قائداعظم!پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی


آج ہم ایک آزاد قوم ہیں اس لئے ہماری نوجوان نسل برطانوی غلامی کے دور کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ قیام پاکستان سے قبل برطانوی حاکموں کا اتنا دبدبہ، خوف اور رعب ہوتا تھا کہ غلام قوم کے بڑے سے بڑے حضرات ان سے آنکھ ملا کر بات نہیں کرسکتے تھے اور وفادار رعایا کی مانند مودب رہتے تھے۔ برطانوی حاکموں سے خطاب، جاگیر یا عہدہ کی عنایت بہت بڑا اعزاز اور خوش قسمتی سمجھی جاتی تھی۔ جب 1935کے ایکٹ کے تحت ہندوستان کو فیڈریشن کی پیشکش کی گئی تو محمدعلی جناح نے اس کی مخالفت کی۔ انہی دنوں برطانوی وزیراعظم لارڈ رامزے میکڈانلڈ نے ملاقات کے لئے قائداعظم کو بلایا اور باتوں باتوں میں کہا کہ اگر سنہا (Sinha) ایک صوبے کا گورنر بن سکتا ہے، اسے لارڈ کا اعزاز دیا جاسکتا ہے تو پھرکوئی بھی ہندوستانی گورنربن سکتا ہے اورلارڈ بھی۔برطانوی وزیراعظم نے نہایت ہوشیاری سے قائداعظم کو یہ پیغام دیا کہ اگر وہ برطانوی حکومت کی مخالفت چھوڑ دیں تو انہیں بھی یہ سب کچھ مل سکتا ہے۔ قائداعظم یہ بات سنتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور باہر نکلنے کے لئے دروازے کی طرف چل پڑے۔ اس نہایت غیرمتوقع ردعمل سے برطانوی وزیراعظم ایک دم پریشان ہوگیا اور قائداعظم کورخصت کرنے کے لئے دفتر کے دروازے کی طرف لپکا۔ اس نے گڈبائی کہنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو قائداعظم نے ہاتھ ملانے سے انکار کردیا۔ برطانوی وزیراعظم نے صدمے اورحیرت سے پوچھا کہ آپ مجھ سے ہاتھ کیوں نہیں ملا رہے؟ تو قائداعظم نے جواب دیا ’’میںآئندہ کبھی آپ سے نہیں ملوں گا کیا آپ مجھے قابل فروخت جنس (Purchaseable Commodity) سمجھتے ہیں؟
24دسمبر 1945کو ضلعی مسلم لیگ کے عہدیداران قائداعظم کو فنکشن میں شرکت کی دعوت دینے آئے۔ قائداعظم سے ہاتھ ملانے کےدوران ایک عہدیدار نے عقیدت و محبت کے جذبات سے مغلوب ہو کر قائداعظم کا ہاتھ چوم لیا۔ قائداعظم کو عقیدت کی یہ ادا اچھی نہ لگی۔ انہوں نے کہا ’’میں چاہتا ہوں آپ مجھے ایک عام انسان سمجھیں۔ مجھے کوئی پیر یا مرشد نہ سمجھیں۔‘‘
قائداعظم کی حاضر دماغی کاواقعہ سناتے ہوئے بمبئی (ممبئی) کے تاجر ولی بھائی نے بتایا کہ 25دسمبر 1940کو حاجی عمر اور چند دوست قائداعظم کے ساتھ ناشتہ کرکے فارغ ہوئے تو ایک شریک ِ محفل نے کہا کہ ہندو تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قائداعظم ٹرین میں فرسٹ کلاس کا پورا ڈبہ ریزرو کروا کر سفر کرتے ہیں جبکہ گاندھی تھرڈ کلاس میںسفر کرتا ہے۔ یہ سن کر قائداعظم مسکرائے اورجواب دیا کہ ’’میرا گاندھی سے موازنہ ہی غلط ہے کیونکہ گاندھی کانگریس کے خرچ پر سفر کرتے ہیں اور ان کےساتھ سفر کرنے والے کارکنوں کےلئے پورا ڈبہ ریزرو کروایا جاتا ہے جبکہ میںاپنے خرچ پر سفر کرتا ہوں۔‘‘ فرسٹ کلاس کا ڈبہ ریزرو کروانے کاپس منظر بیان کرتے ہوئے قائداعظم نے بتایا کہ ’’ایک دفعہ میں پنجاب میل کے ذریعے سفر کر رہا تھااورفرسٹ کلاس میں تنہا بیٹھا تھا۔ وے ڈورہ اسٹیشن سے گاڑی چلی تو ایک اینگلو انڈین فیشن ایبل خوبرو خاتون آگئی اورمیرے سامنے بیٹھ گئی۔ میں کتاب پڑھنے لگا۔ جب گاڑی تیزہوگئی تو وہ میرے پاس آئی اور کہا کہ ایک ہزارروپے نکالو ورنہ گاڑی کی زنجیر کھینچ کر شور مچا دوں گی۔ میں بت بنا خاموش بیٹھارہا۔ وہ جب دو تین دفعہ اپنا مطالبہ دہرا چکی تو غصے سے میرا ہاتھ پکڑ کر چلائی کیا تم سن رہے ہو؟ میں آپ کوبدنام کردوں گی۔ میں فوراً بہرا بن گیا اور کانوں کو ہاتھ لگا کر اشارے سے کہا کہ میں سننے سے معذور ہوں۔ پھرمیں نے کاغذ کا ایک ٹکڑا اور قلم اسے دیا اور اشارے سے کہا کہ اس پر لکھ دو۔ اس نے فوراً لکھ دیا ’’ ہزار روپے مجھے دو ورنہ بدنامی کے لئے تیار ہو جائو۔‘‘ میں نے وہ کاغذ جیب میں ڈالا اورگاڑی کی زنجیر کھینچ دی۔ گاڑی رکی اورگارڈ دوڑتاہوا آیا۔ میں نے اسے کاغذ دیا۔ عورت گرفتار ہوئی اورگاڑی پھر چل پڑی۔ اس واقعے کےبعد میں ہمیشہ پورا ڈبہ ریزرو کروا کر سفر کرتا ہوں۔ ‘‘بات ختم کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا ’’عوامی لیڈر کی زندگی میں کردار اس کی اہم ترین شے ہوتی ہے۔ اگر عوامی لیڈر کے کردار پر دھبے لگ جائیں تو اس کی کارکردگی بے معنی ہوجاتی ہے اور اس کی کامیابیاں مٹی میں مل جاتی ہیں۔‘‘ (بحوالہ اسلم بزمی ’’ہمارا قائد‘‘ (انگریزی) ص76۔ 75)
اشتہارات



قائداعظم محمد علی جناح، گورنر جنرل پاکستان، کے اے ڈی سی گل حسن (بعد ازاں جنرل گل حسن) راوی ہیں ’’ایک ہفتہ وار چھٹی گزار کر قائداعظم ملیر سے واپس آ رہے تھے تو ریلوے پھاٹک بند ہونے کی وجہ سے گورنر جنرل کی کار رک گئی۔ گورنر جنرل کی کار کے ساتھ صرف ایک گاڑی ہوتی تھی جس میں سیکورٹی آفیسر سفر کرتا تھا۔ میں نے دیکھاکہ دور دور تک ریل گاڑی کا نشان نہیں تھا، میں گیٹ کیپر کے پاس گیا۔ اسے کہا کہ چند لمحوں کےلئے گیٹ کھول دو تاکہ قائداعظم کی کار نکل جائے۔ اس نے گیٹ کھول دیا۔ میں واپس کار میں آ کر بیٹھا اور ڈرائیورسے چلنے کوکہا۔ اس نے جواب دیاکہ مجھے قائداعظم نے منع کردیاہے۔ قائداعظم نے فوراً مجھے کہا کہ ’’جائو اور گیٹ کیپر سے کہو گیٹ بند کردے۔‘‘ میں تعمیل حکم کرکے لوٹا تو قائداعظم نے مجھے مخاطب کرکے کہا ’’گل! اگر میں ملک کے قانون پر عمل نہیں کروں گا تو پھر میں دوسروں سے یہ توقع کیونکر رکھوں؟‘‘
قائداعظم دفتر میں بیٹھے تھے تو اے ڈی سی نے ایک وزٹنگ کارڈ سامنے رکھا، جس پر لکھا تھا ’’محمد اسلم جناح برادر آف قائداعظم محمد علی جناح، گورنر جنرل آف پاکستان‘‘ قائداعظم نے قلم اٹھایا اور اس کے نام کے علاوہ باقی سب کچھ کاٹ دیا۔ کارڈ اے ڈی سی کو واپس کرتے ہوئے کہا ’’اسے کہو کارڈ پر صرف اپنا نام لکھے اور وقت لے کر ملنے آئے۔‘‘ ایک روز قائداعظم کے ایک رشتہ دار بمبئی سے ملنے آئے اور باتوںباتوں میں کہا کہ پاکستان ہجرت کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ قائداعظم نے کہا آپ آئیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے آپ کی وجہ سے امپورٹ ایکسپورٹ لائسنس میں سہولت رہے گی۔ قائداعظم نے فوراً جواب دیا کہ ’’اگر آپ میرا نام استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ہندوستان ہی میں رہیں۔ میں یہ اجازت کسی کو نہیں دوں گا۔‘‘ علالت کے دنوں میں زیارت میں تھے تو وزیراعظم لیاقت علی خان اور پھر پاکستان کے امریکہ میں سفیر اصفہانی صاحب نے بیرون ملک علاج کی تجویز دی۔ قائداعظم کا جواب تھا کہ میں ملک کے خزانے پر بوجھ نہیں بننا چاہتا۔ اسی طرح جب گورنر جنرل نے مارچ 1948میں مشرقی پاکستان کے دورے کا ارادہ کیا تو سیکرٹریٹ نے (BOAC)بی او اے سی کا طیارہ چارٹر کرنے کی تجویز دی جسے قائداعظم نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ وہ ملکی خزانے پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔
قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان سے تقریباً آٹھ برس قبل 30مئی 1939کو بمبئی میں اپنی وصیت لکھوائی جس کے مطابق اپنی زندگی بھر کی کمائی اورجمع پونجی کا کچھ حصہ اپنی بہن فاطمہ جناح، بیٹی دینا ، دوسری بہنوںاور بھائی کو دینے کے بعد معتد بہ حصہ انجمن اسلام اسکول بمبئی، بمبئی یونیورسٹی، عریبک کالج دہلی، علی گڑھ یونیورسٹی، اسلامیہ کالج پشاور اور سندھ مدرستہ الاسلام کراچی کو دے دیا۔
واقعات تو بہت سے ہیں لیکن میں نے دیگ سے چند دانے چنے ہیں تاکہ آپ قائداعظم کی شخصیت کی ایک جھلک دیکھ سکیں۔ اب آپ اپنی قیادت اور قومی سیاستدانوں پر نگاہ ڈالیں اور دیکھیں کہ کیا ان میں قائداعظم کی کوئی ایک خوبی بھی پائی جاتی ہے۔ وہ ذہانت، ویژن، جرات و بہادری، سچائی، ایثار اور عظیم کردار انہی کے ساتھ رخصت ہو گیا۔ بقول میرؔ
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں