Orya-Maqbool-Jan

خطے کے لیے خطرناک امریکی منصوبہ(آخری قسط)

orya-maqbool-jan-column
ایرک پرنس کا نام پہلی دفعہ عالمی اورعلاقائی میڈیا میں اس وقت شدت کے ساتھ منظرعام پرآیا جب عراق کے بدنام زمانہ جیل خانے ابوغریب میں مسلمان قیدیوں پرکتے چھوڑنے، سرعام اجتماعی جنسی زیادتی کرنے اوربدترین تشدد کرنے کی ویڈیولیکن ہوئیں. اس کے ساتھ ساتھ ایک اورنام بھی اخباروں کی شہ سرخیوں میں آیا اوروہ تھا بلیک واٹر. یہ وہ زمانہ تھا جب امریکہ نے اسلام آباد کے بیچوں بیچ تقریباً ڈھائی سوکے قریب گھرکرائے پرلیے ہوئے تھے اورپشاورکے علاقے حیات آباد اوریونیورسٹی ٹاؤن میں بھی کئی بنگلے ان کے پاس تھے، جن میں یہ بلیک واٹرکے کرائے کے فوجی رہتے تھے. امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اضطراب اورپاگل پن میں روزبروزاس وجہ سے اضافہ ہوتا جارہا کہ سولہ سالہ افغان جنگ مسلسل ذلت آمیزشکست کی جانب رواں دواں ہے. وہ ٹرمپ جوامریکہ کوعالمی جنگوں سے نکالنا چاہتا تھا اس نے مزید چارہزارامریکی فوجی افغانستان بھیجے اوراب یہ عالم ہے کہ پینٹاگون نے اپنی افواج کی نفسیاتی اورذہنی حالت دیکھتے ہوئے مزید فوجی بھیجنےسے انکارکردیا ہے. دوسری جانب بھارت نے صاف جھنڈی کروادی ہے کہ ہم سرمایہ دے سکتے ہیں، اپنے ملک میں ٹریننگ دے سکتے ہیں لیکن اپنا کوئی سپاہی لڑنے کے لیے افغان سرزمین پرنہیں بھیجیں گے. ایسے میں سپرپاورکے غرورکوخاک میں ملنے سے بچانے کے لیے ایرک پرنس کے کرائے کے فوجیوں کے استعمال کا منصوبہ گزشتہ دس ماہ سے زیرغورتھا. ایرک پرنس نے مئی 2007ء میں کانگریس کے سامنے یہ منصوبہ رکھا تھا کہ افغانستان میں امریکی سپاہیوں کی جگہ پرائیویٹ کرائے کے فوجیوں کوبھیجا جائے. اس منصوبے کوعراق میں استعمال کیا جا چکا تھا اورعراق حکومت کے ساتھ مل کرفلوجہ، کرکوک اوربغداد کے سنی مسلمان علاقوں میں نہتے شہریوں کا قتل عام کیا گیا تھا لیکن افغانستان میں چونکہ نیٹوکی افواج موجود تھیں اس لیے اس پرعملدرامد نہ ہوسکا. ٹرمپ نے جنوری 2017ء میں عہدہ سنبھالا تواس منصوبے کے معاشی اورانتظامی امورپرپھرسے غورشروع ہوا. امریکی انتظامیہ نے جولائی میں بتایا کہ 2017ء میں، 45 ارب ڈالرافغانستان میں خرچ ہوسکتے ہیں جبکہ اگراسی جنگ کا ٹھیکہ ایرک پرنس کودےدیا جائے تواس کی لاگت 10 ارب ڈالرسالانہ رہ جائےگی. جولائی 2017ء تک سوچ بچارہوتی رہی اورپھرجولائی کے ایک ہفتے کی صبح ایرک پرنس پینٹاگون آیا اورپاورپوائنٹ پرایک طویل بریفنگ دی جسے جان بوجھ کردسمبرکے مہینے میں اخبارات کوفراہم کردیا گیا. اس منصوبے کوایرک پرنس نے ایک فقرے میں یوں سمویا “Unprvoked slaughter of unarmed civilians by Trigger happy Mercenaries” بے پروائی سے بندوق چلانے والے کرائے کے قاتلوں کے ذریعے بغیرکسی اشتعال کے غیرمسلح شہریوں کا قتل عام. امریکہ اپنے جنرل میکارتھر کے ذریعے ایسا قتل عام 1945ء میں جاپان میں کرچکا ہے، جب ہیروشیما اورناگاساکی پرایٹم بم گرانے کے بعد امریکی افواج جاپان میں داخل ہوئی تھیں. اس نے قتل عام کے علاوہ 5700 جاپانیوں کوپکڑکرجنگی جرائم کے ٹربیونل کے سامنے پیش کیا، جن میں سے 4300 مجرم ثابت ہوئے. ان میں سے ایک ہزارکوپھانسی دے دی گئی اورباقیوں کوعمرقید. سات ستمبر2017ء کو”BUZZ FEED News” نے ایرک پرنس کی یہ پاورپوائنٹ والی سلائیڈیں شائع کردیں. خوف کی ایک الہران سب لوگوں کے رگ وپے میں سرائیت کرگئی جن کا ذرا سا بھی انسانیت اورانسانی اقدارپرایمان تھا. اس بریفنگ یا Presentation کا عنوان “Exit Strategy for Afghanistan” (افغانستان سے نکلنے کی حکمت عملی). اس بریفنگ میں سب سے پہلے امریکہ کے 714 ارب ڈالرکے اخراجات اوراس کے بدترین نتائج کی بحث پرمبنی کئی سلائیڈ تھیں. پھرافغانستان میں موجود کئی ہزارارب ڈالرکے معدنی وسائل کا تخمینہ لگانے کے لیے ہلمند کی سلائیڈ دکھائی گئی جہاں زیرزمین ایک ہزارارب ڈالرکی لیتھیم اوریورینیم جیسی قیمتی دھاتوں کی نقشے پرنشاندہی کی گئی. اس کے بعد چین کا اس خطے میں اثرونفوذ اورمارکیٹ پرقبضے کا مستقبل اس طرح دکھایا گیا کہ مستقبل قریب میں امریکہ اس علاقے کی مارکیٹوں سے بے دخل ہوجائے گا. ایرک پرنس نے بتایا کہ اس کی موجودہ کمپنی “Frontier service group” جو بلیک واٹرکے بعد بنائی گئی تھی، 2014ء سے چینی کمپنیوں کوافغانستان میں سیکیورٹی فراہم کررہی ہے.
a


ایرک پرنس کے کرائے کے فوجی کیسے افغانستان آئیں گے اورکیا کریں گے یہ مزید خوفناک ہے. سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو ایسے کرائے کے فوجیوں کے تین سے زیادہ ٹھیکیداروں سے وائٹ ہاؤس میں وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کی موجودگی میں گئی ملاقاتیں کرچکا ہے. ان ٹھیکیداروں میں سی آئی اے کی سابقہ شخصیت جان میگورے (John Maguire) بھی تھا جس کی اپنی بھی ایسی سیکیورٹی کمپنی ہے. ان تمام میٹنگوں میں یہ طے ہوا کہ امریکہ افغانستان میں فوجی اخراجات پراٹھنے والی رقم کے ایک حصے سے ان کرائے کے فوجیوں کوبھرتی کرے گا، ان کے جنگی اخراجات اٹھائے گا اوریہ فوجی ٹھیکیداربراہ راست ڈونلڈ ٹرمپ اورسی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیوکوجواب دہ ہونگے. کوئی پینٹاگون کا جنرل، وزیردفاع یا خارجہ یا کوئی اوران سے سوال نہیں کرسکے گا. ان کرائے کے فوجیوں کی کل تعداد 5500 ہوگی اوریہ افغانستان میں موجود افغان فوج اورپولیس کوتربیت بھی دیں گے اوران کے ساتھ مل کرآپریشن بھی کریں گے. ایرک پرنس نے سی این این کواگست 2017ء کواپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پینٹاگون کے جرنیل اسکے منصوبے کے اس لیے مخالف ہیں کہ وہ ایک طرح کے روایتی فوجی ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ‌ ڈونلڈ ٹرمپ اورسی آئی اے میری بات مان لیں گے اورامریکہ افغانستان میں ایک ذلت آمیزشکست سے بچ جائے گا. اس سارے منصوبے کوڈونلڈ ٹرمپ سے منظورکروانے میں سٹیفن فین برگ(Stephen Finberg) کاکمال ہے، جسے ڈونلڈ ٹرمپ کا کان “Trump’s Ear” کہا جاتا ہے. یہ نیویارک کا ارب پتی ہے جس نے ٹرمپ کی انتخابی مہم میں امریکی تاریخ کا سب سے بڑاچندہ دیا تھا. ٹرمپ اس کوتمام خفیہ ایجنسیوں کی ازسرنوترتیب اوراصلاح کا کام سونپ چکا ہے. کرائے کے فوجیوں کے لیے کی گئی ان میٹنگوں میں اس کی موجودگی اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ جہازوں، ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اوردیگرفضائی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی ڈائن کورپ “Dyncorp” کا مالک ہے. یہ کمپنی امریکی حکومت کوہرسال سہولتیں فراہم کرکے سالانہ تین ارب ڈالرکماتی ہے. افغان صدر حامد کرزئی اوراشرف غنی کی سیکیورٹی پریہی کمپنی ماموررہی ہے. اس شخص کی موجودگی اس لئے بھی ضروری تھی کہ ایرک پرنس نے امریکی انتظامیہ سے اس ساری کاروائی کے لیے افغانستان کی فضا پراپنی اجارہ داری اورکنٹرول مانگا تھا. یعنی ایرک پرنس کے کرائے کے فوجی اورڈائن کورپ کے جہاز افغانستان میں امریکی فوج اورامریکی فضائیہ کی جگہ لے لیں گے. ان سب کوسرمایہ افغان حکومت دے گی اورافغان حکومت کویہ سرمایہ امریکہ مہیا کرے گا. یہ کرائے کے فوجی دنیا بھرکے ممالک سے بھرتی کیے جائیں گے، خصوصاً افریقا اورایشیا سے. 2006ء میں پاکستان کے اخباروں میں عراق میں سیکیورٹی گارڈ بھرتی کرنے کے لیے اشتہار چھپے تھے اوریہاں سے بے شمارسابقہ فوجی بھرتی بھی ہونے لگے تھے، ایسے ہی اشتہاردنیا کے بےشمار ترقی پذیرملکوں میں اکثر چھپتے ہیں اورکرائے کے فوجی بھرتی ہوتے ہیں. یہ کرائے کے فوجی وہ غنڈے ہونگے جن پرعالمی قانون لاگو نہیں ہوگا. نہ یہ کسی حکومت کے ماتحت ہیں اورنہ کسی فوج کے زیرِانتظام. یہ توایک امریکی سرکاری طورپرمنظم کردہ دہشت گردتنظیم ہوگی. ان کے جہازافغانستان میں نہتے شہریوں پربم برسائیں گے، ان کے فوجی شہروں میں گھس کرقتل عام کریں گے اورعین ممکن ہے پاکستان کی سرحد اورسرحد کے اندربھی انہی لوگوں کوحملے کا اختیاردے دیا جائے. یہ سرکاری خرچے پرپلنے والے نان سٹیٹ ایکٹرہوں گے. ان میں ایسے لوگ شامل ہوں گے جن کا اس جنگ سے دوردورکا واسطہ بھی نہ ہوگا. بس تنخواہ کے لیے روانڈا، نائجیریا، بنگلہ دیش، بھارت اورعین ممکن ہے پاکستان سے بھرتی ہوکروہاں‌ پہنچیں، معصوم لوگوں کوقتل کریں اوروہ خود بھی ایسی ہی موت مریں جسے نہ امریکہ پہچانتا ہوگا اورنہ ان کا اپنا ملک.(ختم شد)

اپنا تبصرہ بھیجیں