پردے کے پیچھے


میاں نواز شریف اینٹرٹینمنٹ اور انفوٹینمنٹ کی دنیا میں بہت تیزی سے اپنی جگہ بنا رہے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب وہ اس دنیا کے بے تاج بادشاہ ہونگے اور یہاں بھی انہیں وہ مقام حاصل ہو گا جو کبھی سیاست میں تھا۔’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کے بعد ’’پردے کے پیچھے‘‘ جیسا شہکار پیش کیا جا چکا ہے جس کی خاطر خواہ پذیرائی جاری ہے۔ طنز و مزاح سے بھرپور اس شہکار کی ہائی لائٹ ’’لاڈلا‘‘ ہے جب کہ دنیا جانتی ہے کہ خود میاں صاحب پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اک ایسے انوکھے لاڈلے تھے جنہیں ’’لائسنس ٹوکل‘‘ بھی حاصل تھا ورنہ تحریک استقلال جیسی معمولی سیاسی پارٹی کا معمولی سیاسی ورکر جو میرٹ پر کونسلر تک منتخب نہ ہو سکا، تین بار وزیر اعظم نہ ہو سکتا لیکن المیہ یہ کہ میاں صاحب اپنے بارے میں بتدریج ’’سیریس‘‘ہوتے گئے کہ ’’اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں‘‘۔ جب تک انہیں ’’جعلی‘‘ ہونے کا احساس رہا یہ چھڑی کے اشاروں کے عین مطابق ’’بی ہیو‘‘ کرتے رہے اور ’’گڈ بے بی‘‘ کے مقام پر فائز رہے لیکن جیسے جیسے ان کے ’’جسد سیاسی‘‘ میں جان پڑتی گئی جینوئن لیڈر ہونے کا زعم بڑھتا گیا یہ اپنی لاعلمی کے سبب جامے سے باہر نکلتے گئے جو قابل فہم ہے۔’’عام سا تھا وہ شخص جسے اوقات بھلا دی لوگوں نے‘‘ بھٹو کے ساتھ ایک مختلف انداز میں یہی کچھ ہوا تھا، وہ پڑھا لکھا آدمی تھا جو ’’قائد عوام‘‘ ہونے کے زعم میں خود کو نا قابل تسخیر اور ناگزیر سمجھنے کے موذی مرض میں مبتلا ہو گیا۔ یہ تو پھر واجبی سے علم، عقل سمجھ بوجھ کے مالک تھے جو اپنے آقائوں ، مالکان ،موجدوں کے مقابل اترتے اترتے ’’فرینکسٹا ٹین‘‘ بننے پر تل گئے ۔ جن کی آرام دہ گود میں بیٹھے ،پروان چڑھے۔ انہی کی داڑھیوں سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی، فیڈ کرنے والے ہاتھوں پر پنجے چلانے شروع کر دئیے، جن کی آنکھوں کے اشارے سمجھتے تھے ، انہیں آنکھیں دکھانے لگے، یہ سب کچھ بھی چل جاتا لیکن اس کے لئے ایسے کردار کی ضرورت تھی جس پر دشمن بھی انگلی نہ اٹھا سکے لیکن میرٹ کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے، اداروں کو کھوکھلا کرتے ہوئے حضور نے لوٹ مار کا بازار بھی جس دیدہ دلیری سے گرم کیا، وہ ناقابل یقین ہے۔ یہیں کہیں بھی رک جاتے تو شاید نبھ جاتی لیکن طاقت اور دولت کے اندھے ارتکاز کی بے لگام ہوس نے ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا جس میں جتنےبھی ہاتھ پائوں ماریں گے، غرق ہونے کے پراسیس میں اتنی ہی تیز ی آتی جائے گی اور آخر میں دلدل کی سطح پر چند دائرے، کچھ بلبلے اور بلبل ہزار داستان کا انجام مکمل کہ یہی اس کھیل کا منطقی نتیجہ ہے۔غالباً شیکسپیئر نے کہا تھا …………’’کچھ لوگ پیدائشی طور پر عظیم ہوتے ہیں، کچھ لوگ جان توڑ جدوجہد کے بعد عظمت کے حصول میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور کچھ پر عظمت زبردستی تھوپ دی جاتی ہے‘‘ ۔ نواز شریف کا تعلق تیسری قسم قبیل کے لوگوں سے ہے جسے مخصوص حالات، واقعات، حادثات اور اتفاقات نے جعلی عظمت کے مقام پر فائز کر دیا۔ لوئر مڈل کلاس کا گہرا، گھنا، منتقم مزاج جنرل ضیاء الحق ایک طرف دیہی پشتینی زنگ آلود سیاسی اشرافیہ سے بیزار تھا اور دوسری طرف’’ سیکولر‘‘ پیپلز پارٹی اور اس کی لیڈر شپ سے خوفزدہ اور شدید نفرت کا شکار۔ اسے کوئی شوقین متمول شہری بابو درکار تھا سو فنکار گھرانے کے کم عمر تابعدار لڑکے کی لاٹری نکل آئی تو سمجھو قیامت آ گئی۔ رام گلی اور گوالمنڈی کے بازار کا جب ایوان اقتدار سے کراس ہوا تو وہی ہوا جو سنگترے اور مالٹے کے کراس کی صورت میں کینو کی شکل میں ہوا تھا۔ سٹریٹ سمارٹنس کا کاریڈورز آف پاور کے ساتھ یہ انوکھا ملن حشر برپا کر گیا۔ کچے پکے راستوں، گلیوں کے راہی’’شاہی خاندان‘‘ قرار پائے کہ شاید ہی کبھی کسی جمہوری ملک میں اتنے رشتہ دار جوتوں سمیت اقتدار پر سوار ہوئے ہوں۔ کوئی حربہ، طریقہ، نسخہ، فارمولا، ذاتی اقتدار قائم رکھنے کا ایسا نہیں جو انہوں نے بے دریغ نہ آزمایا ہو۔کہانی لمبی ہے، کالم کا نہیں کسی ناول کا موضوع ہے اس لئے تھوڑے کہےکو بہت جانیں اور دیکھتے جائیں کہ پردے کے پیچھے کیا ہے؟اوپر اور نیچے کیا ہے؟کاش نواز شریف اقتدار کو نماز سمجھتے اور احتساب کے جواب میں کہہ سکتےہم خستہ تنوں سے محتسبوکیا مال منال کا پوچھتے ہولو ہم نے دامن جھاڑ دیااور جام الٹائے دیتے ہیںلیکن پانامے اور پارک لین کون الٹا سکتا ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں