ڈبوں میں فروخت ہونے والا دودھ نہیں فراڈ ہے، چیف جسٹس

chief-justice-suo-moto-packaged-milk
کراچی: سپریم کورٹ نے ہفتہ کے روز ڈبہ پیک غیرمعیاری دودھ کی فروخت سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے ردوران تمام برانڈز کے لیبارٹری ٹیسٹ کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ڈبوں میں‌ فروخت ہونے والا دودھ نہیں فراڈ ہے.

چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے متعلقہ احکام کو ہدایت کی ہے کہ مارکیٹ میں موجود تمام برانڈز کے ڈبہ پیک دودھ کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا جائے. چیف جسٹس نے بھینسوں کوٹیکے لگانے کے معاملے پرعدالت میں مکمل تفصیلات جمع نہ کروانے پرمتعلقہ احکام کی سرزنش کی.

ڈیری فارمرزکے ایک ترجمان کوریمارکس دیتے ہوئے جسٹس ثاقب نثارکا کہنا تھا کہ بھینسوں کولگائے جانے والے ٹیکے عورتوں میں چھاتی کے کینسراورہارمونل مسائل کا باعث بن رہا ہے. چیف جسٹس نے ہدایت کی ہے کہ بتایا جائے کون سے اضلاع میں دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے ٹیکوں کا استعمال کیا جا رہا ہے.

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اتھارٹی تو بنتی رہے گی کیا جب تک شہریوں کو غیر معیاری دودھ پلائیں گے۔ کھلے دودھ سے متعلق بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکوں پر پابندی عائد کی، ڈبوں میں فروخت ہونے والا دودھ، دودھ نہیں فراڈ ہے، یہ دودھ نہیں سفید مادہ ہے، پنجاب میں پیکٹ کے دودھ سے اب یوریا، بال صفا پاؤڈر اور غیر معیاری اشیا کا خاتمہ ہوگیا، سندھ حکومت کو خیال نہیں آیا کہ کراچی کے لوگوں کو معیاری دودھ پلائیں۔ حکم دیں گے کہ ڈبوں پر تحریر کریں کہ یہ دودھ کا نعم البدل نہیں۔

سپریم کورٹ نے کراچی میں دستیاب دودھ کے ڈبے پی سی ایس آئی آر سے ٹیسٹ کرانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ کو ذمہ داری سونپتے ہوئے کہا کہ آج ہی کراچی کی مارکیٹس سے پیکٹ والے دودھ کے تمام برانڈز کی پروڈکٹ اٹھائیں اور ٹیسٹ کیلئے بھیجیں۔ کہیں ان میں یوریا تو شامل نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں