چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے قصورمیں بچی کے قتل پرسوموٹونوٹس لے لیا

eight-year-old-girl-raped-killed-kasur
لاہور: پنجاب کے شہرقصورمیں زینب نامی ایک 8 سالہ بچی کوچند دن پہلے گھرسے اغوا کیا گیا اورمتعدد بارزیادتی کے بعد قتل کردیا گیا.

چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ سید منصورعلی شاہ نے بدھ کے روز ننھی بچی کے قتل پرسوموٹو نوٹس لے لیا ہے. جسٹس منصورڈسٹرکٹ اورسیشن قصورسے اس واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے. زینب کوتقریباً پانچ دن پہلے اس کے گھرکے قریب سے اغواکیا گیا تھا اورآج وہ مردہ حالت میں ایک کوڑے کے ڈھیرکے پاس سے برآمد ہوئی. اغوا کے وقت وہ اپنے گھرسے قرآن پڑھنے کے لے جارہی تھی.

اس کی گمشدگی کی خبرملنے پراس کے خاندان نے صدرپولیس سٹیشن میں رپورٹ درج کروائی. اس کی لاش منگل کی رات کوملی. اس واقعہ کے بعد پولیس نے لاش کوپوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال بھجوا دیا. ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچی سے متعدد بار زیادتی کی گئی تھی.

بدھ کے روز زینب کے خاندان کے افراد اورعلاقے کے لوگ اس دردناک واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پرنکل آئے اورانہوں نے بازااربند کروادیے. انجمن تاجران اورڈسڑکٹ بارنے ہڑتال کا اعلان کردیا ہے اوراب تک ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے پراحجاج بھی کیا.

پولیس ابھی تک ملزم کوپکڑنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے حالانکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں اغوا کرنے والے آدمی کوصاف دیکھا جا سکتا ہے. ڈی پی اوقصورذلفقاراحمد کا کہنا ہے کہ پولیس کی تحقیقات جاری ہے.

یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے صدر پولیس سٹیشن کی حدود میں اب تک کوڑے کے ڈھیڑسے 12 لڑکیاں برآمد ہوئی ہیں جن کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی اوران میں سے 11 لڑکیاں مردہ حالت میں پائی گئی تھیں. پولیس نے ان واقعات کی رپورٹس درج کرلی تھیں لیکن ملزمان کوپکڑنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں