Orya-Maqbool-Jan

قائداعظم ثانی سے شیخ مجیب الرحمٰن ثانی تک

orya-maqbool-jan-column
الطاف حسین حالی نے جب مسلم امہ کا نوحہ مسدس حالی کی صورت میں تحریرکیا تومدوجزرکی اس کہانی کا آغاز اس مصرعے سے کیا—-
“پستی کی کوئی حد سے گزرنا دیکھے”

پتہ نہیں کیوں نواز شریف کی حالت زاردیکھ کریہ مصرعہ باربارزبان پرآرہا ہے. جس شخص کواس ملک اورقوم نے فرش سے اٹھا کرعرش پرپہنچا دیا ہو، اسکی نفسیاتی اورذہنی حالت کا یہ عالم ہے کہ اسے بات کرتے ہوئے اس چیز کا احساس تک نہ رہے کہ وہ کیا کہ رہا ہے تواسے پستی کا حد سے گزرنا ہی کہتے ہیں. بےربط خیالات اوربےدلیل تصورات جب کسی ایک شخص کوگھیرلیا تونفسیات دان اسے انشقاق ذہنی “Schizophrenia” کہتے ہیں. ایسے شخص کی دوعلامات ہوتی ہیں 1) خبطِ عظمت “Delusion of Grandeur” یعنی ایسا فرد اپنے آپ کوعظمت کی بلندیوں پرسمجھنے لگتاہے. وہ خود کواپنے تئیں صاحب کردار، صاحب اخلاق، عظیم رہنما اورغلطی سے مبرا تصورکرتا ہے اور2) فریبِ سازش وایذارسانی “Delusion of Persecution” یعنی میرے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہورہی ہے، ہرکوئی مجھے میرے مقام سے گرانا چاہتا ہے. انشقاق ذہنی کے مریض اپنے مرض کے آغاز میں تھوڑی بہت دلیل سے اپنی ان دونوں علامتوں کا دفاع کرتے ہیں اوراگران کے اردگرد کے لوگ خواہ ان کے دوست، بیٹا یا بیٹی ہی کیوں نہ ہو، وہ انہیں یہ باورکرانے لگتے ہیں‌ کہ تم سب کچھ صحیح کررہے ہوتوپھرایسے شخص کے دماغ میں یہ خیالات جڑپکڑلیتے ہیں اوراسے ہرشخص اپنے خلاف سازش کرتا ہوا نظرآتا ہے اوراپنا ہرقدم ایک ہیروکی صورت عظمت کی بلندیوں والا ہوتا ہے. ایسے افراد کے ہمدردوں کوسب سے پہلے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ انہیں حقیقت کی دنیا میں واپس لائیں. انہیں بتائیں کہ آپ جوخود کوقائداعظم ثانی اورشیرشاہ سوری کا نعم البدل تصورکررہے ہو، ایسا ہرگزنہیں ہے. آپ کو حالات وواقعات میں چند بالادست قوتوں نے قیادت کے پائیدان پرکھڑا کردیا تھا اورپھراس غبارے میں‌اتنی ہوا بھرگئی کہ آپ کا تعلق ہی زمین سے ٹوٹ گیا. گیسی غبارے کوجب دھاگے کی دوسری سمت کھڑا شخص نیچے کھینچتا ہے تواگراس غبارے میں جذبات ہوں تواسے بہت برا لگے گا کہ اسے فضا کی بلندیوں سے زمین پرکون واپس لے آیا. ایسے میں وہ بھول جاتا ہے کہ یہ وہی توہے جس نے اس غبارے میں گیس بھرکراسے ہوا میں بلندکیا تھا. ایسے غبارے اگردھاگا توڑکرخود اڑنے کی کوشش کریں توفضا کی بے پناہ وسعتوں میں‌ گم ہوکراپنا نشان کھودیتے ہیں. دوسرا ایسے لوگوں کے ہمدردوں کویہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ آپ اس قدربھی ناگزیرنہیں ہوکہ ہرشخص آپ کے خلاف سازش کرکے منظرسے ہٹانا چاہے، اس لیے حقیقت کی دنیا میں واپس آ جاؤ. ایسے خبطِ عظمت کا شکارافراد کا نقشہ اسماعیل میرٹھی نے اپنی نظم “ترک تکبر” میں‌ کھینچا ہے. نظم میں ایک دریا میں سیلاب آ جاتا ہے اورزوروشورسے پتھروں سے ٹکراتا ہوا پانی گزررہا ہوتا ہے اوراپنے ساتھ خس وخاشاک کوبھی بہا لے جارہا ہوتا ہے. اس دوران اس پانی کے اوپرایک لکڑی بھی تیرتی ہوئی چلی جاتی ہے اوردل میں سوچتی ہے کہ وہ اس بہتے پان کی قیادت کررہی ہے

اشاروں پر میرے چلتا ہے پانی
ہے میرے بس میں دریا کی روانی
میرے دم سے رواں‌ یہ کارواں‌ہے
مرا تابع ہے جو کوئی یہاں ہے

اسی دوران ایک لڑھکتے ہوئے بڑے سے پتھرنے لکڑی کودبا دیا تولکڑی کوبہت غصہ آیا وہ بولی

مجھے او بے ادب کیوں تونے چھیڑا
جو میں ڈوبی تو بس ڈوبا یہ بیڑا

پتھرنے لکڑی سے کہا تواپنا یہ دکھڑا ساحل کے سامنے پیش کروکہ وہ صدیوں سے یہاں پربہتے ہوئے پانیوں کا گواہ ہے. ساحل نے بات سن کراپنی عمربھرکے تجربے کا نچوڑیوں بیان کیا

ہوئے یاں غرق لاکھوں تجھ سے فرعون
نہ پوچھا پھرکسی نے یہ کہ تھے کون
مگر دریا کی باقی ہے وہی آن
وہی رونق وہی عظمت وہی شان

یہ پاکستان اللہ تبارک وتعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اورتاریخ شاہد ہے کہ اس کے ساتھ جس کسی نے کھلواڑ کی کوشش کی اسے تقدیر نے نشان عبرت بنا دیا. بنگلہ دیش کی تخلیق کی کہانی، تین کرداروں کے گرد گھومتی ہے جنہوں نے ہوس اقتدار میں پاکستان سے دشمنی کی. تاریخ‌ شاہد ہے کہ صرف وہ تینوں ہی نہیں بلکہ ان کے پورے خاندان آج چھیالیس سال گزرنے کے باوجود بھی ایسی قبرکوترس رہے ہیں، جہاں کوئی شخص طبی موت کے بعد دفن ہو. اندرا گاندھی، اس کے دونوں بیٹے سنجے اورراجیو، شیخ مجیب الرحمٰن، بیوی فضلیت النساء، بیٹا شیخ کمال، بھائی شیخ نثار، دس سالہ بیٹا شیخ‌ رسل اوربیٹا شٰیخ جمال، ذوالفقارعلی بھٹو، اس کے دونوں‌ بیٹے مرتضٰے اورشاہ نواز اوربیٹی بے نظیر سب کے سب ایسے ہی اپنے انجام کوپہنچے. جنرل یحییٰ خان اوراس کے ساتھیوں کوآںے والی صدیوں تک رسوائی اورذلت کی علامت بنا دیا گیا. وہ بنگالی جوایک بنگلہ قومیت اوربنگالی زبان کے نعرے کے نام سے اس مملکت خداداد پاکستان سے بھارت کی افواج کی مدد سے علیحدہ ہوئے تواسی بھارت نے انہیں‌ بنگالی ماننے سے انکارکردیا. کہا تم ملیچھ (جودھرتی کوناپاک کرے) مسلمان ہو، اس لیے اپنا علیحدہ ملک بناؤ. آج سے تم بنگالی نہیں بنگلہ دیشی ہو. اگردوقومی نظریہ غلط ہوتا توبنگالیوں کا ایک ہی صوبہ ہوتا جس کا مرکزکلکتہ ہوتا. ایک اورملک دوقومی نظریے کی بنیاد پرتخلیق ہوا. اس کونام جوبھی دے دو، اس کی قومیت بنگالی مسلمان ہی رہے گی، بنگالی نہیں ہوگی.
a


سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ قائداعظم ثانی کہلوانے والے نوازشریف کی زندگی کا نہ توکوئی ورق قائداعظم سے ملتا ہے اورنہ ہی
شیخ مجیب الرحمٰن کی زندگی سے اسکی کوئی مماثلت ہے. البتہ ان کےدل میں اب شیخ مجیب بننے کی خواہش کروٹیں لینے لگی ہے. لیکن موصوف کواندازہ نہیں کہ شیخ‌ مجیب بھارت کے ترازو میں اس لیے تولا گیا تھا، غداری کے لیے اس لیے منتخب کیا گیا تھا کہ اس نے 1966ء سے بنگالی عوام کوجھوٹ اورفریب کی بھول بھلیوں میں الجھا دیا تھا. جس بنگلہ دیش کوآزادی کے بعد معاشی خوشحالی کے خواب دکھائے گئے تھے، اس کا عالم یہ ہوا کہ 1971ء کے بعد کئی سالوں تک دس لاکھ سے زیادہ بنگالی عورتیں دنیا کے بازاروں‌ میں غربت کے ہاتھوں بیچی گئیں. آج بھی کلکتہ کے بازارحسن میں 75 فیصد عورتیں بنگلہ دیشی ہیں. 1971ء سے پہلے ایک بنگالی روزگارکی تلا ش میں بھارت نہیں‌ گیا تھا. اس وقت یعنی 2017ء میں ستانوے لاکھ بنگلہ دیشی بھارت میں دوسے تین ہزارروپے ماہانہ کی نوکری کرتے ہیں. بھارت اوربنگلہ دیش کی سرحد سب سے خونی سرحد ہے جس پرباڑلگی ہوئی ہے اورجب کوئی غریب بنگلادیشی اس سرحد کوعبورکرکے بھارت میں روزگارکی تلاش میں جانا چاہتا ہے تو وہ بھارتی سیکیورٹی افواج کی گولیوں کا نشانہ بنتا ہے. آئے روزایسے بنگلہ دیشیوں کی لٹکتی لاشوں کی تصویریں اخبارات میں چھپتی ہیں.
ایک بنگلہ دیشی ہیروکی حیثیت سے بھی مجیب الرحمٰن کی اٹھان، تربیت، سیاسی جدودجہد اوراخلاص کا نوازشریف سے کوئی مقابلہ نہیں. شیخ مجیب الرحمٰن دھان منڈی کے جس چارمرلے کے گھر میں پیدا ہوا، وزیراعظم بننے کے بعد قتل ہونے تک وہی چارمرلے کا گھراس کا اثاثہ تھا. اس کے نہ بیرون ملک اثاثے تھے اورنہ ہی اسے اپنی قوم کویہ کہنے کی جرات ہوسکی کہ اگرمیرے اثاثے میری آمدن سے زیادہ ہیں توتمہیں اس سے کیا ہے. وہ 1940ء میں‌ آل انڈیا مسلم لیگ کا ممبربنا اوربیس سال کی عمرسے ہی سیاسی میدان کا کھلاڑی کا کھلاڑی ہوگیا جبکہ نوازشریف کھلاڑی بننے کی لگن میں‌ کرکٹ کا کھلاڑی تک نہ بن سکا. 1947ء میں جب کلکتہ میں مسلم کش فسادات ہوئے تووہ مسلمانوں کی حفاظت کرنے والے دستوں میں شامل تھا. وہ اپنی سیاسی جدوجہد کی وجہ سے نوجولائی 1953ء کومشرقی پاکستان اسمبلی کارکن بنا. حسین شہید سہروردی اورمولانا بھاشانی کی عوامی مسلم لیگ (شیخ رشید والی نہیں) میں شامل ہوا، 15 مئی 1954ء کووزیرجیل خانہ جات بنا، 1955ء میں قانون سازاسمبلی کا رکن بنا اور1965ء میں اسی جمہوری طریقے سے وہ وزیرتجارت، صنعت اورلیبربنا. ایوب خان نے مارشل لاء لگانے کے بعد اسے باقی سیاستدانوں کی طرح گرفتارکیا. باقی سیاستدان پاکستان سے محبت اوروفا کے جذبے سے سرشاررہے. وہ ایوب خان سے اختلاف اورنفرت کرتے تھے لیکن پاکستان پرجان چھڑکتے تھے. لیکن شیخ مجیب الرحمٰن بھارت سے جا ملا اوراگرتلہ سازش کا شکارہوا. یہ سازش آج اس لیے بھی حقیقت ہے کہ بھارت کے بیشمار رہنماؤں اورکرداروں نے اب اس سب کا انکشاف کردیا ہے کہ انہوں‌ نے کیسے مجیب الرحمٰن کو 1966ء سے پاکستان کے خلاف سراٹھانے اوربنگلہ دیش کی آزادی کے پلان کا حصہ بنا لیا تھا. یہی وجہ ہے کہ اس سازش کے تحت وہ گرفتار ہوا، اس پرمقدمہ چلا، لیکن تمام سیاسی پارٹیوں نے اس کی رہائی کا مطالبہ کیا. 22 فروری 1969ء کووہ رہا ہوا اور23 فروری کواس کا فقید المثال استقبال ہوا اوراسی سال 5 دسمبر1969ء کواس نے پلٹن میدان میں اعلان کردیا کہ مشرقی پاکستان اب بنگلہ دیش بن کررہے گا. اس کے بعد کی کہانی ایک غدارکے الیکشن جیتنے، بھٹواوریحییٰ کے ہوس اقتداراوربھارتی مداخلت کی کہانی ہے. حیرت ہے 1981ء میں جنرل جیلانی کی عنایت سے وزیر بننے سے لیکرمیموگیٹ سکینڈل میں کوٹ‌ پہن کرسپریم کورٹ جانے والے نوازشریف کے دل میں مجیب الرحمٰن بننے کی آرزو کیسے جاگ اٹھی. غداری کی منڈی میں بھی حیثیت دیکھ کردام ملتے ہیں‌. ارزاں بکنے کا ارادہ کرلیا ہے توآپ کے نصیب—-پاکستان تواللہ کی امان میں‌ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں