ہمارا یہی آخری پاکستان ہے


بلاشبہ میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی مسلم لیگ ن اس ملک کے مقبول لیڈر اور مقبول جماعت ہے لیکن باوجود سیاسی مشکلات سے ان کا بھرپوردور اقتدار کسی نہ کسی طرح لبِ بام تک پہنچ ہی گیا ہے گو کہ ا س کے لیے میاں نواز شریف کو اپنی قربانی بھی دینی پڑی اور وہ ایک عدالتی حکم کے بعد وزارت عظمیٰ کے منصب سے الگ ہو گئے لیکن یہ قربانی نہ تو وہ خود قبول کرنے کو تیار ہیں اور نہ ہی ان کے چند ساتھی عدالت کے اس فیصلے کو ماننے پر تیار ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ مستقبل میں مسلم لیگ ن کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا اور ان کے اندازے درست بھی لگتے ہیں کہ جس پارٹی کا ایک گروپ ایک مخصوص نام کی نمایندگی کر رہا ہے اگر وہی نام اس میں سے ختم کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہی نکلے گا کہ پارٹی ختم ہو گئی۔
مسلم لیگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اتنے حروف تہجی نہیں جتنی مسلم لیگیں ہیں، ہر ایک نے اپنے نام سے ایک علیحدہ گروپ سے جماعت کی تشکیل کی ہوئی ہے اور یہ جماعت تب تک ہی زندہ رہتی ہے جب تک اس کے نام لیوا اس میں موجود رہیں۔ پارلیمانی سیاست سے نااہلی کے بعد یہ بھی نظر نہیں آرہا کہ مستقبل قریب میں اس بات کا کوئی امکان بھی ہے کہ نواز شریف پارلیمانی سیاست کے لیے دوبارہ سے اہل ہو جائیں گے کیونکہ ابھی ملک کے سیاسی حالات اس طرف اشارہ نہیں دے رہے اور نہ ہی چور دروازے سے کسی این آر او کی کوئی صورت نظر آرہی ہے۔
اس تناظر میں لگ یہی رہا ہے کہ مسلم لیگ ن کو آیندہ الیکشن جیتنے کے لیے انتخابی مہم میں تو نواز شریف کی کرشماتی شخصیت کی صورت میں دستیاب ہو گی لیکن پارلیمانی سیاست کے لیے دستیاب نہیں ہو گی جس کے اثرات مسلم لیگ ن کی آیندہ انتخابی مہم پر بھی پڑیں گے۔
گو کہ میاں نواز شریف انتخابی جلسوں کو اپنی پُر جوش تقریروں سے گرمائیں گے لیکن ان کی گرمی شاید صرف تقریروں تک ہی محدود رہے گی وہ اپنے الیکشنی امیدواروں کی مہم کامیاب بنانے کے لیے اپنے سیاسی تجربے کا بھر پور استعمال بھی کریں گے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی انہونی ہو جائے اور اقتدار چوتھی مرتبہ مسلم لیگ ن کو مل جائے تو اس صورت میں میاں نواز شریف اپنی بھر پور کوشش کریں گے کہ ملکی آئین میں ایسی اصلاحات کر لی جائیں جو کہ سیاستدانوں کے مفاد میں ہوں اور وہ ایک بار پھر ایٹمی پاکستان پر حکمرانی کے مزے لوٹ سکیں، دوسرے لفظوں میں انھیں کوئی پوچھنے ولا نہ ہو وہ اپنی من مانیاں جاری رکھیں، لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ عوام ایک بار پھر اقتدار کے لیے نواز لیگ کو منتخب کر لیں۔ کیونکہ ملکی آئین کے ساتھ اپنی سہولت کے لیے مہم جوئی کی اُمید ان سیاستدانوں سے ہی کی جا سکتی ہے جو کہ اپنے لیے کچھ اور دوسروں کے لیے الگ قانون چاہتے ہیں تا کہ وہ اپنے انصاف کے ترازو میں اپنی مرضی کر سکیں۔
نااہلی کے بعد نواز شریف کی سیاست کا رنگ الگ ہی نظر آرہا ہے جیسا کہ ان کے بارے میں توقعات تھیں کہ اقتدار سے باہر کا نوازشریف اقتدار والے نواز شریف سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گا۔ اس توقع پر میاں صاحب پورے اتر رہے ہیں اور ان کا لب ولہجہ اس نظام سے باغی کا لب ولہجہ ہے جس نظام میں وہ پچھلی کئی دہائیوں سے سیاست کر رہے ہیں اور تین بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔
اشتہارات



اس نظام کا گلہ ان کی طرف سے اچھا نہیں لگتا کہ وہ خود اس ملک کی تقدیر کے مالک رہے ہیں اگر ان کو اس نظام سے کوئی شکایت تھی تو عوام یہ پوچھتے ہیں کہ انھوں نے اس کو بدلنے کی کوشش کیوں نہیں کی، اب یکایک اس نظام میں کیا خرابی پیدا ہو گئی کہ وہ اس سے باغی نظر آتے ہیں۔ ان کے ناقدین تو اس بات کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں کہ جب تک اقتدار رہے تب تک سب اچھا ہے اور اقتدار کا ہما اڑتے ہی نواز شریف کو ساری خرابیاں نظر آنے لگی ہیں۔
نواز شریف اپنی مقبولیت کو کیش کراتے ہوئے ملک بھر میں جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں انھوں نے ابھی تک شاید صرف اپنی اعلان کردہ تحریک عدل ہی شروع کی ہے کیونکہ ان کا عدلیہ سے شاکی لب و لہجہ اور عوام سے اپنے خلاف فیصلے کے بارے میں سوالوں کے جواب سے وہ کس حد تک اپنے آپ کو مطمئن کر پار ہے ہیں۔ یہ تو وہ خود ہی جانتے ہوں گے لیکن ایک بات ملک کے مقبول ترین سیاستدان اور بڑی پارٹی کے سر براہ نے ثابت کر دی ہے کہ اقتدار بڑی ظالم شئے ہے اور اس سے علیحدگی کے بعد انسان بڑی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے اور اقتدار سے بے رحم دوری اس کو اپنے ہی ملک سے باغی بنا دیتی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو انتخابات میں کچھ زیادہ وقت نہیں رہ گیا اگر عوام یہ چاہیں گے کہ نواز لیگ کے دور حکومت میں ان کے لیے جو آسانیاں تھیں اور وہ پہلے سے بھی زیادہ تعداد میں مل سکتی ہیں تو وہ ووٹ دے کر ان کو دوبارہ اقتدار میں لے آئیں گے کیونکہ عوامی طاقت کے آگے کوئی بھی بند نہیں باندھ سکتا، اور جو یہ کوشش کرتا ہے تو پھر اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جس کو ہم پہلے ہی اپنے ملک کو دولخت کرنے کی صورت میں بھگت چکے ہیں۔
اور اسی بات کو نواز شریف نے اب دہرایا ہے کہ وہ کہتے ہیں، ’’شیخ مجیب الرحمٰن پاکستان کا حامی تھا لیکن اسے باغی بنادیا گیا پاکستان بنانے میں سب سے زیادہ جدو جہد بنگالیوں نے کی لیکن ہم نے انھیں دھتکار دیا اور اپنے سے علیحدہ کر دیا جس کا نتیجہ ملک کے دولخت ہونے کی صورت میں سامنے آیا۔ میں کہتا ہوں کہ اتنے زخم نہ لگاؤ جو بڑھتے چلے جائیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میں اپنے دکھ، تکلیف اور غصے کو ایسے پوائنٹ پر لے جاؤں جہاں جذبات بے قابو ہو جائیں‘‘۔
میاں صاحب نے اپنا جملہ مکمل نہیں کیا۔ ان کو جملہ مکمل کر ہی دینا چاہیے تھا۔ دوسرے لفظوں میں انھوں نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ ان کو اقتدار سے الگ کرنے کے نتائج کچھ بھی نکل سکتے ہیں وہ بتدریج اپنی تقاریر میں ایک ایسے راستے پر چلتے جا رہے ہیں جس کا اختتام نہایت خطرناک ہو سکتا ہے۔ شیخ مجیب کی مثال دے کر وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں وہ شاید بہت جلد اس بات کو بھول گئے ہیں کہ اسی پاکستان اور اس کے عوام نے ان کو اس ملک کے اقتدار اعلیٰ کا تین دفعہ والی وارث بنایا ان کو عزت دی دنیا میں ان کا جو مقام ہے وہ پاکستان کے اقتدار کے مرہون منت ہی ہے۔ لیکن وہ شاید اپنے شدید غصے میں یہ سب کچھ بھول گئے ہیں۔
میاں نواز شریف جیسے محب وطن پاکستانی لیڈر کے منہ سے ایسی باغیانہ باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ میاں صاحب نے سیاست میں بہت دکھ سہے ہیں لیکن ان کے دکھوں کا مداوا پاکستانی عوام نے ان کو تیسری بار وزارت عظمیٰ کے لیے منتخب کر کے کر دیا۔ اب کوئی کیا ان کے زخموں پر مرہم رکھے میاں صاحب یہ ملک ہے تو سیاست ہے خدانخواستہ ملک ہی نہ رہا تو سیاست کیسی۔ اور نواز شریف کو تو شاید دنیا میں کوئی پہچاننے سے بھی انکار کر دے ہم کسی مزید سانحے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ جیسے تیسے ہمیں اسی پاکستان میں گزارا کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں