Orya-Maqbool-Jan

موجودہ حالات اوریہودیوں کا ایمان ویقین(قسط1)

رorya-maqbool-jan-column
آج کے اس جدید سائنسی دورمیں الہامی پیش گوئیوں پریقین اورایمان کی دولت کسی نے دیکھنی ہوتواسے یہودیوں کے ہاں ملے گی. اپنی پرآسائش زندگیوں اورامریکہ ویورپ میں پھیلے وسیع کاروبارکوچھوڑکراسرائیل کے ابتدائی دورکے ریگستانی علاقے میں صرف اس امید پرآکرآباد ہوجان کہ ایک دن ان کا مسیحا آئےگا اوروہ یروشلم سے پوری دنیا پرحکومت کرے گا، ایمان ویقین کی بحیثیت قوم ایک ایسی منزل ہے جواس وقت کسی اورمذہب، قوم، قبیلے یا نسل کے افراد میں نہیں پائی جاتی. یہودیوں کا اپنی الہامی پیش گوئیوں پریقین اس قدرپختہ ہے کہ دنیا میں جوبھی معروضی حالات ہوں، عالمی سیاسی مبصرین جس طرح‌کے تبصرے کریں، وہ ان جدید ترین ذرائع ابلاغ پرموجود تبصروں سے قطع نظراپنی مذہبی کتب اورروایات کی بنیاد پرواقعات کا تجزیہ کرتے ہیں. ڈونلڈ ٹرمپ نے جب یروشلم کواسرائیل کا دارلحکومت مانتے ہوئے وہاں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے کا اعلان کیا تواسرائیلی اخبارات نے اسے غیرمعمولی اہمیت دی. وہ سیاسی طورپراس فیصلے کوایک کامیابی قراردیتے رہے، لیکن ان کے مذہبی پیشوا اپنی تقریروں اوراپنے مضامین میں اسے مصائب کے ایک مختصرسے دورانیئے کا آغازکہتے ہیں، اور آھ بھی سمجھتے ہیں کہ ابھی ہم پرایک آفت کا آغاز ہوگا جس کے اندریقینی طورپربہت بڑی فتح پوشیدہ ہوگئی. وہ اسے یہودی مذہب کی دنیا میں آخری فتح سمجھتے ہیں، اوروہ یہ کہ ایک “عالمی یہودی ریاست” کا قیام. یہ سب کچھ جوآج مشرقِ وسطیٰ میں برپا ہے اس کے بارے یہودیوں نے آج سے پانچ سال پہلے ہی لکھنا شروع کردیا تھا.
یہودی گزشتہ دوہزارسال سے چاند کے گھٹنے بڑھنے اوراس پرگرہن لگنے کا مطالعہ مسلسل کرتے چلے آئے ہیں اوروہ اس کوایک فن کے طورپراپنائے ہوےئ ہیں، کیونکہ ان کی مقدس کتاب “تالمود” کے مطابق جب چاند گرہن لگتا ہے تویہ بنی اسرائیل کے لیے ایک برا شگون ہوتا ہے، لیکن اگرچاند کا چہرہ ایسے ہوجائے جیسے خون توسمجھودنیا پرتلوارآرہی ہے. اسرائیلی تصوف دنیا کا قدیم ترین تصوف ہے جوکائنات کی پراسراریت کومعنی پہناتا ہے اوراپنے لئے مستقبل کا راستہ متعین کرتا ہے. یہودی تصوف کی تین اہم رہنما کتابیں، “باہیر”، “سفرراذیل حماغ” اور”ظہر” ہیں. ان کتابوں کے مطابق تاریخ میں جب کبھی چارخونی چاند (مکمل چاند گرہن) ایک ترتیب کے ساتھ آئیں توبنی اسرائیل کسی بڑی آفت کا شکارہوتے ہیں، جس کے آخرمیں یقینی فتح اورکامیابی چھپی ہوتی ہے. ایسے چاند گرہن ان کے کسی نہ کسی مقدس دن کے ساتھ لگتے ہیں. یہ خونی چاند (Blood Moon)ان کی ترتیب کے مطابق آج سے تین سال پہلے لگنا شروع ہوئے. پہلا چاند گرہن 15 اپریل 2014ء کولگا جب ان کا مشہورتہوار”یدش”(Passover) تھا. دوسراخونی چاند گرہن 8 اکتوبر 2014ء کوہوا جب ان کا مذہبی دن “سکوٹ” (Feast of Tabernacle) تھا، اسی تہوارکے آخرمیں‌ “یوم کپور” آتا ہے، تیسرا خونی چاند 4 اپریل 2015ء کوطلوع ہوا جس “یدش” کے ایام میں تھا اورچوتھا ستمبر2015ء کوپھر”سکوٹ” کے دنوں میں‌ آسمان پرظاہرہوا. ان چارگرہنوں کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ یہ غم واندوہ کے بعد کامیابی لاتے ہیں. پہلی صدی عیسوی کے بعدایسا صرف دس دفعہ ہوا ہے کہ یہ چارخونی چاند یہودی تہواروں کے دنوں میں‌ واقع ہوئے ہوں. یہودی علماء نے اس دوران ہونے والی تبدیلیوں کا انتہائی گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا کہ کیسے ان دنوں میں پوری یہودی قوم کسی آفت کا شکارہوئی اوربعد میں‌ کامیابی ان کا مقدرہوگئی. یہ علم ان کے “ربائی”)مذہبی رہنما) خاص طورپرحاصل کرتے ہیں اورگزشتہ پانچ سوسالوں سے انہوں نے اپنی قوم کوپہلے سے کسی بڑی مصیبت کے آنے کے لئے تیارکیا. ان پانچ سوسالوں میں چاردفعہ ایسا ہوا ہے کہ چارخونی چاند یہودی تہواروں کے دنوں میں‌ میں واقع ہوئے. پہلی دفعہ 94-1993ء، دوسری دفعہ 50-1949ء، تیسری دفعہ 68-1967ء اورچوتھی دفعہ 15-2014ء. پہلی دفعہ یعنی 1943ء کے چاند گرہنوں کے وقت یہودی آفت سے بچنے کی پوری منصوبہ بندی نہ کرسکے لیکن پھربھی انہوں نے بچاؤ کی شاندارتدبیراختیارکی اورآخرفتح و کامیابی ان کا مقدربنی جبکہ باقی تین دفعہ وہ بہت حد تک قدرتی آفت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے اورانہیں بہت بڑی فتح بھی میسرآئی.
a


پہلا “چارخونی چاند” والا مرحلہ اس وقت آیا جب یہودی اورمسلمان اندلس میں‌ آباد تھے. یہودی علماء گزشتہ کئی سالوں سے آنے والے دنوں کے بارے میں انہیں ڈرا رہے تھے اورسپین کے یہودی خودکوتیاربھی کرچکے تھے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے. ان کے نزدیک سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ اگران پرسپین میں آفت ومصیبت آئی توانہیں کہاں جاکرآبادہونا ہے اوراگریہاں رہنا ہے توکیسے ظاہری طورپرعیسائیت قبول کرنی ہے جبکہ باطنی طورپرپورے کے پورے یہودی رہنا ہے. ملکہ ازابیلا اورفرڈیننڈ کا اتحاد جب علاقوں پرعلاقے فتح کرتا ہوالحمراء اورغرناطہ کی جانب بڑھا تویہودی آبادی کواس بات کا یقین ہونے لگا کہ چارخونی چاند گرہنوں کی وجہ سے آفت ان کی طرف بڑھ رہی ہے. ان میں سے اہم ترین یہودیوں نے عیسائیت قبول کرلی، جنہیں عیسائی “مارانوس” (Maranos) کہ کرپکارتے تھے. ان میں دویہودی پیڈرومنڈوزاہوا اورلوئس کریڈو شاہی دربارمیں اہمیت حاصل کرچکے تھے. اس کے علاوہ جب یہودیوں کویقین ہوگیا کہ اب غرناطہ فتح ہوجائےگا توجس وقت عیسائی فوجوں نے غرناطہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا اوروہ شدید مالی مشکلات کا شکارتھیں تویہودی سرمایہ دارآئزک بن یہودا نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے تھے اوراس سرمائے نے سقوط غرناطہ میں اہم کردارادا کیا. اس کے باوجود بھی یہودی یہ سمجھتے تھے کہ “چارخونی چاند” ہونے کی وجہ سے ان پرآفت ضرورآئےگی، اس لیے انہیں ایسی سرزمین تلاش کرنی چاہیے جوان کی مستقبل کی کامیابیوں کی ضمانت بن سکے.
6 جنوری 1442ء کو ملکہ ازابیلہ فاتح کے طورپرقصرالحمراء میں داخل ہوئی توایک شخص ایسا تھا جسے اس فتح کی شدید پریشانی تھی اوروہ تھا کسٹوفرکولمبس. اس لیے کہ صرف ایک دن پہلے ہی ملکہ اوربادشاہ نے کولمبس کی بحری مہم کا منصوبہ مسترد کیا تھا. کولمبس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خفیہ یہودی (میرانوس) تھا جس نے عیسائیت قبول کرلی تھی. یہودیوں نے اسے ایک بحری مہم کے لیے تیارکیا تھا تاکہ آفت کی صورت میں کسی نئی دنیا میں قسمت آزمائی کرسکیں. اس کا چچا زاد پینڈرومنڈوزا اورلوئیس کریڈو دونوں ہی ملکہ ازابیلہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے عیسائی ہوگئے تھے اوراپنے سرمائے کی بنیاد پردربارمیں اعلی مقام بھی رکھتے تھے. انہوں نے ہی ملکہ کولمبس کے بحری سفرکے لیے اخراجات مہیا کرنے کے لئے راضی کیا تھا. دوسری جانب کٹرعیسائی گروہ ان بظاہرعیسائی اورخفیہ یہودیوں کی جان کے دشمن اوران کے قتل کے درپے تھے. انہوں نے تمام یہودیوں اوربظاہرعیسائی ہونے والے یہودی کی ملک بدری یا قتل کی مہم شروع کررکھی تھی. 31 مارچ 1492ء کوملکہ ازابیلا اوربادشاہ فرڈینیڈ نے حکم جاری کیا کہ تمام یہودی سپین سے نکل جائیں اورجوعیسائی ہوں وہ روزانہ سؤرکا گوشت کھائیں اوراپنی مذہبی چھٹی کے دن یعنی ہفتے کوکاروبارکریں. احتساب عدالتیں لگیں، یہودی سرپرست جوعیسائی ہوچکے تھے، ان کی عیسائیت پربھی یقین نہ کیا گیا. الفانسوکیلبیریا، سانچو پٹنائے جوایک نسل پہلے عیسائی ہوچکے تھے، وہ بھی سزائے موت سے نہ بچ سکے. یہ دونوں کولمبس کے مالی سرپرست تھے. ایک شخص فادرمرچینا تھا جس نے خودکواس خوبصورتی سے عیسائی ثابت کیا کہ اس کی سفارش پرکئی یہودی سزائے موت سے بچ گئے. جویہودی بچ جاتا، ملک چھوڑجاتا یا سزائے موت پاتا تووہ اپنی جائدادیں لوئیس سنٹاجل کے تصرف میں دے دیتا تاکہ کولمبس کے بحری سفرکے اخراجات برداشت کیے جاسکیں. یہودیوں نے اپنا تمام سرمایہ اس مہم پراس یقین پرلگایا کہ اس آفت اورمصیبت کے بعد کامیابی آسمانی کتابوں میں لکھی جاچکی ہے اورانہیں‌ایک ایسی سرزمین ضرورملے گی جہاں سے وہ اپنی کامیابیوں کے سفرکا آغاز کریں گے. 12 اکتوبر 1492ء کوکولمبس شمالی امریکہ کے ساحلوں کے جزائربہاماس پرلنگرانداز ہوا. اس نے اپنی کامیابی کا پہلا خث لوئیس سنٹاجل کولکھا جواسے یہودی سرمایہ فراہم کرتاتھا. مورخین اس بات پرمتفق ہیں کہ کولمبس چونکہ یہودیوں کی ذلت و رسوائی کا عینی شاہد تھا اوروہ اس آرزو میں تھا کہ کوئی ایسا خطہ زمین ڈھونڈے جہاں‌ یہودیوں کوپناہ مل سکے. جان بائید تھیچرجس نے کولمبس کی زندگی پرسب سے بڑی تحقیق کی وہ یہ نتیجہ نکالتا ہے “کولمبس کی فتح دراصل خفیہ یہودی اوربظاہرعیسائی لوئیس سنٹاجل کی فتح ہے جس کی بے مثال دوراندیشی نے یہ دیکھ لیا تھا کہ تاریخ میں اب یہودیوں کے احیاء کا سورج ایک نئی سرزمین پرطلوع ہونے والا ہے. بہت زیادہ توانا، بے لچک اورجدید یہودی بالادستی. آج امریکہ یہودی بالادستی کی علامت ہے. یہ سورج امریکہ میں ایسا طلوع ہوا کہ آج تک غروب نہ ہوسکا. دوسرے چارخونی چاند کا اگلا مرحلہ 50-1949ء میں پیش آیا ہے.(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں