اسے شاباش دو

javed-ch
میرے ایک دوست پانچ وقت کے مایوس انسان ہیں‘ یہ ٹینشن اور ڈپریشن کا کوئی موقع ضایع نہیں کرتے‘ یہ چند ماہ قبل میرے پاس تشریف لائے‘ یہ سر سے پاؤں تک پریشان تھے‘ میں نے وجہ پوچھی‘ یہ ماتھا رگڑ کر بولے ’’میں ملکی حالات کی وجہ سے پریشان ہوں‘‘ میں نے مسکرا کر عرض کیا ’’کیایہ ملکی حالات آپ نے خراب کیے ہیں‘‘ یہ فوراً بولے ’’ہرگز نہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’اور کیا آپ یہ حالات ٹھیک کر سکتے ہیں‘‘ یہ دوبارہ بولے ’’بالکل نہیں‘‘ میں نے قہقہہ لگایا اور عرض کیا ’’پھر آپ پریشان کیوں ہیں‘‘ یہ کسمسا کر رہ گئے۔

میں نے عرض کیا ’’ہمارے ملک میں صرف دو قسم کے لوگوں کو پریشان ہونا چاہیے‘ وہ لوگ جنہوں نے یہ حالات خراب کیے اور وہ جو یہ حالات ٹھیک کر سکتے ہیں‘ یہ دونوں مزے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں لیکن ہم جیسے لوگ جو تین میں ہیں اور نہ تیرہ میں یہ پریشان بیٹھے ہیں‘ اس کی کیا تُک بنتی ہے‘‘ یہ مجھ سے ناراض ہو گئے اور مایوسی میں سر ہلاتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے‘ میرے یہ دوست اس وقت کراچی کے ایک اسپتال میں پڑے ہیں‘ ٹینشن اور ڈپریشن کی وجہ سے ان پر فالج کا حملہ ہوا اور یہ پوری زندگی جو کماتے رہے‘ یہ جو جمع کرتے رہے وہ اب ڈاکٹروں‘ نرسوں‘ اسپتالوں اور فارما سوٹیکل کمپنیوں کے کام آ رہا ہے جب کہ ملکی حالات جوں کے توں ہیں۔

میں نئے سال کے ساتھ ہی پچاس سال کا ہو چکا ہوں‘ کیا میں واقعی پچاس سال کا ہوں؟ میں ایک ایسے گاؤں میں پیدا ہوا تھا جس میں بچوں کی تاریخ پیدائش نوٹ نہیں کی جاتی تھی‘ یہ روایت اگرموجود ہوتی تو بھی میری تاریخ پیدائش نہ لکھی جاتی‘ کیوں؟ کیونکہ میرے پورے خاندان میں کوئی پڑھا لکھا شخص نہیں تھا‘ میں خاندان کی تاریخ کا اسکول جانے والا پہلا بچہ تھا چنانچہ تاریخ پیدائش کا حساب رکھنا ممکن نہیں تھا‘ میں کب پیدا ہوا؟ یہ فیصلہ میرے پرائمری کے ماسٹر جی نے کیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پانچویں جماعت کے امتحان بورڈ میں ہوتے تھے‘ ماسٹر اس امتحان کو ’’وظیفے کا امتحان‘‘ کہتے تھے ‘ حکومت بورڈ میں پوزیشن لینے والوں کو ماہانہ وظیفہ دیتی تھی چنانچہ ماسٹر حضرات نے اس امتحان کو ’’وظیفے کا امتحان‘‘ قرار دے دیا تھا‘ وظیفے کے امتحان کے لیے داخلہ بھجوایا جاتا تھا اور داخلے کے لیے تاریخ پیدائش ضروری تھی اور میں کیونکہ تاریخ پیدائش کے بغیر پیدا ہو ا تھا لہٰذا اسکول پریشان ہو گیا‘ اسکول میں میرے جیسے 28 بچے تھے۔

یہ بھی تاریخ پیدائش کے بغیر پیدا ہوئے تھے اور یہ بھی ماسٹروں کے ڈنڈے کھاکھا کر پانچویں جماعت تک پہنچ گئے تھے‘ہمارے ماسٹر نے ان بچوں کو قطار میں کھڑا کیا‘ غور سے سب کو دیکھا اور 28 بچوں کی تاریخ پیدائش کے خانے میں یکم جنوری 1968ء لکھ دیا یوں ہم 28 لوگ یکم جنوری کو پیدا ہو گئے‘ میں آج کوشش بھی کروں تو بھی میں ماسٹر کے اس فیصلے سے جان نہیں چھڑا سکتا‘ میں بہرحال یکم جنوری 1968ء کو ہی پیدا ہوں گا‘ میں نے اس حقیقت کو حقیقت مان لیا اور یوں میں کل پچاس سال کا ہو گیا۔
a


میں نے بزرگی میں قدم رکھ دیا‘ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں ہم میں سے جو شخص 20 سال کی عمر تک خوبصورت نہیں ہوتا وہ پوری زندگی خوبصورت نہیں ہو سکتا‘ جو 30 سال کی عمر تک سیٹل نہیں ہوتا وہ پوری زندگی سیٹل نہیں ہوسکتا‘ جو 40 سال کی عمر تک اپنے گھر میں آباد نہیں ہوتا وہ پوری زندگی آباد نہیں ہو سکتا اور جو 50 سال کی عمر تک سمجھ دار نہیں ہوتا وہ پوری زندگی سمجھ دار نہیں ہوسکتا۔

میں 50 سال کا ہو چکا ہوں‘ میں بڑی آسانی سے خود کو سمجھ دار ڈکلیئر کر سکتا ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ کی اس کائنات میں خود کو سمجھ دار سمجھنے سے بڑی ناسمجھی کوئی نہیں ہوتی‘ ہم لوگ سمجھ دار نہیں ہوتے‘ ہم صرف تجربہ کار ہوتے ہیں اور مجھے 50 سال کے تجربوں نے چھیل چھال کر سیدھا کر دیا ہے‘ میں کم از کم زندگی کی ماہیت کو سمجھ گیا ہوں۔

میں نے 50 سال کے تجربوں سے اندازہ لگایا وقت اچھا یا برا نہیں ہوتا‘ وقت صرف وقت ہوتا ہے‘ ہم اس کی اچھائی یا برائی کا اندازہ اپنی صورتحال سے لگاتے ہیں‘ ایک شخص جیل کی سلاخوں کے اندر کھڑا ہے‘یہ وقت اس کے لیے برا ہے‘ دوسرا شخص عین اس وقت سلاخوں کے باہر موجود ہے‘ یہ شخص آج ہی پروموٹ ہو کرجیل سپرنٹنڈنٹ بنا ہے‘ یہ اس کی زندگی کا شاندار ترین وقت ہے‘ یہ دونوں ایک ہی لمحے میں زندہ ہیں لیکن دونوں کے لمحے کے معانی مختلف ہیں۔

کھیل کے میدان سے ایک ٹیم ہار کر نکلتی ہے‘ یہ اس کی زندگی کا بدترین دن ہے‘ دوسری ٹیم جیت کے شادیانے بجا رہی ہے ‘یہ اس کی زندگی کا ناقابل فراموش دن ہے‘ آپ دیکھ لیجیے دن تو ایک ہی ہے لیکن دن کے معانی مختلف ہیں چنانچہ میں نے سیکھا ہم اگر وقت بدلنے کے بجائے اپنے حالات‘ اپنی پوزیشن بدل لیں تو ہمارا وقت اچھا ہو جائے گا‘ ہم کوشش کریں ہم قیدی نہ بنیں جیلر بنیں اور ہم ہارنے والی ٹیم کے بجائے جیتنے والی ٹیم میں شامل ہوں‘ ہم سکھی رہیں گے اور اگر خدانخواستہ ہم اپنی حماقتوں کی وجہ سے قیدی یا ہارنے والی ٹیم بن جائیں تو ہم دکھی نہ ہوں۔

ہم قید کو رہائی اور ہار کو جیت میں تبدیل کرنے کی کوشش میں لگ جائیں‘ ہم کبھی نہ کبھی ضرور کامیاب ہوں گے‘ میں نے سیکھا اللہ کی اس زمین پر کوئی چیز مستقل نہیں ہوتی‘ بادشاہوں کو گدا اور گداؤں کو بادشاہ بنتے دیر نہیں لگتی‘ میں نے اپنی آنکھوں سے ارب پتیوں کو ککھ پتی اور ککھ پتیوں کو ارب پتی بنتے دیکھا‘ میرے سامنے دلوں پر راج کرنے والی درجنوں اداکارائیں بدصورتی اور گم نامی کی قبریں بن گئیں‘ میں نے درجنوں ایسے اداکار‘ کھلاڑی‘ موسیقار‘ گلوکار‘ مصنف اور بیوروکریٹس بھی دیکھے جن کے راستوں میں لوگ اپنی پگڑیاں‘ اپنی ٹوپیاں بچھا دیتے تھے لیکن پھر وہ عبرت کا ایسا نشان بنے کہ عبرت کو بھی ان کے حال پر عبرت آ گئی۔

اللہ کی اس زمین پر صرف تغیر کو ثبات ہے‘ باقی ہر چیز آنی جانی ہے اور دنیا کا کوئی شخص خواہ وہ اوتار ہی کیوں نہ ہو وہ تبدیلی کے اس عمل کو روک نہیں سکتا چنانچہ آپ آج کے اچھے حالات پر شکر ادا کریں اور کل کے برے حالات کے لیے تیار رہیں‘ میں نے سیکھا دولت وہ ہے جو آپ نے خرچ کر لی‘ کھانا وہ ہے جو آپ نے کھا لیا‘ تعلقات وہ ہیں جو آپ نے نبھا لیے‘ اختیار وہ ہے جسے آپ نے استعمال کر لیا‘ جوانی وہ ہے جو آپ گزار چکے ہیں‘ آرام وہ ہے جو آپ نے کر لیا اور خوشی وہ ہے جو آپ نے منا لی۔

آپ کو زندگی کا ہر آنے والا دن پیچھے لے کر جائے گا ‘آگے نہیں‘ زندگی وہ ہے جو آپ نے گزار لی یا وہ ہے جو آپ گزار رہے ہیں‘ یہ ہرگز ہرگزوہ نہیں جس کا آپ انتظار کر رہے ہیں چنانچہ آپ آج کے دن کو زندگی کا آخری دن سمجھ کر گزارنا سیکھ لیں‘ آپ کو زندگی سے کوئی شکوہ‘ کوئی شکایت نہیں رہے گی‘ میں نے سیکھا ‘آپ دنیا میں اکیلے آتے ہیں اور اکیلے ہی جاتے ہیں‘ انسان آنے اور جانے کے درمیان بھی اکیلا ہی رہتا ہے‘ دنیا کے وہ تمام لوگ جو درمیان کے اس اکیلے پن کو لوگوں سے بھرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ’’الوژن‘‘ کا شکار رہتے ہیں‘ وہ آخر میں اکیلوں سے زیادہ اکیلے ہوجاتے ہیں چنانچہ آپ خود کو اکیلا مان کر سفر شروع کریں‘ آپ کا سفر اچھا گزرے گا۔

درمیان میں اگر کوئی اچھا انسان مل جائے تو شکریہ ادا کریں لیکن اسے بھی مستقل ساتھی سمجھنے کی غلطی نہ کریں‘ آپ دکھ سے بچے رہیں گے‘ میں نے سیکھا دنیا میں اگر آپ کے پاس اللہ کی ذات‘ محنت اور مثبت سوچ ہے تو پھر آپ کو کسی استاد‘ کسی لیڈر اور کسی پیر کی ضرورت نہیں اور آپ کے پاس اگر ان میں سے کوئی چیز شارٹ ہے تو پھر آپ پوری زندگی دوسروں کے پیچھے بھاگتے رہیں گے‘ آپ عمر بھر خداؤں کی تلاش میں سرگرداں رہیں گے‘ میں نے سیکھا مذہب ہو‘ روحانیت ہو‘ افکار ہوں یا پھر وطن پرستی یہ سب کاروبار ‘ دکانداری ‘ صنعت کاری اور مارکیٹنگ ہے‘ میں نے سیکھا دنیا کے حالات کبھی آئیڈیل تھے‘ ہیں اور نہ ہوں گے۔

یہ دنیا اسی طرح چلے گی‘ مہنگائی ہو گی‘ بیماری اور جنگیں بھی ہوں گی اور جرائم‘ منافرت اور تعصبات بھی قیامت تک جاری رہیں گے ‘ یہ دنیا کے وہ مسائل ہیں جنھیں انبیائے کرام بھی ختم نہیں کر سکے‘ جنگ اللہ کے آخری رسولؐ کے دور میں بھی تھی‘ چوری آپؐ کے زمانے میں بھی ہوئی‘ آپؐ نے بھی زنا کی حد لگائی‘ بیماری اس زمانے میں بھی تھی اور آپؐ بھی پوری زندگی تعصبات اور منافرت کے خلاف نبرد آزما رہے چنانچہ ہم نے بھی اگر زندگی گزارنی ہے توپھر ہمیں ان برائیوں کے درمیان رہنا سیکھنا ہوگا۔

ہمیں ’’یوٹوپیا‘‘ کے خواب بند کرنا ہوں گے اور آخری سبق‘ میں نے سیکھا‘ ہمارا اصل کمال ان حالات میں پوری طبعی زندگی گزارنا ہے‘ ہم ستر اسی سال زندگی گزار کر اطمینان سے ٹانگیں سیدھی کریں‘ کلمہ پڑھیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ ہم سے پوچھے ’’ہاں بھئی تم نے دنیا میں کیا کیا‘‘ اور ہم ادب سے عرض کریں ’’یا پروردگار‘ آپ نے مجھے جتنی زندگی دی تھی میں وہ زندگی پوری گزار کر واپس آیا ہوں‘‘ مجھے یقین ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہے گا ’’آگے آؤ بھئی‘ اسے شاباش دو‘ یہ کامیاب ہوگیا‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں