انسانیت کا سلیبس

javed-ch
قاری صاحب کا فرمانا تھا ’’آپ جو دل چاہے کریں‘ آپ جیسا چاہیں سوچیں اور آپ جس طرح چاہیں لکھیں لیکن آپ اسلام اور مذہب کو ٹچ نہ کیا کریں‘‘ میں نے وجہ پوچھی تو فرمایا ’’مذہب کے بارے میں آپ کی معلومات خام ہیں‘ آپ اسلام کی الف بے سے بھی واقف نہیں ہیں لیکن آپ اس پر اندھا دھند تبصرہ کرتے رہتے ہیں‘‘ میں نے ان سے اتفاق کیا اور عرض کیا ’’جناب بے تو بہت دور میں تو ابھی تک اسلام کی الف سے باہر نہیں آ سکا۔
بے شک میری معلومات خام اور علم محدود ہے مگر اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں میں سوال بھی نہیں اٹھا سکتا‘ میں پوچھ بھی نہیں سکتا‘ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا‘ بولو تاکہ پہچان لیے جاؤ‘ میں اگر بولوں گا نہیں‘ میں اگر پوچھوں گا نہیں تو میں امتی کی حیثیت سے کیسے پہچانا جاؤں گا‘‘ قاری صاحب مسکرائے اور فرمایا ’’پوچھنے اور حجت کرنے میں فرق ہوتا ہے اور آپ پوچھتے کم اور حجت زیادہ کرتے ہیں اور یہ شرعی لحاظ سے درست نہیں‘‘۔
میں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور ان سے عرض کیا ’’اگرآپ مجھے آخری حجت کی اجازت دے دیں تو میں کچھ عرض کروں‘‘ قاری صاحب نے قہقہہ لگایا اور بولے ’’ہاں فرمائیے‘‘ میں نے عرض کیا ’’جناب حیوان کس کو کہتے ہیں‘‘ وہ فوراً بولے ’’جانور کو‘‘ میں نے عرض کیا ’’ نہیں جانور اور حیوان میں فرق ہوتا ہے‘‘ بولے ’’کیا فرق ہوتا ہے‘‘ میں نے عرض کیا’’حیوان دراصل انسان اور جانور کی درمیانی کڑی ہوتے ہیں مثلاً بھیڑیا‘ چیتا‘ شیر‘ ہاتھی‘ سور اور سانپ جانور ہیں اور گھوڑا‘ کتا‘ بندر‘ بن مانس‘ بلیاں‘ بکریاں‘ گائے اور بھینس حیوان ہیں‘‘ وہ مسکرائے اور فرمایا ’’ذرا سی مزید وضاحت کریں‘‘۔
میں نے عرض کیا’’ ہم انسان جس جاندار کو سدھا نہیں سکتے‘ ہم جسے پال نہیں سکتے وہ جانور ہوتا ہے اور ہم جسے سدھا اور سکھا سکتے ہیں اور جو اپنے مالک کو پہچان سکتا ہے وہ حیوان ہوتا ہے‘ ہم لوگ اسی لیے جانوروں کے اسپتال کو شفاء خانہ برائے حیوانات کہتے ہیں‘ شفاء خانہ برائے جانور نہیں کہتے کیونکہ ہم ان اسپتالوں میں صرف پالتو جانوروں (حیوانات) کو لے جا سکتے ہیں اور وہاں ڈاکٹر بھی صرف گھریلو جانوروں کا علاج کرتے ہیں‘‘۔
قاری صاحب نے ہاں میں سر ہلایا اور فرمایا ’’چلیے آگے بڑھئے‘‘ میں نے عرض کیا ’’ہم انسانوں نے لاکھوں سال کے تجربات سے سیکھا ہم جانوروں اور جانور ہمارے ساتھ کمفرٹیبل نہیں ہیں‘ ہمیں ان سے اور انھیں ہم سے دور رہنا چاہیے چنانچہ ہم انھیں اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ سفاری پارکوں اور چڑیا گھروں تک آنے دیتے ہیں جب کہ ہم حیوانوں کو گھروں اور باڑوں میں پال لیتے ہیں‘ آپ نے کبھی سوچا ہم جانوروں کو خود سے دور کیوں رکھتے ہیں اور ہم حیوانات کو گھروں میں کیوں پالتے ہیں؟‘‘۔
اشتہارات



قاری صاحب خاموشی سے میری طرف دیکھتے رہے‘ میں نے عرض کیا ’’کیونکہ جانور درندے ہوتے ہیں‘ یہ بھوک اور جبلت کے ماتحت ہوتے ہیں‘ یہ بھوک میں کسی بھی جاندار کو چیر پھاڑ کر کھا جاتے ہیں‘ وہ جاندار خواہ اس کا مالک ہی کیوں نہ ہو‘ یہ غلیظ بھی ہوتے ہیں‘ یہ گندی جگہوں پر رہتے ہیں‘ یہ خوشبو اور بدبو اور تازہ اور باسی کی تمیز بھی نہیں رکھتے جب کہ حیوان نسبتاً مہذب ہوتے ہیں‘ یہ مالک کو پہچانتے ہیں‘ یہ صفائی ستھرائی کا خیال رکھتے ہیں‘ یہ بلاوجہ دوسرے جانوروں کو نقصان نہیں پہنچاتے‘ یہ باسی اور خراب خوراک نہیں کھاتے‘ یہ انسانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے‘یہ انسانوں کی زبان بھی سمجھتے ہیں اور یہ ہمیں اپنا مافی الضمیر بھی سمجھا دیتے ہیں‘‘۔
میں خاموش ہو گیا‘ قاری صاحب صبر سے میری بکواس سنتے رہے‘ میں نے ان سے پوچھا ’’اور انسان کیا ہوتا ہے؟‘‘ وہ فوراً بولے ’’اشرف المخلوقات‘‘ میں نے عرض کیا ’’آپ نے درست فرمایا لیکن ہم بے شمار انسانوں کو جانور‘ درندے اور حیوان کہتے ہیں‘ کیوں؟‘‘ وہ بولے ’’ان لوگوں کی حرکتیں جانوروں جیسی ہوتی ہیں‘‘ میں نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ’’آپ نے درست فرمایا‘ انسان ایک ایسا حیوان ہوتا ہے جو دو ٹانگوں پر سیدھا چل سکتا ہے‘ اس کے دونوں ہاتھوں میں انگوٹھے ہیں‘ چمپینزی اور انسان میں چار چیزوں کا فرق ہوتا ہے۔
انسانوں کا دماغ سائز میں چمپینزی سے تین گنا ہوتا ہے‘ چمپینزی کے ہاتھ میں انگوٹھے نہیں ہوتے چنانچہ یہ آلات بنا سکتا ہے اور نہ ہی استعمال کر سکتا ہے‘ اس کے پورے جسم پر بال ہوتے ہیں اور یہ ہماری طرح بول نہیں سکتا ہے جب کہ باقی تمام معاملات میں چمپینزی اور ہم میں کوئی فرق نہیں ہوتا‘ ہم انسان بول سکتے ہیں‘ ہم صفائی پسند ہوتے ہیں‘ ہم پکا کر کھاتے ہیں‘ ہم گھروں میں رہتے ہیں‘ ہم اپنے ہر مسئلے کا حل تلاش کر تے ہیں اور ہم اپنے تمام اختلافات گفتگو کے ذریعے نمٹاتے ہیں‘‘ قاری صاحب نے ہاں میں سر ہلا دیا تھا۔
میں نے عرض کیا ’’ لیکن ہم میں سے وہ لوگ جو اپنے اختلافات گفتگو سے نہیں نبٹاتے‘ جو اپنے مسائل کا حل تلاش نہیں کرتے‘ جو اپنے لیے گھر کا بندوبست نہیں کرتے‘ جو اپنی مرضی کا پکا کر نہیں کھاتے اور جو اپنی اور ماحول کی صفائی کا خیال نہیں رکھتے وہ کیا ہوتے ہیں؟‘‘ قاری صاحب مسکرا کر بولے ’’حیوان‘‘ میں نے عرض کیا ’’جی ہاں وہ انسانی شکل میں حیوان ہوتے ہیں اور وہ انسان جو دوسروں کو چیر پھاڑ دیتے ہیں‘ جو غلاظت اور گندگی میں رہتے ہیں‘ جو پکا کر نہیں کھاتے‘ جو جبلت کے تحت زندگی گزارتے ہیں اور جو ماں‘ بہن‘ بیٹی اور بیوی میں تمیز نہیں کر سکتے وہ کون ہوتے ہیں‘‘۔
قاری صاحب نے فوراً جواب دیا ’’جانور‘‘ میں نے عرض کیا ’’جی ہاں وہ جانور ہوتے ہیں‘ بس وہ انسانوں کی طرح سیدھا چل لیتے ہیں‘ چیزیں اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیتے ہیں اور یہ اپنی ضرورت کے 180 لفظ بول لیتے ہیں لیکن یہ ہوتے جانور ہیں‘‘ میں رکا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا‘ قاری صاحب بے چین ہو کر بولے ’’آپ آگے بڑھیئے‘‘ میں نے پوچھا ’’جناب انسانیت کیا ہوتی ہے‘‘ جواب دیا ’’ایک دوسرے کا خیال رکھنا‘‘ میں نے عرض کیا‘ آپ کی بات ایک حد تک درست ہے‘ ہم اگر حیوان اور انسانوں کے درمیان فرق کی فہرست بنائیں تو ہمیں دس بڑے فرق ملیں گے۔
زبان‘ خوراک‘ لباس‘ رہائش‘ مذہب‘ ماحول‘ ثقافت‘ قانون‘ معاشرہ اور مساوات‘ یہ دس چیزیں حیوانوں اور انسانوں میں فرق کرتی ہیں‘ ہم دونوں کے درمیان سے اگر یہ دس چیزیں نکل جائیں تو ہم چند لمحوں میں انسان سے حیوان بن جائیں اور حیوانوں کو اگر یہ چیزیں مل جائیں تو یہ سوٹ بوٹ پہن کر انسان بن جائیں‘ انسانیت ان دس چیزوں کو بنانے‘ پھیلانے اور دوسرے انسانوں تک پہنچانے کا فن ہے‘ انسانیت مساوات (برابری‘ برابر کے مواقع) کو ادارہ بنانے کے آرٹ کا نام ہے۔
یہ معاشرے کی تشکیل اوراس تشکیل کو دنیا کے ہر انسان تک پہنچانے کا فن ہے‘ یہ قانون سازی (پولیس‘ انتظامیہ‘ عدلیہ)‘ یہ ثقافت (موسیقی‘ آرٹ‘ ڈرامہ‘ فلم‘ ادب)‘ یہ ماحولیات (جنگل‘ پانی‘ ہوا)‘ مذہب (نظریات‘ افکار‘ عبادات)‘ رہائش (گھر‘ دکان‘ سڑک‘ پل‘ اسکول‘ اسپتال)‘ لباس (پہننا‘ اوڑھنا‘ بچھونا)‘ خوراک (سبزی‘ اناج‘ گوشت‘ دودھ‘ تیل اور ریستوران) اور زبان (بولنا‘ پڑھنا‘ لکھنا اور چھاپنا) کو باقاعدہ ادارہ بنانے کا نام ہے‘ یہ دس فرق انسانیت ہیں‘ یہ نہ ہوں تو انسان حیوان بن جائے‘‘۔
میں رکا‘ لمبا سانس لیا اور پھر قاری صاحب سے عرض کیا ’’جناب یہ بتائیے دنیا میں جو لوگ زبان پر کام کر رہے ہیں‘ جو پرنٹنگ اور کمیونیکیشن کے نئے اور آسان طریقے ایجاد کر رہے ہیں‘ جو بہتر اور سستی خوراک پر کام کر رہے ہیں‘ جو سستا اور بہتر لباس تیار کر رہے ہیں‘ جو اچھی ادویات‘ اسپتال‘ اسکول‘ پل‘ سڑک‘ مارکیٹ اور گھر بنا رہے ہیں‘ جو مذہب میں رواداری اور برداشت پیدا کر رہے ہیں‘ جو ماحولیات کو بہتر سے بہتر بنا رہے ہیں‘ جو ثقافت کو پورے کرہ ارض تک پھیلا رہے ہیں‘ جو بین الاقوامی قوانین بنا رہے ہیں‘ جو گلوبل سوسائٹی تشکیل دے رہے ہیں اور جو دنیا کے تمام کالوں کو گوروں اور امراء کو غرباء کے برابر بٹھا رہے ہیں‘ وہ کون ہیں؟‘‘۔
قاری صاحب نے چند لمحے سوچا اور فرمایا ’’محسن‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’جی ہاں یہ لوگ انسانیت کے محسن ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اسی لیے اپنے آخری نبیؐ کو محسن انسانیت کا ٹائٹل دیا تھا کیونکہ آپؐ نے انسانیت کے ہر چیپٹر میں انسانوں کی رہنمائی فرمائی‘ ہمارے رسولؐ انسانیت کے واحد پروفیسر ہیں اورانسانیت پر کام کرنے والا ہر شخص آپؐ کا شاگرد ہے‘ دنیا میں اگر کوئی ہمارے رسولؐ کا عاشق ہے تو وہ صرف وہ شخص ہے جو انساینت کے لیے کام کر رہا ہے‘ جو دنیا کو بہتر سے بہتر بنا رہا ہے اورپیچھے رہ گیا اسلام‘‘۔
میں رکا اور عرض کیا ’’اور پیچھے رہ گیا اسلام تو یہ انسانیت کا سلیبس ہے‘ یہ وہ درس ہے جسے پڑھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری معلم (پروفیسر) دنیا میں بھجوایا تھا اور ہم مسلمانوں نے آج یہ فیصلہ کرنا ہے‘ ہم نے جانور بن کر زندگی گزارنی ہے‘ حیوان بن کر یا انسان بن کر یا پھر ہم نے انسانیت کے محسنوں کی کلاس میں داخلہ لے کر انسانیت کے واحد اور آخری معلم سے انسانیت کا سلیبس پڑھنا ہے‘ ہم نے خود کو اپنے رسولؐ کا سچا عاشق‘ کھرا امتی اور خالص مسلمان ثابت کرنا ہے یا پھر ہم نے حیوان یا جانور بن کر رہنا ہے۔
علم مسلمان کی میراث ہے اور خدمت مسلمان کی عبادت اور ہم جب تک علم کی مشعل نہیں اٹھاتے اور ہم جب تک خدمت کو زندگی نہیں بناتے ہم اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے اور ہم جب تک مسلمان نہیں ہوتے ہم اس وقت تک انسانیت کے شرف تک نہیں پہنچ سکتے اور ہم جب تک انسانیت کے شرف تک نہیں پہنچتے‘ ہم اس وقت تک انسانیت کے سلیبس یعنی اسلام کو نہیں سمجھ سکیں گے‘ ہم اس وقت تک حیوان اور جانور بنے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں