پاک پانی سے ناپاک پروٹوکول تک


سمجھ نہیں آ رہی کہاں سے شروع کروں اور پھر کہاں کہاں سے ہوتا ہوا شکریہ ادا کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تک پہنچوں جو اصل مسائل کی طرف پوری یکسوئی سے متوجہ ہیں۔ عدلیہ! شکریہہلکے سُروں آغاز کروں تو سریلی ترین خبر یہ ہے کہ چکوال آمد پر نااہل شریف کا استقبال جعلی نوٹوں سے کیا گیا جس کی علامتی حیثیت کا جواب نہیں کہ جیسی جمہوریت ویسے نوٹ، جیسا لیڈر ویسے ووٹر۔ دلچسپ ترین پہلو یہ ہے کہ جب ’’قدم بڑھائو نواز شریف‘‘ کرائوڈ انتہائی جوش و خروش سے عظیم قائد بلکہ قائد اعظم ثانی پر تھوک کے حساب سے جعلی نوٹ نچھاور کر رہا تھا، بیچارے میاں صاحب اصل سنجیدگی کے ساتھ انہیں اس ’’اظہار عقیدت‘‘ سے روک رہے تھے۔ حیرت ہے کہ میاں صاحب بھی اصلی اور نقلی نوٹوں میں تمیز نہ کر سکے لیکن شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرصۂ دراز سے روپوں نہیں ڈالروں، پائونڈوں، ریالوں اور درہموں وغیرہ میں ڈیل کر رہے ہیں ورنہ پاکستانی روپیہ اس طرح رسوا اور ٹکے ٹوکری نہ ہوتا جیسا ہو چکا کہ یہی اس ترقی کا سب سے بڑا ثبوت ہے جس کا ذکر میاں صاحب تکرار سے کرتے رہتے ہیں۔ چکوال میں ہونے والی اس جمہوریت زدہ واردات سے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ آئندہ الیکشن (؟) میں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔اوپر عرض کیا ہے کہ جیسے لیڈر ویسے ہی فالوئر تو حاضر سروس وزیر اعظم نے بھی ایک بار پھر نااہل نواز شریف کو اپنا لیڈر قرار دے دیا ہے جس پر وہ شاباش کے مستحق ہیں۔وفاداری بہ شرطِ استواری اصل ایماں ہےمَرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کولیکن وزیر اعظم عباسی کو اصل مبارکباد اس تاریخی بیان پر بنتی ہے جو آپ نے اپنی اعلیٰ ترین عدالت کے بارے جاری فرمایا کہ ان کے فیصلے ردی کی ٹوکری میں ہوں گے۔ شاید بھول گئے کہ جہاں عدالتی فیصلے ردی کی ٹوکری کا رزق بن جائیں وہاں سب کچھ ردی کی ٹوکری میں تبدیل ہو جاتا ہے اور مت بھولو کہ یہ فیصلے سیاست کے نہیں، دیانت اور امانت کے حوالے سے ہیں لیکن اس نجاست نما سیاست میں سب جائز ہے کیونکہ اس سے نفع بخش تجارت ممکن نہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے سیکرٹری کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا کہ بھاری کرپشن میں ملوث تھا۔ ایوب قریشی نامی اس بیورو کریٹ نے وضاحت دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ چار وزارتوں سے ماہانہ 60کروڑ روپے وصول کر کے ’’اوپر‘‘ پہنچاتا تھا تو خود ہی سوچ لیں کہ اختیار و اقتدار کے وفاقی سرچشمہ پر کیسے کیسے اور کتنے کتنے چڑھاوے چڑھتے ہوں گے۔ اسی وجہ سے تو سردھڑ کی بازیاں لگتی ہیں کہ ہر ایوان اپنی قسم کی سونے کی کان ہے ورنہ کون ہے جسے عوام کی خدمت کا بخار اس بری طرح چڑھا رہتا ہو۔ بلوچستان کے حوالہ سے خوبصورت ترین بات سرفراز بگٹی نے کی ہے کہ…. ’’میرے قائدین میرے آقا نہیں اور نہ ہی میں ان کا غلام ہوں۔‘‘ کاش یہ ’’بگٹی وائرس‘‘ پنجاب تک بھی پہنچ جائے کہ قیادت کا مطلب عبادت نہیں ہوتا۔ لیڈر دیوی، دیوتا یا اوتار نہیں ہوتے اور شخصیت پرستی، بت پرستی سے بھی بدتر ہے کیونکہ بت کی پرستش سے اس کا دماغ خراب نہیں ہوتا جبکہ انسان آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور بقول چوہدری نثار علی خان اسے بار بار یاد دلانا پڑتا ہے ’’سیزر یو آر ہیومن‘‘۔ یہاں تو اصلی سیزر اور سکندر خاک ہو گئے، یہ تو جعلی نوٹوں کی طرح دو نمبر لوگ ہیں۔عوام کو صاف پانی کی فراہمی سے لے کر ناپاک پروٹوکول کے خاتمہ تک، عدالتی اصلاحات سے لے کر تعلیمی اور طبی اصلاحات تک سپریم کورٹ سپریم ترین فیصلے کر رہی ہے۔ابن مریم ہوا کرے کوئیمیرے دکھ کی دوا کرے کوئیگزشتہ 25سال میں 50کالم تو ضرور اس ناپاک پروٹوکول کلچر پر لکھے ہوں گے کہ جن کے ووٹوں کی بھیک لے کر اقتدار میں آتے ہیں، پروٹوکول کے نام پر انہی کمی کمینوں کے رستے روک کر انہیں سرعام ذلیل کرتے ہیں۔ میں بیسیوں بار لکھ چکا ہوں کہ اگر ہماری بدکار جمہوریت میں سے بے تحاشا پیسہ اور پروٹوکول نکال دیا جائے تو سیاسی جماعتوں کو قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لئے امیدوار نصیب نہ ہوں۔پاک پانی سے ناپاک پروٹوکول کے خاتمہ تک، عدالتی اصلاحات سے تعلیمی طبی اصلاحات تک کچھ ہو جائے تو سمجھو سب کچھ ہو گیا۔ عوام کھیلن کو چاند نہیں تھوڑا سا چین سکون چاہتے ہیں۔عدلیہ! شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں