Orya-Maqbool-Jan

جیسا کروگے، ویسا بھروگے

orya-maqbool-jan-column
سید ضمیرجعفری مزاحیہ شاعری میں اپنا ایک الگ اسلوب رکھتے تھے ان کی ایک غزل کا شعریوں توعمومی طورپرمسلمانوں کے لیے کہا گیا ہے، لیکن نوازشریف کی موجودہ حالت کے عین مطابق ہے

مسلمانوں کے سرپہ خواہ ٹوپی ہو نہ ہو لیکن
مسلمانوں کے سرسے بوئے سلطانی نہیں جاتی

آج بھی وہ شاہانہ انداز کے ساتھ پاکستان بھرکے صحافیوں کوجمع کرتے ہیں اورجس طرح مغل بادشاہ جھروکے میں کھڑے ہوکردیدارعام کرواتے تھے ویسے ہی اپنا بیان (لکھا ہوا) پڑھ کربغیرکسی سوال کا انتظارکیے پاکستانی میڈیا کے باغیرت، باہنر اورآزادی اظہار کے علمبردارصحافیوں کو بے زبان رعایا کی طرح‌ حیرت میں چھوڑکرچلے جاتے ہیں. ان کا انداز دوران حکومت یہی تھا اور 28 جولائی 2017ء کے بعد تواس کاسئہ سرمیں سلطانی اورتکبرکی خومزید بڑھ گئی ہے. مجھے حیرت میڈیا والوں پرہے کہ جوہردفعہ اورہرموقع پریہ ذلت برداشت کرتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی صدائے احتجاج بلند نہیں کرتا. موصوف کی آخری “پرفارمنس” پنجاب ہاؤس کے جھروکے سے دیداراورنورتنوں کا لکھا ہوا شاہی فرمان تین جنوری 2018ء کودوبجے ان کے لب لعلیں سے انگاروں کی صورت میں برآمد ہوا. سعودی عرب سے “بامرادوبانصیب” واپسی کا زخم سینے پرداغ بن کرنظرآرہا تھا، جس سے اٹھنے والے دھویں کوانہوں نے صبح سویرے احتساب عدالت میں پیشی کے بعد عدالت اورعمران خان کونشانہ بناتے ہوئے دل کا غبارنکال کرٹھنڈا کیا. لیکن اصل دکھ تووہ تھا جوایک دن پہلے سے داغ بن کرسینہ جلا رہا تھا، نوازشریف صاحب کوگزرے سال بہت یاد آرہے ہوں گے کہ یہ تووہی کچھ ہونے جا رہا ہے جوبلوچستان کی سیاسی بساط پروہ خود باربارسادہ لوح بلوچوں اورپشتونوں‌ کے ساتھ کرتے رہے ہیں. آدمی نے جس طرح‌ کسی کوپہاڑی سے دھکا دے کرگرایا ہو، اگرکوئی اسے اسی طرح دھکا دے کرگرانے آئے تواسے وہ سب کچھ یاد آجاتا ہے اورکھائی میں گرتے ہوئے اس کی آہ وبکا بھی ویسی ہی ہوتی ہے جیسی اس “خطاب نما پریس کانفرنس” میں میاں‌ محمد نوازشریف کی تھی. ضیاءالحق کے گیارہ سالہ دورمیں وزارت اوروزارت اعلیٰ کے آمریت زدہ مزے لینے کے بعد 1988ء کے الیکشن میں نوازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے اورمرکزمیں بے نظیربھٹوکی حکومت بن گئی. بلوچستان کے تینتالیس(43) ممبران اسمبلی میں نہ پیپلزپارٹی اورنہ ہی مسلم لیگ، دس نشستیں جمیعت العلماء اسلام اورچھ نواب اکبربگٹی بلوچستان نیشنل پارٹی کوملیں. یوں‌ تواسلامی جمہوری اتحاد کے نام پرمنتخب ہونے والے صرف دس ممبران موجود تھے لیکن دس آزاد اوردیگرکوملاکرانہوں نے ظفراللہ جمالی کے ساتھ اتحاد کرلیا. بلوچستان اسمبلی کا وہ ہنگامہ خیزاجلاس آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے جب اسپیکرمحمد خان باروزئی کے سامنے ایوان برابر تقسیم ہوگیا تھا اورجمیعت العلماء اسلام کے اتحاد کے ووٹ، اورظفراللہ جمالی کے اتحاد کے ووٹ برابرہوجائیں. انہوں نے ایسا ہی کیا، اسمبلی میں‌ ہنگامہ برپا ہوا وہ باہربھاگے، ہنگامہ جاری تھا، بے چینی میں واپس اندرآئے تواسپیکرنے انہیں دیکھے بغیرہی دروازے بند کرکے گنتی کا اعلان کردیا، اب وہ چھپتے پھررہے تھے، لیکن سپیکرنے دونوں کے ووٹ برابرقراردے دیا. ہنگامے شروع ہوئے، مقدمہ عدالت تک جا پہنچا. بے نظیرنے اس وقت کے گورنرموسیٰ کواسمبلی توڑنے کے لیے کہا، اسمبلی ٹوٹی، عدالت نے بحال کی. یہاں‌ میاں نوازشریف کی شاطرانہ سیاست بلوچستان میں داخل ہوئی. انہوں نے اکبربگٹی کوبے نظیرمخالف سجمھ رکر ساتھ ملایا اورپھربلوچستان اورپنجاب دونوں صوبوں میں مرکز مخالف مہم کا آغاز ہوگیا. وزیراعلیٰ پنجاب نوازشریف کوئٹہ آئے تواس وقت ان کے مخالف محمود خان اچکزئی کی پشتونخواہ میپ نے کالی جھنڈیوں سے ان کا استقبال کیا. نواب اکبربگٹی کی حکومت میں جمیعت العلماء اسلام اورآئی جے آئی کے ساتھ آزاد بھی شامل تھے. یہ وہی دورتھا جب نوازشریف پس پردہ حلقوں کے ساتھ ملکرچھانگا مانگا کھیل رہے تھے. ناکام ہوئے توغلام اسحاق سے تمام اسمبلیاں اگست 1990ء میں‌ مشہورزمانہ 58(2-B) کے تحت ختم کروادیں. اکبربگٹی اورنواز شریف کا اتحاد اگلے الیکشنوں میں بہت زوروشورسے میدان میں اترا. نواب اکبربگٹی کے داماد میرہمایوں‌مری کونگران وزیراعلیٰ بنایا گیا. موجودہ سیکرٹری الیکشن کمیشن بابریعقوب نگران وزیراعلیٰ اورنواب اکبربگٹی کے زیرسایہ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں تمام الیکشن کی مخصوص “نگرانی” پرمامورتھا. نواب اکبربگٹی نوازشریف کے وعدوں پرفریفتہ ہوگئے اورانہوں نے 1988ء میں اپنے ساتھیوں عطااللہ مینگل، خیربخش مری اورڈاکٹرحئی کوفراموش کرکے علیحدہ جمہوری وطن پارٹی بنا لی. تینتالیس (43) سیٹوں کی اسمبلی میں 1990ء کے الیکشنوں میں یہ دس نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی کے طورپرسامنے آئی. جمیعت العلماء‌اسلام کی چھ، اورآئی جے آءی کی سات ملا کرکل 23 نشستوں کے ساتھ نواب اکبربگٹی سجمھ رہے تھے کہ اب وہ حکومت بنا لیں گے. لیکن اب سیاست کی وہ شاطری شروع ہوتی ہیں، جہاں دوست دشمن کی پہچان ختم ہوجاتی ہے. نوازشریف اپنی مسلم لیگ کا وزیراعلیٰ چاہتے تھے، لیکن بظاہرنواب بگٹی کی حمایت کا دم بھرتے تھے. انہوں نے کمال مہارت سے تاج محمد جمالی اورسرورکاکڑ کے ذریعے بلوچستان کے نون لیگیوں کونواب بگٹی کے خلاف ابھارا، اردگرد کے آزاد اراکین اورپرانے دشمن محمود اچکزئی سے اتحاد کیا، جس نے کبھی ان کا استقبال سیاہ پرچموں کے ساتھ کیا تھا اوریوں نواب اکبربگٹی اپنی اکثریت کے باوجود بلوچستان میں حکومت نہ بنا سکے اورنواز شریف کا بظاہرمعوصوم سا منہ دیکھتے رہ گئے. اس کے بعد سے لیکر اپنی وفات تک وہ ہمیشہ نواز شریف کے اس دوغلے پن پرلاہورکی مٹی اورپنجاب پردلچسپ اورطنزیہ گفتگوکرتے رہے. وہ میرے ساتھ بوجوہ محبت پنجابی بولتے تھے لیکن اکثرکہتے، تم پنجابیوں کی دوستی سے ہوشیاررہنا چاہیے.
a


شاطرانہ سیاست کا اگلہ مرحلہ 1997ء کے الیکشنوں میں آیا جب محترم نواز شریف ملک بھر سے دوتہائی اکثریت کے ساتھ جیتے لیکن بلوچستان کی اسمبلی میں ان کے پاس صرف چارنشستیں تھیں، جبکہ اکثریتی پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی کے ساتھ گیارہ اوراس کی اتحادی نواب اکبربگٹی کی جمہوری وطن پارٹی کے پاس چھ اورجمیعت العلماء اسلام کے پاس سات نشستیں تھیں. نوازشریف نے ان کے ساتھ اپنی چارنشستوں کوملاکرسرداراخترمینگل کو 22 فروری 1997ء کووزیراعلیٰ‌ منتخب کرلیا. اخترمینگل نوازشریف پرکمال بھروسے کے ساتھ وزارت اعلیٰ کررہے تھے، یہاں تک کہ ایک دفعہ انہوں نے نوازشریف کی ایئرپورٹ سے گاڑی بھی ڈرائیو کی تھی اورپورے صوبےمیں بلوچ قوم پرستوں نے انہیں طعنہ دیا کہ انہوں‌ نے ان بلوچ سرداروں کی یاد تازہ کردی ہے جوسبی میلے میں انگریزوائسرائے کی بگھی کھینچا کرتے تھے، صرف ایک سال پانچ ماہ بعد ایک دفعہ پھرشاطرانہ سیاست کا جال بچھایا گیا اورتربت کے رکن اسمبلی احسان شاہ کی سرکردگی میں اخترمینگل ہی کی پارٹی، بی این پی کے ارکان کوتوڑکرایک علیحدہ گروپ بنایا گیا اور 29 جولائی 1998ء کو اپنے بظاہرآزاد اوراندرونی نون لیگی جان محمد جمالی کووزیراعلیٰ بنوا دیا. بیچارہ اخترمینگل جس نے موٹروے کے افتتاح پرنوازشریف کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کرسفرکیا تھا حیرت کے ساتھ نوازشریف کا معصوم سامنہ دیکھتا رہ گیا.
آج جب بلوچستان اسمبلی کے نون لیگی ارکان خودنوازشریف کے ساتھ عدلیہ کے خلاف تحریک میں ساتھ دینے والے اپنے نون لیگی وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری ہی کے خلاف اکٹھے ہوئے ہیں اوربلوچستان اسمبلی میں نوازشریف کی پارٹی کے ساتھ وہی سلوک ہونے والا ہے جوانہوں‌ نے 1990ء اور1997ء میں جمہوری وطن پارٹی اوربی این پی کے ساتھ کیا تھا توان کے ہوش اڑگئے ہیں. یہاں تومعاملہ اوربھی سنگین ہے کہ اگربلوچستان اسمبلی ٹوٹ جاتی ہے توسینٹ میں‌ اکثریت کا خواب بھی چکنا چورہوجائے گا. ایسے میں بے چین و مضطرب نوازشریف کی آنکھوں میں وہ سب کچھ گھوم گیا ہوگا اورفلم کی طرح‌ نظرآنے لگا ہوگا کہ اب تواکھاڑے میں میرے ساتھ ہی داؤپیچ لگائے جا رہے ہیں جومیں نے بھی کبھی لگائے تھے اوراب میرا بھی ویسے چت گرنا لازم ہوگیا ہے، توایسے میں لال بھبھوکا نوازشریف کے منہ سے جوبھی لفظ نکلے وہ فطری ہیں. مکافات عمل، بیجے ہوئے کوکاٹنا اورجوکیا تھا اسے بھرنا اسی کوکہتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں