Orya-Maqbool-Jan

خطے کے لیے خطرناک امریکی منصوبہ

orya-maqbool-jan-column
پاکستانی میڈیا کا لبرل اورآزاد خیال تجزیہ نگار، دانشوراورکماؤپوت “اینکر” جس تیزی کے ساتھ اپنے خیالات، نظریات اورگفتگو کے رنگ بدلتا ہے، رنگ بدلنے میں صدیوں سے بدنام گرگٹ بھی شرماتا ہوگا اورخیال کرتا ہوگا کہ ان انسانوں‌ سےتومیں ہزاردرجے بہترہوں. ڈونلڈ ٹرمپ کے تکم جنوری 2018ء کے اس ٹوئٹ کے بعد، جس میں اس نے پاکستان کوپندرہ سالوں میں 33 ارب ڈالرامداد کھانے کے بعد دھوکہ دہی کا الزام لگایا، پاکستانی میڈیا کا ہروہ عاقل وبالغ مغرب زدہ تجزیہ نگاراورروشن خیال اینکرکرسیوں سے اچھل پڑا، ایک دم چلایا، یہ امریکہ کی جنگ تھی جوایک ڈکٹیٹرپرویزمشرف نے ہم پرمسلط کی، یہ ہماری جنگ نہیں تھی. ہم خوامخواہ اوربلاوجہ اس میں‌ گھسے اوراپنی سرزمین کوآگ و خون میں جھونک کرقربانی دینے پر بھی دھوکے بازکہلائے. اگرگزشتہ پندرہ سالوں کے اخبارات میں چھپے ان کے کالم، تجزیے اورتقریریں نکال لی جائیں توآپ کوطبلے کی تھاپ پرقوالی کی طرح باربار دہراتا ہواصرف ایک ہی فقرہ ملے گا، “کون کہتا ہے یہ امریکہ کی جنگ ہے، یہ ہماری جنگ ہے یہ ہماری جنگ ہے”. ان “باشعور” اور”ذہین” دانشوروں اوراینکروں نے ہراس شخص کوطالبان کا ہمدرد، دہشت گردوں کا سہولت کار اورفرسودہ خیالات کا حامل قراردیا جوپہلےدن سے یہ پکارپکارکرکہ رہا تھا کہ اس آگ میں مت کودو، یہ ہماری جنگ نہیں ہے، یہ صرف اورصرف امریکہ اوراس کے مغربی اتحادیوں کی جنگ ہے. افغان عوام کے قتل عام کے لیے اپنی سرزمین اورفضائی حدود مت دو. لیکن کارپوریٹ سرمائے سے چلنے والے میڈیا پربیٹھے لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے اینکروں‌ اوردانشوروں نے اس قدرشورمچایا کہ ہروہ شخص جواس وقت اس قوم کوکھائی میں گرنے سے روک رہا تھا معتوب ہوگیا. انہوں نے عمران خان جیسے شخص‌کوجواس جنگ کا مخالف تھا طالبان خان کا لقب دیا. اس میڈیا کی ہمنوا ایک نوتخلیق کردہ ذریت بھی تھی جیسے سول سوسائٹی کہتے ہیں. یہ ان این جی اوزپرمشتمل ہے جوپاکستان میں موجود چالیس سے زیادہ مغربی سفارت خانوں سے امداد لے کران کے ایجنڈے پرایک ہی تال پررقص کرتے ہوئے کہتی رہی کہ، “یہ ہماری جنگ ہے، یہ ہماری جنگ ہے”. لیکن جیسے ہی ڈونلڈ ٹرمپ اورامریکی انتظامیہ نے اپنا لحجہ بدلا، اوراس نے ان گرگٹ نما اہل دانش سمیت پوری قوم کودھوکہ باز کہ کررشتہ توڑلیا توانہیں یقین ہونے لگا کہ اب امریکہ کی جانب سے “ہن” برسنے کی امیدیں ختم ہوگئیں توانہوں نے رنگ بدل لیا اورباڑکی دوسری جانب کھڑے ہوگئے اورپکارے لگے، اس پرائی جنگ میں‌ ہمیں دھکا کس نے دیا. یہ نہ یہ کل ہماری جنگ تھی اورنہ آج ہماری جنگ ہے.
لیکن کیا صرف ایسا کہنے سے وہ سب کچھ ٹل جائے گا، جواس خطے کے لیے گذشتہ کئی سالوں سے انتہائی عرق ریزی کے ساتھ عالمی طاقتیں ایک منصوبہ بندی سے سوچ رہی ہیں. امریکہ افغانستان میں کسی امن کے قیام کے لیے نہیں‌ آیا تھا، بلکہ افغانستان میں موجود تیل، گیس، سونا، چاندی، تانبا اورچودہ سومختلف قیمتی دھاتوں کے تین ہزارارب ڈالرکے ذخائرپرقبضے کے لے آیا تھا.
a


پہلے دن سے امریکی معیشیت دان افغانستان کولتھیم کا سعودی عرب کہتے رہے ہیں‌. یہ وہ دھات ہے جوموبائل فون سے لے کرکمپیوٹراوراعلیٰ حساس آلات سے جہازوں کے اڑان کے نظاموں تک میں استعمال ہوتی ہے. اس کے بغیرجدید ٹینکالوجی کا تصورممکن نہیں، اورافغانستان وہ ملک ہے جواس سے مالامال ہے. ایسے میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ جوسترہ سال پرپھیلی ہوئی ہے اورجس پرسات سوارب ڈالرخرچ ہوچکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی سپاہ اس قدربددلی اورنفسیاتی خوف پیدا ہوا ہے کہ بائیس سپاہی یا سابقہ فوجی روزانہ خودکشی کرتے ہیں. ایسی جنگ سے بے نیل ومرام اورسب کچھ گنواکربے عزت ہوکرکیسے نکلا جائے، یہ توایک سپرپاور، امریکہ کے عوام کو غرورخاک میں ملانے کے مترادف ہوگا. ایسے میں پاکستان پرالزام توایک امریکی حکمت عملی ہے جوسترکی دہائی میں ویتنام کے پڑوسی کمبوڈیا پرگوریلوں کوپناہ دینے کا الزام لگا کراختیارکی گئی اوراب صرف ایک سال قبل کولمبیا کی باون (52) سالہ جنگ کے خاتمے کے دوران اسی الزام تراشی کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ امریکہ کبھی شکست سے دوچارنہ ہوتا اگروینزویلا اورایکواڈورکے ممالک کولمبیا میں گوریلوں کی تنظیم فارق (FARC) کے تربیتی کیمپ اورپناہ گاہیں اپنے ملک میں نہ بناتے. ڈونلڈ ٹرمپ اوراس کے مشیرو وزیرجب پاکستان پرالزامات کی ایک سیریزچلا رہے تھے توامریکی کانگریس کے چارٹرڈ پالیسی سازادارے “ولسن سینٹر” کے دواہم ترین افراد اورامریکی پالیسی پراثرانداز ہونے والے مائیکل کوگل مین اورجیمی شینک امریکی انتظامیہ کوافغانستان اورکولمبیا کی صورتحال کی مماثلت بتا رہے تھے. مائیکل کوگل مین ولسن سینٹرمیں پاکستان، افغانستان اوربھارت کے شعبے کا ڈپٹی ڈائریکٹرہے اورفارن پالیسی جرنل، وال سٹریٹ جرنل اورنیویارک ٹائمزمیں کالم بھی لکھتا ہے. جبکہ جیمی شینک اسی سینٹرمیں لاطینی امریکہ کے ممالک کی ماہرہے. کولمبیا وہ ملک ہے جس کی فوج کوامریکہ نے اپنے ہاں تربیت دی اوراپنی افواج بھی وہاں‌ رکھیں. اس ملک پردس ارب ڈالرسالانہ سے زیادہ دفاعی طورپرخرچ کیا. لیکن آزادی اورحریت پسند تنظیم “فارق” نے نہ توامریکہ کے قدم وہاں جمنے دیے اورنہ ہی اس کی ٹوڈی حکومت اورفوج کوسکھ کا سانس لیے دیا. 1984ء، 1991ء اور1999ء میں تین دفعہ امن معاہدے ہوئے، لیکن امریکہ نے اپنے مخصوص شاطرانہ حملوں سے ناکام بنائے، آخرکار2010ء میں امریکہ نے اپنی افواج کے ذریعے ان گوریلوں پرشدید حملے شروع کیے، 53 گوریلا کمانڈرماردیے گئے. 2002ء میں ان کی تعداد بیس ہزارتھی جوگھٹ کر2016ء میں سات ہزاررہ گئی، اوریوں وہ امن مذاکرات کی میزپرآگئے. اس سارے قصے کا افغانستان سے موازنہ کرتے ہوئے، دونوں ماہرین نے ڈونلڈ ٹرمپ کوایک خوفناک منظرنامہ پیش کیا. ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ایک لاکھ امریکی فوج بھی یہ جنگ نہ جیت سکی، 2011ء میں شدید ترین حملوں میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا. کولمبیا میں فتح اس لیے ہوئی کہ گوریلوں کی طاقت کوکچل کرمحدود کردیا گیا تھا اورمذاکرات کی میزپربیٹھنے والے گوریلوں کووینزویلا کے ہوگوشاویز اورکیوبا کے کاسترونے عسکری مزاحمت ترک کرنے پرمجبورکیا تھا. افغانستان میں ایسا تب ممکن ہے جب طالبان کی قوت کوشدت سے کچل کرکم کردیا جائے اورپاکستان کومجبورکیا جائے کہ وہ طالبان کوعسکری مزاحمت ترک کرنے پرمجبورکرے. اسی طرح کے ماہرین کی پالیسی آراء جب اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں‌ زیرِ غورآئیں‌ توشکست خوردہ امریکی اسٹیبلشمنٹ دومتضاد گروہوں میں تقسیم ہوگئی. سی آئی اے کی پالیسی کا اظہار سابقہ سربراہ جنرل پیٹریاس نے کیا کہ “افغان جنگ کئی نسلوں پرمحیط جنگ ہوگی، ویسی ہی جنگ جیسی ہم کوریا کے جزیرے میں‌ 1953ء سے آج تک لڑرہے ہیں. افغانستان کی جنگ کوئی چوٹی سرکرنا نہیں کہ ہم جھنڈا لگا کرواپس آ جائیں”. دوسری جانب فوج اوردفترخارجہ کے لوگ اب ایک سپاہی بھی افغانستان میں بھیجنے کوتیارنہیں. ان کے نزدیک یہ خوفناک ہوگا، کیونکہ وہ اڑتالیس ملک جو11 ستمبر2001ء کے بعد اپنے سپاہیوں سمیت افغانستان میں داخل ہوئے تھے ان میں سے اب کوئی اپنا ایک سپاہی بھی وہاں بھیجنے کوتیارنہیں. ایسے میں کولمبیا کی طرح طالبان کی طاقت کوکس طرح کچلا جائے اورپاکستان کوکیسے مجبورکیا جائے کہ طالبان کوعسکری مزاحمت سے بازکرے. ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ لالچی سرمایہ دارجوہیلمند اورننگرہارکے علاقوں کے وسیع معدنی ذخائرکے لیے نسلوں تک خون بہانا چاہتے ہیں وہ ایک خوفناک اورتباہ کن تجویز لے کرسامنے آئے ہیں یہ تجویزدسمبر2017ء کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ کوپیش کی گئی. کہ یہ اس قدرخطرناک منصوبہ ہے جوپورے خطے کولہولہان کرسکتا اورامریکہ اس عالمی خونریزی اورقتل وغارت سے اپنے آپ کوبری الذمہ بھی قراردے سکتا ہے. یہ تفصیلی منصوبہ ستمبر2017ء‌ کی اشرف غنی اورڈونلڈ ٹرمپ کی میں میٹنگ کے بعد ایرک پرنس (Erik Prince) کے ساتھ تفصیلی حکمت عملی کے بعد طے ہوا. یہ ایرک پرنس کون ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں