب ہے اسے نکولس ہارس برگ (Nicholas Hors burgh) نے تحریرکیاہے. اس کتاب میں بچوں کوپاکستانی آرٹس کے ہیروز کے طورپرڈانسرشیما کرمانی، میڈم نورجہاں اورسلمان احمد پڑھائے جاتے ہیں. فہمیدہ ریاض جیسی فحش تحاریرلکھنے والی خاتون کے تین مضامین ان میں شامل ہیں. علامہ اقبال توان کتابوں میں شجرممنوع ہے. پانچویں کلاس کی آکسفورڈ کی تاریخ میں محمد بن قاسم کی فوج کوعرب آرمی کہا گیا ہے اوراسے ایک قابض لشکرسے بتایا گیا ہے. اس میں لکھا ہے (Raja fights the foreigners) “راجہ نے غیرملکیوں سے جنگ کی”. چھٹی جماعت کی کتاب History in Focus کق بیٹریکا سمپسن (Beatrica Simpson) اورٹیرساکرومپٹن (Teresa Crompton) نے تحریرکیا ہے. کتاب جھوٹ کا پلندہ ہے. اس میں محمود غزنوی کے خلاف بغیرکسی ثبوت کے زہراگلا گیا ہے. حالت یہ ہے کہ سیکولرلبرل طبقہ جانتا ہے کہ رامیلہ تھاپر(Romila Thaper) نے عرق ریزی سے تحقیق کرکے ثابت کیا ہے کہ سومنات کا مندر کئی سوسال پہلے مہاویرکے ماننے والے جین مت والوں نے تباہ کیا تھا اورجب محمود غزنوی آیا توکوئی سومنات کامندروجود نہیں رکھتا تھا. لیکن انگریز دورکی محمود غزنوی اوراورنگزیب کے خلاف لکھی گئی لایعنی اوربے سروپا افسانوی تاریخ کوان کتابوں میں شامل کیا گیا. تاکہ تاریخ برصغیرمیں مسلمانوں کا کردارمسخ کیا جاسکے.
a


یہ نجی تعلیمی ادارے جوسب سے بڑا ظلم کررہے ہیں وہ یہ ہے کہ اسلامیات اوراسلامی تاریخ مغربی مصنفین کی لکھی ہوئی پڑھاتے ہیں. مثلاً “O” لیول کی کتابوں میں چوتھی پانچویں کے لیے Stories of Islam روتھ کہاٹ (Ruth Kihyte) نے لکھی ہے اوراسی طرح کی ایک کتاب Lives of Prophets (پیغمبروں کی زندگیاں) ایلینا روتھ ہارڈر(Elena Ruth Harder) نے تحریرکی ہے. ان کتابوں میں مغربی مصنفین نے جس طرح اسلام اورمسلمانوں کی عظیم شخصیتوں کے کردارکومسخ کرکے پیش کیا گیا ہے یہ سب تواپنی جگہ ایک المیہ ہے، لیکن جوظلم یہ نجی انگلش میڈیم سکول پاکستانی قوم کی نئی نسل سے کررہے یہں وہ ان سے اسلام کی اعلیٰ ترین شخصیات کا احترام چھین رہے ہیں. مسلمان ہمیشہ سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابوبکر، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ کرپکارتا ہے. لیکن ان کتابوں میں سے احترام کاطرزتحریرختم کردیا گیا. مثلاً یوں‌ لکھا جاتا ہے
Mohammad said to Ali, Abubakar called, Fatima married to Ali, Umer gave the verdict(محمد نے علی سے کہا، ابوبکرنے بلایا، فاطمہ نے علی سے شادی کی، عمرنے یہ فیصلہ کیا). ایسے ہی تمام پیغمبروں موسیٰ‌، عیسیٰ، داؤد اورہارون علیہ السلام کے نام لیے جاتے ہیں. یوں‌ بچپن سے ہی بچوں کے دلوں سے ان عظیم ہستیوں کا احترام ختم ہوجاتا ہے، کیونکہ یہ کتابیں ان سب کوتاریخ کا ایک عمومی کرداربنا کرپیش کرتی ہیں. ان کتابوں‌ کے بارے میں اورنصاب تعلیم کے بارے میں ہزاروں صفحات پرمشتمل مواد میرے پاس موجود ہے اورمیں درجنوں کالم ان پرلکھ چکا ہوں، لیکن نہ کوئی مذہبی جماعت ان کے خلاف تحریک چلاتی ہے اورنہ ہی کسی کوہوش ہے کہ ان اداروں میں سے اکثر سکول، کالج اوریونیورسٹیاں توہین رسالت وختم نبوت کی نرسریاں بن چکی ہیں. آپ آج یہاں سروے کرواکردیکھ لیکن ان میں پڑھنے والے بچے مغرب میں چھپنے والے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاکوں کے بارے میں کہیں گے “کیا ہواوہ لوگ اپنے عیسیٰ اورموسیٰ کے بھی توکارٹون بناتے ہیں، یہ توآزادی اظہارکا مسئلہ ہے”. ختم نبوت کے بارے میں بھی ان کویہی علم دیا جاتا ہے کہ یہ ایک مذہبی غنڈہ گردی ہے جوان پرمسلط ہے. ان اداروں میں چن کرایسے اساتذہ کورکھا جاتا ہے جوملحدانہ نظریات رکھتے ہوں. یہاں تک کہ ایک لاہورکا سکول ایسا ہے جہاں آپ اپنی بچی کوحجاب پہن کربھیجیں تواسے سکول سے نکال دیتے ہیں، اورحجاب والی استاد کوملازمت نہیں دی جاتی. علامہ خادم حسین رضوی صاحب کا خوف ابھی تک سیکولراورلبرل دماغوں پرقائم ہے. جنرل قمرجاوید باجوہ کے اعلان کے بعد توبہت سی زبانیں‌ بند ہوچکی کہ دھرنا کسی کی ایما پرتھا. علامہ خادم حسین رضوی صاحب سے بس ایک التجا ہے، ایک تحریک اس شق پرعملدرآمد کے لیے کہ نصاب تعلیم کوپاک ہونا چاہیے. ایک دھرنا بنام حرمت سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ایک آوازبنام روحِ شاعِ مشرق اقبال.

اپنا تبصرہ بھیجیں