Orya-Maqbool-Jan

راؤانوارسے غلطی ہوگئی

orya-maqbool-jan-column
پولیس مقابلوں میں دہشتگردوں کو مارنے والے راؤانوارسے بہت بڑی غلطی ہوگئی. غلطی بھی ایسی جس نے اس کی دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکارایک “عالمی شہرت یافتہ پولیس افسر” کی “شہرت” داؤ پرلگا دی. وہ اگرتھوڑا صبرکرلیتا، نقیب اللہ کومزید چند ماہ اپنی قانونی طورپر”غیرقانونی” حراست میں رکھ لیتا، دیگرلاپتہ افراد کی طرح اس کی بھی خبرنہ ہونے دیتا، انتظارکرتا کہ اس کے چہرے پرایسی داڑھی بڑھ آئے، جس سے وہ کسی مسجد کا خطیب یا موذن، کسی تبلیغی گشت پرنکلا ہوا شخص یا کسی مسجد میں مستقل خشوع وخضوع کے ساتھ نماز ادا کرنے والا نظرآئے. اس کا وزیرستان سے ہونا ہی اس کے کردارکومشکوک کرنے کے لئے کافی تھا. اس کوایک ایسی شلواربھی پہنائی جاسکتی تھی جواس کے لمبے قد پرپوری نہ آتی اورلگتا کہ وہ مستقل شرعی حکم کی پابندی کا عادی ہے اورٹخنوں سے اوپراپنی شلواررکھتا ہے. مسلسل قید تنہائی اس کے چہرے سے بشاشت چھین کرمردنی، خوف اوراذیت کے آثارپیدا کردیتی. اسے اپنے مستقبل سے بے یقینی کا احساس نفسیاتی مریض بنا چکا ہوتا. ایسے تمام لوگوں کوجوایک طویل عرصہ لاپتہ ہونے کی فہرست سے اچانک نمودار ہوتے ہیں، ان کی داستانیں دل دہلا دینے والی ہوتی ہیں. چھ فٹ‌ لمبا اورپانچ فٹ چوڑا ایک سیل جس کے ایک کونے میں دوفٹ اونچی دیوارسے پردہ بنا کرباتھ روم بنایا گیا ہو، تاکہ آپ رفع حاجت کرنے جائیں توسامنے والے سپاہی کی نظروں سے اوجھل نہ ہوجائیں. آپ کواس سیل میں لا کرپھینک دیا جائے اوردنیا بھرمیں کسی کوبھی اس کی خبرنہ ہوکہ آپ کہاں ہیں. آپکوبھی ایک عرصہ وہاں گزرنے کے بعد یقین سا ہونے لگے کہ آپ کی موت ہیں آئے گی. ایسے میں اگرآپ کوباہرنکال کرپولیس مقابلے میں مارنے کا فیصلہ کردیا جائے توموت آپ کے لئے اذیتوں سے نجات کا شاندارراستہ بن جاتی ہے. آپ کسی پیشی پرتونہیں جارہے ہوتے کہ پولیس والے آپ کوحلیہ درست کرنے کے لیے کہیں. آپ کوایک ہولناک انجام کی طرف لے جایا جانا ہوتا ہے اورجب پولیس والے آپ کوایک ویران جگہ گاڑی دے دھکا دے کراپنی مغلظات بھری زبان میں کہتے ہیں “بھاگ لوجتنا بھاگنا ہے” ایسے میں‌ آپ اس تھوڑی سی مہلت میں پوری رفتارسے بھاگنا چاہتے ہیں لیکن کیا کریں، گولیوں کی رفتارآپ سے کئی گنا تیزہوتی ہے. موت آپ کے تعاقب میں آپ تک پہنچ جاتی ہے. شاید یہی کچھ نقیب اللہ کے ساتھ ہوا ہوگا. لیکن راؤ انوارسے غلطی ہوگئی. اگرنقیب اللہ چند ماہ مزید حراست میں گزارلیتا تواس کا چہرہ یقیناً اس شخص سے ضرورملتا جلتا ہوتا جسے پاکستانی میڈیا اورعالمی میڈیا دہشتگرد بنا کرگزشتہ سترہ سال سے پیش کررہا ہے توپھرراؤانوارنقیب اللہ کی لاش پرپاؤں رکھ کرتصویربنواتا، اس کے چہرے کے کلوزاپ میڈیا کوپیش کرتا. سول سوسائٹی اورمیڈیا اسے داد دیے بغیر نہ رہتی کہ وہ ایک ایسا پولیس آفیسر ہے جس نے دہشتگردی کے خاتمے میں‌ مثالی کردارادا کیا ہے، اسی کی وجہ سے شہرمیں امن قائم ہوا ہے، لوگ سکھ کا سانس لے رہے ہیں.
لیکن راؤانوارسے غلطی ہوگئی. اسے اندازہ تک نہیں تھا کہ وہ سول سوسائٹی جواسے داڑھی والے مولوی نما لوگوں کوپولیس مقابلوں میں پارکرنے پرکچھ نہیں‌ کہتی، وہ آج یقین ہی نہیں کررہی کہ اس نے ایک دہشت گردمارا ہے. وہ سوچتا ہوگا کہ میں نے درجنوں مولوی نما لوگوں کی لاشوں پرکھڑے ہوکردعویٰ کیا کہ یہ دہشت گرد ہیں، ان کا طالبان سے تعلق ہے، یہ فلاں فلاں دھماکوں میں ملوث تھے. سب کے سب مجھ پریقین کرکے گھروں کولوٹ گئے اورچین کی نیند سوگئے. لیکن یہ ماڈل نما بالوں کی جدید تراش خراش والا نقیب اللہ، جو اپنی بچیوں کے ساتھ تصویریں بھی کھینچوا چکا تھا، ایسے شخص کوپولیس مقابلے میں مارنا توگلے میں پڑگیا. پوری “سول سوسائٹی” اس کے لیے کھڑی ہوگئی. شروع شروع میں جب کوئی مولوی مارا جاتا تھا تومدرسےکے طلباء جلوس نکال لیا کرتے لیکن اب توبھلا ہومیڈیا کا اس نے ہم پولیس والوں کا کام اتنا آسان کردیا ہے کہ ہم کتنے ہی مولوی جیسی شکل والوں کوپولیس مقابلے میں پارکردیں کوئی ایک حرف مذمت کا نہ منہ سے نکالنا ہے اورنہ تحریرکرتا ہے. سب ایک ہی تاثرلیے ہوئے ہیں “خس کم جہاں پاک”.
ایک زمانہ تھا جب پولیس مقابلوں کی خبریں ایسے لوگوں کے بارے میں آتیں جنہیں پورا علاقہ جانتا ہوتا تھا. لوگوں پران کا خوف طاری ہوتا تھا. ہرکسی کوعلم ہوتا تھا کہ فلاں ڈاکو کوکس دریا کے ساتھ والے بیلے میں اپنا ٹھکانہ بنائے ہوئے ہیں، کونسا علاقہ ہے جہاں رات گئے توکیا دن میں بھی گزرنے سے لوگ ڈرتے ہیں، شہرمیں کسی کوبھی شراب، ہیروئن، چرس وغیرہ کی طلب ہوتو وہ کس شخص کے اڈوں سے میسرآسکتی ہے. ان لوگوں کے حلیے اورکرداراس دورکا واحد میڈیا “فلم” مصطفیٰ قریشی، اورسلطان راہی کی صورت میں پردہ سکرین پرپیش کرتا تھا. ایسے لوگ آج بھی دریاؤں کے بیلوں اورکچے کے علاقوں میں پائے جاتے ہیں. بڑے بڑے سیاسی لیڈروں، وزیروں، زمینداروں، پتھاری داروں، نوابوں اورسرداروں کے ذاتی محافظوں میں شامل ہوتے ہیں. لوگ ان سے ویسے ہی آج بھی تنگ ہیں لیکن بھلا ہوجمہوریت، الیکشن اورعوامی نمائندگی کا کوئی زبان نہیں کھول سکتا.
a


اس وقت پورے پاکستان میں ہرضلع میں مفرورملزموں کی تعداد ہزاروں میں ہے. اگرہرضلع میں مفروروں کی تعداد صرف ایک ہزارہی لگا دی جائے تو 108 اضلاع کے ایک لاکھ آٹھ ہزارمفروربنتے ہیں. یہ یقیناً کم سے کم تعداد ہے کیونکہ صرف راولپنڈی ضلع کے مفروروں کی تعداد تین ہزارسے زیادہ ہے. پاکستان کی عظیم، مقدس، محترم، پاکباز اوراعلیٰ نسب پارلیمنٹ کے اراکین کے ذاتی گن مینوں اورگارڈوں کوروک کراسلام آباد کی پریڈ گراؤنڈ میں کھڑا کرکے تمام اضلاع کے پولیس افسروں کوبلایا جائے کہ اپنے اپنے علاقے کے مفرور چن لو تواس ملک کے اضلاع کے آدھے سے زیادہ مفرورگرفتارہوجائیں. باقی اسی پارلیمنٹ کے مفروراراکین کے زیراثرعلاقوں کے پالتوبدمعاشوں، سمگلروں، منشیات فروشوں اورپیشہ ورقاتلوں کے ڈیروں پرمل جائیں گے. بے شماردفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ممبرپارلیمنٹ کسی ڈی پی اوکے دفترمیں کسی کام کی غرض سے جاتا ہے تواس کی گاڑی میں دوتین مفروراس کے گن مینوں کی صورت میں باہرموجود ہوتے ہیں. لیکن چونکہ ڈی پی اوکواس ممبرپارلیمنٹ نے وزیراعلیٰ سے خصوصی سفارش کرکے لگوایا ہوتا ہے اس لیے سب خاموش رہتے ہیں. ہوسکتا ہے وہ ڈی پی اواسے گاڑی تک چھوڑنے بھی آئے مفروروں پرایک نظرڈالے اورخاموشی سے اپنی ٹوپی سیدھی کرتا ہوا واپس چلا جائے.
یہ تمام مفرورجنہیں میڈیا ایک زمانے سے فلمی کرداروں کی صورت ڈاکو، چور، قاتل، لٹیرے اورمفرور کے حلیے میں پیش کرتا رہا ہے یہ سب آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں. ان کے ڈیروں پرآج بھی زینب جیسی معصوم لڑکیوں کے مجرموں کو مستقل پناہ ملتی ہے. یہ مفرورڈیرے داراپنے علاقے میں کسی بھی سیاسی مخالف کی بیٹی کواٹھا کرلے جاتے ہیں، یہ اپنے سیاسی آقاؤں کے اشارے پرلوگوں کوایسے مارتے ہیں جیسے کوئی پرندہ. یہ سرعام گاؤں میں مخالفین کی عورتوں کوبرہنہ کرکے بازاروں میں پھراتے ہیں. یہ سب آج بھی اکیس کروڑکے اس ملک کے ہرگاؤں، قصبے اورشہرمیں موجود ہیں، لوگوں کو خوفزدہ کیے ہوئے ہیں. لیکن ان سے پولیس مقابلہ کرنے کی جرات نہیں رکھتی، اس لیے کہ ہوسکتا ہے کوئی راؤانوارکی طرح کا پولیس آفیسرایسے ہی کسی شخص کے ڈیرے پربیٹھا ہواوروہی مفرورڈیرے داراپنے کسی سرپرست ، ممبرپارلیمنٹ ، وزیراعلیٰ، گورنر یا کسی سفارش کروا کراس کا شاندار جگہ تبادلہ کروا رہا ہو.‌ آج کے میڈیا کا قاتل، مجرم اوردہشت گرد ایسا شخص ہے جوداڑھی والا ہے، جس کے ماتھے پرمحراب ہے، جس کی شلوارٹخنوں سے اونچی ہے، اورجس کی لاش پرراؤانوارجیسا پولیس آفیسرپاؤں‌ رکھ کریہ کہ سکتا ہے دیکھو “یہ دہشت گرد ہے، ظالم ہے، طالبان کا ساتھی ہے”. خواہ اس گھرمیں بھی نقیب اللہ جیسی ہنستی مسکراتی بچیاں باپ کی منتظرہوں، وہ بھی ایک معصوم سا شہری ہوجوصبح نماز ادا کرنے کے بعد رزق کی تلاش میں نکلا ہو. اس دفعہ راؤانوارسے واقعی غلطی ہوگئی. کاش وہ مارنے سے پہلے نقیب اللہ کا حلیہ ہی بدل لیتا.

نوٹ: ملتان کا ایک فالج زدہ معذورشخص قرض کی دلدل میں گرفتارہے، اسے مددیا قرض حسنہ کی ضرورت ہے. اس نمبرپررابطہ کرکے براہ راست معلومات حاصل کرکے مدد فرمائیں 03044394002

اپنا تبصرہ بھیجیں