فوج ہماری قومی ضرورت


فوج کے سپہ سالارنے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا ہے کہ حکومت کرنا فوج کا کام نہیں اور فوج جمہوریت اور ملکی استحکام کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کرتی رہے گی۔ اس بار وہ منتخب سینیٹرز سے مخاطب تھے۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی بار اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ فوج کا کام ملک کی حفاظت کا ہے سیاست سیاستدانوں کا کام ہے، البتہ وہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ فوج کے ترجمان نے کچھ عرصہ پہلے ان خبروں کی بھی تردید کی تھی کہ ملک میں کوئی ٹیکنو کریٹ حکومت قائم کی جا رہی ہے۔
سابق جنرل راحیل شریف نے بھی جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کیا اور ملک دشمن طاقتوں کا قلع قمع کرنے میں مصروف رہے جس کی وجہ سے ملک میں دہشتگردی کو ممکن حد تک کم کرنے میں مدد ملی، پاکستانیوں نے سکھ کا سانس لیا، اس کا کریڈٹ فوج کو گیا۔ جمہوری حکومت جو کہ آئے روز کی شورش سے پریشان تھی اس نے بھی سکھ کا سانس لیا اور اپنے آپ کو مستحکم کیا، یعنی فوج اور حکومت میں قریبی تعلق قائم رہا حالانکہ کئی بار یہ چہ میگویاں بھی سننے کو ملیں کہ فوج اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ مگر فوج اپنے کام میں لگی رہی اور یہ چہ میگویاں دم توڑ گئیں۔ موجودہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے سابق چیف کے کام کو آگے بڑھایا اور ابھی تک اس دھن میں مگن ہیں کہ ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کر کے رہیں گے۔
بدقسمتی سے کچھ ایسی نادیدہ قوتیں ہوتی ہیں جو کہ اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرا دیتی ہیں اور یہ غلط فہمیاں بعد میں کسی بڑے طوفان میں بھی بدل جاتی ہیں۔ لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں اب اس بات کی گنجائش کم ہی دکھائی دیتی ہے کہ فوجی حکومت کی راہ ہموار ہو اور شاید فوج بھی اب بار بار کے تجربوں سے تنگ آ چکی ہے اور مزید کوئی ایڈوینچر کرنے کے موڈ میں نہیں ہے اس لیے فوجی ذرایع بار ہا اس امکان کو رد کر چکے ہیں کہ فوج جمہوریت کو ختم کرنا چاہتی ہے بلکہ انھوں نے جب بھی بات کی ملک کی ترقی اور جمہوری حکومت کے استحکام کی بات کی لیکن ہمارے سیاست دان چونکہ کئی بار ڈسے جا چکے ہیں۔
اس لیے وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہیں اور ان کو ہمیشہ یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں فوج ان کو اقتدار سے محروم نہ کر دے دراصل یہ ان کے اندر کا چور ہے جوان کو پریشان کرتا ہے کیونکہ انھوں نے کچھ ایسے کام بھی کیے ہوتے ہیں جن پر ان کی پکڑ ہو سکتی ہے، اس لیے وہ ہر وقت ایک انجانے خوف کا شکار رہتے ہیں، جب بھی جمہوری حکومت مارشل لائی حکومت میں تبدیل ہوئی تو اس میں زیادہ قصور ہمارے سیاستدانوں کا ہی تھا اور بعد میں مارشل لائی حکومتوں کو سہارا بھی سیاستدانوں نے ہی دیا اور فوج کی نگرانی میں اقتدار کے مزے بھی لوٹے۔ اس لیے اب بھی سیاستدانوں کے ایک حلقے کی یہ شدید خواہش ہوتی ہے کہ جمہوری حکومت کے بجائے فوجی حکومت ہو اور وہ سویلین معاملات سے نابلد فوجی حکمرانوں کو بے وقوف بنا کر مزے اڑا سکیں۔
اشتہارات



لیکن اب اس بات کے امکان نہ ہونے کے برابر ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ سیاستدان اگر خود ہی فوج کو حکومت کا موقع فراہم کر دیں تو پھر چارو ناچار فوج کو آنا ہی پڑتا ہے اور جب فوج آ جاتی ہے تو پھر اس کا جانا بھی اس کی اپنی مرضی و منشا کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لیے آرمی چیف یہ کہتے ہیں کہ سیاستدان فوج کو موقع نہ دیں۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ فوجی سربراہ نے ملک کے منتخب نمایندوں کو بریفنگ دی ہو بلکہ اس سے پہلے بھی فوجی سربراہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو ملکی سلامتی کے متعلق بریفنگ دے چکے ہیں یہ کوئی انہونی بات نہیں ہوئی بلکہ آئین کے عین مطابق ہے۔
آرمی چیف نے پارلیمنٹ کی بالا دستی کا بھی اقرار کیا اور حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی دفاعی و خارجہ پالیسی پر عمل کا اعلان بھی کیا اس سے زیادہ ایک فوجی سربراہ سے ایک جمہوری حکومت کیا توقع کر سکتی ہے جو کہ ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ہر طرح کی قیاس آرائیوں کو رد بھی کر رہا ہے، آئین سے ماورا کردار کی خواہش سے بھی انکاری ہے، عوام کو جوابدہی کا بھی اقرار کر رہا ہے اب تو ایک یہی بات رہ گئی ہے کہ وہ روز سرکار دربار میں حاضری دے اور روزانہ کی بنیاد پر احکامات حاصل کرے۔
جب بھی ملک کے سیاسی حالات گڑ بڑ ہوتے ہیں تو اس کا فوری الزام نادیدہ قوتوں پر لگا دیا جاتا ہے اور ان نادیدہ قوتوں سے مراد ملک کی سلامتی کی ذمے دار ایجنسیاں ہوتی ہیں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ سیاسی حکومت کو مزید چلنے نہیں دینا چاہتیں اور ان کا اپنا کوئی مخصوص ایجنڈا ہے۔
آرمی چیف نے سینیٹرز کو بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بات بھی بتا دی کہ فیض آباد میں دھرنے کے در پردہ جو الزامات فوج پر لگائے گئے اس میں ان کا کردار اگر ثابت ہو جائے تو وہ فوری طور پر مستعفیٰ ہو جائیں گے۔ لیکن ایک بات وہ واضح کر گئے کہ اگر حکومت اور دھرنے والوں کے درمیان معاہدے پر ایک فوجی دستخط نہ کرتا تو یہ دھرنا ختم نہ ہوتا۔ ان کا یہ اشارہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ جمہوری حکومت اپنے آخری سال میں حکومتی معاملات پر اپنی گرفت کمزور کر چکی ہے اور ریاست کے امور چلانے میں اسے مشکل پیش آ رہی ہے اس لیے بعض ملکی سلامتی کے معاملات میں کی فوج کی ضمانت ہی قابل قبول ہے۔
فوج کی جانب سے ملکی جمہوری معاملات میں دلچسپی تو روز اول سے ہی رہی ہے کہ فوج اس ملک کی سب سے بڑی اسٹیک ہولڈر ہے۔ فوج نے براہ راست کئی مرتبہ اقتدار کے مزے بھی چکھے لیکن اب لگتا ہے کہ فوج نے یہ مزے سیاستدانوں کے حوالے کر دیے ہیں اور اپنا کردار ان کی نگرانی تک محدود کر دیا ہے جو کہ ایک جمہوری ملک میں ہونا بھی چاہیے۔ یہ بات اب سیاستدانوں کے ’’کورٹ‘‘ میں ہے کہ وہ فوج کی جانب سے مکمل سپورٹ کو کیسے استعمال کرتے ہیں یا ماضی کی روشوں اور رنجشوں کو برقرار رکھتے ہوئے فوج کو پھر دعوت کب دیتے ہیں کیونکہ جس طرح فوج آج جمہوریت کو سپورٹ کر رہی ہے یہ موقع شاید سیاستدانوں کو پھر کبھی نہ ملے اس لیے عقلمندی اسی میں ہے کہ ماضی میں جائے بغیر مستقبل کی فکر کرنی چاہیے جو کہ سب کے مفاد میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں