معذرت خواہانہ مزاحمت؟

Hamid-Mir
برا نہ منائیے گا، اس ناچیز کی رائے کو جذباتیت قرار دینے سے قبل ذرا سوچئے گا کہ آپ کو سچے جذبات کے ساتھ زندگی گزارنی ہے یا ڈبل گیم کے الزام کے ساتھ زندگی گزارنی ہے؟ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک طرف ہم سے اربوں ڈالر امداد لیتا ہے، دوسری طرف افغانستان میں ہمارے خلاف لڑنے والوں کی حمایت کرتا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے پاکستان پر ڈبل گیم کا الزام لگادیا ہے۔ امریکی صدر کی طرف سے پاکستان کے خلاف توہین آمیز زبان کے استعمال پر ہندوستانی میڈیا میں جشن کا سماں تھا۔ پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس بیان کا ایک مؤثر جواب دیا جائے گا۔ پھر وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، راولپنڈی میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی اور قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا۔ اس اجلاس کے بعد وزیر اعظم ہائوس کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ٹرمپ کے بیان پر مایوسی کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ میرے خیال میں پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت نے مل بیٹھ کر ٹرمپ کے لئے جو جواب تیار کیا وہ انتہائی کمزور اور معذرت خواہانہ ہے۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان جلد بازی میں کوئی قدم نہیں اٹھائے گا لیکن امریکی حکومت کی طرف سے پاکستان کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے جس میں ہندوستان بھی اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان پر میری مایوسی کی وجہ یہ قطعاً نہیں کہ اس بیان میں ٹرمپ کے خلاف سخت الفاظ کیوں شامل نہیں کئے گئے؟ مایوسی کی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ نے افغانستان کی صورتحال کے بارے میں جو دعویٰ کیا صرف اسی کا جواب دے کر ہماری سیاسی و فوجی قیادت نے دفاعی انداز اختیار کرلیا۔ کیا پاکستانی قوم کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ امریکی صدر کی پاکستان سے ناراضی کی اصل وجہ افغانستان کی صورتحال نہیں ہے بلکہ امریکہ کو اصل غصہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور چین پاکستان اقتصادی راہداری پر ہے؟ کیا پاکستانی قوم کو یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے حکمرانوں نے ہمیشہ امریکی مفادات کا تحفظ کیا۔ امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے 1954 میں سائوتھ ایسٹ ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن(سیٹو) کے نام سے ایک فوجی اتحاد بنایا گیا جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، فلپائن اور تھائی لینڈ کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی شامل ہوگیا۔ یہ اتحاد کمیونزم کا راستہ روکنے کے لئے بنایا گیا اس میں ہندوستان شامل نہیں تھا۔ 1955میں سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن(سینٹو) کے نام سے ایک اور اتحاد بنایا گیا جس میں برطانیہ، ترکی، ایران ، عراق اور پاکستان شامل تھے ، بعدازاں امریکہ بھی سینٹو میں شامل ہوگیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایران اور عراق میں امریکہ نواز حکومتیں تھیں لیکن کچھ سالوں کے بعد وہاں امریکہ مخالف حکومتیں آگئیں۔ ان فوجی اتحادوں کا حصہ بننے کے بعد 1960میں جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت نے بڈابیر ائر بیس سے امریکہ کے جاسوس طیاروں کو پرواز کی اجازت دی۔ سابقہ سوویت یونین نے ایک جاسوس طیارے کو گرالیا۔ طیارے کے پائلٹ گیری پاور نے پیرا شوٹ سے چھلانگ لگا کر جان بچالی لیکن گرفتار ہوگیا۔ گرفتاری کے بعد اس سے پوچھا گیا کہ تم نے کہاں سے پرواز کی تھی تو موصوف نے فوراً پاکستان کا نام لیا اور یوں دنیا کو پتہ چلا کہ پاکستان نے ا مریکہ کو فوجی اڈے فراہم کررکھے ہیں۔
اشتہارات



امریکہ کو پاکستان کے فوجی اڈوں کی کیوں ضرورت تھی؟ اس لئے کہ افغانستان میں ماسکو نواز حکومت تھی۔ سرد جنگ کے زمانے میں ہندوستان اور افغانستان نے امریکہ کی بجائے سابقہ سوویت یونین کا ساتھ دیا۔ پاکستان اپنے قومی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر امریکہ کی نوکری کرتا رہا۔ 1965کی جنگ شروع ہوئی تو ناصرف ہمارے فوجی اتحادی امریکہ نے ہمارا ساتھ نہیں دیا بلکہ ہماری امداد بھی بند کردی۔ 1971کی جنگ میں بھی یہی کچھ ہوا۔ امریکہ نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ ڈبل گیم کی۔ 1974میں ہندوستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایٹمی پروگرام شروع کردیا۔ امریکی صدر جمی کارٹر نے بھٹو کو ایٹمی پروگرام بند کرنے کے لئے کہا۔ بھٹو صاحب کے انکار پر امریکی سی آئی اے نے پاکستان میں ایک بھٹو مخالف سیاسی اتحاد بنوایا، ایجی ٹیشن شروع کرایا اور جنرل ضیاء الحق کے ذریعہ مارشل لاء لگوادیا۔ ایک فوجی ڈکٹیٹر اور کچھ مذہبی جماعتوں کی ملی بھگت سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر پاکستان میں انتہا پسندوں کے ہاتھ مضبوط کئے گئے۔ 1979میں افغانستان میں سابقہ سوویت یونین کی مداخلت کے بعد جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کو امریکی سی آئی اے کابیس کیمپ بنادیا۔ آج افغانستان کے بہت سے لیڈر سابقہ سوویت یونین کے خلاف جہاد پر فخر کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ جہاد سی آئی اے اور پاکستان کی مدد سے کیا تھا۔ ان کا یہ جہاد صرف پاک افغان سرحدی علاقے تک محدود نہ تھا بلکہ پاکستان بھر کے نوجوان اس جہاد میں شامل ہوگئے تھے۔ پاکستان نے دس سال تک افغانستان میں روسی فوج کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر لڑا اور آخر کار اس جنگ نے سوویت یونین کو اتنا کمزور کردیا کہ دنیا کی یہ دوسری سپر پاور ٹوٹ گئی۔ کیا آج پاکستانی قوم کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کا صدر پاکستان کو جس ڈبل گیم کے طعنے دے رہا ہے یہ ڈبل گیم دراصل اس خطے میں امریکہ نے شروع کرائی اور پاکستان نے اس گیم کا حصہ بن کر سوویت یونین کو توڑ ڈالا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے دنیا میں طاقت کا توازن ختم ہوگیا اور آج پاکستان کو اس کے ماضی کے کردار کے حوالے سے سراہنے کی بجائے دھتکارا جارہا ہے۔ وہ ہندوستان جو ہمیشہ سوویت یونین کی گود میں بیٹھا رہا آج امریکہ کا برخوردار بن گیا ہے۔ کیا آج پاکستانی عوام کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ نائن الیون کے بعد ایک اور فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی پاکستان کے فوجی اڈے امریکہ کو فراہم کردئیے اور مشرف کی مدد کے بغیر کابل سے طالبان کو نکالنا ناممکن تھا؟ امریکہ نے کابل سے طالبان کو نکال کر ہندوستان کو لابٹھایا۔ کیا یہ ٹرپل گیم نہیں تھی؟ افغانستان کے معاملے میں پاکستانی حکمرانوں کی غلطیوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ ہمیں ان غلطیوں کا اعتراف کرلینا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ قوم کے سامنے امریکی حکمرانوں کی ڈبل اور ٹرپل گیم کا پول بھی کھولنا چاہئے۔ کیا قوم کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ امریکہ نے پہلی دفعہ پاکستان کی امداد بند کرنے کا اعلان نہیں کیا؟ امریکہ یہ بلیک میلنگ پہلے بھی کرتا رہا ہے۔ کیا اب وہ وقت نہیں آگیا کہ ہم امریکی امداد کے بغیر زندہ رہنا سیکھیں۔
مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیوں پر پاکستان میں کچھ لوگ اندر ہی اندر بہت خوش ہیں کیونکہ انہیں سیاسی فائدہ حاصل ہونے کا امکان نظر آرہا ہے۔کچھ لوگ خوفزدہ ہیں کیونکہ ان کے مفادات پاکستان کے اندر نہیں بلکہ باہر ہیں لیکن اگر ہم چاہیں تو ٹرمپ کی دھمکیوں اور بلیک میلنگ کو زحمت کی بجائے اپنے لئے رحمت بناسکتے ہیں۔ امریکہ کو کوئی مکا یا میزائل دکھائے بغیر ہمیں اس کی امداد سے ہمیشہ کیلئے منہ موڑ لینا چاہئے۔ ہوشیار رہئے، ایران میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوگئے ہیں، پاکستان میں بھی ایسی گڑ بڑ ہوسکتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت قوم کو ٹرمپ کے اصل عزائم سے کھل کر خبردار کرے اور ٹرمپ کے بارے میں ایک معذرت خواہانہ مزاحمت کو بھرپور سفارتی مزاحمت میں تبدیل کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں