کیا کسی کو ہوش ہے (1)

orya-maqbool-jan-column
مجھے کبھی کبھی اس ملک کے سیاستدانوں، تجزیہ نگاروں، میڈیا پر چھائے ہوئے اینکرپرسنوں اور یونیورسٹیوں میں مامور صاحب علم پر حیرت ہوتی ہے کیونکہ ان کی گفتکو کا مرکزومحور روزمرہ میں ہونیوالی سیاسی چپقلش، ایک دوسرے کے خلاف بیانات اورزیادہ سے زیادہ کسی سازشی تھیوری تک محدود ہوتا ہے. پاکستان شاید ان چند بدقسمت ملکوں میں سے ایک ہے جہاں کا کاروبارِ حکومت کسی علمی اور تحقیقی بنیاد پر بنائے جانے والی پالیسیوں کے تحت نہیں بلکہ وقتی حالات وواقعات اور عالمی طاقتوں کے اشاروں‌پر چلایا جاتا ہے. پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے پاس کوئی ایسا ادارہ یا یونٹ موجود نہیں جو اس کے لیے مستقل تحقیق و جستجو کے بعد معاشی، معاشرتی اور بین القوامی پالیسیاں اور ترجیحات مرتب کرسکے. پاکستان کے اخبارات اس طرح کے عالمی منظرنامے اورعمیق اقتصادی و سیاسی تجزیے سے عاری ہیں. ان میں سے اکثر دنیا بھر کے اخبارات میں چھپنے والے مضامین کے ترجمے شائع کرکے اخبار کا پیٹ بھرتے ہیں. روز کسی نہ کسی بڑے شہر میں ایک یونیورسٹی کے قیام کا اعلان ہو جاتا ہے، لیکن یہ تمام یونیورسٹیاں صرف چند ایسی ڈگریاں “عطا” کرنے تک محدود ہیں جن کی مارکیٹ میں‌کھپت ہے. اسی لیےسائنس کے وہ بنیادی مضامین جیسے فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، میتھس، شماریات وغیرہ علوم جنہیں حاصل کرکے انسان یا تو ایک استاد بن سکتا ہے یا پھر تحقیق اور ریسرچ کے شعبے میں آگے بڑھ سکتا ہے، ایسے تمام مضامین سرکاری یونیورسٹیوں کے پرانے، فرسودہ اور سہولتوں سے عاری ماحول تک محدود ہو گئے ہیں. سائنس اور نہ ہی سوشل سائنس، ہمارے ہاں کسی ایک شعبے میں کوئی ایک ایسا ادارہ نہیں ملے گا جس کی عالمی سطح تو بہت دور کی بات ہے مقامی سطح پر بھی کوئی اہمیت ہو. جس ملک میں مرکزی و صوبائی حکومت کے شائع شدہ اعدادوشمارپر دنیا بھر کی حکومتیں، عالمی ادارے یہاں تک کہ اس ملک کے عوام تک یقین نہ کرتے ہوں ، اس ملک کی بدقسمتی کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے. یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی ننانوے فیصد میڈیا، سیاسی اشرافیہ اوردانشورانہ مباحث کا موضوع یہ ہے کہ کیا شریف خاندان سعودی عرب میں کوئی این آراوکرنے جا رہا ہے یا پھرسعودی حکومت نے انہیں کسی کرپشن سکینڈل میں طلب کیا ہے. حیرت کی بات ہے کہ وہ سعودی عرب جواپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران گزررہا ہے وہ پاکستان کے داخلی معاملات میں اس قدردخیل ہوسکتا ہے کہ اس ملک کی آئندہ قیادت کا انحصاراس کی آشیرباد سے لگایا جارہا ہے.
سعودی عرب نہیں‌ بلکہ یہ پورا خطہ جس میں پاکستان ایک اہم رکن کی حیثیت رکھتا ہے، شاید سعودی عرب سے بھی اہم ہے. یہ خطہ ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی کشمکش کے دہانے پرہے، اوردنیا بھرکے تھنک ٹینک، عالمی تجزیہ کاراورسیاسی پارٹیوں کے پالیسی ساز ادارےاس تیزی سے بگڑتی صورتحال کوروزانہ کی بنیاد پردیکھتے چلے آرہے ہیں. دنیا ایک دفعہ پھردوعالمی طاقتوں کی معاشی جنگ سے لگنے والی آگ کی لپیٹ میں آچکی ہے. فرق صرف یہ ہے کہ پہلے دنیا میں 75 سال نظریات کی جنگ کے لبادے میں چھپی ہوئی طاقت کی جنگ تھی اوراب صرف اورصرف معیشیت، معاشی منڈیوں‌ اورخام مال کی تجارت کی واضح اورننگی جنگ ہے. پہلے دنیا مزدورکی حاکمیت کے نام پرایک وسیع علمی حلقہ اثرکومتاثرکررہی تھی جبکہ دوسری جانب سرمایہ دارانہ نظام کی پروردہ جمہوریت لوگوں کوآزادی، معاشی ترقی اورخوبصورت مستقبل کے خواب دکھا رہی ہے. اب توایک جانب اپنی سرحددوں سے باہرنکلتی اورعلاقوں پرعلاقے زیراثرکرتی چین کی طاقت ہے اوردوسری جانب اپنے اثرونفوذ کی بقاء کی جنگ لڑتی ہوئی امریکی اوریورپی منڈیوں کی معیشیت ہے. اس بڑھتی ہوئی معاشی جنگ میں پاکستان اورسعودی عرب دونوں‌ شطرنج کی بساط پربچھے ہوئے مہرے ہیں، جن میں شاید پاکستان کی اہمیت اورافادیت سعودی عرب سے کئی گنا زیادہ ہے.
a


چین کے سامنے جودنیا کا نقشہ ہے اس میں پاکستان سے لے کرمشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک کے ساتھ ہندچینی کے اہم خطوں‌تک اس کی رسائی ممکن ہوتی جارہی ہے. مشرق میں‌ فلپائن سے لے کرمغرب میں سوڈان اورایتھوپیا تک تقریباً 65 ممالک ایسے ہیں جن میں دنیا کی سترفیصد آبادی رہتی ہے. یہ تمام ممالک جن میں روس سے آزاد ہونے والی ریاستیں بھی شامل ہیں، سب کی سب بلکہ بے پناہ معدنی وزرعی وسائل سے مالامال ہیں، لیکن ان میں اکثرممالک ایسے ہیں جوان وسائل کوحاصل کرنے کی نہ سکت رکھتے ہیں‌اورنہ ہی استعداد. ان کے پاس ٹیکنالوجی نہیں‌ ہے کہ وہ اپنے معدنی وسائل تک پہنچ سکیں. ایک محتاط اندازہ جوماہرین لگاتے ہیں اورجسے چارلی کیمپبل نے اپنے مضمون Big Plan for China New Silk Raod میں جمع کیا ہے. اس کے مطابق، چین اگران تمام ممالک کی آبادی کا صرف چوتھائی تیل، گیس اورتوانائی کے عوض‌ ان کی مصنوعات وغیرہ عالمی منڈیوں‌ تک لے جانے سےجو منافع کمائے گا وہ پوری دنیا کے کل منافع کا 28 فیصد ہوگا اورجوتقریباً 21 کھرب ڈالربنتا ہے. اپنے اردگردآباد ملکوں‌ تک رسائی کے لیے چین صرف پاکستان کی گواردربندرگاہ تک سی پیک والی شاپراہ پرانحصارنہیں کررہا، بلکہ چاروں جانب مواصلات کا ایک وسیع نیٹ ورک تعمیرکررہا ہے. مثلاً ویتنام کے پڑوس میں واقع ملک لاؤس تک سات ارب ڈالرکی لاگت سے ٹرین کی پٹڑی بچھائی جا رہی ہے تاکہ تھائی لینڈ سے لے کرفلپائن تک کے ممالک دسترس میں آجائیں. سری لنکا کے جنوب میں واقع ایک بندرگاہ “ہمبن توتا” چین کے سرمائے سے بنی اوراب اس کے سترفیصد حصص بھی چین کومل چکے ہیں. یہ وہ مقام ہے جہاں اگرچین موجود ہوا توایک طرف بھارت کے بحرہند پرتسلط کوناکام بنا سکتا ہے اوردوسری جانب ڈیگوگارشیا میں‌ امریکی اڈوں کا بھی سامنا کرسکتا ہے. گوادراورسری لنکا کی بندرگاہیں توبھارتی اثرورسوخ کے خاتمے کے لیے استعمال ہوں گی، مگرچین کی سرحد توروس سے آزاد ہونے والے ملک قازقستان سے بھی ملتی ہے. اس ملک کی سرحد کے اس پارچین کے سنکیانگ صوبے کا شہرقورغاس واقع ہے. یہ ایک زمانے سے بے آباد اورغیراہم علاقہ رہا ہے. اگرچہ قدیم تجارتی شاہراہ ریشم کا اہم ترین مقام تھا جوصحرا میں نخلستان کا درجہ رکھتا تھا. یہ شہردنیا کا دوسرا دبئی بن چکا ہے. دبئی کی شہرت تواس لیے ہے کہ وہ سمندری بندرگاہ ہے جب کہ یہ شہردنیا کی سب سے بڑی ڈرائی پورٹ بن چکا ہے، جہاں سے ایک طویل ریلوے لائن بچھائی جاچکی ہے جوسات ہزارمیل کا سفرطے کرتی ہے اوریورپ کی منڈیوں میں 30 کے قریب چینی کمپنیوں کا مال پہنچتا ہے. گزشتہ سال 2017ء میں اس پٹڑی سے پانچ ہزارٹرینیں گزریں اورتجارتی مال لے کریورپ پہنچیں. ان تمام وسیع چینی منصوبوں کی وجہ سے امریکی پالیسی سازوں کی گزشتہ ایک دہائی سے نیندیں‌ حرام ہیں. وہ سمجھتے ہیں کہ چین کی پھیلتی ہوئی معیشیت اوراس کے پاس موجود سستی لیبرکا وہ مقابلہ نہیں کرسکتے اوردنیا کے معاشی بازاروں سے ان کا بسترکسی بھی وقت گول ہوسکتا ہے. امریکی پالیسی سازاداروں کے پاس صرف اورصرف ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ یہ 65 ممالک جن تک چین اپنے مالک کی سپلائی جاری رکھنا چاہتا ہے اوران سے توانائی حاصل کرنا چاہتا ہے وہاں جنگ کے بادل منڈلا دیے جائیں بلکہ ان خطوں میں عملی طورپربدامنی اورخانہ جنگی کے ساتھ جنگ کا بھی آغازکردیا جائے. ایسے میں سب سے پہلا حملہ پاکستان کی سی پیک کے تحت بننے والی شاہراہ پرکیا گیا اورامریکی وزیرخارجہ نے اسے ایک متنازع سرزمین سے گزرنے والی سڑک قراردے کراس کے مستقبل کومخدوش کرنے کی کوشش کی جس کے بعد بھارت نے سی پیک اورسری لنکا کی بندرگاہ کوعلاقائی امن کے لیے خطرہ قراردیدیا. یہاں تک تومعاملہ دھمکیوں اوربیانات تک تھا لیکن گزشتہ دنوں اس خطے میں دواہم ترین اورایک جیسے واقعات ہوئے ہیں. پاکستان اسی متنازعہ علاقے میں دیا میربھاشا ڈیم بنانے والا تھا جوسی پیک کا حصہ تھا، کیونکہ اس کے لیے ورلڈ بنک اورایشین ڈیولپمنٹ بنک نے امداد دینے سے انکارکردیا تھا. پاکستان کے واپڈا کے چیئرمین نے اعلان کردیا کہ ہمیں اس ڈیم کوبنانے کیلیے چینی شرائط منظورنہیں اوردوسری جانب بھارتی دباؤ میں آئے ہوئےسری لنکا نے “بدھی گندکی” دریا پرچین کی مدد سے بننے والے بجلیکے ڈیم کے منصوبے کے خاتمے کا اعلان کردیا. ایسا کیوں اوراس کےدباؤ پرکیا گیا. یہ وہ خطرے کی گھنٹی ہے جوپوری دنیا میں سنی گئی لیکن شاید ہم میں‌ سے اکثرکواس بات کا علم تک نہ ہو.(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں