بلاعنوان


سیاست کی نجاست سے دور،آج کچھ اورطرح کی باتیں کرتے ہیں مثلاً خواجہ حسن بصریؒ کی بات، جن سے لوگوں نے کہا فلاں شخص آپ کے بارے میں نازیبا گفتگو کرتا ہے ۔آپ نے چھوہاروں کا ایک طبق بطور تحفہ اسے اس پیغام کے ساتھ بھیجا ’’مجھے لوگوں نے بتایا کہ تو اپنی نیکیاں میرے دفتر اعمال میں منتقل کرتا ہے ۔میں نے چاہا کہ اس کا کچھ عوض پیش کروں لیکن معاف کرنا مجھ میں پور ی ادائیگی کی سکت نہیں ‘‘حضرت واسعؒنے ایک دن اپنے فرزند کو عجیب سی چال چلتے دیکھا تو فرمایا ’’کیا تجھے کچھ خبر ہے کہ تو کون ہے ؟تیری ماں کو میں نے دو سو درہم کے عوض خریدا تھا اور میں جو تیرا باپ ہوں، تمام مسلمانوں سے بدتر ہوں تو پھر تیرا یہ اترانا کس بات پر ہے ؟‘‘حضرت حبیب عجمی ؒ اپنی پوستین لاوارث چھوڑ کر وضو میں مصروف ہوگئے ۔حضرت بصری نے دیکھا تو ٹھہر گئے کہ کوئی اسے اٹھا کر نہ لے جائے ۔تھوڑی دیر میں واپس ہوئے سلام کہا اورپوچھا ’’آپ یہاں کیسے کھڑے ہیں؟‘‘ انہوں نے جواباً سوال پوچھا ’’آپ اپنی پوستین کس کے بھروسے چھوڑ گئے تھے ؟‘‘فرمایا ’’اس کے بھروسے پر جس نے تجھ کو اس کی نگہبانی پر مقرر کیا ‘‘حضرت حاتم اصمؒ نے ایک بار کہا ’’ شیطان مجھ سے پوچھتا ہے ’’تیرا کھانا کیا ہے ؟لباس کیا ہے ؟اور سکونت کہاں ہے ؟‘‘میں جواب دیتا ہوں کہ موت میری غذا ہے، کفن میرا لباس ہے اور میرا مسکن قبرہے ‘‘حضرت ابو حازم ؒایک روز قصاب کی دکان کے قریب سے گزرے تو اس نے کہا ’’بہت عمدہ گوشت ہے لے لیجئے‘‘فرمایا ’’میرے پاس قیمت نہیں ہے ‘‘ عرض کیا ’’مہلت پر دے دوں گا، جب ہو گا دے دیجئے گا ‘‘فرمایا ’’اس سے بہتر ہے میں اپنے نفس کو ہی مہلت دے لوں‘‘قصاب نے کہا ’’اسی لئے تو آپ کے پہلو کی ہڈیاں تک صاف دکھائی دے رہی ہیں‘‘فرمایا’’قبر کے کیڑوں کے لئے یہ بھی بہت کافی ہیں‘‘امام حنبلؒ بغداد میں رہتے تھے لیکن بغداد کی روٹی نہ کھاتے تھے ۔فرماتے کہ اس زمین کو حضرت عمرؓ نے نمازیوں کیلئے وقف فرمایا تھا ۔آپ موصل سے آٹا منگواتے اور اس کی روٹی بنوا کر کھاتے ۔آپ کے بیٹے ایک سال اصفہان میں قاضی رہے ۔یہ صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔رات کو دو ساعت سے زیادہ نہ سوتے۔اپنے مکان کے دروازے پر عبادت کیلئے کمرہ وقف تھا، دن رات اسی میں رہتے غرضیکہ انتہائی خدا ترس و متقی قاضی تھے۔ ایک دن امام حنبلؒ کیلئے روٹی پکائی جا رہی تھی خادم نے آپ کے صاحبزادے سے خمیر لیکر روٹی تیار کرلی ۔پیش کرتے وقت خادم نے کہا ’’خمیر آپ کے صاحب زادے صالح کے ہاں سے لیا گیا تھا ‘‘فرمایا ’’اس کی روٹی مرے حلق کے قابل نہیں ‘‘ پوچھا ’’پھر اس کا کیا کریں ؟‘‘ فرمایا ’’کوئی سائل آ ئےتو دیتے وقت بتا دینا ‘‘خمیر صالح کا ہے اور آٹا احمد کا، پسند ہے تو لے لو‘‘اتفاق سے کوئی سائل نہ آیا تو روٹیاں دجلہ میں پھینک دی گئیں۔آپ کو خبر ہوئی تو اس کے بعد دریائے دجلہ کی مچھلی کھانی چھوڑ دی آپ کی احتیاط کایہ عالم تھا کہ کہتے ’’جس کے پاس چاندی کی ایک سرمہ دانی بھی ہو اس کے پاس بھی نہ بیٹھنا چاہئے ‘‘حضرت حارث محاسبیؒ کو 80ہزار دینار ورثہ میں ملے ۔ فرمایا ’’انہیں بیت المال میں جمع کرا دو ‘‘ لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا ’’یہ کیوں؟‘‘تو بولے ’’حضور ؐ کا ارشاد ہے کہ ’’مسلمان آتش پر ست کی میراث قبول نہیں کرتا ۔میرے والد آتش پرست تھے اور میں مسلمان ہوں‘‘ایک معمولی سے واقعہ نے حضرت شفیقؒ کی زندگی تبدیل کرکے رکھ دی۔ آپ تجارت کیلئے ترکستان گئے جہاں کسی کو بت کی عبادت کرتے اور اس کے سامنے آہ وزاری کرتے دیکھا تو کہا ’’تیرا پیدا کرنے اور پالنے والا تو ہمیشہ زندہ و قادر مطلق ہے ۔تجھے بت پرستی سے کچھ نہ ملے گا ‘‘ بت پرست نے کہا اگر وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ تم بیان کرتے ہو تو کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ تمہیں تمہارے شہر میں ہی روزی دے سکتا تاکہ تمہیں اس شہر میں نہ آنا پڑتا‘‘لوگوں نے حضرت ادھم بلخی ؒ سے پوچھا ’’اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں فرماتا ۔کہا …’’اس وجہ سے کہ تم اللہ کو جانتے مانتے تو ہو مگر اس کی اطاعت نہیں کرتے۔رسول اللہ ؐ سے محبت کرتے ہو ان کی پیروی نہیں کرتے، قرآن پڑھتے ہو لیکن اس پر عمل نہیں کرتے ۔ رب کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہو ان کا شکر ادا نہیں کرتے، جانتے ہو دوزخ گنہگاروں کیلئے ہے مگر اس سے نہیں ڈرتے ۔شیطان کو دشمن سمجھتے ہو مگر اس سے دور نہیں بھاگتے، اپنے قریبیوں کو اپنے ہاتھوں دفن کرتے ہو مگر عبرت نہیں پکڑتے ، موت کو برحق جانتے ہو لیکن عاقبت کی فکرنہیں کرتے‘‘فاتح مصر حضرت عمر وبن العاص ؓ کے خیمہ میں کبوتر نے گھونسلہ بنا لیا کوچ کے وقت حکم دیا ’’خیمہ یونہی رہنے دو کہ پرندے بے آرام نہ ہوں۔اس واقعہ کی یاد میں آج بھی اس مقام پر ’’فسطاط‘‘ نامی شہر آباد ہے ۔فسطاط عربی میں خیمہ کو کہتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں