ایئرمارشل اصغر خان اور زبیدہ آپا


ایئر مارشل اصغر صاحب سے پہلی ملاقات ستر کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں اس وقت ہوئی جب وہ اپنی سیاسی جماعت تحریک استقلال کے حوالے سے ادیبوں اور صحافیوں سے بات چیت کرنے کے لیے لاہور آئے تھے۔ مقام اور گفتگو کی تفصیل تو یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ سب لوگ ان کے پروگرام سے کم اور ان کی شخصیت سے زیادہ متاثر ہوئے تھے کہ ان کی مختصر گفتگو اور کم آمیزی کے انداز میں سیاست دانوں والی کوئی بات سرے سے تھی ہی نہیں۔
دھیما لہجہ، چھوٹے چھوٹے جملے، بحث سے گریز اور پاکستان کے لیے محبت اور درد مندی اگرچہ ان کی بات بات سے جھلک اور چھلک رہی تھی مگر یہ واضح نہیں ہورہا تھا کہ ان کی تحریک کا ہدف، تنظیمی ڈھانچہ اور طریق کار کیا ہوگا۔ زیادہ تر سوالوں کے جواب محفل میں موجود ان کی بیگم صاحبہ اور کچھ دیگر ساتھیوں نے دیے جن میں اعتزاز احسن، مہناز رفیع اور شہناز وزیر علی کے نام حافظے میں رہ گئے ہیں۔
قصۂ مختصر یہ کہ ہم نوجوانوں کے گروپ نے جو احمد ندیم قاسمی صاحب کی معرفت اور سرکردگی میں وہاں گیا تھا واپسی پر آپس میں جو تبادلہ خیال کیا اس کا لُب لباب یہی تھا کہ یہ پارٹی شاید ہی چل پائے اور یہ کہ ہماری عمومی گھٹیا اور خود غرضانہ سیاست کے لیے اصغر خان صاحب جیسا عمدہ، نیک، ایمان دار، سچا اور محب وطن شخص چونکہ کسی طور بھی موزوں اور قابل قبول نہیں ہوسکتا، سو بہتر ہوگا کہ وہ پاک فضائیہ کے حوالے سے کمائی ہوئی اپنی عزت اور نیک نامی کو داؤ پر نہ لگائیں۔
آج ان کی وفات کی خبر سن کر جو پہلی بات دھیان میں آئی وہ یہی تھی کہ کیسی بدقسمتی کی بات ہے کہ اس بہت عظیم، غیر معمولی اور قابل فخر پاکستانی کے ساتھ آگے چل کر سچ مچ ایسا ہی ہوا۔ وہ ساری زندگی اپنے اصولوں اور سوچ پر قائم رہے اور ہماری سیاست بھی چند جزوی اور کاسمیٹک تبدیلیوں کے باوجود اپنے معمول کے رستے پر ہی چلتی رہی اور ہمارے نظام میں کبھی وہ گنجائش نہ نکل سکی کہ قوم ان کی خدمات سے کوئی فائدہ اٹھا سکتی۔
البتہ اتنا ضرور ہوا کہ ان کی ذات کی حد تک انھیں وہ محبت اور تعظیم حاصل رہی جس کے وہ صحیح معنوں میں حق دار تھے۔ وہ ایک سچے مگر بھولے، نیک نیت اور ڈسپلنڈ انسان تھے جو کسی ذاتی غرض کے بغیر سارے معاشرے کو اپنے جیسا بنانا چاہتا تھا۔ انھوں نے تاریخ کے ہر موڑ پر سچائی اور جرأت کے ساتھ اپنا مؤقف ریکارڈ تو کروایا مگر وہ چالاکیاں اور دنیا داری کے گر نہ سیکھ سکے جو سکہ رائج الوقت تھے۔
سو یہ ہوا کہ علالت، ضعیف العمری اور چند ذاتی صدمات کے باعث وہ آہستہ آہستہ گوشہ نشین ہوتے چلے گئے اور یوں وہ ہماری سیاسی تاریخ میں تو اپنا جائز مقام حاصل نہ کرسکے مگر جب بھی قابل فخر، صاحب کردار اور غیر معمولی پاکستانیوں کی کوئی فہرست مرتب کی جائے گی ایئر مارشل اصغر خان مرحوم کا نام یقینا اس کے اہم ترین ناموں میں شامل ہوگا۔
اشتہارات



اس اولین ملاقات کے فوری اور جذباتی تاثر کے بعد بھی وقفے وقفے سے ان سے چند بار ملاقات کا موقع ملا مگر ہر بار یہی احساس مزید گہرا ہوتا چلا گیا کہ ہماری قوم نے اس شخص کی بصیرت، تجربے اور خداداد صلاحیت سے وہ فائدہ نہیں اٹھایا جو اٹھایا جانا چاہیے تھا اور جس کی مدد سے ہم پاکستان کو اس کی موجودہ سے کہیں زیادہ بہتر حالت میں لے جاسکتے تھے۔ وہ جس عمر میں پاک فضائیہ کے کمانڈر ان چیف بنے اور ریٹائر ہوئے وہ اکثر کامیاب لوگوں کے ٹیک آف کا زمانہ ہوتا ہے جو اپنی جگہ پر ایک قابل فخر اور بے مثال کارنامہ ہے۔
ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا ’’سویلین‘‘ دورانیہ ان کی فوجی مصروفیات کے زمانے سے کہیں زیادہ ہے۔ آخری چند برسوں سے قطع نظر ان کی ساری زندگی بے حد فعال اور بامقصد گزری ہے۔ آج فیس بک پر قائداعظم کے ساتھ ان کی باوردی تصویر دیکھ کر خیال آیا کہ اب شاید ہی کوئی ایسا قابل ذکر شخص ہمارے درمیان زندہ ہے جس نے قائد کو اس قدر قریب سے دیکھا ہو۔ وہ بلا شبہ ایک بہت بڑے اور قابل فخر انسان تھے جو اب ’’کمیاب‘‘ سے ’’نایاب‘ کی صف میں شامل ہوگئے ہیں۔
زبیدہ آپا سے بھی مجھے براہ راست ملنے اور سلام دعا سے آگے کی بات کرنے کا موقع کم کم ہی ملا ہے لیکن ان کے خاندان کے کئی لوگوں سے میری ایسی دوستی اور قربت ہے کہ وہ اس دوری کے باوجود ہمیشہ مرے قریبی حلقۂ احباب میں شامل رہی ہیں۔
قاسمی صاحب اور ’’فنون‘‘ کی معرفت یہ سلسلہ ان کی بزرگ نسل تک بھی جاپہنچتا ہے کہ اپنے لاہور قیام کے دوران میری بڑے حمیدی صاحب سے بھی نیاز مندی رہی ہے اور یوں میں اس دسترخوان کے کمالات کا عینی شاہد بھی رہا ہوں۔ جس نے آگے چل کر زبیدہ آپا کو ایک باقاعدہ تعارف اور پہچان کی وہ شکل دے دی کہ اب ایک دنیا انھیں اسی حوالے سے جانتی اور مانتی ہے۔ وہ یوپی، سی پی کی اس تہذیب کا ایک زندہ استعارہ تھیں جس کا ذکر اب صرف کتابوں اور یادداشتوں تک محدود ہوتا جارہا ہے۔ گھر داری کے جس سلیقے، آرائش، سلائی کڑھائی اور ٹونے ٹوٹکوں کی باتیں وہ اپنے مخصوص دلچسپ انداز میں بہت مزے اور آسانی سے کیا کرتی تھیں۔ اس نے ہماری نئی نسل کو اپنی تہذیب اور تاریخ سے دوبارہ جوڑنے کا وہ بے مثال کام کیا جس کو اگر ایک پل سے تشبیہ دی جائے تو غلط نہ ہوگا۔ جو کام ان کی دو بڑی بہنوں مرحومہ فاطمہ ثریا بجیا نے اپنے ڈراموں، آپا زہرہ نگاہ نے شاعری اور بھائی انور مقصود نے اپنی رنگارنگ تحریروں کے حوالے سے کیا وہ انھوں نے صرف اپنی زبان، مہارت اور انداز بیان سے کردکھایا اور اسے اس ڈھنگ اور خوش اسلوبی سے نبھایا کہ ابلاغ اور مکالمے کا ایک بالکل نیا دروازہ وا ہوگیا جس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی زندگی ہی میں ان کا یہ ہنرکارٹون اور پیروڈی کے موضوعات میں شامل ہونا شروع ہوگیا تھا اور یاد رہے کہ مزاح کی ان اصناف کا بنیادی تعلق ہمیشہ کسی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی پسندیدگی سے ہوتا ہے (میرے عزیز دوست اور ہمارے عہد کی محبوب اور ہمہ جہت شخصیت گلزار نے اپنے باندرہ ممبئی والے گھر کے ڈرائنگ روم میں دیواروں پر اپنی تصویروں کی جگہ وہ بہت سے کارٹون لگا رکھے ہیں جو مختلف کارٹونسٹوں کے بنائے ہوئے ہیں اور جو بلاشبہ اس غیر معمولی مقبولیت کا اعتراف ہیں جو رب کریم نے ان کو عطا کی ہے)
زبیدہ آپا نے شہرت اگرچہ اپنی زندگی کے آخری چند برسوں میں پائی مگر میڈیا اور بالخصوص کمرشل اور سوشل میڈیا کے اس دور میں انھوں نے یہ سفر اس تیزی سے کیا کہ گویا برسوں کی کسر دنوں میں پوری ہوگئی۔ دعا ہے کہ رب کریم ان کی روح پر اپنا کرم فرمائے اور ہم سب کو بھی اس محبت اور شفقت کی توفیق دے جس کی خوشبو سے ان کا لہجہ مہکا اور روشن رہتا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں