شکست خوردہ امریکہ کا اگلا نشانہ-پاکستان

orya-maqbool-jan-column
یہ امریکی تاریخ‌ کی سے طویل جنگ ہے اورامریکی قوت وطاقت کی سب سے ذلت آمیزشکست ہے. یوں‌ تواس سے ملتی جلتی ذلت امریکہ ویت نام میں اٹھا چکا ہے، لیکن افغانستان میں امریکی شکست توپوری عالمی برادری کی شکست ہے. امریکہ جب ویت نام میں داخل ہوا تھا تودنیا دو بڑی طاقتوں میں تقسیم تھی. ایک جانب کیمونسٹ بلاک تھا جس کی سربراہی روس کے پاس تھی اوراس میں چین، مشرقی یورپ کے ممالک، کیوبا اورہندچینی کچھ ممالک بھی شامل تھے. دوسری جانب امریکہ کی سرکردگی میں سرمایہ دارانہ جمہوریت کے نقیب یورپی ممالک اوراس کی امداد کے بھکاری لاتعداد چھوٹے چھوٹے ممالک شامل تھے. عالمی رائے عامہ بٹی ہوئی تھی. ویت نامیوں کودنیا کے ہرملک کے ادیب، شاعر، صحافی اوردانشور، آزادی اورحریت کے پروانوں کے طورپرپیش کررہے تھے. امریکہ کا تصورایک غاصب اورظالم ملک کےطورپرپوری دنیا کے کم ازکم پسماندہ اورترقی پذیر ممالک میں مسلمہ تھا. فرانس کے سارترسے لے کرمصرکے نجیب محفوظ اورپاکستان کے فیض احمد فیض تک ہرکوئی ویتنامیوں کا نوحہ پڑھتا اورامریکی ظلم پرماتم کرتا. دنیا بھرسے کیمونسٹ گوریلے ویتنام کے حریت پسندوں کے ساتھ لڑنے وہاں پہنچے تھے اوران گوریلوں کوچی گویرا کی طرح ہیروبنا کرپیش کیا جاتا تھا. کیمونسٹ ممالک میں روس اورچین علی الاعلان ویتنام کے عوام کی حمایت بھی کرتے تھے، گوریلوں کواسلحہ بھی فراہم کیا جاتا تھا اورباقاعدہ ٹریننگ کیمپ بھی قائم تھے اورکوئی ان کیمپوں کی موجودگی پرشرمندہ نہیں‌ ہوتا تھا. امریکہ
اس محاذ سے 59 ہزارلاشیں لے کرذلت ورسوائی سے نکلا تھا.
لیکن افغانستان کا تومعاملہ ہی مختلف ہے. یہ ہراس شخص کوحیران کرنے کے لیے کافی ہے جومادی وسائل اورٹیکنالوجی کے بت کوسجدہ کرتا ہے. کس قدر تنہا ہیں وہ طالبان جو امریکہ سے گزشتہ 16 سال سے لڑرہے ہیں. آزادی کی جدوجہد کرنے والے ان افغانوں کے حق میں‌ اس دنیا پربسنے والے چھ ارب انسانوں میں کوئی بولنے والا نظرنہیں آتا، البتہ ہرملک کا ادیب، شاعر، صحافی اوردانشوران کی مسلسل کردارکشی ضرورکرتا ہے. ویت نام میں امریکہ تنہا داخل ہوا تھا اورپڑوس میں تمام حکومتیں امریکہ مخالف تھیں. لیکن افغانستان میں ملا محمد عمرکی حکومت ختم کرنے لیے امریکہ 48 ممالک کی افواج ساتھ لے کرداخل ہوا تھا. طالبان کے تمام پڑوسی ان کے خلاف تھے بلکہ ایک پڑوسی پاکستان نے اپنے تین ہوائی اڈے امریکہ کودیئے جہاں سے ستاون ہزاردفعہ امریکی جہازوں نے پرواز کی اوروہ افغان مسلمانوں پرحملہ آورہوئے، جبکہ دوسرے پڑوسی ملک تاجکستان نے زمینی راستہ فراہم کیا اورامریکی فوج قلاب کے راستے افغانستان میں داخل ہوئی جبکہ تیسرے پڑوسی ملک ایران نے اپنے زیرِاثرشمالی اتحاد کونہ صرف امریکی افواج کا ساتھ دینے بلکہ اپنے پاسداران کے دستے بھی طالبان کی شکست کے لیے روانہ کیے. دنیا بھیرمیں صرف چند ہفتوں بعد امریکی طاقت اورٹیکنالوجی کی دھاک بیٹھ گئی. پوری دنیا میں افغان طالبان کی مقبول ترین حکومت پرہونے والے ظلم پرکوئی آنسوبہانے والا نہ تھا. ہرکوئی اس نہتے اوربے سروسامان ملک کے باشندوں کودہشت گردکہتا. حیران کن بات یہ ہے کہ مسلمان ممالک کا میڈیا اوراس کے گماشتے ملحد وبے دین کیمونسٹ گوریلوں کو امریکہ سے جنگ میں مرنے پرشہید یا انگریزی میں “Martyr” لکھتے رہے تھے لیکن اپنی سرزمین اوردین کے دفاع میں‌ لڑنے والےطالبان کے لیے “شہید” کا لفظ ادا کرنا جرم بنا دیا گیا. یہاں تک کہ شراب کی زیادہ مقدارپی کرمرنے والے یا فرقہ واریت کی جنگ میں قتل ہونے والوں کوشہید اوررحمتہ اللہ علیہ لکھا جاتا رہا ہے لیکن کوئی افغانستان میں امریکیوں سے جنگ کرنے والے کسی طالبان لیڈرکوشہید یا رحمتہ اللہ علیہ لکھ کردکھائے. اس تنہائی اوربے یارومددگارموسم میں لڑنے والے افغانستان کی آزادی کے متوالوں نے وہ تاریخ رقم کردی ہے کہ دنیا پربلا شرکت غیرے حکمران امریکہ کی چیخیں نکل پڑی اوراس کی درد سے بلبلانے کی آوازیں چاردانگ عالم میں‌ سنائی دے رہی ہیں.
امریکہ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کے روبروتسلیم کرنے سے خوفزدہ ہے کیسے ایک نہتی، بے سروسامان اورپسماندہ قوم نے انہیں شکست دی ہے. یہی حال ویت نام میں ہوا تھا. لوگوں کوریمبوجیسی فلمیں جیمزبانڈ جیسے ناول لکھ کریہ باورکرایا گیا تھا کہ پوری کیمونسٹ‌ دنیا کے لیے ان کا ریمبوکافی ہے اورجیمزبانڈ اس قدربے خوف ہے کہ دشمن کے دل میں جا کرخنجرگھونپ کرصحیح سلامت واپس لوٹ کے آجاتا ہے. ایسے میں امریکی چالبازوں کا ایک دستورہے کہ اپنی شکست کوپڑوسی ملک کی باغیوں کی مدد اورٹھکانوں کے نام کردیتا ہے. 1970ء میں جب امریکی فوج میں اتنے لاشے اٹھا لیے کہ کہرام مچ گیا اورامریکی عوام اس جنگ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو20 اپریل 1970ء کورچرڈنکسن نے ویت نام سے فوجیں واپس بلانے کا اعلان کردیا. لیکن ساتھ ہی میڈیا پریہ کہانیاں‌ گشت کرنے لگیں کہ تقریباً چالیس ہزارویت نامنی جنگجوکمبوڈیا کے مشرقی علاقے میں چھپے ہوئے ہیں اوروہیں سے حملہ آورہوتے ہیں. امریکا نے یہ الزام لگایا کہ کمبوڈیا کی غیرجانبداری اورکمزورفوج کی وجہ سے جنگجوؤں نے وہاں ٹھکانے بنا لیے ہیں. امریکہ نے اپنے منظورِ نظرجرنیلوں کا سہانوک کا تختہ الٹنے پراکسایا اورانہوں نےجنرل لون نول کی سرکردگی میں اقتدارپرقبضہ کرلیا.
