بدلتے انسان


میں ایک عرصے سے پہاڑوں سے اتر کر میدانوں میں آیا ہوا ہوں، میرے لیے پہاڑ اور میدان دو جڑواں بھائی ہیں لیکن ایسے کہ ان میں کبھی کبھار کچھ چپقلش بھی پیدا ہو جاتی ہے مگر یہ سب عارضی ہوتی ہے جو موسم کی کسی خوشگوار تبدیلی سے ختم ہو جاتی ہے۔
ہمارے کسان جن کا موسم سے رشتہ مستقل استوار رہتا ہے، دن رات آسمان کی طرف نظریں اٹھائے رکھتے ہیں اور بادلوں کی حرکتوں کو دیکھتے رہتے ہیں کہ یہ بادل موسم کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اور اپنے ساتھ موسم کو بھی کس طرح بدل دیتے ہیں ۔ اسی موسم اور اس کی تبدیلی میں ہی کاشتکار کی زندگی اور روزی چھپی ہوئی ہوتی ہے مہربان موسم ہی کسی کاشتکار کو زندہ رکھتا ہے یا اسے اپنی بے رحمی سے ختم کر دیتا ہے۔
موسم کی بے رحمی محکمہ موسمیات کو نہیں کاشتکار کو معلوم ہوتی ہے اور جس کی روزی بناتی یا بگاڑتی ہے ۔کوئی کاشتکار موسم کی اداؤں پر زندہ رہتا ہے یا جان دے دیتا ہے، موسم میں کسی کاشتکار کی زندگی کا دارومدار ہوتا ہے اور یہ موسم ہی ہے جس کے بناؤ سنوار کے ساتھ کوئی کاشتکار زندگی کی امیدیں وابستہ رکھتا ہے اور اسی موسم کے سہارے وہ اپنی سال بھر کی روزی تلاش کرتا ہے۔ یہ موسم ہی ہے جو اس کی فصل کو زندہ رکھتا ہے یا اپنی کسی نامہربان ادا سے اسے موت کے قریب کر دیتا ہے۔
غرض موسم میں ہی کسی کاشتکار کی زندگی ہے اور قحط سالی اسی موسم کا نام ہے جس میں کسی کاشتکار کی زندگی سسک کر کبھی ختم ہو جاتی ہے یا قسمت مہربان ہو تو بادلوں کے چند چھینٹے اس کی امیدوں کو زندہ کر دیتے ہیں ۔ کسان اسے ہی باران ِ رحمت کہتے ہیں اور اسی پر زندہ رہتے ہیں اسی میں کاشتکار کو ایک دم گم ہو جانا ہوتا ہے اس کی رضامندی اسے عمر بھر زمین کا محتاج رکھتی ہے زمین مہربان نہ ہو تو ایک کاشتکار کو ’دوسری‘ زندگی بھی نہیں ملتی اور ایسی مثالیں دیکھی گئی ہیں کہ انسان گل سڑ گئے لیکن زمین کے چند گز سے بھی محروم رہے۔
انسانی قصہ کہانیوں اور جنگوں کے حالات و واقعات میں انسانوں کو حیوانوں کی خوراک بنتے دیکھا گیا اور وہ انسان جو کل تک ان پر حکومت کرتے تھے آج ان کی خوراک بن گئے ۔ یہ باتیں میں ایک جنگ کے حالات پڑھ کر بیان کر رہا ہوں جو ایک جنگ زدہ مصنف نے چشم دید کی صورت میں بیان کیے ہیں ۔ زندگی سے محروم ہو جانے والے انسانوں کے جسموں پر کیا بیتی اور جانوروں نے ان کا کیا حال کیا مصنف نے بڑے دکھ کے ساتھ یہ بیان کیا ہے۔
ویسے تو ہر انسان کی زندگی پر ایسا وقت آتا ہے کہ وہ کیڑے مکوڑوں کی خوراک بن جاتا ہے، قدرت کے یہ کرشمے ہیں کہ انسان زندگی میں جس کی پرستش تک کی جا سکتی ہے لیکن جب ان کے اندر سے جان نکل جاتی ہے تو و ہ جانوروں کی خوراک بن جاتا ہے اور یہ بھی دیکھا گیا کہ جانور بھی پسند ناپسند پر اتر آتے ہیں اور کئی بے جان تو ان کی خوراک بھی نہیں بن پاتے۔ وہ انسان جو زندگی میں پتہ نہیں کیا کچھ ہوتا ہے روح اور زندگی سے محروم ہوتے ہی جانوروں کی خوراک بھی نہیں بن جاتا ،کاش کہ ہم اپنی اوقات دیکھ پاتے اور عبرت پکڑتے۔
اشتہارات



انسانی علوم کی کئی کتابیں اسی عبرت کو بیان کرتی ہیں۔کتنے ہی بزرگ آئے اور زندہ انسانوں کو عبرت کا درس دے کر چلے گئے ۔ پیغمبروں کے ارشادات کا ایک بڑا ذخیرہ ایسی ہی نصیحتوں پر مشتمل ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ الہامی کتابیں بھی زندہ انسانوںکو عبرت کا سبق دیتی ہیں ۔ پیغمبروں کی بات تو رہنے دیں بزرگ اور نیکی کو زندہ رکھنے والے بھی اپنے زبانی ارشادات اور اپنے اعمال سے بھی یہی سبق دے گئے ۔ ہر انسان کی زندگی میں کتنے ہی عبرت انگیز واقعات موجود ہوتے ہیں جن میں سے کئی ایک انسانی زندگی کو بدل دیتے ہیں اورخود بدل جانے والے انسان اپنے آپ پر حیرت کرتے رہ جاتے ہیں۔
تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب کوئی انسان اس قدر بدل گیا کہ اس کا شمار اﷲ کے محبوب بندوں میں ہونے لگا ۔ اس سچ سے کون انکار کر سکتا ہے کہ کوئی گنہگار اس قدر کسی بات سے متاثر ہوا کہ اس کی زندگی ہی بدل گئی اور کل کے گنہگار ایک ولی بن کر دنیا کے گنہگاروں کو سنوارنے لگے اور ان کی برکت سے ایک دنیا ایسی متاثر ہوئی کہ وہ ایک مثال بن کر رہ گئے اور ان کے نام اور برکت سے حالات دگرگوں ہو گئے۔
انھی بدلے ہوئے حالات میں سے کچھ ایسے لوگ سامنے آئے جو اپنے ساتھ ایک نئی دنیا لے کر آئے اور انسانی زندگی میں نئے رنگ بھر دیے ۔ اولیا کرام کی زندگی میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ ایک عام انسان پر کسی بزرگ کا ایسا سایہ پڑا کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ پہچان سکا اور اپنی بدلی ہوئی عارفانہ زندگی سے ڈرنے لگا۔
انسان کے اندر بعض اوقات اچانک ایسی تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں کہ وہ خود ان پر حیران رہ جاتا ہے اور یہ نئی زندگی اس کے لیے ایک انکشاف بن جاتی ہے جس پر نہ صرف وہ خود حیران ہوتا ہے اس کے حلقہ کے لوگ بھی پریشان ہو جاتے ہیں ۔ انسان کے اندر ایسی تبدیلی ایک کرشمہ ہے جو اچھی صورت میںکسی کسی کو نصیب ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ انسان کی کسی تبدیلی کو ایک نیکی بنا دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں