کیا کسی کو ہوش ہے(آخری قسط)

orya-maqbool-jan-column
دیا میربھاشا ڈیم ان منصوبوں میں سے ایک ہے جس کے بارے میں حکومت پاکستان، ورلڈبینک اورایشین ڈویلپمنٹ بینک سے قرض حاصل کرنے کے لیے کئی سالوں سے کوشش کررہی تھی لیکن ہردفعہ یہ دونوں ادارے بھارت کے اس اعتراض کی وجہ سے کہ یہ ڈیم ایک متنازعہ علاقے میں بن رہا ہے، اس کوفنڈ فراہم نہیں کرتے تھے. آخرکارچین نے اسے سی پیک کے ان منصوبوں میں شامل کرلیا جن پرچین پچاس ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرے گا. لیکن پاکستان واپڈا کے چیرمین نے چند دن پہلے ازخود اعلان کردیا کہ چین جس طرح کی سرمایہ کاری دیا میربھاشا ڈیم کے لیے کررہا ہے اورجوشرائط اس نے رکھی ہیں وہ ہمیں منظورنہیں کیونکہ یہ ہمارے مفاد میں نہیں ہیں. یہ منصوبہ گلگت بلتستان کے علاقے میں شروع ہونا تھا اوریہ کشمیرکے پڑوس میں ضرورہے اوریہ قدیم کشمیری ریاست کے ایک حصے کے طورپرجانا جاتا تھا. لیکن جس طرح کوئٹہ اوراسکا گردونواح یعنی پشین اورلورالائی برٹش بلوچستان کا حصہ بن گئے تھے اورریاست قلات کی انتظامی دسترس سے باہرتھے ویسے ہی گلگت بلتستان بھی تھے. اسی علاقے میں آج سے کئی دہائیاں پہلے شاہراہ قراقرم تعمیرہوئی اورکسی نے بھارتی اعتراضات کی پروا نہیں کی لیکن اس منصوبے پرجو 4500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا تھا، اورجس پرچین نے 14 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنا تھی، اس سے پاکستان نے ازخود انکارکردیا ہے. گزشتہ سالوں میں جب نوازشریف حکومت کے قطرسے ایل این جی کے مذاکرات کامیاب ہوئے توپاکستانی بجٹ میں متعین کردہ وہ رقم جودیا میربھاشا ڈیم کے لیے رکھی گئی تھی اسے نوازشریف کے معاشی پنڈتوں اسحاق ڈاراوراحسن اقبال نے کراچی سے ایل این جی کی پائپ لائن بچھانے کے لئے دے دیا. یوں دیا میراب نہ چینی بنائیں گے اورنہ ورلڈ بینک اورنہ ہی پاکستانی اس پرسرمایہ کاری کریں گے. لگتا ہے ہمیں توبھارت کوخوش رکھنا ہے. کیونکہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق پاکستان اپنا جتنا زائدپانی استعمال نہیں کرتا، اورجب تک نہیں کرتا، بھارت اس پرڈیم بنا کراستعمال کرسکتا ہے. یہی وجہ ہے کہ اربوں ڈالرخفیہ امداد کی صورت میں بھارت پاکستانی گروہوں کوپہنچاتا ہے جودریائے سندھ پرنئے ڈیموں کی مخالفت کرتے ہیں. دوسری جانب ہمارے حکمرانوں اوربیوروکریٹس کا وہ لالچ ہے جوانہیں تیل کی کمپنیاں بھاری مقدارمیں تیل خرید کربجلی بنانے کی صورت میں کمیشن کے طورپردیتی ہیں. اگرپانی سے بجلی بننا زیادہ شروع ہوگئی توکمیشن مارا جائے گا.
بھارت کے اسی اثرورسوخ کا عالم ہے کہ نیپال اپنے سب سے بڑے دریا بڈھی گندکی پرچین کے تعاون سے ایک ڈیم بنانا چاہتا تھا تاکہ اپنی توانائی کی ضروریات کوپوراکرسکے. چین اس ڈیم پرڈھائی ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنا چاہتا تھا، لیکن نیپال کے ڈپٹی وزیراعظم کمال تھاپا نے اعلان کردیا کہ ہم یہ ڈیم نہیں بنائیں گے. یہ اعلان پاکستان میں واپڈا کے چیئرمین مزمل حسین کے اعلان کے صرف دودن پہلے کیا گیا. اس کی وجہ یہ ہے کہ نیپال کے تمام دریا دراصل بھارت کے سب سے بڑے دریا گنگا میں آکرملتے ہیں اوربھارت اس پورے خطے کے پانیوں پراپنا حق جمانا چاہتا ہے. یہی لڑائی بنگلہ دیش کے برہم پترا دریا پربنائے جانے والے ڈیموں پربھی ہوئی تھی. لیکن تشویش ناک صورتحال یہ ہے کہ پاکستان اورنیپال میں ڈیموں کی تعمیراوران پرسرمایہ کاری سے انکاران دونوں ملکوں نے ازخود کیا ہے. چلونیپال توبھارت کے زیرِ اثر ہوا، لیکن پاکستان کوکس جانب سے دباؤ تھا. پاکستان دنیا بھرسے بدترین شرائط پرقرضہ لیتا ہے، امریکی دباؤ پرپورا پاکستان ان کے حوالے کردیا جاتا ہے لیکن اس ڈیم کے لیے چینی شرائط منظورنہیں. دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے کہ لگتا ہے سب امریکی اثرورسوخ کا نتیجہ ہے اوریہ اثرورسوخ بھی ان پاکستانی حکومتی اہلکاروں کے ذریعے ممکن ہوا ہے جنہیں امریکہ نے کئی سالوں کی محنت اورتگ ودو کے ساتھ بے شمارمراعات دے کراپنی لابی میں شامل کیا ہوا ہے. ان میں سیاستدان بھی ہیں اوربیوروکریٹ بھی، مذہبی طبقے بھی ہیں اورعسکری نمائندے بھی. یہ سب ایک مدت سے اس کوشش میں‌ ہیں کہ پاکستان اس خطے میں امریکہ کی خواہشات کے مطابق بھارت کی بالادستی ایسے تسلیم کرے کہ بظاہردوستی وتجارت معلوم ہواورایران کے توسط سے افغان حکومت کومضبوط کیا جائے اوروہاں کی آزادی کی تحریک جوطالبان کی صورت کامیابی کی صرت منظم ہے اسے شکست سے دوچارکیا جائے. یہی وجہ ہے کہ سی پیک میں ہونے کے باوجود اورچین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے اوردفاعی طورپرزیادہ سے زیادہ انحصار کرنے کے باوجود پاکستان امریکی گود سے نکل نہیں پارہا.
a


یہی نیم دروں والی پالیسی ہے جس کی وجہ سے امریکہ پاکستان کومستقل دھمکا رہا ہے اورہم ان دھمکیوں کے باوجود بھی اس کچے دھاگے کے ساتھ لٹکے ہوئے ہیں اوراسے چھوڑکرخود انحصاری یا پھرچین اورروس کے بظاہرکھلے کھلے حلیف نہیں بن جاتے. دوسری جانب امریکی اسٹیبلشمنٹ اورامریکی تھنک ٹینک گزشتہ چند سالوں سے پاکستانی ریاست کوایک ایسے میدان جنگ میں تبدیل کرنا چاہتی ہے جہاں ہرگروہ ایک دوسرے سے دست وگریبان اورہرپڑوسی اس پرگولے برسا رہا ہو. یہی وجہ ہے کہ امریکی سرپرستی میں افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ قائم کیے گئے اوربلوچستان کے علیحدگی پسندوں کوافغان سرزمین پرٹریننگ دی گئی. دوسری جانب بھارت اورایران کے گٹھ جوڑ سے شاہراہوں کا ایک ایسا جال بچھایا گیا کہ افغانستان کا انحصارپاکستان کی بندرگاہ سے کم ہوکرایرانی بندرگاہ چابہارپرہوجائے. لیکن اس پورے پلان کوتباہ اورمشرقی افغانستان پرطالبان کے کنٹرول نے امریکی خواب چکنا چورکردیا. سوسالہ جنگ میں ذلت آمیزشکست کے بعد امریکہ افغانستان کا ملبہ پاکستان پرگرانا چاہتا ہے اوراس کے لیے ایک طویل عرصے سے پلاننگ ہورہی ہے. 1979ء میں امریکہ نے ڈائریکٹرنیشنل انٹیلی جنس کے زیراہتمام ایک نیشنل انٹیلی جنسس کونسل (NIC) بنائی ہے جوامریکی انتظامیہ کومعلومات فراہم کرنے کے علاوہ اہداف بھی بتاتی ہے اوردنیا بھر کے ممالک میں ہونے والے واقعات کا پتہ بھی دیتی ہے. ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے صرف چاردن بعد انہوں نے اپنی رپورٹ 24 جنوری 2017ء کوجمع کروائی. جس کے مطابق اگلے پانچ سالوں میں بھارت کی معیشیت سب سے تیزی سے ترقی کرے گی جبکہ چین کی ترقی اسکے اپنے اندرونی خلفشار اورپھیلے ہوئے مفادات کی وجہ سے رک جائے گی. پاکستان اوربھارت اپنی ایٹمی صلاحیت میں اضافہ کریں گے، اوریہ صلاحیت چھوٹے ہتھیاروں کی صورت میں سمندرمیں موجود جہازوں تک پہنچ جائے گی اورچین، بھارت اورپاکستان کی وجہ سے بحرہند میں‌ ایٹمی قوتوں کا ٹکراؤ ہوسکتا ہے. رپورٹ نے اس کے تین نتائج بتائے ہیں. جن میں ایک یہ ہے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان سن 2028 میں‌ زبردست جنگ چھڑجائے گی. اس لئے کہ بھارت اورپاکستان سندھ طاس معاہدے کی بنیادپرپانیوں کی تقسیم پرراضی تھے مگراب اس پرلڑائی چل رہی ہے اوراس کی وجہ 2016ء میں ہونے والے بھارتی فوجی بیسوں پرحملے اوربارڈرکی لڑائیاں ہیں. اب یہ معاہدہ عملی طورپرختم ہوچکا ہے. 2020ء ایسا سال ہے جب امریکہ اپنے معاشی حالات، سیاسی مجبوریوں اورافواج کی پست ہمتی کی وجہ سے اس دنیا کے حالات میں عدم دلچسپی لینا شروع کردے گا اورایک لمبی ریٹائرمنٹ پرچلا جائے گا. اس ریٹائرمنٹ کا فائدہ روس، چین، بھارت اورایران اٹھائیں گے. سترسالہ سرد جنگ ایک بارپھربڑے محاذ میں تبدیل ہوجائےگی. اس لیے 2020ء سے پہلے امریکہ کوچاہیے کہ دنیا بھرمیں ایسے تمام ممالک اورگروہوں کویا تونیست ونابود کردے یا پھرانہیں اس قدرنقصان پہنچائے کہ وہ اٹھنے کے قابل نہ رہیں. ان تمام ممالک میں پاکستان سرفہرست ہے. اس کے پاس ایٹمی ہتھیارہیں اوریہ افغانستان میں امریکہ کے خلاف لڑنے والوں سے خفیہ طورپرملا ہوا ہے. یہ تھی وہ رپورٹ جس کے پیش ہونے کے بعد پورا سال امریکہ اورپاکستان کے درمیان چپقلش، عدم اعتماد اوردھمکیوں کا سال رہا ہے. پہلے ٹرمپ، پھروزیرخارجہ، پھرنائب صدرکا اعلان کہ اب پاکستان کے دن ختم ہوگئے اوراب ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ ٹویٹ کہ ہم نے پاکستان کو15 سال میں 33 ارب ڈالردیے اورانہوں نے ہمیں بے وقوف سمجھ کردھوکہ دیا. یہ اس لمحے کی جانب بڑھتا ہوا قدم ہے جب پاکستانی سرزمین امریکی ڈرونز اورطیاروں کی زد میں ہوگی. ٹرمپ کوسنجیدگی سے لینا چاہیئے کیونکہ آج تک اس نے جوکہا وہ کیا. 1995ء میں امریکی کانگریس نے یہ قانون منظورکیا تھا کہ امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کیا جائے. 32 سال تک کسی امریکی صدرکواس پرعمل کرنے کی جرات نہ ہوسکی. ٹرمپ یہ کرگزرا. اب بھی اگرپاکستان میں امریکی زبان بولنے والے افراد ہمیں بھارت سے دوستی، افغان حکومت کی مدد اورامریکہ کی طاقت کا خوف دلا رہے ہیں تو وہ اس قوم کوموت کی وادی میں دھکیلنا چاہتے ہیں.(ختم شد)

اپنا تبصرہ بھیجیں