a


اب امریکا کوکمبوڈیا میں پرویزمشرف مل گیا تھا جوامریکہ کی کمبوڈیا کی سرزمین پرکاروائی پرخاموش رہ سکے. ادھررچرڈنکسن نے ویتنام سے فوجوں کے انخلاء کا اعلان کیا اورصرف ایک ہفتے بعد 29 اپریل 1970ء کوکمیونسٹ گوریلوں اورجنگجوؤں‌ کے خاتمے کے نام پرآپریشن کا آغازکردیا. یہ آپریشن 30 جون تک 2 ماہ جاری رہا. آپریشن کے دوران امریکی طیاروں اورٹینکوں نے مشرقی کمبوڈیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لیکن پھربھی امریکہ اپنے عوام کویقین دلانے میں ناکام رہا کہ اس نے گوریلا جنگجوؤں کا خاتمہ کردیا ہے. کیونکہ امریکہ کی پٹھوفوج کے خلاف ایک مسلح کیمونسٹ تحریک خیماروج نے جنم لیا تھا جس نے کمبوڈیا کی فوج کے خلاف بغاوت کی اورطاقتورفوج کا تختہ الٹ دیا. لیکن اس دوران جنگ کا رخ ویتنام سے کمبوڈیا کی جانب ہوگیا تھا اس لیے امریکہ نے خاموشی سے اپنی فوجوں‌کووہاں سے نکال لیا.
افغانستان میں ویتنام سے کئی گنا بڑی شکست امریکہ کا مقدربن چکی ہے. یہ صرف امریکہ نہیں بلکہ تمام عالمی قوتوں کی شکست ہے.اس وقت افغانستان میں روزانہ اوسطاً 45 فوجی مارے جاتے ہیں اورامریکہ واپس لوٹنے والے سپاہیوں میں سے روزانہ 22 خودکشی کرلیتے ہیں اورکئی لاکھ پاگل پن کا شکارہوچکے ہیں. ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں دوبارہ زوروشورسے آنا چاہتا تھا لیکن کوئی دوسرا ملک اپنا ایک سپاہی بھی وہاں بھیجنے پرتیارنہ ہوا، وہ بھارت جسے امریکہ اس خطے کی چودھراہٹ سونپنا چاہتا ہے اس نے بھی انکارکردیا ہے. ایسے شکست خوردہ امریکہ کوایک اورکمبوڈیا کی تلاش ہے جس پرطالبان کی مددکا الزام رکھ کردنیا کوباورکرایا جائے کہ ہم ہارے تونہ تھے بس پاکستان نے ان کی خفیہ مدد کرکے ہرایا ہے. گزشتہ کئی سالوں سے یہ پروپیگنڈا جاری ہےاوراب امریکی قیادت کا وہی لہجہ سامنے آیا ہے جوبش سینئرکا عراق پرحملہ کرنے سے پہلے تھا، بش جونیئر اورٹونی بلیئرکا افغانستان اورالقاعدہ کے خلاف اعلان جنگگ کرنے اورصدام حسین کے “مہلک” ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عراق پرحملہ کرتے وقت تھا. امریکی نائب صدرمائیکل رچرڈ پنس جسے عرف عام میں مائیک پنس کہا جاتا ہے، 21 دسمبر2017ء کوخفیہ طورپرافغانستان میں امریکی سپاہیوں کے ہیڈکوارٹربگرام پہنچا اوران کے حوصلے بلند کرنے کے لئے تقریرکی اوران کوبتایا کہ تم ناقابل شکست ہو، اصل مسئلہ توپاکستان میں‌چھپے ہوئے القاعدہ اورطالبان ہیں جوتمہیں روزمارکربھاگ جاتے ہیں اورساتھ ہی اس نے انہیں اس بات کی اجازت دے دی کے تم یہ پناہ گاہیں ختم کرنے کے لئے جہاں تک چاہے حملہ کرسکتےہو. امریکی فوجیوں کی تالیوں کی گونج میں یہ نعرہ آنے والے دنوں میں ہونے والے حملوں کی خبردیتا ہے.
For too long Pakistan has provided safe haven to taleban and other terrorist organisations but those days are over. “پاکستان ایک طویل عرصے سے طالبان اوردیگردہشت گرد گروہوں کوپناہ گاہیں فراہم کرتا ہے، لیکن یہ دن اب پورے ہوگئے ہیں”.
دوستی کے دن پورے ہوئے، امریکی رومان ختم ہوا، اب ہم اسکے دشمن ہیں اوردشمن بھی صدام، اسامہ بن لادن اورملا عمرجیسے. کیا ہم نے اگلے چند ہفتوں میں امریکی دشمنی کی قیمت اداکرنے کے لئے خودکوتیارکیا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں